ہمارا ملک دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہے جہاں سب سے زیادہ مذہب کو ماننے والے موجود ہے اسی ملک میں 17 سو زبان بطور مادری زبان بولی جاتی ہے 125 کروڑ کے اس ملک میں تقریبا چھ ہزار ذاتیں پائی جاتی ہے اور دنیا کی اہم نسلی گروہ میں سے چھ اہم نسلی گروہ کے افراد یہاں موجود ہیں جن میں اسلام، عیسائیت، ہندومت، یہودیت، سکھ مت، بدھ مت اور جین مت کے ماننے والے لوگ موجود ہیں اس لئے آئین نے تمام فرقے کو مساوات عقیدہ اور اخوت عبادت، سیاسی معاشی سماجی انصاف اور مساوات کا حق آئین کی دفعہ 25 میں دیا گیا ہے لیکن اب اس ملک کا منظر نامہ ہی کچھ اور ہے اکثریتی طبقہ بمقابلہ اقلیتی طبقہ! قانون، عدلیہ کا من مانا استعمال، حکومت بنانے گرانے کا فن، جمہوری اقدار سے کھلواڑجی ہاں یہ حقیقت ہے برسراقتدار بی جے پی حکومت نے انگریزوں کی پالیسی” ڈیوائیڈ اینڈ رول “کو رائج کر دیا ہے اس لئے ملک عزیز بھارت میں عدلیہ قانون جمہوری اقدار جیسی چیزوں سے اقلیتوں کا کب کا بھروسہ آٹھ چکا ہے۔
اب جس کی لاٹھی اس کی بھینس والا معاملہ چل رہا ہے حکومت جو چاہے جب چاہے کر سکتی ہے اس کے لیے جمہوریت قانون کوئی معنی نہیں رکھتا اور جواب بھی جمہوری نظام کی بات کرتے ہیں وہ مذاق کے سوا کچھ نہیں کرتے جمہوری نظام کے پابند صرف اقلیت رہ گئے باقی برسر اقتدار حکومت اپنے مفاد کے لیے جمہوریت کا گلا گھوٹ سکتی ہے جو اب بھی ملک کو آزاد جمہوریت سمجھتے ہیں وہ ایک بات ذہن نشین کر لیں کہ ہماری جمہوریت اربوں کھربوں روپے میں لپٹی ہوئی ہے اور اس ملک کا کوئی شعبہ ایسا نہیں ہے جو کرپٹ نہ ہو اس لئے جو ایک مرتبہ اقتدار پر قابض ہوگیا ہے وہ اس کرسی کو اپنی جاگیر سمجھ بیٹھتا ہے پھر چاہے کچھ بھی ہو کسی بھی قیمت پر اقتدار کی کرسی چھوڑنا نہیں چاہتا ان کے لئے آئین قانون کوئی معنی نہیں رکھتا یہی کام برسراقتدار بی جے پی حکومت کر رہی ہیں اور پورے اپوزیشن کو بے بس و لاچار کردیا ہے اقلیتوں کو نشانہ بنا کر اکثریت کو بےوقوف بنایا جارہا ہے بھارت کا دستور جو ہر شہری کو اس کے مذہبی آزادی کے ساتھ زندگی گزارنے کی ضمانت دیتا ہے اور یہی دستور کہ تمام قوانین و اقتدار کے نشے میں چور بی جے پی کے لیے بے معنی ہوجاتے ہے حکومت ملک کو خانہ جنگی کی طرف لے جارہی ہے جسے صرف خون خراب ہوگا ایک مخصوص مذہب کو نشانہ بنانا ملک کی سالمیت کیلئے خطرناک ہے بی جی پی نئے نئے قوانین لا رہی ہے کمزور پوزیشن مخالفت کر رہی ہے لیکن تعداد میں مات کھا کر رسوا ہو رہی ہے پہلے طلاق ثلاثہ پھر کشمیریت پہ وار، شہریت ترمیم بل، کسان قانون، اگنی پتھ اسکیم وغیروغیرہ۔
سرکاری اداروں، عدلیہ، میڈیا کا استعمال کرکے اقلیتی طبقے کے خلاف زمین تنگ کی جارہی ہے اور اکثرت کو خوش کرنے کی کوشش کی جارہی ہے اس سے صرف اقلیت متاثر نہیں ہونگے بلکہ اس کا نقصان اجتماعی طور پر ملک کا ہوگا جس کی وجہ سے ملک تعلیمی سماجی معاشی اقتصادی ہر شعبے میں پیچھے رہ جائے گا قانون کے کبھی دو پیمانے نہیں ہوسکتے لیکن اب بھارت میں قانون بھی دو حصوں میں تقسیم ہوکر رہ گیا گجرات فسادات معاملے میں وزیراعظم مودی کے خلاف دائر کی گئی یاچیکا کو سپریم کورٹ مسترد کردیتا ہے اور قانونی لڑائی لڑنے والی سماجی کارکن تیستا سیتلواد کو دہلی پولیس گرفتار کر لیتی ہے – اس سے قبل سپریم کورٹ نے کہا تھا بابری مسجد کا فیصلہ حقائق کی بنیاد پر ہوگا نا کی آستھا کی بنیاد پر ہوگا پھر کیا ہوا؟ فیصلہ آپ کے سامنے ہے ۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کرنے والی نوپور شرما کو پولیس گرفتار نہیں کر پا رہی ہے اور فیکٹ چیکر محمد زبیر جیل میں بند ہے جامعہ ملیہ یونیورسٹی میں گولی چلانے والا رام بھکت باہر گھوم رہا ہے اور بس فسادات سے بستی بچانے کے لیے بندوق تاننے والا شاروخ جیل میں بند ہیں، دہلی فسادات کا کلیدی مجرم کپل مشرا باہر ہے اور عمر خالد، شرجیل امام جیل میں بند ہیں کیا یہ قانون کا دوہرا ماپ دنڈ نہیں ہے؟ کیا قانون واقعی یہ حقوق فراہم کرتا ہے کہ وزیرِاعلٰی یوگی اقلیتوں کے حق میں آواز بلند کرنے والی آفرین فاطمہ کی بیمار ماں معصوم بہن بھائی سمیت تمام اہل خانہ کو جیل میں ڈال دے کر ان کے گھر پر بلڈوزر چلا دے؟ اس کھلی بربریت کے خلاف اٹھنے والی آوازوں کو بھی پکڑ کر جیل میں بھرتی کردے؟ جھارکھنڈ پولس احتجاج کررہے مدثر کے سر میں گولی مار کر اس کو قتل کردے؟ کیا اس سے انصاف ہوگا؟ کیا دستورِ ہند میں جس مساوات کی بات کی گئی وہ واقعی باقی ہے؟ کیا قانون اور عدلیہ اپنا کام صحیح کر رہی ہے؟
ان سارے سوالات کا جواب ہے نہیں! انصاف کا معاملہ آج کا نہیں ہے آپ تاریخ اٹھا کر دیکھ لو صدیوں سے یہ لوگ چھوت اچھوت میں لپٹے رہے اور آج بھی ایسے واقعات رونما ہوتے ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ اس ملک میں عدلیہ قانون, جمہوری اقدار وغیرہ وغیرہ جیسی چیزوں سے مسلمانوں کا بھروسہ اٹھ چکا جو لوگ یا لیڈر مزکورہ باتوں کا واسطہ دے کر جمہوری نظام کی تائید کرتی ہے وہ ایک بھدہ مذاق کے علاوہ کچھ نظر نہیں آتاکیوں کہ جس ملک میں اکثریتی طبقے کے لوگ معمولی سی موٹر سائیکل چوری کے بہانے ایک مسلمان نوجوان تبریز انصاری کو بارہ گھنٹے تک بجلی کے ستون سے باندھ کر پیٹ پیٹ کر قتل کرتے ہیں اور اس کا باقاعدہ ویڈیو بنا کر پورے ملک میں وائرل کرتے ہیں دنیا کی تاریخ نے کبھی ایسی حیوانیت نہیں دیکھی ستم تو یہ ہے کہ جس قانون اور عدلیہ کی بات کی جاتی ہے اور اس کا جھوٹا سہارا مسلمانوں کو دیا جاتا ہے وہ سرے سے صفاک مجرموں کی تائید اور امداد میں اپنی پوری سرکاری قوت صرف کر دیتا ہے ایسے حالات میں اگر کوئی یہ کہے کہ ابھی قانون زندہ ہے، ابھی انصاف زندہ ہے ابھی جمہوری اقدار باقی ہے، تو اسے بڑا مزہ اور کیا ہو سکتا ہے؟ کیونکہ ان اقدار پر یقین کرنے کی قیمت مسلمان روزانہ ہندوتوادیوں کے ہاتھوں قتل ہو کرچکا رہے ہیں حد تو یہ ہے کہ جس ملک میں کھلے عام ہاتھوں میں ہتھیار لے کر جئے شری رام کے نعرے لگائے جاتے ہیں اور مسلمانوں کے خلاف زہر اگلا جاتا ہے مسلمانوں کو اس ملک سے صفحہ ہستی سے مٹانے کے نام پر حکومت قائم کی جاتی ہے اور حکومتی ایوانوں میں سب سے بڑا مقام حاصل کرنے کا معیار ہی مسلم دشمنی سے طئے کیا جاتا ہےاور اس کے باوجود مسلمان ہی کو اللہ ھو اکبر کہنے پر ملک کی سلامتی کو خطرہ ہونے کا ڈھنڈورا پیٹا جاتا ہے حد تو یہ ہے کہ وہ لوگ بھی جو فرقہ پرستی کے خلاف ووٹ دے کر خود کو سیکولر بتاتے ہیں اور نربھیا کے واقعے میں پورے ملک بھر میں موم بتی جلا کر سوگ مناتے ہیں ان لوگوں کو بھی ان واقعات کے خلاف آواز بلند کرنے کے دوران سانپ سونگھ جاتا ہےایسے میں انکی خاموشی ملک کے مسلمانوں میں اس بات کا شدید احساس پیدا کرتی ہے کہ اب اس ملک میں مسلمان کو اپنی حفاظت خود ہی کرنی ہوگی غضب زمانہ قدیم کی طرح یا تو خیالوں میں محسوس ہونا ہوگا یا کوئی اور راستہ جمہوریت کے خلاف محسوس ہوتا ہےان حالات کا ذمہ دار تو کسی اور کو گرد عناصر یہ بیوقوفی ہوگی اور کسی جمہوریت کا حوالہ دینے والا کھائے کی بات ماننا بھی سرے حماقت ہوگی کیونکہ اب ہمارے پاس مزید بلقیس بانو، آصفہ، احسان جعفری، رقبر ، اخلاق احمد، پہلو خان، محسن شیخ، حافظ جنید سے لیکر تبریز احمد تک تمام ہی کی طرح ہندوازم کابلی چڑھنے کے لیے کوئی باقی نہیں رہا ساری دنیا جانتی ہے اور اقوام متحدہ نے بھی اس بات کو تسلیم کیا کہ جو شخص جہاں پیدا ہوا اسے اس کا اور اپنی جان مال، عزت و آبرو کی حفاظت کرنے کا پورا حق حاصل ہےچاہے اس کا طریقہ کوئی بھی ہو اسے حق سے اس ملک میں مسلمان کو کوئی محروم نہیں کر سکتا نہ عدلیہ نہ قانون اور ناہی مودی کی ملٹری!
جو ہوا وہ اتنا کافی ہے کہ گذشتہ 70 سالوں سے مسلمانوں کی پیشانیوں پے امن پسندی ،جمہوریت پسندی اور ملک کی عدلیہ کے احترام کا طمغہ سجایا جا سکے اسی کے لئے آپریشن پولو سے لے کر اب تک لاکھوں بے قصور مسلمانوں کی جانیں اور عزتیں تار تار ہوتی رہیں اس سے زیادہ اس طمغے کی قیمت مسلمان نہیں چکا سکتے لہذا جمہوری اقدار اور ملک کی عدلیہ و قانون کی قصیدہ خوانیاں محض ایک افسانے سے زیادہ کچھ نہیں…

اب ہمارے پاس مزید بلقیس بانو، آصفہ، احسان جعفری، رقبر ، اخلاق احمد، پہلو خان، محسن شیخ، حافظ جنید سے لیکر تبریز احمد تک تمام ہی کی طرح ہندوازم کابلی چڑھنے کے لیے کوئی باقی نہیں رہا ساری دنیا جانتی ہے اور اقوام متحدہ نے بھی اس بات کو تسلیم کیا کہ جو شخص جہاں پیدا ہوا اسے اس کا اور اپنی جان مال، عزت و آبرو کی حفاظت کرنے کا پورا حق حاصل ہےچاہے اس کا طریقہ کوئی بھی ہو اسے حق سے اس ملک میں مسلمان کو کوئی محروم نہیں کر سکتا نہ عدلیہ نہ قانون اور ناہی مودی کی ملٹری!

0 Comments

Submit a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

جولائی ٢٠٢٢