تبصرہ و تجزیہ : محمد علم اللہ

کسی بھی انسان کے بارے میں اس کے حلیے یا روزگارکی بنیاد پر رائے قائم نہیں کرنی چاہیے، مگر انسانی طبیعت کئی مرتبہ ظاہری طور پر کیا نظر آرہا ہے، اسی سے کوئی نتیجہ اخذ کر لیتی ہے۔ پہلے پہل جب انجینئر سید مکرم نیاز کی کتاب ’’راستے خاموش ہیں‘‘ ملی تو ’’اسے ایویں ہی کوئی کتاب ہوگی جیسے آج کل لوگ چھاپتے رہتے ہیں ۔‘‘سوچ کر کنارے رکھ دیا کہ کبھی موقع ملے گا تو دیکھ لیں گے، اس میں کہیں ذہن کے ایک گوشے میں یہ بات بھی تھی کہ پیشے سے انجینئر کیا افسانہ نگاری کرے گا، لیکن پھر یہ سوچ کرکہ کتاب میں کچھ نہ ہو مگرتعلق ہی سہی ،اگر کسی نے اتنی محبت سے کتاب بھیجی ہے تو اسے ضرور پڑھنا چاہیے ، اس کی ورق گردانی شروع کی اور مکمل کتاب ختم کرکے ہی دم لیا۔
یوں انجینئر مکرم نیاز نے ثابت کر دیا کہ تخلیقی کام کے لئے کسی خاص شعبے سے وابستگی اس میں مخل نہیں ہوتی ،بلکہ تخلیقیت کے لئے لگن، محنت، ریاضت اور مستقل مزاجی کی ضرورت ہوتی ہے، تبھی تو انہوں نے اس پیشے سے وابستہ دیگر کئی نامور مصنفین کی طرح ڈھرے سے الگ ایک نئی راہ بنانے میں کامیابی حاصل کی ،جس طرح ہندوستان میں چیتن بھگت نےانجینئرنگ کے شعبے سے وابستگی کے باوجود فکشن میں جگہ بنائی ، تنقید نگار حضرات اس کے فن پر گفتگو کر سکتے ہیں لیکن اس سے کسے انکار ہو سکتا ہے کہ وہ بڑے طبقے کو متاثر کرتے اور پڑھے جاتے ہیں یا پھر دوسرے بڑے قلم کار جیسے جوان بینیٹ- سول انجینئر اور مصنف، پریمو لیوی- مصنف اور کیمیکل انجینئر،فیوڈور دوستوفسکی- فوجی انجینئر اور مصنف،سٹینڈل-ریاضی دان اور مصنف، لوئس بیونیوئل، مصنف اور زرعی انجینئر، جان مارگریٹ، معمار اور شاعر،البرٹ ایسپینوسا، مصنف اور کیمسٹ وغیرہ جنھوں نے اسی شعبہ سے وابستہ رہتے ہوئے تخلیقی دنیا میں نام کمایا۔
انجینئر مکرم نیاز بھی اسی قلم قبیلے سے تعلق رکھتے ہیں جنھوں نے صحافت کی وادی میں کئی دہائی سے اپنی موجودگی کا احساس دلایاہے اور اب فکشن میں بھی اپنی جگہ بنانے میں کامیاب نظر آتے ہیں۔ ’’ راستے خاموش ہیں‘‘میں کل تیرہ افسانے ہیں ،اور ہر افسانہ اپنی جگہ ایک عمدہ کہانی ہے، جس میں زندگی کی توانائی پوری آب و تاب کے ساتھ رواں دواں دکھائی دیتی ہے۔ ہر کہانی ایک بے چین معاشرے کی گواہ ہے، جس میں کہیں درد ہے، کہیں کسک، کہیں المیہ، کہیں خواب تو کہیں اس خواب کو حاصل کرنے کے لئے طویل جد و جہدکی حیران کن داستان۔
سب سے پہلی کہانی’’تیری تلاش میں ‘‘ہے جس میں مصنف نے فرسٹ پرسن کی زبانی ایک ایسے شخص کی داستان بیان کی ہے جو پوری زندگی محنت، تگ و دو اور جدو جہد کرتے کرتے ایک منزل کو پالینا چاہتا ہے، اس منزل کو حاصل کرنے کی دوڑ کے درمیان کیسے کیسے ارمانوں کا خون ہوتا ہے، کیسے معاشرے اور سماج کا دباؤ پڑتا ہے، کیسے بیوی، بال بچے اورخاندان والے پریشان کرتے ہیں، کیسے سب کو خوش کرنے کے لئے انسان بھاگتا رہتا ہے ،بھاگتا رہتا ہے، یہاں تک کہ تھک کے ایک دن گرجاتا ہے اور اپنا عکس اپنے بچے میں دیکھنے لگتا ہے، یہ ایک دل دوز کہانی ہے جس سے ہمارے معاشرے کی مکمل عکاسی ہوتی ہے۔
دوسری کہانی’’آگہی‘‘ دل کو چیز دینے والی کہانی ہے، یہ کہانی اس قدر دل دوز ہے کہ پڑھتے ہوئے آنکھوں سے اپنے آپ ہی آنسو بہہ نکلتے ہیں، رشتوں کی مٹھاس میں گوندھی گئی یہ کہانی بہت کچھ کہتی ہے جس میں ایک انسان کی مجبوری بھی ہے، بے بسی بھی، بے چینی بھی اور ان سب سے بڑھ کر تہذیب اور ثقافت کا وہ اعلیٰ نمونہ جس کو ہر حساس دل سنجو کے رکھنا چاہتا ہے۔ اس کہانی میں افسانہ نگار مثالوں میں بھی ایسی دل دوز مثالیں لاتا ہے کہ انسان انہی میں کھو کر رہ جاتا ہے، اس کہانی میں کہیں بوسنیا کے لہو رنگ راستوں کی خاموشی جھلکتی ہے تو کہیں چیچنیا کی بارود زدہ سڑکوں کا سناٹا، کہیں روانڈا کے تباہ حال میدانوں میں چھایا ہو کا عالم تو کہیں رشتوں کی جدائی کا المیہ دکھائی دیتا ہے۔
تیسری کہانی’’خلیج‘‘ بھی ایک دردناک طوائف کی کہانی ہے،جو اپنے اندر ایک عجب سی بے بسی اور اداسی لیے ہوئے ہے۔ اس کہانی سے کئی چیزوں کا علم ہوتا ہے، مثلا ًجب کسی سے دل ٹوٹ جاتا ہے تو ہزار کوششوں کے باوجود جڑتا نہیں،بلکہ اس میں مستقل کھائی ہی بنتی رہتی ہے جیسے اس کہانی میں لڑکے کا اپنے باپ سے بنی کھائی ہے جس نے اسے چڑچڑا اور نفرتی بنا دیا ہے۔ یہ کہانی طویل ہونے کے باوجود ایک نظم کی طرح ہے جس میں بلا کی روانی اور بہاؤہے۔
چوتھی کہانی ’’راستے خاموش ہیں‘‘کے عنوان سے ہے۔ یہ ایک خوبصورت کہانی ہے جو رشتوں کے اس ٹوٹ پھوٹ کو خوبصورتی سے بیان کرتے ہوئے اس کو سمیٹنے کی کوشش کرتی ہے جو کرچیاں بن کر بکھر جانا چاہتی ہیں۔ اس کہانی میں مصنف ایک بھلے مانس کی طرح سماج اور خاندان سے برگشتہ نوجوان کو دلنشین پیرائے میں ماں کی لوری اور نانی کی کہانی طرح تلخیوں کو بھلا کر رشتوں اور خوشیوں کی لمس کو پا لینے کا حوصلہ دلاتے نظر آتے ہیں۔
لڑائی جھگڑا، خصوصاً ساس بہو کے درمیان اور پھر اس میں بیٹے کا کود جانا ہر گھر کی کہانی ہے۔ پانچویں کہانی جو ’’ سوکھی باؤلی‘‘ کے عنوان سے ہے ، گھروں میں ہونے والے اسی تصادم کو درشاتی ہے جس میں دادی اماں اپنے بیٹے، بہو اور پوتوں کے رویوں سے نالاں اور بے چین سب کچھ دیکھتی رہتی ہے لیکن خوف کھاتی ہے کہ اگر کچھ بولے گی تو پھر شروع ہوگی ایک مہابھارت۔ دادی اماں ناسٹیلجیا میں گذرے دنوں کو یاد کرتی ہیں، جب ان کا شوہر ٹھیکیدار تھا اور کیسے ان کا گھر جنت بنا ہوا تھا ،لیکن اس کے شوہر کے انتقال کے بعد پورا گھر ایسے ہوگیا جیسے سوکھی باؤلی، اس میں گھر کی چھوٹی چھوٹی سیاست اور روزانہ کی ہنگامہ آرائی کو کہانی کی صورت میں خوبصورتی سے بیان کیا گیا ہے۔
خط کی صورت میں کہانی لکھنے کی روایت بہت پرانی ہے ’’شکست ناتمام‘‘ اسی طرز کی ایک کہانی ہے جو اس کتاب کی چھٹی کہانی ہے۔ اس کہانی میں مصنف نے خط کے اسلوب میں ایک محبت کی کہانی کو بڑے خوبصورت اور دلچسپ پیرایے میں بیان کیاہے۔ اس میں وصل اور فراق کو مصنف نے انتہائی جذباتی انداز میں بیان کرتے ہوئے ایک محبوب کی کیفیت کو بیان کیا ہے ،جس کا نتیجہ جدائی نکلتا ہے اور محبوب روتا، بلکتا، تڑپتا ان تمام بیتے ایام و لمحات کو یاد کرتا ہے، جو ساتھ ساتھ گزارے تھے لیکن ان کا انجام جدائی کی شکل میں ہوتا ہے۔
ساتویں کہانی جس کا عنوان’’ زمین‘‘ہے، ایک طویل مگر دل گداز کہانی ہے جو دو تہذیبوں اور تین نسلوں کے درمیان گھومتی ہے۔ کہانی کی طوالت کہیں کہیں کھٹکتی بھی ہے لیکن اس کا تجسس پن اس کمی کو پوری کر دیتا ہے۔ یوں تو یہ کہانی ہر حساس دل کو تڑپاکے رکھ دے گی مگر ہم جیسے پردیسیوں کو جنھوں نے بہت کم عمری میں اپنے وطن کو خیرباد کہتے ہوئے سب کچھ پیچھے چھوڑ دیا تھا بہت دیر تک رلاتی ہے۔ کہانی میں دادی اماں کا کردار بہت مضبوط اور اس پیپل کے پیڑ کی طرح ہے جو جتنا بوڑھا ہوتا ہے اتنا ہی گھنا اور سایہ دار ہوتا ہے اور اس کے سائے میں لوگ سکھ محسوس کرتے ہیں، لیکن نئی نسل دنیا کی رنگینیوں میں مست کہاں اس کی اہمیت کو سمجھتی ہے، اس کہانی میں مصنف نے بڑی خوبصورتی سے اس کا احساس کرایا ہے۔ میری نظر میں یہ کہانی اس کتاب کی سب سے بہترین کہانی ہے جو اپنے اندر روایت، تہذیب، اس کے درمیان تصادم، ٹوٹ پھوٹ، مذہب بیزاری، پرانی قدروں کی پھسلن اور اس کی خوبصورتی کو بہت اچھے انداز میں درشاتی ہے۔
آٹھویں کہانی’’ گلاب کانٹے اور کونپل‘‘ روایتی بیانیہ سے شروع ہوتی ہے تو درمیان میں ہی کہانی کو چھوڑ کر آگے بڑھ جانے کو جی چاہتا ہے، لیکن چند قدم آگے بڑھنے پر ہی کہانی کی رومانویت قاری کو اپنے سحرمیں جکڑ لیتی ہے۔ دیگر کہانیوں کی طرح یہ بھی ایک خوبصورت کہانی ہے جو محبوبہ اور وطن کی محبت دونوں سے لپٹی ہوئی ہے۔ آج کل ہندوستان یا بر صغیر میں ملک کے جو حالات ہیں اس میں نوجوان نسل کسی ایسی جگہ جانا چاہتی ہے جہاں بے سکونی، تشدد، مار دھاڑ اور غربت نہ ہو مگر یہ کہانی ویسے نوجوانوں کو حوصلہ دیتی ہے اور بتاتی ہے کہ مصیبتوں سے فرار اختیار کرنا دانش مندی نہیں بلکہ مصیبت کو سکون اور جہنم کو جنت بنانا اصل کام ہے۔
’’اداس رات کا چاند‘‘یہ اس کتاب کی نویں کہانی ہے جسے ایک پڑھی لکھی خاتون کی زبانی خود کلامی کے انداز میں لڑکی کی زبان سے بیان کیا گیا ہے، یہ ایک المیہ پر مبنی کہانی ہے کہ ایک طرف ہمارا معاشرہ تہذیب یافتہ لڑکی تلاش کرتا ہے دوسری طرف اس میں کیڑے نکالتا، اس میں عیب ڈھونڈتا اور اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے باوجود بھی اسے وہ مقام نہیں دینا چاہتا جسکی وہ حقدار ہے۔ اس کہانی میں ایک لڑکی کی ڈھلتی عمر اور پیا کے انتظار میں گزرتے لمحات کو برف کی طرح گھلتے اور پگھلتے ہوئے دکھایاگیا ہے جو دراصل ہمارے معاشرہ کی وہ حقیقت ہے جس سے پورا معاشرہ آنکھیں بند کیےہوئے ہے۔
دسویں کہانی’’بے حس ‘‘کے عنوان سے ہے، جس کا بنیادی کردار ایک افسانہ نویس ہے، جو ڈرا ہوا ہے، اس کے ڈرے ہوئے ہونے کی ایک بڑی وجہ اس کا اقلیتی فرقہ سے ہونا ہے، لیکن دراصل وہ اپنی بے حسی اور کمزوری کو چھپانے کے لئے اپنی اولاد کو بھی طفل تسلی دیتے ہوئے اپنی بے حسی کو فلسفیانہ انداز میں جواز فراہم کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ کہانی کار نے بچے اور والد کے درمیان کشمکش کو کہانی کی صورت میں خوبصورت انداز میں بیان کرنے کی کوشش کی ہے۔
گیارہویں کہانی’’کرن‘‘ ایک استعاراتی کہانی ہے جس میں مصنف نے ایک میت کی زبانی اس کی کہانی بیان کی ہے، جو بظاہر مر تو گیا ہے لیکن مری ہوئی حالت میں وہ کیا سوچ رہا ہے، ہیولیٰ کیسے بول رہا ہے، مرنے والے کے بارے میں لوگ کیا سوچتے ہیں، کہانی کار نے خوبصورت انداز میں اسی کو بیان کیا ہے، جس میں معاشرتی رویوں، عام زندگی اور مرنے کے بعد انسان کی حالت، میت کے گھر کی سوگ میں کی جانے والی نمود و نمائش اور ڈھکوسلوں کو بیان کرکے معاشرے کو بیدار کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔
بارہویں کہانی ‘‘درد لا دوا’’ میں ایک افسانہ نگار کی کیفیات کو بیان کیا گیا ہے جس میں افسانہ نگار خود کلامی کے انداز میں باتیں کرتے ہوئے وہ افسانے کیوں لکھتا ہے اس کو بتانے کی کوشش کی گئی ہے۔
’’ایک وائلن محبت کنارے‘‘یہ اس کتاب کی آخری اور بہترین کہانی ہے۔ ایک ایسی محبت کی کہانی جس کے پیچھے یادوں کا ایک سرگم بہتا ہے، آنکھیں اشکبار ہوتی ہیں اور آنسو خود بخود بہہ نکلتے ہیں۔ اس کہانی کو پڑھتے ہوئے ساحر لدھیانوی کا وہ شعر یاد آتا ہے جس میں وہ کہتے ہیں:
دنیا نے تجربات و حوادث کی شکل میں
جو کچھ مجھے دیا ہے وہ لوٹا رہا ہوں میں
یہ ایک بوڑھے وائلن نواز کی کہانی ہے جو اب بوڑھا ہوچکا ہے، ہاتھوں میں رعشہ طاری ہے، وہ اخبار میں ایک اشتہار پڑھتا ہے جس میں لکھا ہوتا ہے کہ ضرورت ہے ایک وائلن کی کفایتی دام پر۔ اس اشتہار کو پڑھتے ہی بوڑھا ماضی میں کھو جاتا ہے وہ وائلن اسے کیسے ملا تھا، کیسے اس نے ابا سے ضد کی تھی، ابا کے پاس پیسے نہیں تھے، مگر پھر بھی ابا نے کتنے جتن سے اسے وہ وائلن دلایا تھا،اور وہ اپنا خوبصورت وائلن کیسے ایک چھوٹی مگر پیاری بچی کو تحفے کے طور پر دے دیتا ہے، یہ بہت پیاری کہانی ہے۔
بحیثیت مجموعی ہم کہہ سکتے ہیں کہ یہ ایک خوبصورت افسانوی مجموعہ ہے، جسے اس کی لطافت، شیرینی، انداز بیان اور اسلوب نگارش کی وجہ سے دیر تک یاد رکھا جائے گا۔ یہ سبھی افسانے ملک و بیرون ملک کے معتبر ادبی رسالوں میں شائع ہو چکے ہیں جو بذات خود اس بات کی ضمانت ہیں کہ یہ کوئی معمولی افسانے نہیں ہیں۔کہیں کہیں پر اردو میں بہتر متبادل موجود ہوتے ہوئے انگریزی الفاظ کا استعمال کھٹکتا ہے، وہیں چند جگہوں پر دکنی لہجہ کی بھی جھلک دکھائی دیتی ہے، مثلا ایک جگہ مصنف کہتے ہیں: ’’خبر اس کے حواس کو منتشر کرنے منتظر تھی۔‘‘ یہاں کرنے کے بعد کے لئے یا کو کا استعمال کرنا تھا، اس طرح کا دکنی لہجہ چند اور جگہوں پر متن کی قرأت کو متاثر کرتا ہے۔ ایک جگہ مصنف لکھتے ہیں: ’’غبارہ اس کے کان کے قریب برسٹ کیا۔‘‘اگر اردو میں غبارے کے لئے پھٹنا لفظ موجود ہے تو برسٹ کرنا کانوں کو یقینا اچھا نہیں لگے گا۔
ایک سو بانوے صفحات پر مشتمل کتاب کو تعمیر ویب ڈیولپمنٹ نے شائع کیا ہے، کاغذ اور طباعت بھی ٹھیک ہے مگر قیمت تین سو روپے بہت زیادہ ہے۔ کتاب میں علامہ اعجاز فر خ، محمد حمید شاہد، نعیم بیگ، عشرت معین سیما، ڈاکٹر ارشد عبد الحمید اور دیگر قلم کاروں اور قارئین کی رائے بھی شامل کی گئی ہیں جو بھرتی کی چیز ہے۔ مصنف نے بلا وجہ صفحات بڑھانے کی کوشش کی ہے۔ اتنی عمدہ اور معیاری کہانیاں لکھنے اور انھیں شائع کرنے پر سید مکرم نیاز یقینا ًمبارک باد کے مستحق ہیں، امید کی جاتی ہے کہ ادبی حلقوں میں اس کتاب کو پذیرائی حاصل ہو گی۔

’’ راستے خاموش ہیں‘‘
میں کل تیرہ افسانے ہیں ،اور ہر افسانہ اپنی جگہ ایک عمدہ کہانی ہے، جس میں زندگی کی توانائی پوری آب و تاب کے ساتھ رواں دواں دکھائی دیتی ہے۔ ہر کہانی ایک بے چین معاشرے کی گواہ ہے، جس میں کہیں درد ہے، کہیں کسک، کہیں المیہ، کہیں خواب تو کہیں اس خواب کو حاصل کرنے کے لئے طویل جد و جہدکی حیران کن داستان۔

0 Comments

Submit a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

جولائی ٢٠٢٢