اب نعرہ حق پھر گونجے گا
ان ٹوٹے گھروں کی اینٹوں میں
معصوموں کے خوں کی چھینٹوں میں
دھڑ دھڑ گرتی دیواروں میں
انصاف کے ان بازاروں میں
اب نعرہ حق پھر گونجے گا
انصاف ہی تولا جائے گا
بولی لگتے اخباروں میں
سچ پھر سے بولا جائے گا
آئین کے بیچنے والوں کو
کرسی سے اٹھایا جائے گا
انہیں بیچ سڑک پر لاکر پھر
سولی پہ چڑھایا جائے گا
نفرت پھیلانے والوں کے
سر دھڑ سے جدا ہو جائیں گے
مسمار ہوئے ہیں جتنے بھی گھر
سب کے سب جڑ جائیں گے
اب نعرہ حق پھر گونجے گا
پھر دار پہ وارے جائیں گے
ناموسِ رسالت کی خاطر
ہم کتنے مارے جائیں گے
کفار و یزیدکے نعروںسے
گھبرائے ہیں ناگھبرائیںگے
اب نعرہ حق پھر گونجے گا

0 Comments

Submit a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

جولائی ٢٠٢٢