سوال :
ملک کے بہت سے حصوں میں افغان ریفیوجی اور روہنگیا ریفیوجی مرد اور خواتین اپنے بچوں اور بچیوں کے ساتھ قیام پذیر ہیں۔ ان کے پاس ہندوستان کی شہریت نہ ہونے کی وجہ سے ان کے بچے نہ اچھے تعلیمی اداروں میں تعلیم حاصل کر سکتے ہیں نہ اچھے اسپتالوں میں ان کا علاج ہو سکتا ہے۔ اگر ہندوستانی شہری انھیں گود لے لیں تو ان کے یہ مسائل حل ہو سکتے ہیں۔
سوال یہ ہے کہ کیا کوئی مسلمان لا ولد جوڑا ان ریفیو جیوں کے بچوں کو گود لے سکتا ہے؟ اسلام میں متبنّی(گود لینے) کا کیا حکم نہیں ہے، لیکن اگر ان بچیوں کو لیگل اڈاپٹ نہ کیا جائے تو یہ قانونی طور پر ہندوستانی شہری نہیں بن سکتے۔ ایسی صورت میں کیا کوئی درمیان راہ نکل سکتی ہے؟
جواب:
اسلام میں کسی بچے کو گود لینے کے احکام بالکل واضح ہیں۔ کوئی جوڑا چاہے صاحب اولاد ہو یا لا ولد، وہ اپنے خاندان کے کسی اجنبی بچے کو اپنے ساتھ رکھ سکتا ہے، اس کی پرورش کر سکتا ہے اور اس کی تعلیم و تربیت کا انتظام کر سکتا ہے۔ لیکن اس کی ولدیت کو نہیں بدل سکتا، اس کے باپ کے نام کی جگہ اپنا نام نہیں لکھوا سکتا۔ قرآن مجید میں ہے:
ادْعُوہُمْ لِآبَائِہِمْ ہُوَ أَقْسَطُ عِندَ اللَّہِ فَإِن لَّمْ تَعْلَمُوا آبَاء ہُمْ فَإِخْوَانُکُمْ فِیْ الدِّیْنِ وَمَوَالِیْکُمْ(الاحزاب:۰۵)
’’انھیں (منھ بولے بیٹوں کو) ان کے باپوں کی نسبت سے پکارو، یہ اللہ کے نزدیک زیادہ منصفانہ بات ہے۔ اور اگر تمھیں معلوم نہ ہو کہ ان کے باپ کون ہیں تو وہ تمھارے دینی بھائی اور رفیق ہیں۔‘‘
ہمارے ملک میں بہت سے مقامات پر ریفیوجی بہت بڑی تعداد میں رہتے بستے ہیں۔ قانونی طور پر ان کے حقوق بھی تسلیم کیے گئے ہیں، لیکن عملاً انھیں وہ حقوق حاصل کرنے میں دشواری ہوتی ہے یا بسا اوقات حاصل ہی نہیں کر پاتے اور بہت کس مپرسی کی زندگی گزارتے ہیں۔ اس صورتِ حال میں ان کی خیر خواہی یہ ہے کہ ان کے حقوق، جو عالمی سطح پر تسلیم شدہ ہیں اور ہمارے ملک میں بھی انھیں تسلیم کیا جاتاہے، انھیں دلوانے کی کوشش کی جائے۔ ان کا مالی طور پر تعاون کیا جائے، انھیں عزت اور وقار کے ساتھ زندگی گزارنے کی سہولیات فراہم کی جائیں، ان کے مسئلے کا درست حل یہ نہیں ہے کہ انھیں قانونی طور پر اڈاپٹ کر لیا جائے، اس لیے کہ اسلام اس کی اجازت نہیں دیتا۔

ویڈیو :

0 Comments

Submit a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

جولائی ٢٠٢٢