سوال:
حج کمیٹی نے خواتین کے اجتماعی سفر کی اجازت دی ہے۔ کیا اس اجازت سے فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے؟
ایک خاتون، جو صاحبِ حیثیت ہو اور بیوہ بھی ہو، کیا وہ اپنی بہن کو محرم بنا کر حج کے لیے جا سکتی ہے؟
جواب:
حج اسلام کے ارکان میں سے ہے۔ اللہ کے رسول ﷺ کا ارشاد ہے:’’اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر ہے۔ اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں، نماز قائم کرنا، زکوٰۃ ادا کرنا، حج کرنا اور رمضان کے روزے رکھنا۔‘‘
(بخاری: ۸، مسلم۱۶:)
حج کی فرضیت قرآن مجید میں بیان کی گئی ہے۔اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

وَلِلّہِ عَلَی النَّاسِ حِجُّ الْبَیْتِ مَنِ اسْتَطَاعَ إِلَیْہِ سَبِیْلا
(آل عمران:۹۷)
’’لوگوں پر اللہ کا یہ حق ہے کہ جو اس گھر تک پہنچنے کی استطاعت رکھتا ہو، وہ اس کا حج کرے۔‘‘
استطاعت سے مراد یہ ہے کہ حج کا ارادہ کرنے والے کے پاس بیت اللہ تک جانے اور واپس آنے کے مصارف ہوں، اس کی غیر حاضری میں اس کے اہلِ خانہ کی گزر اوقات کا نظم ہو، راستے میں امن و امان ہو اور جان کا خطرہ نہ ہو، وہ صحت مند ہو کہ سفر کی صعوبتیں برداشت کر سکتا ہواور مناسک حج ادا کرنے کے قابل ہو۔ اس کے ساتھ عورت کے لیے ایک اضافی شرط یہ ہے کہ اس کے ساتھ محرم ہو۔ یہ شرط صرف سفر حج کے ساتھ مخصوص نہیں ہے، بلکہ ہر سفر کے لیے ہے۔
حضرت عبد اللہ بن عباسؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نے ایک مرتبہ نبی ﷺ کو خطبہ میں یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: لا تسافر المرأۃ الا مع ذی محرم’’عورت محرم کے بغیر سفر نہ کرے۔‘‘اس پر ایک شخص اٹھا اور اس نے کہا: اے اللہ کے رسول ! میری بیوی حج کے لیے جانا چاہتی ہے، لیکن میں نے فلاں غزوہ میں شرکت کے لیے نام لکھوا دیا ہے۔ یہ سن کر آپؐ نے فرمایا: انطلق فحجّ مع امرأتک’’جاؤ، اپنی بیوی کے ساتھ حج کرو۔
(بخاری: ۱۸۶۲، مسلم: ۱۳۴۱)
اس موضوع کی روایات میں مسافت سفر کے بیان میں اختلاف پایا جاتا ہے۔ بعض روایات میں تین دن تین رات، بعض میں دو دن، بعض میں ایک دن ایک رات، بعض میں ایک دن، بعض میں ایک رات کا ذکر ہے اور بعض میں مسافت کے ذکر کے بغیر مطلق سفر کا تذکرہ ہے۔ بہر حال زیادہ سے زیادہ تین دن تین رات کی مسافت کا بیان ہے کہ اتنی مسافت کا سفر عورت کے لیے بغیر محرم کے جائز نہیں ہے۔
جہاں تک عورت کے سفر حج کا معاملہ ہے، فقہاء کے درمیان اس معاملے میں اتفاق ہے کہ نفلی حج ادا کرنے کے لیے عورت محرم کے بغیر سفر نہیں کر سکتی، البتہ جس عورت پر حج فرض ہو اس کی ادائیگی کے لیے سفر کرنے کے معاملے میں ان کے درمیان اختلاف ہے۔
امام ابو حنیفہؒ کے نزدیک حج خواہ فرض ہو یا نفلی، ہر صورت میں عورت صرف شوہر یا محرم کے ساتھ سفر کر سکتی ہے۔
امام شافعیؒ کہتے ہیں کہ فرض حج کی ادائیگی کے لیے سفر کرنے کی صورت میں عورت کے لیے محرم کی شرط نہیں ہے۔ وہ قابلِ اعتماد ساتھیوں یا عورتوں کی جماعت کے ساتھ سفر کر سکتی ہے۔ بہ شرطے کہ اسے اپنی ذات کے بارے میں حفاظت کا پورا اطمینا ن ہو۔امام احمدؒ سے بھی ایک قول اسی طرح کا مروی ہے۔
امام مالکؒ اجازت دیتے ہیں کہ اگر عورت اور مکہ مکرمہ کے درمیان ایک دن رات کی مسافت ہو تو وہ عورتوں کی جماعت کے ساتھ سفر کر سکتی ہے۔
اس تفصیل سے معلوم ہوا کہ فقہ حنفی کی رُوسے بغیر محرم کے عورت کا حج کے لیے سفر کرنا جائز نہیں، جب کہ دیگر فقہاء اسے جائز قرار دیتے ہیں۔ وقتِ ضرورت اس گنجائش سے فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے۔
دوسری بات یہ کہ کوئی عورت کسی عورت کے لیے محرم نہیں بنتی، بلکہ محرم سے مراد کسی عورت کا وہ عاقل بالغ مسلمان مرد ہے جس کے ساتھ اس کا نکاح کبھی نہیں ہو سکتا ہو۔یہ ابدی حرمت تین بنیادوں پر قائم ہوتی ہے:
۱۔ نسب کی بنیاد پر: اس میں باپ، بھائی، بیٹا، بھتیجا، بھانجا، چچا، ماموں، دادا، نانا وغیرہ آتے ہیں۔
۲۔ رضاعت کی بنیاد پر: اس میں نسبی رشتوں کی طرح رضاعی رشتے آتے ہیں۔
۳۔ نکاح کی بنیاد پر: اس میں شوہر، سسر، سوتیلا بیٹا اور داماد آتے ہیں۔
بہنوئی، پھوپھا اور خالو محرم نہیں ہیں، اس لیے ان کی حرمت ابدی نہیں، وقتی ہے۔

اس موضوع کی روایات میں مسافت سفر کے بیان میں اختلاف پایا جاتا ہے۔ بعض روایات میں تین دن تین رات، بعض میں دو دن، بعض میں ایک دن ایک رات، بعض میں ایک دن، بعض میں ایک رات کا ذکر ہے اور بعض میں مسافت کے ذکر کے بغیر مطلق سفر کا تذکرہ ہے۔ بہر حال زیادہ سے زیادہ تین دن تین رات کی مسافت کا بیان ہے کہ اتنی مسافت کا سفر عورت کے لیے بغیر محرم کے جائز نہیں ہے۔

ویڈیو :

0 Comments

Submit a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

جولائی ٢٠٢٢