اس کتاب میں مولانا نے دعوت دین کے سلسلے میں پیش آنے والے مسائل کا ذکر کیا ہے، اور اسی کے ساتھ ان مسائل کا حل بھی پیش کیا ہے۔ سب سے پہلے مصنف نے دعوت دین کی اہمیت اور اسکی فرضیت کا ذکر کیا ہے۔ دعوت دین کی بدولت ہونے والی مثبت تبدیلیوں کا ذکر کیا ہے،اور اس بات کو سمجھانے کی کوشش کی ہے کہ دین اسلام وہ دین ہے جو انسان کو اس کے تمام حقوق عطا کرتا ہے۔ یہ دین انسان کی عین فطرت کے مطابق ہے۔ آگے چل کر مولانا نے دعوت دین کے متعلق چند غلط فہمیوں کا تفصیلی ذکر کیاہے ۔ جیسے کہ دین کی دعوت دینا ہر مسلمان پر فرض نہیں ہے ،یا مسلمان کے کردار کو دیکھ کر غیر مسلم خود ہی اسلام قبول کرلے گااور اس وجہ سے دین کی اشاعت کی کوئی ضرورت نہیںوغیرہ وغیرہ۔ مولانا نے ان تمام غلط فہمیوں کا تفصیلی جواب دیاہے۔ اور یہ بات واضح کرنے کی کوشش کی ہے کہ دین کی اشاعت ہر بالغ مسلمان مرد اور عورت پر فرض ہے۔ اور اس کا حکم اللہ تعالی نے قرآن مجید میں دیا ہے۔ اور مسلمان صرف یہ سوچ کر گھر پر نہیں بیٹھ سکتا کہ کوئی خود چل کر اسکے پاس آئے گا اور دین کا علم حاصل کریگا۔ اس کے بعد والے مضمون میں مولانا بتاتے ہیں کہ دعوت دین کا کام صرف مرد پر فرض نہیں ہے، عورتوں کو بھی اپنے طور پر اس فریضہ کو انجام دینا چاہیے۔ وہ اپنے گھروں میں اپنے غیر مسلم دوستوں کو کھانے یا چائے کی دعوت پر بلا سکتی ہیں۔ اور بات چیت کے دوران اسلام کا تعارف پیش کرسکتی ہیں۔ اور ساتھ ہی دعوت دین سے متعلق چند فولڈرس انکو تحفے کے طور پر دیے سکتی ہیں۔ اور یہ کام پہلی ہی ملاقات میں ہو ،ایسا ضروری نہیں ہے۔ غرض اسی طرح کے اور کئ عملی طریقہ ہائے کار کو اس کتاب میں بیان کیا گیا ہے۔ ساتھ ہی اس بات کو بھی سمجھانے کی کوشش کی گئی ہے کہ دین کی اشاعت کے لیے کسی خاص موقع اور وقت کا انتظار نہ کیا جائے۔اور مواقع خودپیدا کیے جائیں۔ جب کوئی مسلمان سفر کے لیے نکلے تو اس کو چاہیے کہ وہ اپنے ساتھ اسلام کے تعارف کی اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کے متعلق چند کتابیں رکھ لے۔ اسی طرح آخرت اور جنت و جہنم کے متعلق بھی کچھ فولڈرس ہوں تو رکھ لے، تا کہ توحید، رسالت اور آخرت کا تعارف اور ان کے متعلق انفارمیشنزہم بآسانی اپنے سفر کے غیر مسلم ساتھیوں کو دےسکیں۔ مولانا بتاتے ہیں کہ اس اہم کام کو کرنے کے لیے اخلاص نیت کاہونا بہت ضروری ہے۔ یہ کام خالص اللہ کی خوشنودی اور اس کی رضا حاصل کرنے کے لیے کرنا چاہیے۔ اس میں کسی بھی طرح کا دنیوی مفاد یا شہرت کی چاہت و دکھاوا مقصود نہ ہو۔
اب آگے چل کر مولانا نے چند دلائل کا ذکر کیا ہے، جنہیں ہم دعوت دین کی اشاعت کےلیے استعمال کر سکتے ہیں۔ ہمیں ان مضامین پر بات چیت کرنے کی ترغیب دی گئ ہے جو ہمارے اور ان کے مذاہب کے درمیان عام ہوں۔ جیسے زندگی بعدِ موت۔ خدا کی وحدانیت۔ گناہوں کی سزا اور نیک کاموں کی جزا وغیرہ۔ اور بات چیت کے دوران ایک داعی کو اس بات کا بھی شعور ہو کہ وہ اصل بات اور مقصد سے نہ بھٹکے۔ اور نہ ہی جذباتی ہوکر کچھ ایسا کہے ،کہ جس سے معاملہ اور تعلقات بگڑ جائیں۔ وہ یہ بات یاد رکھے کہ وہ یہ کام اللہ کی خاطر کر رہا ہے تو اگر اسے کوئی تکلیف پیش بھی آتی ہے تو وہ اس پر صبر کرے۔ اس کابہترین اجر اللہ اس کو ضرور دیگا۔ مولانا نے اس بات کوبھی اہمیت دی ہے کہ بات چیت کے دوران بحث و مباحثہ سے بچا جاسکتا ہو تو ضرور بچیں۔ لیکن اگر ایسا کرنے کی ضرورت پیش بھی آئے تو مناسب رویہ اختیار کریں۔ سخت الفاظ کا استعمال کرنے اور دل آزاری کرنے سے بچیں۔ گالی گلوچ اور چیخنے چلانے کی تو کوئی گنجائش ہی نہیں ہے۔ اس کےبعد مولانا نے اس بات کی طرف توجہ مبذول کروائی ہے کہ جب کوئی اسلام قبول کرتا ہے تو اسے بہت ساری پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے، اور ایسے وقت میں مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ ہر طرح سے نو مسلموں کا ساتھ دیں اور جس طرح بھی ممکن ہو، ان کی مدد کریں۔ انہیں غیر نہ سمجھیں اور ان کے ساتھ اپنائیت کا اظہار کریں۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اللہ کی خاطر اپنا گھر اور سبھی رشتے چھوڑے ہیں۔ اور راہ حق کی انک کی ان پریشانیوں میں ہمیں ان کا اسی طرح ساتھ دینا چاہیے جس طرح رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں انصاری صحابہ نے مہاجرین کا دیا تھا۔ مولانا نے نو مسلموں کی تعلیم و تربیت کے سلسلے میں اقدام کرنےکو خاص اہمیت دی ہے۔ ان کودین کے فرائض سکھانے کا انتظام کیا جائے۔ نماز، روزہ اور دیگر اسلامی عبادات بھی سکھائے جائیں۔ اس دوران صبر و تحمل کے ساتھ ان کو آہستہ آہستہ دینی تعلیمات و ترجیحات سمجھائی جائیں۔ اور انکا عملی مظاہرہ بھی کیا جائے۔ کبھی بھی اپنے کسی بھی رویے سے ان کو اسلام سے دور نہ کیا جائے۔ مولانا نے اس کتاب میں کئی جگہ اپنی زندگی میں اشاعت دین کے دوران پیش آنے والے واقعات کا بھی ذکر کیاہے۔ ان واقعات کو پڑھ کر ہمارے اندر دعوت دین کاکام کرنے کا جذبہ پیدا ہوتا ہے۔
اور اسی طرح صحابہ کے واقعات کا بھی ذکر کیا گیا ہے کہ کس طرح انہوں نے اشاعت دین کے لیے جدوجہد کی اور آج انہیں کی کوششوں کا نتیجہ ہے کہ اسلام دنیا کے کونے کونے میں پھیل گیا ہے۔ اس سے آگے والے مضمون میں مولانا نے یہ سمجھانے کی کوشش کی ہے کہ اس ذمہ داری سے منہ موڑنے پر اللہ کی ناراضگی عذاب کی شکل میں ظاہر ہوگی۔ اور یہ بات قرآن میں موجود واقعات سے ثابت ہے۔ دعوت دین کی ذمہ داری سے غفلت کے نقصانات نہ صرف غیر مسلمین کو بلکہ مسلمانوں کو بھی اٹھانے پڑتے ہیں۔ جہاں اس ذمہ داری سے منہ موڑ نے پر مسلمان اللہ کے غضب کو دعوت دیتا ہے وہیں وہ ایک بہت بڑی خیانت میں ملوث ہوجاتا ہے۔ یہ دین اللہ کی طرف سے ایک امانت ہے اور اس کا سوال قیامت کے دن ہر مسلمان سے ہوگا۔ اس دین سے دوری جھگڑا وفساد کی وجہ ہے۔ وہ اللہ کا خوف ہی ہے جو انسان کو گناہ سے روکتا ہے اور ایک دوسرے کا حق ادا کرنے کے لیے اکساتا ہے۔ اسکے علاوہ بھی کئی اور نقصانات کا ذکر اس کتاب میں کیا گیا ہے۔ اسی طرح دعوت دین سے غفلت غیر مسلم بھائی بہنوں کے لیے بھی نقصان کا باعث ہے ۔ وہ حق کو حاصل کرنے سے محروم ہو جاتے ہیں اور زمین پر فساد برپا کرنے سے نہیں ڈرتے۔ اور دعوت سے محرومی کا نتیجہ قیامت کے دن جہنم ہے۔ اور اس کا سب سے بڑا اثر انسانیت اور اس کی سوچ پر پڑتا ہے۔ اس کے بعد کتاب کے سب سے آخری حصےمیں مولانا نے ایک بہترین اور کامیاب داعی کے اوصاف ذکر کیے ہیں ۔ ایک بہترین داعی یہ کام صرف اللہ کی رضا و خوشنودی کے لئے کرتا ہے۔ اور وہ کسی حال میں بھی صبر کا دامن نہیں چھوڑ تا۔ وہ اس بات کا احساس رکھتا ہے کہ اس کام میں اس کی اپنی کوئی ذاتی غرض نہیں ہے۔ وہ آسان اور بہترین انداز میں گفتگو کرتا ہے۔غصہ اور غیر ضروری بحث ومباحثہ سے بچتا ہے ۔ وہ اخلاق کا بہترین پیکر اور عبادت گزار ہوتا ہے۔ اللہ سے اسک کاتعلق مضبوط ہوتا ہے۔ نہ وہ بہت زیادہ جذباتی ہوتا ہے اور نہ بہت جلدی ہمت ہارتا ہے۔ مولانا نے اس کتاب کے ذریعہ دعوت دین کی اہمیت اور فرضیت کے ساتھ ساتھ اس کے کرنے سے حاصل ہونے والے فوائد اور نہ کرنے سے ہونے والے نقصانات پر بھی روشنی ڈالی ہے۔ اسی کے ساتھ بہت سارے عملی نکات قرآن اور حدیث کی روشنی میں بتائے ہیں ۔ اس کتاب سے عام مسلمانوں کے ساتھ ساتھ، داعیان اسلام بھی فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔
غرض یہ کہ یہ ایک بہت ہی اہم اور ضروری کتاب ہے، ہر اس مسلمان کے لئے جو اپنے اندر اقامت دین کا جذبہ رکھتا ہو۔ اس کتاب کو پڑھ کر اس پر عمل کرنے سے ہم اس جذبے کو عملی جامہ پہنا سکتے ہیں۔ یہ بہت ہی کم پیجز اور آسان الفاظ و سادہ انداز میں لکھی گئی کتاب ہے۔ اس کتاب کی قیمت 120 روپےہے۔ اور اس کوبآسانی’’ مرکزی مکتبہ اسلامی پبلشرز، نئ دہلی۔ 25‘‘سے حاصل کیا جا سکتا ہے ۔
ایک بہترین داعی یہ کام صرف اللہ کی رضا و خوشنودی کے لئے کرتا ہے۔ اور وہ کسی حال میں بھی صبر کا دامن نہیں چھوڑ تا۔ وہ اس بات کا احساس رکھتا ہے کہ اس کام میں اس کی اپنی کوئی ذاتی غرض نہیں ہے۔ وہ آسان اور بہترین انداز میں گفتگو کرتا ہے۔غصہ اور غیر ضروری بحث ومباحثہ سے بچتا ہے ۔ وہ اخلاق کا بہترین پیکر اور عبادت گزار ہوتا ہے۔ اللہ سے اسک کاتعلق مضبوط ہوتا ہے۔ نہ وہ بہت زیادہ جذباتی ہوتا ہے اور نہ بہت جلدی ہمت ہارتا ہے۔

ویڈیو :

آڈیو:

0 Comments

Submit a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اگست ٢٠٢٢