ماحول کو محفوظ رکھنے کے لیے عملی اقدام کرنے والی ایرانی بزرگ خاتون کا ذکر کرتے ہوئے ایران کے روزنامہ’’ ہم شہری ‘‘ نےنصیبہ محلقہ ملاح نامی ایک خاتون کا تذکرہ کیا جس نے ۶۰؍سال تک گھر کے باہر کچرا نہیں پھینکا ،اور نہ اس کے گھر والوں نے کوئی کچرا نہیں چھوڑا۔ وہ۱۰۴؍ سال تک زندہ رہی ۔محلقہ ملاح کے احباب کہتے ہیں کہ’’ان کے کارنامے بیان کرنے میں ہمیں کوئی عذر مانع نہیں ہے ۔ وہ ایک ایسی خاتون تھین جس کے کام کے بارے میں گھنٹوں بات کی جا سکتی ہے۔‘‘
’’نصیبہ سجادی محلقہ ملاح‘‘ اپنی ماحول دوستی کے سبب ’’ایران کےماحول کی ماں ‘‘ (Mother of Iran’s Environment)کہلاتی ہیں ۔ اسے ایران کی مٹی، اس کےپھولوں، پودوں، درختوں، دریاؤں، پہاڑوں اور آبشاروں سے محبت تھی۔ ان کی دیکھ بھال عملا ًماحول کے تئیں کی جانے والی کوشش کی وجہ سے یہ خاتون ایران کے ماحول کی ماں بن گئیں، اور جب تک زندہ رہیں، اس قومی سرمائے کی خدمت کرتی رہیں ۔
ملاح نے اپنے طرز زندگی کو بدل لیا تھا ،ایسی پر تعیش چیزیں جو ماحول کو نقصان پہنچا سکتی ہیں،انہوں نے اسے اپنی زندگی سے ختم کردیا ۔ پر تعیش چیزیں پہلے انسان سے کچرا جمع کرواتی ہیں ،بعد ازاں انسان ان چیزوں کو ری سائیکل کرنے کے لیے ہلکان ہوتا ہے۔ ملاح کی کو شش یہ ہوا کرتی کہ جو چیز اپنے فائدے کے ساتھ پلاسٹک یا کچرا چھوڑے، وہ اس کے استعمال کو ترک کردیا کرتی اور اس کے متبادل پر غور کرکے انجام دیا کرتی تھیں ۔ یہی وجہ ہے کہ ملا ح نے۶۰؍سا لہ زندگی کے دوران کبھی بھی گھر سے باہر کچرا نہیں پھینکا ۔ایرانی ماحول کی ماں کے طور پر جانے جانے والی ڈاکٹر محلہ ملّہ 1296 میں پیدا ہوئیں، تہران کی ایک پرانی رہائشی تھیں، جو ایک ایسے خاندان میں تھیں، جو ان کی والدہ کے مطابق، ان سے پہلے ایک ماحولیاتی کارکن تھیں،بتاتی ہیں’’میری والدہ نے بہت خیال رکھا اور کبھی کوڑا کرکٹ نہیں چھوڑا۔ اس وقت کے لوگ اب کی طرح نہیں تھے اور وہ کم فاضل اشیاءپیدا کرتے تھے۔ ہم نے گھر والوں کے کھانے کی تعداد اور مقدار کے مطابق کھانا تیار کرتے ہیںتاکہ اس میں اضافی کھانا بچ نہ جائے اور ہمیں اسے پھینکنا نہ پڑے۔ ہم نے دو وقت کا ایک وقت بھی نہیں کھاتے ،کھانا بچ جائے تو ہم سایہ کو دے دیتے ہیں تاکہ وہ تازہ ہی کھالیں ۔‘‘
محلقہ ملاح نے ذمہ دارانہ زندگی گزاری :
وہ نہ صرف یہ کہ زبانی نعرے کی علم بردار تھیں ،بلکہ وہ اس پر عامل بھی تھیں ۔ ایرانی ماحول کی ماں(مدر آف انوائرن منٹ ایران ) ماحولیات کے تئیں انتہائی ذمہ دارانہ کردار نبھانے والی خاتون تھیں ۔ اس نے کبھی پیپر نیپکن (کاغذ کے تولیے) استعمال نہیں کیے تھے۔ وہ ہمیشہ اپنے ساتھ صاف کپڑا رکھتی تھیں ۔ پلاسٹک کی کھپت کو کم کرنے کے لیے اس نے منرل واٹر کی بجائے ٹھنڈا ابلا ہوا پانی استعمال کیا، ان کا کہنا تھا کہ مجھے پلاسٹک کے تھیلے، کنٹینرز اور بوتلوں کا استعمال یاد نہیں ہے۔جب وہ ایک تقریب میں ایک درخت کو پانی دینے والی تھیں اور کاریگروں نے انہیں درخت کو پانی دینے کے لیے ایک ڈسپوزایبل بوتل دی تو انہوں نے یہ کہتے ہوئے انکار کر دیا کہ’’تم شیشے کی بوتل لے آؤ تو پانی دوں گی، ورنہ پانی نہیں دوں گی!‘‘
وہ ۱۹۵۰ءکی دہائی میں ماحولیاتی سرگرمیوں میں شامل ہوئیں اور ریٹائرڈ ہونے کے بعد انہوںنے ایرانی ماحولیاتی خواتین کی ایسوسی ایشن بنائی۔ تہران سیمنٹ فیکٹری کو قزوین روڈ پر منتقل کرنا اور اینٹوں کے کارخانوں کا گیسیفیکیشن تہران میں فضائی آلودگی کو کم کرنے کے مقصد سے ملا ح کی زندگی کی کامیابیوں کا حصہ تھا۔ملاح نے ایرانی خواتین کو ایک تصور دیا کہ ماحول کی تباہی کو روکنے کے لیے خاندان سے آغاز کرنا چاہیے ۔نسلوں میں ماحولیات کا حقیقی شعور پیدا کرنے سے ہی ہم انہیں ذمہ دار شہری بنا سکتے ہیں۔ سب کےمل کر کام کرنے سے ماحول کی آلودگی کو کم کیا جا سکتا۔ ان کے مطابق انہوں نے اپنی زندگی کی آخری دو دہائیاں گھریلو خواتین اور اسکول کے اساتذہ کو تعلیم دینے میں صرف کیں۔ ان کا نجی گھر ہمیشہ ماہرین ماحولیات کے لیے ایک ٹھکانہ رہا ہے۔معلوم ہوا ہے کہ ملاح نے چائے کی پتی جیسا گیلا فضلہ درختوں اور پھولوں پر کھاد کے بطور استعمال کرنے کو عملاًرواج دیا۔ یہ ری سائیکل شدہ فضلہ گاڑیوں کو ری سائیکل کرنے کے لیے بھی فراہم کرتا ہے۔ محلہ ملاح ۷؍نومبر ۱۴۰۰ کو بڑھاپے کے باعث۱۰۴؍ سال کی عمر میں انتقال کرگئیں ،لیکن ماحول کے تئیں ذمہ دارانہ رویے کو دیےگیے شعور پر آج بھی ماحول ان کا مشکور ہے۔
محلہ ملاح کا رویہ ماحول کے لیے تھا ۔اگر ہماری خواتین ہندستان میں اس مشن کے ساتھ میدان عمل میں اتریں ،تو بہت آسانی سے بلا تفریق مذہب و ملت ایک ملا جلا پلیٹ فارم بنانے میں کامیاب ہو سکتی ہیں ۔ اسکول ،کالج ،شاپنگ مالز ، ہوٹلز کو ماحول کے تئیں مثبت سوچ پر آمادہ کرسکتے ہیں ۔

میری والدہ نے بہت خیال رکھا اور کبھی کوڑا کرکٹ نہیں چھوڑا۔ اس وقت کے لوگ اب کی طرح نہیں تھے اور وہ کم فاضل اشیاءپیدا کرتے تھے۔ ہم نے گھر والوں کے کھانے کی تعداد اور مقدار کے مطابق کھانا تیار کرتے ہیں تاکہ اس میں اضافی کھانا بچ نہ جائے اور ہمیں اسے پھینکنا نہ پڑے۔ ہم نے دو وقت کا ایک وقت بھی نہیں کھاتے ،کھانا بچ جائے تو ہم سایہ کو دے دیتے ہیں تاکہ وہ تازہ ہی کھالیں ۔

0 Comments

Submit a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

جولائی ٢٠٢٢