سیلانُ الّرحِم (Leucorrhoea)
اسباب ورم رحم

رحم پہ چوٹ لگ جانا۔ رحم میں سردی کا لگ جانا۔ سوزش شرم گاہ۔ کثرت جماع۔ تعفن۔ گاہے طمثی عروق میں مادہ حیض عفونت اختیار کرلیتے ہیں۔ یہ تعفن قریب رحم کے بھی ہوتا ہے اور عمق میں بھی ہوتا ہے۔ جو تعفن عمق رحم میں ہوتا ہے، وہ اس علامت سے خالی نہ ہوگا ۔ مختلف رطوبات بھی اس میں نکلتے ہوں اور اکثر یہ رطوبات ہم رنگ دردی شراب کے ہوتے ہیں۔ (القانون، حصہ سوم۔ص ۱۰۹۲)
Trichomonas vaginalis عورتوں میں سیلان الرحم کا خاص سبب ہے۔ یہ پیراسائٹس مہبل اور بچے دانی کی میوکس ممبرین پر اثر انداز ہوتا ہے۔ ہلکی ورمی کیفیت پیدا ہو جاتی ہے۔ رحم سے لیس دار زردی مائل کسی قدر ’بو‘ کے ساتھ رطوبت خارج ہوتی ہے۔

Yellowish,forthy discharg of trichomonal
intfection. (Ghanshyam Vaida P.110)

۴۔فضلات رحم کی کثرت

اسن یاس میں بعض اوقات رحم سے زیادہ مقدار میں بدبودار رطوبت کا اخراج ہوتا ہے۔ جس کا سبب فضلات کی کثرت ہوتی ہے۔ جن کا رحم کی طرف استفراغ و تنقیہ کی غرض سے انصباب ہوتا ہے۔یہ فضلات بلغی، صفراوی، سوداوی یا دموی الاصل ہوتے ہیں۔ علاوہ بریں رحم کی قوت غازیہ ضعیف ہو جانے سے نفس رحم میں رطوبتیں پیدا ہو جاتی ہیں۔ (امراض النساء۔ص۵۶۲)سن یاس کے اس سیلان کے تعلق سے حکیم اجمل خاں فرماتے ہیں:’’ اگر بڑھاپے میں اس قسم کے سیلان کی شکایت ہوتی ہے تو اندام نہانی سے پنیر کی مانند جمی ہوئی اور غلیظ رطوبت خارج ہوا کرتی ہے۔
‘‘ (حاذق۔ ص۴۸۳)

۵۔عام بدنی ضعف

اس مرضِ سیلان میں مبتلا مریضہ میں ضعف و نقاہت عام سی بات ہے۔ جس قدر ضعف عمومی بڑھتا ہے، یہ مرض بڑھتا ہے اور جس قدر سیلان بڑھتا ہے، ضعف و نقات بدنی بڑھتی جاتی ہے۔ اس طرح سے ایک نہ رکنے والا سلسلہ چل پڑتا ہے۔ اس لیے ہمیں علاج کے ذیل میں یہ ضرور خیال کرنا چاہیے کہ مرض سیلان بھی رفع ہو اور عمومی صحت بھی بحال ہو۔
۶۔کم سن بچیوں کا سیلان
چھوٹی بچیوں میں مہبل سے سفید چونے جیسی رطوبات خارج ہونے لگتی ہیں۔ بچیوں کی مائیں بتاتی ہیں کہ ان کے ذریعہ سے یہ بیماری مشاہدے میں آئی۔’’سفید چونا جیسی رطوت مہبل سے خارج ہوتی ہے، کپڑے پر سفید نشانات پڑ جاتے ہیں۔‘‘ میرے مطب پر ایسی بہت سی بچیاں اپنی ماؤں کے ساتھ آئی ہیں۔ ایسا صرف اور صرف کیلشیم کی کمی کہ وجہ سے ہوتا ہے۔ اس مرض کے ازالے کے لیے خمیرہ مروارید بہت کافی ہوتا ہے۔
۷۔کاپر ٹی کا استعمال(Copper-T)
بعض اوقات مریضہ یہ شکایت لے کر بھی آتی ہے کہ اندام نہانی سے انڈے کی سفیدی جیسی رطوبت مسلسل خارج ہوتی رہتی ہے۔ جس کہ وجہ سے طبیعت میں گرانی، کمر میں درد اور کمزوری ہوتی ہے۔ تفصیلی گفتگو کے بعد معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے فیملی پلاننگ کی غرض سے کاپر ٹی لگوائی ہے اور لگوانے کے کچھ ہی دنوں کے بعد سے اس رطوبت کا سیلان شروع ہو گیا ہے۔ واضح رہے کہ رحم ایک حساس عضو ہے اور کاپر ٹی خارج سے داخل کی گئی شے ہے، جس کو رحم نکال باہر کرنا چاہتا ہے، لیکن خارج نہیں کر پاتا۔ ایسی صورت میں سیال رطوبت کا اخراج ہونے لگتا ہے۔ جس سے مریضہ کی صحت آہستہ آہستہ تباہ ہوجاتی ہے۔ اس کا علاج یہی کہ اس کو نکلوا دیا جائے اور بحالی صحت کے لیے معجون دبید الورد اور خمیرہ مروارید کھلایا جائے۔
۸۔جنسی نا آسودگی
مرض سیلان میں جنسی نا آسودگی ایک اہم سبب ہے۔یہ مرض ایسی خاتون کو ہوتا ہے جس کا شوہر سرعتِ انزال کے مرض میں مبتلا ہوتا ہے۔ معمولی ملاعبت سے ہی قبل ازدخول یا دخول کے فوراً بعد منی خارج ہو جاتی ہے۔ جس کے سبب عورت نا آسودہ رہتی ہے اور نتیجہ میں پورے دن بلکہ بیش تر اوقات عورت کے اندام نہانی سے رطوبت کا اخراج ہوتا رہتا ہے۔ دورانِ مطب اس قسم کے سیلان کی مریضہ بکثرت آتی ہیں۔ اس مرض کے علاج کے لیے شوہر کے علاج پر خاص توجہ دینی چاہیے۔ میں مرد کے ضعف باہ کا علاج کرتا ہوں۔ ایک سے ڈیڑھ ماہ تک بحمدللہ شوہر ٹھیک ہو جاتا ہے اور مریضہ بھی ٹھیک ہو جاتی ہے۔ اطباء اس لطیف نکتے کو سمجھیں۔
میری اس بات کی تائید ہمدرد کی ایک دوا ’ناشف‘ کے تعارف میں لکھی گئی ذیل کی سطور سے بھی ہوتی ہے۔’’جنسی نا آسودگی یا شوہر کے سرعت انزال میں مبتلا ہونے کے سبب پیدا ہونے والے سیلان ابیض میں مفید ہے۔‘‘ (امراض النساء، ص ۵۷۰)
۹۔بڑھا ہوا جنسی ہیجان مطب پر مرض سیلان میں مبتلا بہت سی مریضہ آئیں، میں نے محلل، مقوی اور ہلکی مجففات دوائیں دیں۔ لیکن بالکل بھی فائدہ نہیں ہوا۔پھر وہی شکایت دوا بدل کر دی، پھر وہی شکایت علاج میں ناکامی کے بعد۔ پھر میں نے مریضہ سے بغرض تشخیص تفصیل سے بات چیت کی تو حیرت ہوئی کہ شوہر پردیس میں رہتے ہیں۔ رات میں فون آتا ہے، باتیں ہوتی ہیں۔ شوہر و بیوی کے درمیان کی باتیں فون پر ویڈیو کالنگ کی بھی سہولت ہے۔ اس ذریعہ سے بھی بات ہوتی ہے۔ فون پر بات ختم ہونے کے بعد میں بھی طبیعت میں جنسی ہیجان رہتا ہے اوررطوبت کا سیلان ہوتا ہےاور بکثرت ہوتا ہے۔ کسی شاعری نے اسی کیفیت کو شعر کے قالب میں ڈھال دیا:
روز ہوتی ہے گفتگو ان سے
مدتوں سامنا نہیں ہوتا
آپ اس کو’موبائلی سیلان‘ کا نام دے سکتے ہیں۔ اس سیلان کے مرض میں مبتلا مریضہ کے علاج میں اب تک ناکام رہا ہوں۔کیوں کہ یہ لت چھوٹتی نہیںاور اگر بیوی مان بھی جائےتو وہ مجازی خدا نہیں مانتا۔ لیکن اس وقت کا کثیر الوقوع مرض ہے۔ اطباء کو بکثرت سابقہ پڑتا رہتا ہے
حکایت مریض
’’حکیم صاحب یہ میری بچی ہے۔ اس کی عمر ابھی سات سال ہے۔ کئی ماہ سے اس کی شرم گاہ سے رطوبت خارج ہوتی ہے اور زیادہ مقدار میں خارج ہوتی ہے۔ کپڑے پہ لگ جائے تو ایسا لگتا ہے کہ جیسے چونا لگ گیا۔ یعنی سفیدی چونے جیسی ہوتی ہے۔ یہ کیا ہے؟ یہ کیوں ہے؟یہ تو ابھی بچی تو پھر ابھی سے ایسا کیوں ہے؟‘‘
یہ سیلان صرف کیلشیم کی کمی کی وجہ سے ہوتا ہے۔ میں نے مریضہ کی ماں کو تسلی دی اور صرف ’خمیرہ مروارید‘ دیا کہ اس کو صبح خالی پیٹ آدھا چمچہ کھلا دیا کریں۔ بچی بہت جلد ٹھیک ہو جائے گی، ان شاء اللہ۔ اس طرح کے سیلان میں مبتلا بچیاں مطب پر آتی ہیں اور صرف خمیرہ مروارید کھلا دینے سے ٹھیک ہو جاتی ہیں۔ الحمدللہ۔
’’حکیم صاحب میری عمر 48 سال ہے، میرا حیض بند ہوئے تقریباً چار سال ہوگئے۔ لیکن حیض بند ہونے کے تین چار مہینے بعد سے غلیظ قسم کی رطوبت ’لرچھا لرچھا‘ بالکل جما جما پنیر کی طرح زیادہ مقدار میں رطوبت خارج ہونے لگی۔ دیکھنے پر ہر وقت اس جگہ پر وہ مواد موجود رہتا ہے۔ایسا لگتا ہے کہ میرے جسم میں اور کچھ نہیں، جو کچھ کھاتی پیتی ہوں وہ سب جاکر یہی کچھ بن جایا کرتا ہے اور پھر اسی راستے سے نکل آتا ہے۔ میں نے کئی ڈاکٹروں کو اپنی روداد سنائی، علاج کیا، مجھے کچھ بھی فائدہ نہیں ہوا۔ اور حالت یہاں تک پہنچ گئی ہے کہ ’وہ ‘اب مجھے کوسنے لگے ہیں۔ میری زندگی اب مشکل لگنے لگی ہے۔‘‘
یہ سن یاس کا سیلان ہے۔ اس کا سبب فضلات کی کثرت ہے۔ مریضہ کی حکایات سن لینے کے بعد ایک بار پھر حکیم اجمل خاں کے ذیل کی اعبارت پڑھ لیں:’’اگر بڑھاپے میں اس قسم کے سیلان کی شکایت ہوتی تو اندام نہانی سے پنیر کی مانندجمی ہوئی اور غلیظ رطوبت خارج ہوتی ہے۔ [جاری]

یہ سیلان صرف کیلشیم کی کمی کی وجہ سے ہوتا ہے۔ میں نے مریضہ کی ماں کو تسلی دی اور صرف ’خمیرہ مروارید‘ دیا کہ اس کو صبح خالی پیٹ آدھا چمچہ کھلا دیا کریں۔ بچی بہت جلد ٹھیک ہو جائے گی، ان شاء اللہ۔ اس طرح کے سیلان میں مبتلا بچیاں مطب پر آتی ہیں اور صرف خمیرہ مروارید کھلا دینے سے
ٹھیک ہو جاتی ہیں۔ الحمدللہ۔

0 Comments

Submit a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

مارچ ٢٠٢٢