گجرات فساد کو بیس سال مکمل متاثریں سے گفتگو
محترم ناظرین و سامعین!
السلام علیکم و رحمۃ اللّٰہ و برکاتہ
گجرات 2002 کے فسادات کے 20 سال مکمل ہوگئے ہیں۔ اسی سلسلے میں ھادیہ ای- میگزین کی جانب سے ایک انٹرویو منعقد کیا گیا۔ یہ فسادات ہمارے ملک کی تاریخ کا بھیانک حادثہ تھے۔ اس میں جو انسانیت سوز حرکتیں اور درد انگیز واقعات رو نما ہوئے، وہ وحشت ناک اور بربریت پر مبنی ہیں۔
ان فسادات کے چشم دید گواہ اوران شکار بنے ہوئے خاندان کے لوگ آج موجود ہیں۔ ان فسادات میں تقریباً 2,000سے زیادہ لوگ مارے گئے تھے اور لاکھوں کی تعداد میں لوگ متأثر ہوئے۔ انھیں نقل مکانی کرنی پڑی، وہ اپنے گھروں کو چھوڑ کر کیمپوں میں اور دوسرے مقامات پر جا بسے۔ متاثرین میں وہ بھی ہیں، جن کے گھروں کو نذر آتش کیا گیا اور ان کی جائیداد کو نقصان پہنچایا گیا۔ انھوں نے اپنے پیاروں کو اپنی آنکھوں کے سامنے کھودیا، انہیں جلتا ہوا، روتا بلکتا ہوا دیکھا اور وہ خود بھی اس تکلیف کا شکار بنے۔ ان میں سے کچھ لوگ آج ہمارے ساتھ موجود ہیں، جنھوں نے انصاف و حق کے لیے ایک طویل عدالتی کاروائی کی مشقت کو بھی جھیلا ہے۔
اس کے علاوہ کچھ سوشل ورکر سماجی کارکن اور ریلیف( Relief )کا کام کرنے والے، جنھوں نے باز آباد کاری کا کام بڑے پیمانے پر کیا، وہ بھی آج ہمارے ساتھ یہاں ہیں۔
1۔ میرے ساتھ اس وقت ذکیہ جعفری صاحبہ اور ان کے صاحبزادے تنویر جعفری صاحب موجود ہیں، جن کا تعلق گلبرگ سوسائٹی سے تھا۔
2۔ اسی گلبرگ سوسائٹی کی روپا مودی، جنھوں نے اپنا بیٹا ازہر اسی گلبرگ سوسائٹی میں کھودیا، جو آج تک لاپتہ ہے، وہ بھی ہمارے ساتھ موجود ہیں۔
3۔ میرے ساتھ مشہور سماجی کارکن نور جہاں دیوان ہیں۔
4۔ اس کے علاوہ اسلامک ریلیف کمیٹی کے ذمہ دار جناب انجینئر عمر ووہرہ صاحب بھی موجود ہیں۔
ہم سب سے پہلے احسان جعفری صاحب، جو گلبرگ سوسائٹی میں لوگوں جان بچاتے بچاتے شہید کردیے گئے، ان کی اہلیہ اور بیٹے سے گفتگو کریں گے۔

مکمل گفتگو سننے کے لیے نیچے کلک کریں۔

ویڈیو :

0 Comments

Submit a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

مارچ ٢٠٢٢