پرندے نے جب پہلی مرتبہ اپنے گھونسلے سے نکل کر اڑان بھرنے کی سوچی تو اپنی پہلی کوشش میں ناکام ہوا ،پَر ابھی چھوٹے تھے ،نازک سا دل تھا، سہم گیا تھا…
پھر بس دو قدم چلنا شروع کیا…دھوپ کی کرنوں سے حرارت لی …آزاد فضا سے سرور حاصل کیا …ایک مسحور کن احساس نے گھیر لیا …پھر مستی و نشاط کا طبیعت پر غلبہ ہوا…پھر پرواز کے لئے پر پھیلائے…اور اڑان بھرنے کی کوشش کی…لیکن یہ کیا؟ اب کی مرتبہ کچھ ہمت تھی اور کچھ تھوڑا ہی سہی، اوپر جاکر پھر نیچے آگیا…لیکن …اپنی چھوٹی سی کامیابی کی خوشی کا اندازہ بس وہی اور اسکا دل جانتا تھا۔
ابھی خوشی سے جھومنے ہی لگا تھا کہ سارے پرندے اس کی پہلی اڑان پر ہمت افزائی کرنے جمع ہوگئے… سب نے ہمت افزائی کی …رہنمائی کی، جوش دلایا …اور اپنے تجربات شیئر کرنے لگے …اڑان کی تحریک دلانے کے لئے اس کے ساتھ اڑنے لگے…!
اور وہ اپنی خرمستیوں سے اپنی اندرونی فطری جبلت کی تسکین کا سامان کرتا رہا، اور سکون پاتا رہا…اور اڑنا سیکھ گیا…اب اس کی اڑان بہت بلند ہوتی ہے… اب سارا فلک اس کا ہے، بلند وبالا پہاڑ کی چوٹیاں اس کوفتح کااحساس دلاتی ہیں… توانائی کا زور ہے،طبیعت میں مہم جوئی کی ہوا سمائی ہوئی ہے… جب اڑان آگئی تو کیا مجال نیچے پلٹ کر دیکھے… نشہ چھایا ہوا ہے… اب تو وہ کمزور پرندوں کو دیکھ کر طنزیہ مسکراتا ہے… اور بوڑھے پرندوں کو تمسخرانہ انداز میں دیکھتا ہے…ایک دن وہ بلند چوٹی پر بیٹھا ایک بوڑھے پرندے سے کہنے لگا’’ اوہوں! ذرا میرے توانا پروں کو دیکھنا … کیسے میں تیر کی تیزی اور بجلی کی سرعت سے بلندیوں کے مزے لیتا ہوں… اور ہاں کبھی میرا فضا میں اڑتے ہوئے شکار کامنظر دیکھ کر اس طرح کرنے کا تصور آپ نہیں کر پائیں گے ۔‘‘
بوڑھا پرندہ مسکرایا اور کہنے لگا..
’’ایک زمانہ تھا بیٹا !تمہاری جگہ میں تھا اور میری جگہ میرے بزرگ …اس زمانے میں مجھ پر طاقت و توانائی کا نشہ تھا، تب میں نے بھی اپنے بزرگوں کا مذاق بنایا تھا، اور آج ان کو ڈھونڈنا چاہتا ہوں تو…وہ دنیا میں نہیں ہیں …پس اے میرے رفیق…!
سنبھل جاؤ ،مشن آگے بڑھاؤ، اس طاقت کے زوال کے بعد میری طرح تمہارے پاس سوائے مایوسی کے کچھ نہیں رہے گا۔‘‘
اچانک پہلا پرندہ بلندی سے اتر آیا اور کہنے لگا
’’گواہ رہو میرے رفیق…میرا بھی یہی شیوہ رہے گا، آپ نے مجھ کو سکھایا تھا اور میں اگلوں کی ہمت افزائی کا سامان کروں گا، اپنی اڑان کے زعم میں تکبر سے پرہیز کروں گا۔‘‘
میرے تخیل کا پرندہ بھی اب اڑنے لگا ہے، اور وہ محسنین کے چہرے کبھی نظروں سے محو نہیں ہوتے جو بے لوث میری ہمت افزائی کرتے تھے ۔
یہی تو ہوتا ہے…بنیادی ضرورتیں تو اللہ ہر بندے کی پوری کرتا ہے …لیکن تکمیلی ضرورت، ایک دوسرے کی رہنمائی… خود اپنی سخت ترین محنت عزم اور حوصلے کی متقاضی ہوتی ہے…
وژنری انسان تکمیلی ضرورت کو درجۂ کمال پر پہنچانے کے لئے سخت ترین محنت اور لگن کا شیوہ اپناتا ہے۔
اور اپنے محسنین کو کبھی نہیں بھولتا ،آج مجھ کو بھی وہ بے لوث ہمت افزائی کرنے والا محسن جو میرے لئے مائل اسٹون کی حیثیت رکھتا ہے، بڑی شدت سے یاد آیا…
نہ جانے کہاں ہوگا، شاید پھر کسی ننھے سے پرندے کو اڑنا سکھانے میں مدد کررہا ہو…نام اس کا تخیل کے قرطاس سےکبھی محو ہوا نہ کبھی ہوگا…وقت بدلتا رہے گا …حالات بدلتے رہیں گے… انسان کے کردار بدلیں گے… ہر بدلتے کردار کے ساتھ انسان بدلے…
کیوں کہ
’’ثبات ایک تغیر کو ہے زمانے میں‘‘
لیکن زندگی کے بدلتے رنگوں کی دہلیز پر ہر کامیابی پر اپنے محسنین کی پرچھائیں انسان کے تخیل میں ابھرے گی اور وہ گہری سانس لے کر خلا میں گھورے گا، اور زبان کہے گی’’خدا تمہیں شاد و آباد رکھے اور مجھ کو اسی طرح بے لوث مدد کرنے کی توفیق عطا کرے ۔‘‘

1 Comment

  1. سمیہ شیخ ناگپور

    دراصل انسان بڑا ناشکرا ہے بڑا احسان فراموش ہے وہ اکثر اپنے محسنین کے احسانات کو بھول جاتا ہے بلکہ کبھی کبھی تو وہ ابنے محسنین کے احسانات کو اپنا حق سمجھ کر وصول لیتا ہے… شکریہ کہ دو بول تو درکنار کامیابی کی بلندیوں پر چڑھ کر وہ ان کا تمسخر اڑانے لگتا ہے….
    اور زندگی کا یہ فلسفہ ہے جب تک انسان اپنے بزرگوں اور رہنماؤں سے گردن جھکا کر فیض حاصل کرتا رہتا ہے اس وقت تک وہ تنزل کا شکار نہیں ہوتا لیکن جیسے ہی اس کی ذات تکبر کی انگڑائی لیتی ہے زمین کی کشش ثقل اسے تیزی سے اپنی جانب کھینچ لیتی ہے پس انسان کو چاہیے کہ وہ جس قد ر بلندی کی سیڑھیاں چڑھتا جائے اسی قدر عاجزی کی چادر کو اپنے گرد لپٹتا چلاجائے یہ چادر اسے نیچے گرنے سے بچائے رکھے گی….
    اس تحریر میں اسی حقیقت کو بڑی خوبصورتی کے ساتھ میں بیان کیا گیا ہے …. قربان جاؤں قلم کار کے کے تخیل پر ….حریر کی روانی نے تصویر کے اس عکس کو نمایاں تر کر دیا_

    Reply

Submit a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

جولائی ٢٠٢٢