الیکٹرانک ردّی (ای ویسٹ)ایک سنگین مسئلہ(آخری قسط)
۶۔ توانائی کا بحران پیدا کرتی ہے
الیکٹرانک اشیاء کی تیاری میں بڑے پیمانے پر توانائی استعمال ہوتی ہے۔ اُن کے ضیاع سے توانائی کا ضیاع ہوتا ہے۔ ماہرین کہتے ہیں اگر ایک ملین لیپ ٹاپ ری سائیکل کیے جائیں تو اُن سے جو توانائی بچتی ہے وہ ساڑھے تین ہزار گھروں کی سال بھر کی توانائی کی ضرورت پوری کرسکتی ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ الیکٹرانک ردّی کو ضائع کرنے کا عمل توانائی کے بحران میں اہم رول ادا کرتا ہے۔

الیکٹرانک ردی اور انسانی صحت

اس ردّی کے انسانی صحت پر اثرات نہایت بھیانک ہوتے ہیں۔ یہ اثرات ان لوگوں میں واضح طور پر نوٹ کیے گئے جو اس طرح کی ردّی کے قریب رہائش پذیر ہوتے ہیں یا ردّی اٹھانے کا کام کرتے ہیں۔ لیکن دوسرے لوگ بھی اس سے متأثر ہوسکتے ہیں۔ وزنی دھاتوں کے ذرات جسم میں داخل ہوکر ذہنی صحت کو متاثر کرسکتے ہیں۔ ڈی این اے کی توڑ پھوڑ کا ذریعہ بن سکتے ہیں، جس سے کینسر سمیت دیگر مہلک بیماریاں اور جینیاتی عوارض پیدا ہوسکتے ہیں۔ حاملہ عورتوں کے جسموں میں یہ ان کے جنین پر منفی اثرات ڈالتے ہیں۔ قبل از وقت پیدا ئش، پیدائشی عذرات، نومولود کا کم وزن، وغیرہ جیسی بیماریاں ان آلودگیوں کے نتیجے میں پیدا ہوتی ہیں۔ بچوں کی افزائش کا عمل سست ہوسکتا ہے۔ بچوں کی صحت پر بھی ان کے اثرات نہایت مہلک ہوتے ہیں۔
چند ماہ قبل، عالمی ادارہ صحت نے پہلی بار الیکٹرانک ردّی کے انسانی صحت پر، خصوصاً بچوں کی صحت پر اثرات سے متعلق ایک تفصیلی رپورٹ جاری کی ہے۔ اس رپورٹ میں ادارے نے کہا ہے کہ دنیا کے کئی ملکوں میں’الیکٹرانک ردی کی سونامی‘ آئی ہوئی ہے اور یہ ردّی کم سے کم سوا کروڑ عورتوں اور پونے دو کروڑ بچوں کی زندگیوں کے لیے شدید خطرہ بن گئی ہے۔ رپورٹ میں مشورہ دیا گیا ہے کہ ماضی قریب میں پلاسٹک سے ندیوں اور آبی ذخائر کو بچانے کے لیے جس بڑے پیمانے پر دنیا بھر میں کوششیں ہوئی ہیں، اب وقت آگیا ہے کہ ویسی ہی کوششیں الیکٹرانک ردّی کے سلسلے میں کی جائیں۔

غیر ذمےد ارانہ رویے اور روک تھام کی تدابیر

ترقی یافتہ ممالک اپنی الیکٹرانک ردّی مختلف بہانوں سے غریب ملکوں میں بھیج دیتے ہیں۔ غریب ملکوں کو بے کار کمپیوٹر اور دیگر استعمال شدہ آلات، بطور ’عطیہ‘دے کر انہیں ٹھکانے لگایا جاتاہے۔ ری سائیکلنگ کا کام یہاں کم خرچ میں ہوتا ہے، اس لیے ری سائیکلنگ کے لیے بڑی مقدار میں ردی اُن کے پاس بھیج دی جاتی ہے۔ بہت سے ملکوں کو معمولی معاوضہ دے کر محض ڈمپ کرنے کے لیے ناکارہ لیپ ٹاپ اور دیگر الیکٹرانک اشیاء بھیج دی جاتی ہیں۔ بعض اندازوں کے مطابق، ترقی یافتہ ممالک اپنی الیکٹرانک ردّی کا ستر سے اسی فیصد حصہ غریب ملکوں کو ٹرانسپورٹ کردیتے ہیں۔ چین، ملیشیا اور افریقہ کے کئی ملکوں کے ساتھ اس زیادتی کا ایک بڑا شکار خود ہمارا ملک ہندوستان بھی ہے۔ بہت سے آلات معمولی درستگی اور صقیل کاری REFURBISHINGکے بعد دوبارہ استعمال کی جاسکتی ہیں۔ لیکن بڑی کمپنیاں اس میں رکاوٹ پیدا کرتی ہیں، کیوں کہ اس سے ان کی نئی مصنوعات کی فروخت پر اثر پڑ سکتا ہے۔
الیکٹرانک ردی سے متعلق مسائل کو حل کرنے کے لیے مختلف ملکوں نے بہت سے اقدامات کیے ہیں۔ عالمی سطح پر بیسل کنوینشن Basel Convention، ضرر رساں اشیا سے متعلق ایک بین الاقوامی معاہدہ ہے۔ الیکٹرانک ردّی کے بیشتر اجزا کا یہ معاہدہ احاطہ کرتا ہے۔ اس معاہدے کا مقصد الیکٹرانک ردّی کا مناسب نظم و انصرام، اس کے نقصانات سے بچنے کی تدابیر اختیار کرنا، غریب ملکوں کی اس سلسلے میں مدد وغیرہ ہے۔ اس معاہدےکا ایک اہم مقصد یہ بھی ہے کہ امیر ممالک اپنی ردّی غریب ملکوں میں بھیج کر وہاں ماحولیاتی اور صحت عامہ سے متعلق مسائل پیدا کرنے نہ پائیں۔ یہ معاہدہ 1992 میں نافذ ہوا اور ابھی تک 199ملکوں نے اسے تسلیم کرلیا ہے، لیکن الیکٹرانک ردّی پیدا کرنے والے اور غریب ملکوں کو بھیجنے والے ایک بڑے ملک، امریکہ نے ابھی تک اس کی توثیق نہیں کی ہے۔
ہمارے ملک میں ماحولیاتی تحفظ کے دیگر قوانین کے ساتھ چند سال پہلے الیکٹرانک ردّی سے متعلق خصوصی ضوابط E-Waste Management and Handling Rules 2011تشکیل دیے گئے تھے۔ ان میں دو دفعہ ضروری اضافے کیے گئے ہیں اور اب 2018تک ترمیم شدہ ضوابط نافذ العمل ہیں۔ ان ضوابط میں الیکٹرانک اشیاء بنانے والے، فروخت کرنے والے، ان کی ردّی اکھٹی کرنے والے، ریاستی حکومتیں اور عام صارفین، ان سب کی ذمےد اریاں متعین کی گئی ہیں۔ اس سلسلے میں پالیوشن کنٹرول بورڈز کو خصوصی اختیارات دیے گئے ہیں اور ای ردی کو حاصل کرنےاور ری سائکلنگ، وغیرہ سے متعلق ٹارگیٹ متعین کیے گئے ہیں۔ لیکن دیگر قوانین کی طرح ہمارے ملک میں ان قوانین کا بھی زمینی سطح پر نفاذ ایک بڑا مسئلہ ہے۔

حل کیا ہے؟
یہ ہماری موجودہ مادہ پرست تہذیب کے پیدا کردہ سنگین مسائل میں سے ایک ہے۔ خدا کا خوف، ذمے دارانہ زندگی اور ٹھوس عقیدے کی بنیاد پر تشکیل پانے والا اخلاقی رویہ، ان مسائل کے حل کے لیے ضروری ہے۔ اسلام کو ماننے والے ان مسائل کو حل کرنے میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔ ہمارے خیال میں درج ذیل حوالوں سے بیداری لانے اور تحریکیں چلانے کی ضرورت ہے۔
۱۔ صارفیت سے گریز اور سادہ زندگی
تمام ماحولیاتی مسائل کی طرح، اس مسئلے کا سب سے بڑا سبب بھی شاہانہ فضول خرچی، صارفیت اور عیش پرستی کا مزاج ہے۔ سادہ اور ذمے دار طرز زندگی اس مسئلے کا بنیادی حل ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ہمیں دولت دی ہے تو ہم سمجھتے ہیں کہ ہم جیسے چاہیں اسے خرچ کرسکتے ہیں۔ لیکن ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ اسراف کے ذریعہ ہم صرف اپنا پیسہ ضائع نہیں کرتے بلکہ اللہ کے اُن وسائل کو بھی ضائع کرتے ہیں، جو پوری بنی نوع انسان کی اور ہماری اگلی نسلوں کی امانت ہیں۔ اس صارفیت سے ہم اپنے بچوں اور آنے والی نسلوںکی زندگیوں کے لیے مشکلات پیدا کرتے ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے بہتے دریا کے کنارے وضو کرتے ہوئے بھی پانی احتیاط سے خرچ کرنے کا حکم دیا ہے۔ اسلام کے یہ اعلیٰ اخلاق، اشیاءکے اس بے درد استعمال کی ہر گز اجازت نہیں دے سکتے، جس کے ہم میں سے اکثر لوگ عادی ہوچکے ہیں۔
یہ بیداری لانے کی ضرورت ہے کہ الیکٹرانک اشیا ء کم سے کم استعمال کریں۔ غیر ضروری اشیا کی بہتات نہ ہونے دیں۔ ایک کمپیوٹر سے کام چل سکتا ہو تو دو نہ خریدیں۔ جن چیزوں کو گھر کے متعدد لوگ مشترک استعمال میں لاسکتےہیں، وہ لائیں۔ جو اشیاء استعمال میں ہیں، ان کی لائف زیادہ سے زیادہ ہو اور وہ آخر تک بھرپور طریقے سے استعمال میں آئیں، اس کی کوشش کریں۔ اس کے لیے آلات کی صفائی، ان کی مناسب نگہداشت maintenance، بروقت مرمت، وغیرہ پر توجہ دیں۔ فون کو زیادہ چارج نہ کریں۔ لیپ ٹاپ کا استعمال احتیاط سے کریں۔ واشنگ مشین، ریفیریجریٹر، اوون وغیرہ کو ہینڈل کرتے ہوئے احتیاط سے کام لیں۔ ان کی توڑ پھوڑ نہ ہونے دیں۔ ایک خوشحال گھرانے کے لوگ ان خود کو ان احتیاطوں کے ضرورت مند محسوس نہیں کرتے۔ بے شک اس سے آپ کو ذاتی طور پر بڑا فائدہ شاید نہ ہو لیکن اس ذمے دارانہ استعمال سے،اللہ کی پیدا کی ہوئی اس زمین اور اس کے ماحول کی حفاظت میں ہم اپنارول ادا کرسکیں گے۔
۲۔ ذمےد ارانہ خریداری( Responsible Buying )
الیکٹرانک اشیاء خریدتے ہوئے ذمے داری کا مظاہرہ کرنا چاہیے اور جہاں ہم پروڈکٹ کی کوالٹی، فیچرز اور قیمت دیکھتے ہیں وہیں یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ اُس پروڈکٹ کی خریدی سے ماحول پر کیا اثر پڑ سکتا ہے؟ ماحولیات دوست خریدی eco-friendly shoppingاور ماحولیات دوست صرف Eco-friendly Consumptionاس وقت دنیا میں معروف تصورات ہیں۔
کوئی چیز خریدتے ہوئے ماحول دوست Environment Friendlyکا لیبل ضرور دیکھیں۔ ایسی اشیا خریدیں جوزیادہ دنوں تک چل سکیں۔ اشیاء کو خریدنے کے بعد ان کی حفاظت کی چیزیں بھی ضرور خریدیں۔ فون ہو تو اسکرین گارڈ اور کور، مشینوں کا کور، اینٹی وائرس، اسٹیبلائزر، صفائی کی اشیا وغیرہ تاکہ آپ کی الیکٹرانکس زیادہ دنوں تک چل سکے اور آپ کے ذریعے ردّی میں اضافہ نہ ہو۔ بعض اوقات ایک ملٹی فنکشنل مشین، کئی مشینوں کے مقابلے میں زیادہ ماحول دوست ہوتی ہے۔ یعنی مثلاًپرنٹر، اسکینر اور کاپیئر، تین مشینوں کی بجائے ایک ہی مشین جس میں تینوں فنکشن ہوں، ایر کنڈیشنز اور روم ہیٹرکی بجائے ہیٹنگ کے فنکشن والا ایر کنڈیشنر وغیرہ۔
۳۔ ری سائیکلنگ اور ریفربشنگ

یہ سب سے اہم بات ہے، جس سے الیکٹرانک ردی کے نقصانات کم کیے جاسکتے ہیں۔ دنیا میں جو الیکٹرانک ردی پیدا ہورہی ہے اس کا صرف 17فیصد ہی ری سائیکل ہورہا ہے۔ باقی 83فیصد کچرے کے ڈھیر میں شامل ہوکر اور مٹی میں مل کر مذکورہ بالا نقصانات کا ذریعہ بن رہا ہے۔ اس کے نتیجے میں صرف پارہ mercury، جو ایک قیمتی ریسورس ہے، سالانہ 50ٹن ضائع ہورہا ہے۔ لوہا، پیتل، چاندی، سونا، یہ سب بھی نہایت قیمتی قدرتی وسائل ہیں، جو ری سائیکل ہوسکتے ہیں لیکن پھینکی جانے والی الیکٹرانک اشیاء کے ذریعے ضائع ہورہے ہیں۔
اشیا کی ری سائیکلنگ میں سب کو حصہ لینے کی ضرورت ہے۔ حکومتوں کی ذمے داری ہے کہ وہ اس سلسلے میں سخت قوانین بنائیں۔ جنوبی کوریا، جاپان اور تائیوان جیسے ملکوں نے قوانین بنائے ہیں کہ وہ الیکٹرانک اشیا کی مینوفیکچرنگ کرنے والی کمپنیوں پر لازم کرتے ہیں کہ وہ اپنی تیار کی ہوئی اشیا کا کم سے کم 75 فیصد لازماً ری سائیکل کریں گے۔ اس طرح کے قوانین دیگر ممالک میں بھی بنائے جاسکتے ہیں۔
اشیاء تیار کرنے والی کمپنیوں اور فروخت کرنے والوں کی ذمے داری ہے کہ وہ نئی اشیا فروخت کرتے ہوئے پرانی اشیا واپس کرنے پر خریدار کو مجبورکریں، ایکسینج آفر دیں اور اُس پر پرکشش ترغیبات دیں۔
عام خریداروں کی یہ ذمے داری ہے کہ وہ نئی چیز خریدنے سے پہلے پرانی چیز کو باقاعدہ ری سائیکل کرانے کا انتظام کریں۔ اسے کچرے میں ہرگز نہ پھینکیں۔ ہمارے ملک میں اب یہ عام خریداروں کی بھی قانونی ذمےد اری ہے کہ وہ الیکٹرانک ردّی کو مناسب طریقے سے ٹھکانے لگائیں۔
اس غرض سے ہر شہر میں حکومت کے مسلمہ الیکٹرانک ردّی کے مراکز موجود ہیں۔ اس ردّی کو کچرے میں پھینکنے کے بجائے ان مراکز تک پہنچائیں تاکہ ان کی ری سائیکلنگ ہوسکے۔ پالیوشن کنٹرول بورڈ کی ویب سائٹ پر درج ذیل لنک پر پورے ملک میں موجود مراکز کی لسٹ موجود ہے۔ آپ یہاں سے آسانی سے اپنے شہر کے مراکز معلوم کرسکتی ہیں۔

جس کمپنی کی شئے ہے، اس کو بھی فون کرکے الیکٹرانک ردّی لوٹائی جاسکتی ہے۔ قانوناً یہ ہر مینوفیکچرر کی ذمے داری ہے کہ وہ اس ردّی کو قبول کرکے اور اس کی ری سائیکلنگ کا انتظام کرے۔ بہت سی کمپنیاں اس کے لیے خصوصی مہمات بھی چلاتی ہیں۔
۴۔ بچوں اور خواتین میں بیداری
ان مسائل پر سماجی سطح پر تبدیلی لانے کا سب سے مؤثر طریقہ یہ ہے کہ بچوں اور خواتین میں بیداری لائی جائے۔ گھروں کا نظم، خواتین کے ہاتھوں میں ہوتا ہے اور ایسے معاملات میں بچے بہت برجوش ہوتے ہیں اوربات سمجھ میں آجائے تو بڑی سرگرمی سے خود بھی عمل کرتے ہیں اور گھر کے دوسرے لوگوں سے بھی کراتے ہیں۔ اس لیے بچے اور خواتین بیدار ہوجائیں تو لوگوں کی عادتیں بدلی جاسکتی ہیں۔
ہماری دینی ذمے داری

انسانیت کو تباہی و نقصان سے بچانا اور اللہ کے عطا کردہ وسائل حیات کی حفاظت کرنا ہماری دینی ذمے داری ہے۔ مسلمان زمین پر اللہ کا خلیفہ اور وسائل کائنات کا امین ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں فرمایا ہے:
’’اور وہی ہے جس نے تم کو زمین میں نائب بنایا اور تم میں سے بعض کو بعض پر درجات میں بلند کیا تاکہ وہ ان (چیزوں) میں تمہیں آزمائے جو اس نے تمہیں (امانتاً) عطا کر رکھی ہیں۔ بیشک آپ کا رب (عذاب کے حق داروں کو) جلد سزا دینے والا ہے اور بیشک وہ (مغفرت کے امیدواروں کو) بڑا بخشنے والا اور بے حد رحم فرمانے والا ہے۔‘‘ (الانعام۔ 165)
اپنے طرز زندگی سے دوسرے انسانوں کے لیے نقصان پیدا کرنا بد اخلاقی کی بات ہے اور اسلام اس کی شدید مذمت کرتا ہے۔ آپ ؐنے فرمایا: ’’جو کسی کونقصان پہنچائے، اس کو اللہ نقصان پہنچائے گا اور جو دوسروں کو تکلیف پہنچائے اللہ اس کو تکلیف پہنچائے گا۔ ‘‘(ترمذی)
اسلام کی ان تعلیمات کا تقاضہ تھا کہ اس طرح کے مسائل پر سب سے طاقتور آواز مسلمانوں کی جانب سے ہی بلند ہونی چاہیے تھی اور مسلمانوں کو صحیح طور پر ماحولیاتی تحریک کا علم بردار ہونا چاہیے تھا۔ لیکن بدقسمتی سے مسلمان نہ صرف اس طرح کے مسائل سے غافل ہیں، بلکہ ماحولیاتی بحران پیدا کرنے میں شریک بھی ہیں۔ اس بات کی ضرورت ہے کہ دین پسند خواتین اس مسئلے کا شعور پیدا کریں اور اس حوالے سے پورے سماج کو بیدا ر کرنے کی مہم میں حصہ لیں۔

اس ردّی کے انسانی صحت پر اثرات نہایت بھیانک ہوتے ہیں۔ یہ اثرات ان لوگوں میں واضح طور پر نوٹ کیے گئے جو اس طرح کی ردّی کے قریب رہائش پذیر ہوتے ہیں یا ردّی اٹھانے کا کام کرتے ہیں۔ لیکن دوسرے لوگ بھی اس سےمتأثر ہوسکتے ہیں۔ وزنی دھاتوں کے ذرات جسم میں داخل ہوکر ذہنی صحت کو متاثر کرسکتے ہیں۔

0 Comments

Submit a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

مارچ ٢٠٢٢