گفتگو جب بے معنی اور طویل ہو!
وہ دونوں کافی عرصے بعد ملیں تھیں۔ بہت گرم جوشی سے ملیں۔ بڑے خلوص و محبت سے ایک دوسرے کا حال معلوم کیا۔ پرانی خوش گوار یادوں کو تازہ کیا۔ ہنسی مذاق ہوا۔ خوب کھل کھلائیں۔ ایک عرصہ سے سرد پڑی محبت کو گرمایا۔ پھر آہستہ آہستہ باتوں کا رخ بدلا۔ ایک دوسرے کے گھر والوں کا ذکر۔ پھر دیگر سہیلیوں کا اور رشتہ داروں کا۔
پہلے صرف تعارف و تزکرہ، پھر خفگیوں کی ذیادتیوں کی روداد، برائیاں، غیبتیں، پھر برائیوں میں مبالغہ، بہتان اور الزام، وہ بھی غیر حاضر افراد پر۔
آپسی محبت و خلوص کا شیریں ماحول مسموم ہوگیا۔ پرانی دوستی اور محبتوں کی یاد دہانی کےلیے کی گئی ملاقات نفرتوں اورکدو رتوں کی تشہیر کا ذریعہ بن گئی۔ محبت بھرا ماحول متعفن ہوتا گیا۔ غیر محسوس سڑاند کی لہریں سی اٹھنے لگیں۔ خوبصورت چہروں پر درندگی کے آثار نظر آنے لگے، جیسے منھ میں(مردہ بہن ) کا کچا گوشت اور ہونٹوں سے خون ٹپک رہا ہو….!
جب رخصت ہوئیں تو دل ایک دوسرے کی نفرتوں سے بھرے ہوئے تھے۔ اب تو حالت یہ تھی کہ ملاقات کا منصوبہ بھی ایک دوسرے پر طعن و تشنیع کے بننے لگا۔ ملاقات باعثِ راحت ہے، گر گفتگو بے معنی اور طویل نہ ہو ۔

0 Comments

Submit a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

مارچ ٢٠٢٢