دم کہیں لیں گے نہ تکمیل سفر ہونے تک
زمرہ : ادراك
ھادیہ ای-میگزین مارچ 2022 کا شمارہ آپ کے سامنے ہے۔ ھادیہ ۔ای میگزین اپنا ایک سال مکمل کرچکا ہے ۔ یکم مارچ 2021 کواس کا افتتاح کیا گیا تھا۔ اکثر وبیش تر یہ گفتگو زیرِبحث رہتی ہے کہ خواتین کے حقوق اور اصلاح ، تربیت و ترغیب آج تک مردوں کے ذریعہ ہوتی رہی ہے،تو کیوں نہ ہم خواتین کی آواز خواتین کے ذریعہ بلند کریں! اس میں نہ صرف یہ کہ مظلومیت کی آواز ہو، بلکہ خواتین اپنے آئیڈیاز، اصلاح و تربیت کے ہمہ جہت گوشوں پر خود بات کریں۔ عملی زندگی کے مسائل پر خود ایک دوسرے کی مدد گار ہوں۔
’ تعلیم، تدبیر، تعمیر ‘ اس میگزین کی اساس ہے۔ ھادیہ کے اس ایک سالہ سفر میں الحمدللہ خواتین قلم کار بہنوں کا تعاون توقع سے بڑھ کر رہا ہے۔ بے شمار باصلاحیت بہنیں تعاون کے لیے ہمہ وقت تیار رہتی ہیں ۔ نہ صرف خواتین، بلکہ مرد حضرات نے بھی اپنی خاندانی الجھنوں کو لکھ بھیجا ۔لوگ کس قدرمعاشرتی الجھنوں کا شکار ہیں؟ یہ تو کالم شروع کرنے بعد ہم نے جانا کہ’ بہت کام رفو کا نکلا۔‘الجھن کی گرہوں کو ماہرِ نفسیات بہنوں نے اتنی آسانی سے کھولا کہ ایڈیٹر کا میل بکس الجھنوں کے سوالات سے بھر گیا۔

ہاتھ الجھے ہوئے ریشم میں پھنسا بیٹھے ہیں
اب بتا کون سے دھاگے کو جدا کس سے کریں

الجھن کی گرہوں کو ماہر نفسیات بہنوں نے اتنی آسانی سے کھولا کہ پریشان حال بہنوں کا اعتماد ھادیہ پر بڑھا ہے۔ بچوں کی تربیت پر اسی فیلڈ کی ماہر بہنوں نے رہنمائی فرمائی، ڈاکٹرز بہنوں نے صحت وصلاح کے زمرے میں رہنمائی فرمائی۔سیاسی معاملات پر بھی خواتین کی میڈیا میں آواز بلند کرنے میں بہنیں پیچھے نہیں رہیں۔
اس سال کو تو خواتین کی سائبر بولنگ(cyberbullying) کا سال کہنا بے جا نہ ہوگا ۔ پہلے شمارے میں معاملہ دیشاوری اور ریحانہ سے شروع ہوتا ہے اور سلی ڈیل، بلی بائی اور کلب ہاؤس ، لڑکیوں کی شادی کی عمر 18 سال سے بڑھا کر 21 سال کردینے سے ہوتا ہوا، حجاب کے مسئلے پر تان ٹوٹتی ہے۔ سیاسی حالات پر نظر کریں تو یوں محسوس ہوتا ہے کہ بھارت میں سیاسی ایجنڈا ’آزاد لبوں کو سی دینے کا ہے‘، جس کے لب حق کی آواز کے لیے آزاد ہیں۔ خواتین کو بالخصوص نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ مسائل کا سفر جس سمت ہے، حکومت خواتین کو تحفظ دینے میں ناکام ہے۔
مقدور ہو تو ساتھ رکھوں نوحہ گر کو میں
نو عمر بچیوں سے لے کر ادھیڑ عمر کی خواتین تک کی عزتیں غیر محفوظ ہیں۔ والدین بچیوں کی حفاظت کے لیے نہ حجاب پہنارہے ہیں، نہ جلد شادی کررہے ہیں اور جب وہ ناانصافی کے خلاف آواز بلند کرتے ہیں تو انھیں سوشل میڈیا پر بے عزت کیا جاتا ہے۔ ایسی صورتِ حال میں کیا کریں؟
نوجوان طلبہ کے تعلیمی ڈپریشن سے خود کشی کے واقعات،میڈیا میں دبادینے کے باوجود منھ چڑا رہے ہیں۔ بنگلور آئی آئی ٹی کالج سے سلینگ فین کیوں ہٹا دیے گئے؟ وہاں کیا ہوا تھا؟اس کا جواب کیوں نہیں دیا گیا۔کسان آندولن، ایوان بالا کی سماعتوں پر کار گر نہ ہوسکا۔ نوجوان نسل سلاخوں کے پیچھے اپنی بے گناہی کو ثابت میں ناکام ہے۔ الزام جب لگایا جائے تو ثابت کرنا مشکل ہی ہوتا ہے۔ الزام کے آنے اور لگانے میں یہی تو فرق ہے۔ ویکسنیشن کا ہدف حکومت نے مکمل کیا،لیکن معلوم نہیں عوام کواس کا خراج کب تک دیتے رہنا پڑے گا۔ مہنگائی کی صورتِ حال ہر شخص پر عیاں ہے۔ تعلیمی نظام پر استعماریت کے شکنجے کی داستان اپنی جگہ ہے۔ کووڈ کے نام پر آج تک تعلیمی نظام کی حالت اب بھی دگرگوں ہے۔ الغرض ان تمام مسائل کو ھادیہ میں زیر بحث لایا گیا۔
بہنیں پوچھتی رہیں، مولانا رضی الاسلام ندوی صاحب جواب دیتے رہے۔ جوں جوں جواب ملتا، بہنیں مزید پوچھتیں۔الحمد للہ سلسلہ جاری ہے، آپ بھی پوچھیے۔ ننھے آرٹسٹ کب کس سے پیچھے رہنے والے تھے۔ مائیں بڑے دلار سے بچوں کے آرٹس بناکر ہمیں بھجواتی ہیں۔ آپ بھی اپنے بچوں کے آرٹس کو کیمرے میں قید کیجیے اور بلاتاخیر بھجوادیجیے۔ ھادیہ ای میگزین کا ایک کالم ’گرلز پلانٹ‘ کم عمر اور نو آموز لڑکیوں کے لیے ہے۔ھادیہ کے توسط سے اب تک تقریباً 180 خواتین رائیٹرز سامنے آئیں، وائس اوور آرٹسٹ ٹیم نے اپنی ریکارڈنگ بھیج کر اپنے فن کو بہترین استعمال میں لاکر تعاون کیا۔
مارچ کے تازہ شمارے میں گجرات فساد کے بیس سال مکمل ہوئے۔ اس فساد میں تباہ ہونے والوں کی داستان انہی کی زبانی انٹرویو میں پیش کی گئی ہے۔ نیند کے عالمی دن پر نیند کے کمی سے ہونے والے نقصانات پر ایک ریسرچ اسٹڈی اس شمارے میں آپ پڑھیں گے۔ حجاب پر زمین تنگ کرنے والوں کو حوصلہ دیتی ہوئی خبر’ تمل ناڈو بلدیاتی الیکشن میں دو درجن سے زیادہ باحجاب خواتین کی فتح‘ آپ کو پر امید بنادے گی۔ خواتین کا عالمی دن اوربھارت میں خواتین کی تشویشناک صورتِ حال آپ کو مزید فعال بنادے گی۔
الغرض ھادیہ ای میگزین کو تعاون کرنے والے قارئین اور قلم کار حضرات کے ہم ممنون ہیں۔ھادیہ کے اس ایک سالہ سفر پر علامہ کا یہ شعر یاد آگیا؎

جو تھا نہیں ہے، جو ہے نہ ہوگا،یہی ہے ایک حرف محرمانہ
قریب تر ہے نمود جس کی، اسی کا مشتاق ہے زمانہ

0 Comments

Submit a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

مارچ ٢٠٢٢