اس وقت ساری امت مسلمہ گستاخانِ رسول نوین جندل اورنپور شرماکے بیان پر بے چین اور کرب و اذیت میں مبتلا ہے،اور دل کے سلگتے جذبات یہ اعلان کررہے ہیں کہ اہانت رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر جذبات کو قابو میں رکھنا اور غصہ کو کنٹرول کرنا انتہائی مشکل ترین ہے ۔ایک جواں سال’’ مدثر‘‘ نامی شہید کی قربانی اس بات کی گواہ ہے کہ کئی جواں سینے اپنے نبی اکرم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی ذات پر آنچ بھی نہ آنے دیں گے ۔یہ تو اپنے نبی سے عقیدت و محبت کا نتیجہ ہے ،اور ہونا بھی چاہیے لیکن اسی کے ساتھ نبی سے عقیدت رکھنے والی اس امت سے تاریخ چند سوالات پوچھتی ہیں ،کہ آیا ہم جس نبی سے عقیدت کا دم بھرتے ہیں، اس کی تعلیمات سے واقف ہوکر ہم نے اسے کتنے لوگوں تک پہنچانے کی ذمہ داری ادا کی ہے ؟
دنیا کے پچیس کروڑ مسلمان کیا اس فرض کو نبھارہے ہیں ؟
دستوری حق کے مطابق ہمیں یہ آزادی میسر ہے کہ ہم اپنے مذہب پر عمل کرکے اسے پھیلاسکیں ، چنانچہ ان ستر سالوں میں ہم نے اس ذمہ داری کا پچاس فیصد بھی حق ادا کیا ہے؟؟
اور ایک غیر معمولی سوال یہ بھی کہ کیا یہ سارا کام محض چندمٹھی بھر لوگوں کے ہی کرنے کا ہے؟؟
ان سوالات کا جواب اگر یہ ہےکہ ہم نے دعوت کے اس فریضے کو اتنا اہم نہیں سمجھا ،تو پھر نپور شرما کی جانب سے ہونے والی شرارت اس بات کی غماز ہے کہ ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا تعارف دینے میں،اور اپنے نبی کے بتائے گئےسانچے میں اپنےآپ کو ڈھالنے میں اوران کے پیغام کو عام کرنے میں جو کوتاہی کی، اس کا نتیجہ ہم ان شرارتوں کی شکل میں دیکھ رہے ہیں ۔اسلام پر اٹھنے والی ہر انگلی کے کہیں نہ کہیں ذمہ دار ہم بھی ہیں۔ رہا سوال ان سازشوں کا ،جو تکلیف دہ ہیں تو یہ بات مسلم ہے کہ یہ اطفاء نور کی کوششیں ہر دور میں اتمام نور کا ضمیمہ ثابت ہوئیں ہیں، اسلام کو نہ اس سے کسی دور میں نقصان پہنچا ہے نہ پہنچے گا ،کیونکہ جتنا زور سے اسے دبایا جائے گا اتنا ہی تیزی کے ساتھ وہ ساری انسانیت کے ذہن و دماغ کو اپیل کرے گا ،کیونکہ
اسی کشاکش پیہم سے زندہ ہے اقوام
یہی ہے راز تب و تاب ملت عربی
لیکن اصل امتحان تو اسلام کے ماننے والوں کا اس کے نبی سے عقیدت و محبت کرنے والوں کا ہے کہ اس عقیدت کا تقاضہ محض نبی کے نام کا نعرہ لگادینے اور آپ پر جان نثار کرنے کا دعویٰ کرنا نہیں ہے ، بلکہ ٹھیک ہے عقیدت ہو ،ساتھ ہی عقیدت کے ،جذبۂ اطاعت ہوکیونکہ جو عمل کے قابل ہو ایسا اک سبق لیکر میرے مصطفیٰ آئے ہم جس امانت کے امین بنائے گئے ہیں، اسے بندگان خدا تک بالعموم اور بالخصوص کما حقہ پہنچانا ہم پر فرض تھا، اب وہ جن بندوں تک نہیں پہنچی اسکا ذمہ دار کون ہے ؟
ان اشرار کی شرارتوں نے کیوں جنم لیا ؟
کہیں ایسا تو نہیں کے ہم نے ظلمات میں پھنسی ہوئی خلق خدا کو باہر نکال کر ان کی رسائی نور تک نہ کی تو یہ اندھیرا اتنا بڑھا اور تیز ہوا کہ ہم بھی اس کے شکار ہوگئے ۔
ان دھندلے نقوش کو ذرا صاف کریں ،اور ا س میں جھانک کر دیکھیں کہ کس طرح اندھیروں میں سفر کرنے والے جب نور کا کا تعاقب کرتے تھے، اور اسے بجھانا چاہتے تو نبی ٔرحمت صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک مسکراہٹ دل بدل دینے کےلیے کافی ہوجاتی تھی ۔
وہ سراقہ جو اپنے سرپٹ دوڑنے والے گھوڑے کو لے کراس غرض سے نکل پڑے کہ قریش مکہ کے سامنے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو پیش کروں اور سو سرخ اونٹ پالوں ،محرک بھی بڑا اور ارادہ بھی مضبوط ،لیکن یہ کیا ہوا کہ سراقہ آپ کے قریب پہنچ کر پہلے والے سراقہ نہ رہے؟ ایک خفیف سی مسکراہٹ ،اور انتہائی نامساعد حالات میں عزم مصمم،ٹارگیٹ کی بلندی،مقاصد اور وژن پر گہری نظر نے یہ جادو جگایا،سراقہ نے دیکھا کہ نہ ہی اس پر وار کیا گیا اور نہ ہی اسے کوئی الٹی میٹم بلکہ ایک خوبصورت بشارت کے ذریعہ زبان مبارک سے نکلے الفاظ نے سراقہ جیسے جانباز کو اس قافلہ ٔحق میں شامل کردیا، تاریخ نے لکھا کہ ظلمت کی ایک کڑی ٹوٹ کر گری اور نور کی کڑیوں سے جڑ کر نور علی نور بنی۔
ا س طرح کے کئی نقوش جس پر ہم نے اپنے تساہل اور گرد و غبار کے سایے پھیلادیے، صاف کریں۔ اور وقت کے سارے نوین جندل اور نپور شرما کو بتائیں کے جس نبی کے ہم امتی ہیں اس نے راہ میں آنے والے گرد و غبار کو روشنی میں تبدیل کرکے دنیا کو مزید روشن کردیا ہے،اور ہم بھی اسی راستے پر چل کر روشنی پھیلانے والے بنیں گے ،ان شاءاللہ۔
یہ سارے اوراق تو امانتیں تھیں، آئیے! مل کر الٹ دیں اور ایسا جہاں تعمیر کریں جہاں خزاں سے سب کو نفرت ہو اور بہار کی تمنا ہر دل میں اٹھتی ہو ۔

ان دھندلے نقوش کو ذرا صاف کریں ،اور ا س میں جھانک کر دیکھیں کہ کس طرح اندھیروں میں سفر کرنے والے جب نور کا کا تعاقب کرتے تھے، اور اسے بجھانا چاہتے تو نبی ٔرحمت صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک مسکراہٹ دل بدل دینے کےلیے کافی ہوجاتی تھی ۔

پچیس لفظوں کی کہانی

کال

”سر!کال فروم اولڈ ایج ہوم“
”ممی ہوں گی،پتہ ہے کہ میری فلم ”موم اِز لَو“کاایوارڈ ملنا ہے آج،پھر بھی فون،کہہ دو بزی ہوں،سوری!“
احمد بن نذر

1 Comment

  1. عائشہ حبیب (حیدرآباد)

    السلام علیکم ورحمۃاللہ برکاتہ!
    امید کہ مزاجِ گرامی بخیر ہونگے ۔
    ماہ نامہ جولائی میں شائع ڈاکٹر عروج صاحب کی تحریر ” امانت کا حق ” نظروں سے گذری تو ذہن و دل میں چند سوال پیدا ہوۓ ۔ جنہیں میں آپ کی نظر کررہی ہوں ۔ اسے تنقید براۓ تنقید نہیں بلکہ تنقید براۓ تعمیر کے زمرے میں شمار کریں ۔
    ۱۔ کیا دنیا کے ۲۵ کروڑ مسلمان دعوت کا حق ادا کرنے کے قابل ہیں ؟ کیا مسلمان اسلامی تعلیمات سے وابستہ ہیں ؟ جبکہ ہم اور آپ اپنے بچوں کو دینی تعلیمات کے بجاۓ دنیوی تعلیمات دلوانے میں لگے ہوۓ ہیں ۔ اسی کا نتیجہ ہے کہ آج دینی بیک گراؤنڈ رکھنے کے باوجود بچے لادینی افکار و نظریات کا شکار ہورہے ہیں ۔ جبکہ دینی مدرسوں کا رُخ کرنے والی تعداد معاشرے سے پچھڑے ہوۓ لوگوں کی ہے ۔
    ۲۔ کیا آپ کو واقعی یہ لگتا ہے کہ اسلام کے دشمن جو چال چل رہے ہیں اس میں مسلمانوں کا ہاتھ ہے؟ اگر اس بات میں سچائی ہے تو بتائے کہ زمانۂ نبوتﷺ میں دشمن کی چالوں کا ذمہ دار آپ کس کو مانتے ہیں ؟؟؟ ۔ غزوات و سرایہ کافروں کے خلاف کیوں ہوۓ؟ ؟؟

    ہزار جدّت طرازیوں کے لباس بدلا کرے زمانا
    مگر یقینا رہے گا عامر ! مزاجِ باطل وہی پرانا

    ۳۔ آپ کی تحریرکے مطابق ان مسائل کا حل مسلمانوں کی مسکراہٹ ہے ۔۔۔ جبکہ ہم اچھی طرح جانتے ہیں کہ ہندوستان میں جماعت ِ اسلامی کے ساتھ ساتھ تمام دیگر جماعتیں سالہا سال سے مسکرانے کا یہ فریضہ انجام دیتی چلی آرہی ہیں ۔ ہماری ۳ نسلیں اسی طرح مسکراتے ہوۓ دارِ فانی کو کوچ کرچکی ہیں ۔ آپ یہ بتائیں کہ ہندوستان کے مسلمانوں کو مسکرانے کا یہ عمل کتنی صدیوں تک جاری رکھنا ہوگا ؟؟؟
    جبکہ مسکراتے مسکراتے مسلمانوں کے ہاتھ سے اب۔۔۔”دیں بھی گیا ، دنیا بھی گئی ۔ ”

    والسلام

    Reply

Submit a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

جولائی ٢٠٢٢