چراغ ہر سو جلا چلے ہم ،تم ان کو آگے جلائے رکھنا

عطیہ صدیقہ (چیف ایڈیٹر: ھادیہ، آل انڈیا وومن وونگ)

محترمہ منیرہ خانم صاحبہ خالق حقیقی سے جاملیں ،امید ہے عالم ارواح میں تمام تحریکی رفقاء سے ملاقات ہوئی ہوگی۔
آپا کے انتقال کی خبر سن کر ذہن میں آپا کے ساتھ گزارے ہوئے لمحات کی یادیں تازہ ہوگئیں۔
2000 ء میں جب مجھ پر مہاراشٹراسٹیٹ کی جی آئی او کی ذمہ داری آئی، اور پہلے تنظیمی و تربیتی دورے پر جانے کے لئے منیرہ آپا کے ساتھ دورے کا شیڈول طے ہوا ،لیکن آپا کی والدہ کی طبیعت ناساز ہونے کی وجہ سے وہ پونا چلی گئیں، اور ہمارا دورہ حورجہاں باجی کے ساتھ مکمل ہوا۔
آپا انگلش میڈیم سےتھیں، لیکن انہوں نے بہت جلد ہی اردو لکھنا اور پڑھنا سیکھ لیا تھا،البتہ اردو کے کچھ الفاظ کا وہ معنی نہیں سمجھ پاتی تھیں ۔وہ بتاتی تھیں کہ ایک مرتبہ میں کسی اجتماع میں وہ شریک تھیں، اور وہاں اعلان ہوا کہ آج شام ادبی نشست ہے تو آپا نے سمجھا کہ آج بہت ادب سے بیٹھنا ہوگا۔
2007 ءمیں جب مرکزی سطح پر خواتین کا نظم قائم ہو،ا اس وقت پورے ملک کو چار زونس میں تقسیم کیا گیا تھا ۔ایک زون کی ذمہ داری آپا کے حصے میں آئی تھی۔
منیرہ آپا نے صرف حلقۂ مہاراشٹر ہی نہیں بلکہ دوسرے حلقوں میں بھی شعبۂ خواتین کو قائم کرنے کی بہت کوشش کی۔ آپا کے انتقال کے وقت میں راجستھان کے دورے پر تھی،وہاں کی خواتین نے بتایا کہ حلقۂ راجستھان کےپہلےاجتماع عام کے موقع پر راجستھان کے کئی علاقوں کا دورہ کرکے خواتین کو اس اجتماع میں شرکت کرنے کے لیے ابھارا، خطابات عام کیے۔
جے پور میں اجتماع عام کے مقام پر والنٹیرزکے ساتھ پہنچ کر وہاں کے سارے نظم کو سمجھایا اور کے ذمہ داریاں تقسیم کیں ۔
خواتین کو تحریکی سرگرمیوں کے لیے ابھارنا، ان کی ہمت افزائی کرنا، آپا کی خوبیوں میں سے تھا۔
کمزوری کے باعث آپا جب گھر سے باہر نہیں جاسکتی تھیں تو انہوں نے اپنے گھر کو تحریک کا مرکز بنا لیا تھا، جہاں پر خواتین کے اجتماعات اور بے سہارا لڑکیوں کو سہارا دینا وغیرہ۔
آپ کی زندگی نعیم صدیقی صاحب کے اس شعر کے مصداق تھی:

نہ چین ظلمت کو لینے دینا، نہ عدو کی نیند اڑائے رکھنا
چراغ ہر سو جلا چلے ہم، تم ان کو آگے جلائے رکھنا
اللہ تعالیٰ آپا کی خدمات کو قبول کرنہ، کوتاہیوں سے درگزر فرمائے،اور جنت الفردوس میں جگہ عطا فرمائے۔ آمین! ثم آمین یا رب العالمین!

میدان بلاتا ہے۔۔۔

ساجدہ پروین

تِلۡکَ اُمَّۃٌ قَدۡ خَلَتۡ ۚ لَہَا مَا کَسَبَتۡ وَ لَکُمۡ مَّا کَسَبۡتُمۡ ۚ وَ لَا تُسۡئَلُوۡنَ عَمَّا کَانُوۡا یَعۡمَلُوۡنَ ﴿البقرہ: 134﴾

1 جون 2022 ءکی صبح 30:8بجے یہ دلخراش خبر ملی کہ محترمہ منیرہ خانم صاحبہ اپنے مالکِ حقیقی سے جا ملیں ۔ ایک دھچکا سا لگا ۔اپنے دل کو سنبھالا کہ ’’ہم اللہ ہی کے ہے اور اللہ ہی کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔‘‘ اور اللہ کی مشیت اسی میں ہے۔
منیرہ باجی سے میری پہلی ملاقات علاقہ ناسک کے علاقائی اجتماعِ عام ( بمقام: جلگاؤں) میں ہوئی، جس میں وہ مہمانِ خصوصی کے طور پر پونہ سے جلگاؤں تشریف لائی تھیں،اس وقت میری طرف جلگاؤں ضلع کی ذمہ داری تھی،اور اس اجتماع کی شعبۂ خواتین کی ناظمۂ اجتماع تھیں ۔ میری عمر اس وقت 25 سال تھی ۔ دو چھوٹے چھوٹے بچے تھے۔ باجی مجھ سےایسے ملیں کہ میں نے ان میں اپنی امی کی جھلک محسوس کی۔ والدین نہیں تھے میرے، بچوں کو نانی نانا میسر آ گئے تھے، جس کی بچوں کو بہت زیادہ خوشی تھی، اکثر گھر یا کسی اجتماع یاکیمپ پر آتیں تو بچوں کے لئے تحفے،پونے کا کیک،چوڑا یوسف سر ( میرے شوہر)کے لئے ،پودینے کا شربت خان صاحب کے ہاتھوں سے بنا ہوا، لے کر آتیں۔ والدین کی محرومی کہیے کہ اس شفقت کو گہرائی سے محسوس کیا یا درحقیقت یہ کہ باجی کے خلوص و محبت کی شدت زیادہ اثردار تھی۔ باجی کے ساتھ اس وقت سے21 سال کام کرنے کا موقع ملا،اور عمر کے اتنے فرق کے باوجود ذہنی ہم آہنگی رہی۔ میرے جذبات و احساسات کاخیال رکھتے ہوئے منیرہ باجی سے میری پہلی ملاقات علاقہ ناسک کے علاقائی اجتماعِ عام ( بمقام: جلگاؤں) میں ہوئی، جس میں وہ مہمانِ خصوصی کے طور پر پونہ سے جلگاؤں تشریف لائی تھیں،اس وقت میری طرف جلگاؤں ضلع کی ذمہ داری تھی،اور اس اجتماع کی شعبۂ خواتین کی ناظمۂ اجتماع تھیں ۔ میری عمر اس وقت 25 سال تھی ۔ دو چھوٹے چھوٹے بچے تھے۔ باجی مجھ سےایسے ملیں کہ میں نے ان میں اپنی امی کی جھلک محسوس کی۔ والدین نہیں تھے میرے، بچوں کو نانی نانا میسر آ گئے تھے، جس کی بچوں کو بہت زیادہ خوشی تھی، اکثر گھر یا کسی اجتماع یاکیمپ پر آتیں تو بچوں کے لئے تحفے،پونے کا کیک،چوڑا یوسف سر ( میرے شوہر)کے لئے ،پودینے کا شربت خان صاحب کے ہاتھوں سے بنا ہوا، لے کر آتیں۔ والدین کی محرومی کہیے کہ اس شفقت کو گہرائی سے محسوس کیا یا درحقیقت یہ کہ باجی کے خلوص و محبت کی شدت زیادہ اثردار تھی۔ باجی کے ساتھ اس وقت سے21 سال کام کرنے کا موقع ملا،اور عمر کے اتنے فرق کے باوجود ذہنی ہم آہنگی رہی۔ میرے جذبات و احساسات کاخیال رکھتے ہوئے میری شرارتوں اور شوخیوں کو خوشدلی سے باجی نےانجوائے کیا ۔
پہلی ملاقات پر باجی نے ایک خوبصورت سا ہاتھ سے بنایا ہوا کارڈ دیا تھا، جس پر قرآن کی سورۃالتوبہ : آیت 71 تحریر تھی :

وَ الۡمُؤۡمِنُوۡنَ وَ الۡمُؤۡمِنٰتُ بَعۡضُہُمۡ اَوۡلِیَآءُ بَعۡضٍ ۘ یَاۡمُرُوۡنَ بِالۡمَعۡرُوۡفِ وَ یَنۡہَوۡنَ عَنِ الۡمُنۡکَر

’’مومن مرد اور مومن عورتیں، یہ سب ایک دوسرے کے رفیق ہیں، بھلائی کا حکم دیتے اور برائی سے روکتے ہیں۔‘‘لکھی ہوئی تھی ۔
باجی اکثر اسی طرح کے کارڈز بنا کر مختلف تحریکی کیمپوں میں بہنوں کو بطورِ تحفہ دیا کرتی تھیں،بہت ہی مشفق، محسن، مربی، ٹوٹ کر محبت کرنے والی، ملنسار، مومنانہ صفات سے آراستہ، اعلیٰ کردار کی مالک، شوہر کی فرمانبردار اور خدمت گزار، سلیقہ شعار، باہمت ،بلند حوصلہ، صبر و استقامت کی پیکر تھیں ۔اپنی قوت و صلاحیت اورخوبیوں ومال کا نذرانہ پیش کرنے والی، تحریک کی خاطر بے انتہا مخلص، ہر وقت جواں جذبے کے ساتھ کام کرنے والی۔
آپ نے مہاراشٹر میں حلقۂ خواتین کی توسیع میں نمایاں رول ادا کیا۔ خواتین کی خوبیوں کو پرکھنااور تحریک کے لیے ان کی صلاحیتوں کو لگانے کے لئے جذبہ پیدا کردینا، آمادہ کرنا،یہ انہیں کا فن تھا ۔
منصوبہ بندی، انتظامی صلاحیت جیسی خوبیاں ان میں کوٹ کوٹ کر بھری تھیں۔ مختلف کیمپوں میں باجی کے ساتھ رہنے کے مواقع ملے ۔ رات دیر گئے تک بیٹھ کر ہم منصوبہ بندی کرتے ،سرکلر کی تیاری، رپورٹنگ کی تیاری ۔باجی انگلش میڈیم سے تھیں، اس لیے اردو لکھنے اور جملے بنانے میں انہیں دقت پیش آتی، لیکن اس کام میں میرا تعاون لے کر مجھے بہت کچھ سیکھنے کا موقع عطا کیا ،اور میری تربیت کا سامان کیا۔ اجتماعات کے انتظامی پلاننگ میں ایک ایک شعبے کی پوری پلاننگ کرواتیں، مہاراشٹر کی بہنوں کے نام و مقام کے ساتھ ان کی صلاحیتوں سے ایسے واقف تھیں کہ ان کا ذکر جب مجھ سے کرتیں تو وہ ایسا اثردار ہوتا کہ وہ سب مجھے بھی ازبر ہوجاتے۔ اس طرح مہاراشٹر کی بہنوں کے نام ،مقام اور صلاحیتوں سے پوری طرح غائبانہ تعارف مجھے حاصل ہو گیا تھا۔
صرف تحریکی بہنوں سے ہی نہیں ،بلکہ ان کے بچوں اور گھر کے افراد سے بھی باجی کا گہرا تعلق تھا، اور وہ ان سب سے محبت و احترام کا سلوک کرتی تھیں، اس کا نظارہ ان کے تدفین کے موقع پر نظر آیا، پونہ کی مقامی تحریکی بہنیں ایسے رورہی تھیں میرے گلے لگ لگ کر اور کہہ رہی تھیں کہ’’ہم یتیم ہو گئے ۔‘‘اور یہ تاثر بھی سامنے آیا کہ ہر بہن کو یہی محسوس ہوتا تھا کہ باجی سب سے زیادہ اسی سے پیار کرتی تھیں۔ مختلف واٹس ایپ گروپس میں بھی ہر بہن اشکبار تھی اور محبت و غم کے جذبات سے لبریزان کی تحریریں دعائیہ کلمات میں ڈوبی ہوئی تھیں ۔اللہ سبھی بہنوں کو صبر جمیل عطا فرمائے۔آمین
تحریک کو وسعت دینے اور حلقہ خواتین کی توسیع کے لئے باجی نے مسلسل دورے کیے۔ کئی دوروں میں آپ کے ساتھ رہنے کا موقع ملا، سفر کی صعوبتوں کو خوشی سےبرداشت کیا ۔ تحریکی بہنوں کے پکائے ہوئے کھانوں کی بہت تعریف کرتیں، دعائیں دیتیں۔ ایک مقام پر ہمارا قیام تھا، ٹفن مختلف رفقاء کے گھر سے آ رہا تھا، دوسرے دن صبح نکلنا تھا ،مکان مالک بہن نے کہا کہ کہ ’’ ناشتہ یہیں کیجئے!‘‘ ہم نے قبول کیا اور جہاں سے ناشتہ آنے والا تھا انہیں منع کر دیا۔ ناشتے میں ایک کپ چائے اور سوکھی روٹی کو ہلکا سا تیل لگا کر گرم کیا گیا تھا۔ الحمدللہ باجی نے اسے کھانا شروع کیا اور اس کی تعریف شروع کردی۔ میں شش و پنج میں تھی ،کیوں کہ چائے نہیں پیتی تھی، اوپر سے سوکھی روٹی، باجی نے میرے چہرے کے تاثرات سے اندازہ لگا لیا، دھیرے سے میری طرف جھکیں اور کہا ’’ساجدہ ہم جاتے وقت انکی کچھ مدد کریں گے۔‘‘ میرے ذہن کو ایک جھٹکا لگا ۔ گھر کی کنڈیشن اور سچویشن پوری طرح سمجھ میں آ گئی، بے اختیار چائے کا کپ میرے لبوں پر تھا، میں نے سوکھی روٹی کو بہت مزہ لے لے کے کھایا۔ باجی کے چہرے کی خوشی اور دمک اور وہ جملہ میرے لئے مہمیز کا کام کر گیا، اور اس سے وہ جذبۂ عمل ملا کہ میں آج دوروں کی ساری صعوبتوں کو باجی کے اس عمل پر نچھاور کرتے ہوئے خوشی محسوس کرتی ہوں،اور ایک حرارت اپنے اندر محسوس کرتی ہوں۔
حلقہ کے مختلف مرد و خواتین ذمہ دار ( مشترکہ کیمپ) میں مردوں کی تعداد تو اچھی خاصی ہوتی ،لیکن پورے مہاراشٹر سے تقریباً پانچ چھ خواتین ہی ہوتی تھیں ،لیکن باجی پر مایوسی کی کیفیت کبھی طاری نہیں ہوئی، ایک حوصلہ و عزم خود میں اور شریک بہنوں میں پیدا کرکے لوٹتیں۔دوروں میں مختلف بہنوں کو ساتھ رکھتیں اور ان کی تربیت کرتیں، سنی سنائی باتوں پر کبھی یقین نہیں کرتیں، بلکہ خود تحقیق کرتی تھیں۔سورہ الحجرات میں بھی اللہ تعالیٰ نے یہ بات فرمائی ہے کہ’’اے لوگو! جو ایمان لائے ہو اگر کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبر لے کر آئے تو تحقیق کر لیا کرو، کہیں ایسا نہ ہو کہ تم کسی گروہ کو نا دانستہ نقصان پہنچا بیٹھو اور پھر اپنے کیے پر پشیمان ہو۔‘‘
اجتماعِ عام مہاراشٹر بمقام اورنگ باد بعنوان ’’ کونوا قوامین بالقسط ‘‘
( انصاف کے علمبردار بنو !) کے موقع پر باجی کے پاس یہ شکایت آئی کہ طعام گاہ میں خواتین بغیر طعام کارڈ کے داخل ہو رہی ہیں، جس کی وجہ سے طعام گاہ میں بدنظمی ہے۔ اس اجتماع میں میرےاوپراور مبشرہ فردوس کےاوپر معاونین ناظمۂ اجتماع خواتین کیمپ کی ذمہ داری تھی۔باجی نے مجھے اور مبشرہ فردوس کو حال احوال کے لئے بھیجا،جب واپس آکر رپورٹ دینے لگے تو باجی نے بتایا کہ وہ خود شال اوڑھ کر چہرہ چھپا کر گئ تھیں، طعام گاہ کے گیٹ سے داخل ہونے کی کوشش کی لیکن بغیر طعام کارڈ کے اندر جانے نہیں دیا گیا، ایک جگہ سے پنڈال کےپردے کا باہری حصہ پھٹا ہوا تھا ،وہاں سے بھی گھسنے کی کوشش کی لیکن وہاں بھی والینٹئر خواتین موجود تھیں ۔بہرحال واپس آئی ،کہا کہ بہت اچھا نظم قائم رکھا ہے بہنوں نے۔
میں نے انہیں اپنی امیر و مامور کے روپ میں دیکھا۔ 1992ءسے 2011 ءتک وہ ہماری ذمہ دار رہیں اور 2011 ءسے 2015 ءتک مہاراشٹر کے ایک زون کی ذمہ دار باجی تھیں، اور ایک زون کی میں ہم ایک دوسرے سے تبادلۂ خیال کرتے اور ایک دوسرے سےتجربات شیئر کرتے اور فائدہ اٹھاتے۔ 2015 ءسے حلقۂ خواتین مہاراشٹر کی ذمہ داری مجھ پر آئی، 7 سال میں نے انہیں مامور کے روپ میں دیکھا، میرے پونہ دورے کے موقع پر باجی ارکان کی احتسابی نشست میں بنفس نفیس شریک رہیں، ہمارے لیے یہ ماڈل ہے کہ ہر سطح کے منصب پر یا منصب نہ ہوکربھی ایک عام کارکن کی طرح اطاعت وفرمانبرداری کے ساتھ کام کو انجام دیا جائے۔ عمر کے آخری دور میں بھی باجی کے اندر کام کا جذبہ اور تڑپ اس قدر تھی کہ مجھ سے شولاپور سائڈ کے مقام کے دوروں کی اجازت چاہی، ایک بار شولاپور گئیں بھی۔ لیکن میرے سمجھانے پرجب میں نے کہا کہ”مقام کو آپ کی رہنمائی کی ضرورت ہے، آپ کی صحت اس کی اجازت نہیں دیتی کہ آپ دورے کر سکیں۔‘‘میری بات کو مانا اور مقامی بہنوں کی تربیت، رہنمائی اور کاؤنسلنگ کے کاموں کو آخری وقت تک ادا کیا ۔
اکثر فون پر بات ہوتی،مہاراشٹر کے مختلف مقامات کے حالات پوچھتیں، میں تفصیل سے بتاتی تو کہتیں ’’کہ ساجدہ تم سے بات کرکے ایسا لگتاہے کہ میں نے پورے مہاراشٹر کا دورہ کر لیا۔‘‘
اولاد نہ تھی ،کوئی پوچھتا تو ہنس کر کہتیںکہ’’ تحریک کے بچے ہی میرے بچے ہیں، تحریک میرا خاندان ہے ۔‘‘
ہدایت یافتہ لڑکیوں کواپنے پاس رکھ کر نہ صرف تربیت کرتیں، بلکہ ان کی معاشی کفالت اور گھر بسانے کے اہم کام کو بھی احسن طریقے سے انجام دیتیں۔
مختلف کیمپ اور اجتماعات میں وقفہ کے دوران بہن یاسمین پونہ سے وہ ترانہ پڑھواتیں اور خود بھی گنگناتیں’’اُٹھ باندھ کمر غازی میدان بلاتا ہے‘‘کسی کیمپ میں بہنیں سستانے کو لیٹ جاتیں، تو باجی ہنس کر یہی کہتیں’’اُٹھ باندھ کمر غازی میدان بلاتا ہے‘‘ ایسا لگتا ہے باجی آج بھی پکار کر کہہ رہی ہوں ’’اُٹھ باندھ کمر غازی میدان بلاتا ہے‘‘ہاں یہاں کا میدان تو ہے ہی، حشر کا میدان بھی ہے۔ باجی تو اس سفر پر چلی گئیں اور ہمیں بھی جانا ہے،لیکن ابھی ہم غازیوں کے لیے یہ دنیا کا میدان ہے، مہلتِ عمل باقی ہے ۔ اللہ تبارک و تعالیٰ قرآن میں کہتا ہے کہ’’ وہ کچھ لوگ تھے ، جو گزر گئے ،جو کچھ انہوں نے کمایا ،وہ ان کے لیے ہے اور جو کچھ تم کماؤ گے ، وہ تمہارے لیے ہے ۔ تم سے یہ نہ پوچھا جائے گا کہ وہ کیا کرتے تھے۔‘‘
باجی نے ہم خواتین کی تربیت کی، اپنے لئے ثواب جاریہ تیار کرگئیں، ایسے شجر لگا گئیں، جس کے سایوںا ور پھلوں سے معاشرہ تا قیامت لطف اندوز ہوسکے گا اور ان کے مساعی سے استفادہ کر ے گا۔
اللہ منیرہ باجی کی مغفرت فرمائے،ان کے درجات بلند فرمائے ان کے حسنات کو قبول فرمائے اور سئیات سے درگزر فرمائے، جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے ان کی قبر کو نور سے بھر دیں اور تحریک کو ان کا نعم البدل عطا فرمائے،آمین

ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے
بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا

جو چلے تو جاں سے گزر گئے ۔۔۔

خان مبشرہ فردوس ایڈیٹر ھادیہ ای میگزین ، اورنگ آباد

موت سے کس کو رستگاری ہے
آج وہ کل ہماری باری ہے

منیرہ باجی اس دار فانی سے رخصت ہوگئیں، اللہ انہیں غریق رحمت کرے ۔میری امی کے ساتھ ان کی بے شمار یادیں وابستہ رہی ہیں۔ ہم لوگ اس وقت لوگ اسکول میں پڑھتے تھے، تاہم تحریک اور اس کی سرگرمیوں کو صرف دور ہی سے جانتے تھے ۔ البتہ امی اور منیرہ باجی نے عرصے تک ساتھ کام کیا۔امی، مہاراشٹر کی ناظمہ رہیں، ان کے انتقال کے بعد منیرہ باجی رہیں۔
امی کے انتقال کے بعد جب رکن ہوئی، تو ساجدہ باجی اور منیرہ باجی کو تحریکی سرگرمیوں میں شامل دیکھا۔ذمہ داری عجیب چیز ہے، انسان پر ایک آزمائش ہی ہے۔ ذمہ دار خواتین بہرکیف پُل صراط سے گزرنے کے مصداق نامساعد حالات میں کام انجام دیتی ہیں ۔تنظیمی امور، دوروں کے درمیان سفر کی مسافت،انتھک اور کڑی محنت ، مختلف النوع مزاجوں کے ساتھ افراد کو لے کر چلنا، نئے افراد تیار کرنا ،نفوس کی راہوں کی تلاش؛ بلاشبہ یہ آزمائش ہے ۔
منیرہ باجی پیشۂ تدریس سے وابستہ تھیں۔ سن رکھا ہے کہ اپنی جاب کے دوران سرگرمِ عمل ہوئیں، تحریکی کام کے جذبے کے تئیں پیشۂ تدریس کو چھوڑ کر ذمہ دارانہ منصب سنبھالا ۔
اپنے میاں کا بہت خیال رکھتی تھیں۔خان صاحب جب تک حیات رہے، باجی نے بےحد خیال رکھا۔ انتقال کے بعد نمائندگان کے موقع پر دہلی میں ملاقات ہوئی تو دیر تک ہمیں خان صاحب کے واقعات سناتی رہیں ۔اپنے شوہر کی وفا شعار بیوی تھیں ۔باجی لاولد تھیں تاہم ساری تحریکی بچیوں کو اپنی بیٹیاں سمجھتی تھیں ۔امی کے انتقال کے بعد دورانِ جی آئی او ہی مجھ سے بیٹی جیسا سلوک کیا ۔
جب میںنے ذکر کیا کہ باجی ! امی کی خواہش تھی کہ رکن بن جاؤں تو خوشی سے گلے لگایا، ہمت افزائی کی ۔امی کے ساتھ سفرکے واقعات سناتی رہیں ۔
اللہ رب العالمین منیرہ باجی کی کاوشوں کو شرف قبولیت بخشے ۔ سیئات سے درگزر فرمائے، حسنات کو دوام بخشے ۔افراد رخصت ہوتے ہیں، دور بدل جاتے ہیں، یادیں باقی رہ جاتی ہیں ۔ہر لمحہ ہر انسان پر موت شکنجہ کستی جارہی ہے ۔ہرگزرتا لمحہ ہر فرد کو موت کی جانب دھکیلتا ہوا گزر رہا ہے ۔ جو پیچھے رہ جاتا ہے،وہ بس انسان کا عمل ہے ۔اللہ رب العالمین ہماری تحریک کی ذمہ دار بہن کے درجات بلند فرمائے ۔

نہ ہاتھ پکڑ ا نہ دامن سے ہم لپٹ پائے!!!

بشریٰ ناہید

کل نفس ذائقۃ الموت…

منیرہ باجی سے حلقوں کے اجتماعات اور ان کے اور نگ آباد دوروں کے موقعوں پر رسمی و سرسری ملاقاتیں تو نو عمری سے ہی ہوتی رہیں، لیکن باقاعدہ ملاقات کونواقوامین بالقسط کے آل مہاراشٹراجتماع کے موقع پر ہوئی،اس وقت میں اورنگ آباد جی آئی او کی مقامی صدر تھی، چونکہ شہر اور نگ آباد کو میزبانی کا شرف حاصل ہوا تھا،اس لئے جماعت و حلقہ خواتین کے ساتھ ساتھ جی آئی او کی پوری ٹیم جن میں ایسوسی ایٹ بھی شامل تھے ،بہت انتھک جدوجہد کر رہے تھے، بہت محنت کی تھی سبھی نے ،سارا سارا دن مختلف کاموں میں لگے رہتے ،اجتماع ختم ہونے تک سب نے خوب کام کیا۔ منیرہ باجی نے جی آئی او کو بہت سراہا کہتیں ’’تحر یک کا مستقبل ہو تم ‘‘،سب کو دعائیں دیں ۔
’’ محمدؐسب کے لئے ‘‘اس وقت پورے حلقہ سے کارواں نکالے گئے تھے۔ مراٹھواڑے والے کارواں میں منیرہ باجی تھیں، اسی میں مجھے بھی شامل کیا گیا تھا۔ تب پہلی بار باجی کے ساتھ سفر کیا تھا۔ ناندیڑ میں افروز جہاں باجی کے گھر کچھ دن قیام رہا، افروز باجی ساؤتھ مہاراشٹر کی معاون ناظمہ تھیں، اور وہ بھی ہمارے ساتھ کارواں میں شریک تھیں ۔ اس مہم کے دوران منیرہ باجی اور افروز باجی کے ساتھ بہت اچھا وقت گزارا، اور جو مراٹھواڑے کی حلقۂ خواتین کی مقامی و ضلعی ناظمات نے مہمان نوازی و خدمت کی،ا ﷲ ہر ایک کو اس کا بہترین اجر عطاء فرمائے، ان دنوں کی کئی یادیں ذہن کے افق پر ابھر رہی ہیں۔
میں نے منیرہ باجی کے ساتھ پہلے سکریٹری پھر معاون ناظمہ کے طور پر تقریباً 6 سال تنظیمی و تحریکی کام کیا۔ ابتداء ً کچھ اختلافات رہے، پھرا ﷲ نے ایسی محبت دلوں میں پیدا کی کہ وہ مجھے بالکل اپنی بیٹی کی طرح چاہتیں۔ میری بچیوں سے بھی بہت محبت کرتیں ۔ اور میں انہیں اپنی تحریکی ماں سمجھتی، اور ویسی ہی محبت کرتی۔
منیرہ باجی جب ساؤتھ مہاراشٹر کی ناظمہ تھیں اور میں سیکریٹری، تب حلقہ سے طے ہواتھا کہ رپورٹ اور منصوبہ بندی کے لئے ہر ماہ کے آخر میں ایک ماہ میں پونہ جاؤں گی، اور دوسرے ماہ باجی کرلا آئیں گی، اس طرح دونوں کو سہولت رہے گی ،چنانچہ جب نوشاد صاحب کے ہمراہ میں پونہ گئی ایک یا دو مرتبہ، تب باجی نے خود ہی کہا کہ بشری تم دونوں بچیوں کو لے کر سفر کرتی ہو ،اچھا نہیں لگتا، اب ہر ماہ میں ہی آجایا کرو ں گی ۔
میں نے کہا’’ باجی! آپ ہی کیوں زحمت اٹھائیںگی،مجھے کوئی تکلیف نہیں۔ ‘‘ توکہنے لگیں ’’کوئی زحمت نہیں ہوگی مجھے میرے پاس گاڑی ہے نا حلقہ کی۔ ‘‘ پھر ہر ماہ وہی آنے لگیں، کبھی فرزانہ باجی ساتھ ہوتیں،کبھی یاسمین باجی، ان دونوں سے ملاقات بھی باجی کے توسط سے ہی ہوئی۔
اورنگ آباد شفٹ ہونے کے بعد کئی مرتبہ بچوں نے یاد کیا ’’مما !منیرہ نانی اب اپنے گھر کیوں نہیں آ تیں؟ ‘‘ میں ان سے کہتی ’’ و ہ ضعیف ہوچکیں، زیادہ سفر نہیں کر سکتیںاب۔‘‘ لیکن پھر اس میقات کےنمائندگان کے اجلاس میں باجی آئیںتو بچیاں کہنے لگیں ’’ مما! دلی تو اورنگ آباد سے بھی دور ہے ناں، نانی تو یہاں تک آئی ہیں، آپ بلایئے ناں انہیں اورنگ آباد۔ ‘‘
آہ منیرہ باجی آہ!میری مربی،مشفق و مہربان!ا ﷲ آپ کی قبر کو نور سے بھر دے، آخرت کی منزل آسان کردے۔ آمین!
منیرہ باجی سے خاص تعلق تھا، میں نے ان سے بہت کچھ سیکھا بہت غیر محسوس طریقے سے تربیت کرتیں اور بہت کچھ سمجھا دیتی تھیں،کبھی کسی کی شکایت نہیں کرتیں، بے کار کی باتوں میں وقت ضائع نہیں کرتیں،ہر وقت تحریک کی فکر، ارکان خواتین کو ان کے نام سے یاد رکھتیں، حتیٰ کے ان کے شہر اور گاؤں کے نام بھی یاد رہتے۔
اتنے عرصے کا ساتھ رہا۔ کئی باتیں اور یادیں ہیں جو ان کی یاد دلاتی ہی رہیں گی۔ میری مصروفیات کے باعث باجی سے دھیرے دھیرے رابطہ کافی وقفہ سے ہونے لگا تھا ،لیکن جب بھی ہماری بات ہوتی بہت دیر تک باجی سے گفتگو رہتی، ادھر ادھر کی باتیں نہیں کرتیں۔ کام کی بات ہی کرتیں، ان کے بات کرنے کے بعد ایک نئی توانائی محسوس ہوتی۔جب میں پوچھتی کہ’’باجی! ابھی کون ہے آپ کے پاس ؟ ‘‘وہ جواب دیتیں کہ’’مومن کبھی تنہا نہیں ہوتا میرے ساتھ اﷲ ہے ناں ۔ ‘‘ اور میں خاموش ہو جاتی، اور ابھی آخری بار بھی جب چاند رات کو میں نے باجی کو مبارک باد کے لئے کال کی، تب بھی میرے پوچھنے پر یہی کہا۔ کافی دیر ہم نے باتیں کیں۔ اس وقت نہیں معلوم تھا کہ یہ باجی سے آخری مرتبہ بات ہورہی ہے ۔
بہت حوصلہ افزائی کرتی تھیں ،کہتیں’’ تمہیں بچوں کے ساتھ کام کرتے دیکھ کر خوشی ہوتی ہے،میں تمہارے لئے دعا کرتی ہوں،ا ﷲ تمہارے وقت میں برکت دے۔ ‘‘ میرے پاس وہ الفاظ نہیں جو ان کی محبت کی ترجمانی کر سکے، اور نہ وہ الفاظ جو میرے جذبات کی ترجمانی کر سکیں۔ ان کے ساتھ گزرے لمحات میں سے بہت کچھ ہے جو لکھنے سے رہ گیا ۔ شاید بہت کچھ لکھنے کے بعد بھی مجھے تشنگی کا ہی احساس رہے گا۔
بعض ایسے لوگ بھی دیکھےجو مال و متاع کے لیے ،شہرت و نام کے لیے،دنیاوی مفاد کے لیے، رشتہ و نسبت کے لیے، عہدے کے لیے،اپنی عزت کی خود ہی دھجیاں اڑا دیتے ہیں۔ا ﷲ تعالیٰ نے انہیں ان تمام خواہشات سے بے نیاز کر دیا تھا۔ اور تحریک کی محبت ان کے دل میں جاگزیں کردی تھی۔ واقعی تحریک سے ایسی محبت بہت کم افراد میں دیکھنے کو ملتی ہے کہ جو اپنا وقت،اپنی صلاحیت، اپنا مال، اور وہ سب کچھ جو اسے عزیز تر ہے۔صرف اور صرف تحریک کے لئے وقف کر دے قربان کر دے ،اور اس کا بدلہ صرف اور صرف رب العالمین سے چاہے۔ہدایت یافتہ لڑکیوں کو اپنے پاس رکھتیں، ان کی تربیت کرتیں اور فاطمہ کا تو حیدر آباد جا کر نکاح کروایا، بیٹی مانتی تھیں، وہ بھی بالکل ماں کی طرح چاہتیں۔ ہر موقع پر حیدرآباد سے باجی کے پاس پونہ آتیں،ا ﷲ فاطمہ کو اور پونہ کی جماعت و حلقہ خواتین کو بھی صبر جمیل عطا فرمائے، ان کی خدمات کو قبول فرمائے، اور اجر عظیم سے نوازے، آمین۔
منیرہ باجی کہا کرتیں ’’تحریک میرا خاندان ہے تحریک ہی میری اولاد ہے اور تم وابستگان میرے تحریکی بچے ۔ ‘‘ میری اپنے تمام تحریکی ساتھیوں سے التماس ہے کہ منیرہ باجی کی مغفرت کے لئے آئندہ بھی ہمیشہ دعائیں کرتی رہیں۔ا ﷲ تعالیٰ منیرہ باجی کے درجات بلند فرمائے، ان کے حسنات کو قبول کرکے سیئات سے درگزر فرمائے۔ جنت الفردوس میں اعلیٰ ترین مقام عطاء فرمائے،ان کی قبر کو نور سے بھر دے،اور تحریک کو ان کا نعم البدل عطاء فرمائے ،آمین! آمین یا رب العالمین!

نہ ہاتھ پکڑا نہ دامن سے ہم لپٹ پائے
بڑے قریب سے اٹھ کر چلا گیا کوئی

آپ کی رخصت نے میرا بچپن تازہ کیا!

سمیہ شیخ، ناگپور

کل صبح منیرہ باجی کی خبر نے جہاں غمگین کیا اور میرے گالوں پر چند گرم گرم آنسو کے قطرے لڑھک پڑے ،وہیں بچپن کی کچھ قیمتی یادوں کا اعادہ بھی ہو گیا۔ یہاں ان باتوں کو قلمبند کرنے کا مقصد فقط تحریک والوں سے تحریک پانا ہے۔
جیسا کہ ہم سبھی جانتے ہیں کہ منیرہ باجی نے اپنے انتھک دوروں کے طفیل حلقۂ خواتین کو بےپناہ مضبوط اور مستحکم بنایا۔ اسی سلسلے میں وہ اچلپور بھی آیا کرتی تھیں۔یہ اس وقت کی بات ہے جب میں صرف اتنی بڑی ہوئی تھی کہ بس کچھ باتوں کو یاد رکھ سکوں۔ مجھے یاد ہے وہ جب بھی آتیں ان کے شوہر نامدار (خان صاحب) ساتھ ہوتے ،خان صاحب اور ڈرائیور ہماری بیٹھک میں ٹھہرتے ،اور باجی بیٹھک سے متصل زنان خانے میں اور ہم باجی کے اردگرد پروانوں کی طرح منڈلاتے رہتے ۔باجی کے ہر کام کی فرماںبرداری ہمارے لئے باعث سعادت ہوتی ۔ہماری کوشش ہوتی کہ باجی کے حکم سے پہلے ان کی خواہش پوری کردیں۔ ( بچے جو تھے ،مہمانوں کی آمد پر باغ باغ ہو جاتے۔) مجھے یہ بھی یاد ہے کہ خان صاحب کو بڑی زبردست شوگر تھی، اور باجی ہر کھانے سے پہلے انہیں انسولین کے انجکشن خود لگایا کرتی تھیں۔ اگر باجی کو خان صاحب کو مخاطب کرنا ہوتا تو زنان خانے ہی سے خان صاحب کی صدا لگاتیں، اور جب خان صاحب کو باجی سے کچھ کہنا ہوتا تو وہ بھی خان صاحب ہی کی صدا لگاتے، اور ہم بچوں کی ہنسی چھوٹ جاتی… ارے یہ دونوں ایک دوسرے کو خان صاحب کہتے ہیں۔
وہ اپنی تحریکی ذمہ داریوں کے ساتھ ساتھ خان صاحب کا بہت احسن طریقے سے خیال رکھتیں۔ ساتھ ہی وہ بچوں سے بہت ہی مشفقانہ انداز میں پیش آتیں۔ میں ابھی بھی ان کے پیار کرنے کے لمس کو محسوس کر رہی ہوں۔ اگر انہیں کسی چیز کی ضرورت پیش آتی اور مجھے حاضر نہ پاکر بےبی ناز کی صدا بلند کر تیں۔کئی بار کی تصحیح کے باوجود بے بی ناز ہی کہتیں اور ہم نادان یہ نہ سمجھ پاتے کہ وہ دلار سے بے بی ناز پکار رہی ہیں۔
میں باجی کے متعلق زیادہ نہیں جانتی۔ بس کچھ باتیں ان کے تعلق سے بچپن ہی میں ذہن سے چمٹ گئی تھیں،اور وہ یہ کہ تحریک کو پروان چڑھانے میں ہم ایک عورت ہو کر کس طرح کام کر سکتے ہیں۔انتہائی خلوص اور للٰہیت کے ساتھ، شوہر سے محبت اور اس کی خدمت گزاری کے ساتھ،اپنے مقصد اور مشن پر مکمل فوکس کے ساتھ، ہر قسم کی غیر ضروری باتوں سے اجتناب کے ساتھ، اور یہ کہ (بطور تحریکی فرد) جنہیں ہم بچے سمجھتے ہیں اور ان کو کوئی خاص توجہ نہیں دیتے ان کے ساتھ، کچھ نہیں تو دو جملے محبت کے بھی نہیں کہتے، اگر ہم انہیں توجہ دیں،پیار اور عزت دیں تو شایدیہی چیزیں ان کے لاشعور میں اکٹھا ہونے لگتی ہیں۔اور وہ بچے ایسی ہستیوں کو لاشعور ہی میں اپنا آئیڈیل مان کر تحریکی قافلے کا حصہ بن جاتے ہیں۔

ایسا کہاں سے لائیں کہ۔۔۔

ملکہ فردوس (ناندیڑ)

کل نفس ذائقۃ الموت

کل ہی کی بات ہے ،ممبئی میں کچھ جماعت کی خواتین سے ملاقات ہوئی، اور وہاں پر منیرہ باجی کا تذکرہ ہوا، اور سب نےان کو بہت یادکیا، اور صحت کےلیے دعائیں کی گئیں،اور آج وہ اپنے مالک حقیقی سے جاملیں۔

اناللہ وانا الیہ راجعون

منیرہ باجی بہت ہی مشفق اورمحبت کرنے والی باجی تھیں۔ حلقۂ خواتین کی سکریٹری رہ چکی ہیں۔ان کو مہاراشٹر سے بہت لگاؤ تھا، کہتی تھیںکہ مجھے مہاراشٹر سے بہت محبت ملی۔جب بھی ناندیڑ دورہ کے لیے آتیں، مجھ ناچیز کو دورہ کے لیے منتخب کرتیں اور ہماری دوران سفر ڈھیر ساری باتیں ہوتیں۔
بھوکر جب بھی جاتے تو ہم تالا ب پر ضرور رکتے اور بہت مزہ کرتے، میں پانی میں آگے جاتی تو مجھے روکنے پر خان صاحب کہتے کہ بچی ہے، اس کو جانے دو ۔باجی مجھ سےبہت محبت کرتی تھیں، ا ور مجھے بے بی ناز کہہ کر بلاتیں،پنے شوہر سے بہت محبت کرنے والی فرماںبردار بیوی تھیں۔
پیر کی تکلیف کے باوجود بہت متحرک تھیں ،باجی کی کوئی اولاد نہیں تھی، لیکن وہ کہتیں کہ میرے توبہت سارے بچے ہیں۔جب بھی کسی پروگرام میں ملتیں، گلے لگا کر بہت پیار کرتیں، اور میری ہمت افزائی کرتیں۔ جب میں رکن بنی تو بہت خوش ہوئیں، اور فون کرکے مبارک باد دیا۔اللہ رب العزت باجی کی محنتوں کو قبول فرمائے، غلطیوں کو درگزر فرما کر نیکیوں کو قبول فرمائےاور ہماری تحریکی بہن کے درجات بلند فرمائے۔آمین یارب العالمین!

نرم دم گفتگو۔۔۔!

شائستہ پروین( عمرکھیڑ)

اس کی امیدیں قلیل ،اس کے مقاصد جلیل
اس کی ادا دلفریب، اس کی نگہ دلنواز
نرم دم گفتگو،گرم دم جستجو
رزم ہو یا بزم ہو، پاک دل و پاک باز

آج صبح سب سے پہلے جو خبر پڑھنے کو ملی، وہ دل کو غمگین کر دینے والی تھی ۔ محترمہ منیرہ باجی صاحبہ اس دارِ فانی سے کوچ کر گئے ۔إِنَّا لِلّهِ وَإِنَّـا إِلَيْهِ رَاجِعونَ نام پڑھتے ہی باجی کا خوبصورت ہنستا مسکراتا چہرہ نظروں کے سامنے آگیا۔باجی کئی دفعہ عمرکھیڑ آچکی ہیں اور مجھے بھی آپ سے بہت طویل ملاقات کا موقع ملا ۔
باجی کا قیام افروز مامی کے گھر ہوا کرتا تھا۔ نشست کے بعد بھی باجی کے ساتھ وقت گزارنے کا موقع ملتا ۔سفر کی مسافت کے باوجود بھی باجی نہیںتھکتی تھیں، اور نہ آرام کرتیں، بلکہ ہر وقت تحریک کو منظم کرنے کی بات کرتیں ۔ ہر مسئلہ غور سے سنتیں اور بہترین رہنمائی فرماتیں ۔ ہر بہن سے نہایت خلوص اور محبت سے ملتیں ۔آپ میں غرور اور تکبر کبھی نظر نہیں آیا۔ نہایت سادہ شخصیت کی مالکہ تھیں۔
میں ہمیشہ سے باجی سے کافی متاثر رہی ۔ اکثر افروز مامی کے ساتھ آپ کا ذکر ہوتا۔ باجی کا انداز،باجی کا سمجھانے کا طریقہ، باجی کا اپنے شوہر کو ’’خان صاحب‘‘ کہہ کر پکارنے کا انداز،باجی کی تقریر اور باجی کی ہر بات یاد آرہی ہے۔
آخری بار باجی سے اورنگ آباد ارکان اجتماع میں ملاقات ہوئی تھی۔ ’’ عمرکھیڑ سے ہیں ۔‘‘صرف اتنا بتایا تو بہت خوش ہوئیں اور بہت محبت اور اپنائیت سے ملیں۔
اللہ تعالیٰ منیرہ باجی کی مغفرت فرمائے اور جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا کرے۔ آمین!

حلقۂ مہاراشٹر کی متحرّک ناظمہ…الوداع!

پروفیسر ایس۔ کے عظیم الدین

ہم نے یہ خبر تو بعد میں پڑھی،پہلے حبیب صادق صاحب نےعلی الصّبح06:30کو فون پر اطّلاع دی کہ محترمہ منیرہ بھابھی صاحبہ پچھلی شب انتقال کر گئیں۔
ایک دور آنکھوں کے سامنے آگیا۔کیا خاتون تھیں،پونہ گئیں تو ہرایک کی زبان پر ان کےلیے بھابھی جان کا نام گویا کسی اپنی عزیز بہن کا نام تھا۔کیا جاوید مکرم صاحب،کیا عزیز محی الدّین صاحب ،اور کیا منصور احمد اور منظور احمد صاحب؛ہر ایک انکا قدردان اور شیدا تھا،اس میںان کے شوہر برادر خالد خان صاحب مرحوم کی بھی اپنائیت کا دخل تھا۔منیرہ بھابھی پونہ کالج میں لکچرر تھیں،لاولد تھیں لیکن انکا تحریکی شعور اور کام کرنے کا جذبہ بلند تھا۔حلقہ مہاراشٹر میں ناظمہ کی ذمہ داری نبھانے میں انہوں نے بڑے خلوص اور محنت کا مظاہرہ کیا۔جب بھی اورنگ آباد آتیں، شفیق النّساء،ناظمہ شہر سے ملنے خالد خان صاحب کے ہمراہ گھر ضرور آتیں۔دیر تک آپس میں ملاقات کرتیں،تحریکی،گھریلو معاملات پر گفتگو کرتیں اور خوشگوار ماحول میں یہ وقت گزرتا۔اللہ تعالی انکی محنت اور کوششوں کو قبول فرمائے،دونوں میاں بیوی کی مغفرت فرمائے اور انہیں اپنے جواررحمت میں جگہ دے،آمین!

جادہ جادہ چھوڑ جاؤ اپنی یادوں کے نقوش

اسلم غازی ممبئی

انا لله و انا الیه راجعون
الله منیرہ باجی کی مغفرت فرمائے اور انہیں کروٹ کروٹ جنت نصیب کرے۔
مرحومہ کے ناظمۂ خواتین بننے، انکے مسلسل دوروں اور انکی انتھک کوششوں سے حلقۂ مہاراشٹر میں خواتین کی سرگرمیوں اور تعداد میں خاطرخواہ اضافہ ہوا تھا۔ ان کے مسلسل اور طویل دوروں کی وجہ سے حلقے نے ان کے لیے علیحدہ کار مختص کی تھی۔ انکی نتیجہ خیز کامیاب کوششوں کی وجہ سے حلقۂ گجرات اور راجستھان بھی انکی خدمات حاصل کیا کرتے تھے اور وہ خوشی خوشی طویل مسافتیں طے کر کے ان دونوں حلقوں کے طویل دورے کیا کرتی تھیں۔
وہ پونے کے ایک اسکول میں معلمہ تھیں۔ جماعت کے کاموں کے لیے انہوں نے ملازمت سے رضاکارانہ رٹائرمنٹ لے کر اعزازی طور پر اپنے آپ کو تحریک کے لیے وقف کر دیا تھا۔ یہی نہیں بلکہ انہوں نے اپنی تمام جائداد اپنی زندگی میں ہی جماعت کو ہبہ کر دی تھی۔
الله ان کی خدمات اور قربانیوں کو قبول فرمائے، انہیں اعلٰی علیین میں بلند مقام بخشے، ان کے پسماندگان کو صبر جمیل اور تحریک اسلامی کو ان کا نعم البدل عطا کرے۔ آمین

0 Comments

Submit a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

جولائی ٢٠٢٢