’’مرد ہ بچے کو لئے غم و اندوہ سے بھری ’’بھیڑ ماں‘‘سے صرف نظر ،گوشت نوچنے اور پھاڑ کھانے کے لئے نعش پر نظریں جمائے کوےاور گدھ۔‘‘
سفاک انسانی سماج کی عکاس…
جہاں اک غمزدہ دکھیاری ماں کو پانچ سال سے اپنے ہونہار تعلیم یافتہ بیٹے کا انتظار ہے،جس سے اس کے اور پورے گھر کی امیدیں اور خوبصورت خواب وابستہ تھے ۔
پتہ نہیں وہ کہاں ہے شاید نفرت کی سیاست کی بھینٹ چڑھ گیا ہو، یا کسی ظالم گروہ کی سفاکی کا شکار ہوگیا ہو۔
گدھ اور کوے تو’’مردار‘‘ کا گوشت کھاتے ہیں، پھر بھی وحشیت کی علامت مانے جاتے ہیں …
لیکن انسان نما درندےزندہ انسانوں کے ساتھ وحشیانہ سلوک کرکے بھی قوم کے نیتا بنے پھرتے ہیں ۔
٭ کمزوروں کی لاشیں سیاسی ترقی کا زینہ بن گئی ہیں۔
٭ ایک کمزور لڑکی کی عصمت دری کی جاتی ہے، پھر ظلم کے خلاف زبان نہ کھولے اس لیے زبان کاٹ دی جاتی ہے۔
ہڈیاں توڑ کر مار دیا جاتا ہے، پھر نعش سے بھی خوف کہ ان کا جرم ظاہر نہ کردے ،اور اندھیرے میں ہی نعش کو جلا دیا جاتا ہے۔
٭ اپنے حق کے لئے لڑنے والوں کو حق تو نہیں دیا جاتا، ہاں قید وبند کی صعوبتوں سے گزارا جاتا ہے، ان کے بسے بسائے گھروں پر بلڈوزر چلا کر سارے خاندان کو بے گھر کردیا جاتا ہے۔
٭ نہتے کمزور شخص کو دیکھ کر پوری بھیڑ درندہ بن جاتی ہے ،مذہب کے نام پر اسے اتنا مارا جاتا ہے کہ وہ یا تو ادھ مرا ہوجائے یا موت کے منہ میں چلا جائے ۔
لیکن…
ظلم کی انتہا ظالم کے زوال کا آغاز ہوتی ہے…
ظلم پھر ظلم ہے بڑھتا ہے تو مٹ جاتا ہے
خون پھر خون ہے گرتا ہے تو جم جاتا ہے
ظالم اپنی قوت پر بہت گھمنڈ کرتا ہے اور اپنی چالوں اور مکر پر بہت اتراتا ہے۔ لیکن اس کی ساری چالوں کو (چاہے کتنی ہی پر فریب اور مضبوط کیوں نہ ہوں۔ )اللہ اپنی ترکیب سے اکارت کر دیتاہے۔
نکتہ: ’’انہوں نے اپنی ساری ہی چالیں چل دیکھیں مگر ان کی ہر چال کا توڑ اللہ کے پاس ہے ،اگرچہ ان کی چالیں ایسی غضب کی تھیں کہ پہاڑ ان سے ٹل جائے۔‘‘(سورۃابراہیم)

0 Comments

Submit a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

جولائی ٢٠٢٢