صرف پانچ منٹ! (لہو کی روشنائی سے لکھی گئی خود نوشت)
حق و باطل کی کشمکش اس وقت سے جاری ہے جب سے حضرت آدم ؑکا وجود عمل میں آیا۔ باطل نے طرح طرح کے ہتھ کنڈے استعمال کر کے اسلام کے جیالوں کو ان کے دین سے پھیر نے اور دین سے بےزار کرنے کی بہت کوششیں کیں۔ ان پر فکری یلغار کی، ان کے اندر سے ایمانی حمیت و غیرت کو چھیننے کی کوشش کی، آزادی کی تڑپ، جزبۂ جہاد اور شوق شہادت پر ضربیں لگائی، ان کی بستیوں کو بم اور میزائیل برسا کر تہس نہس کیا، ان پر گولیوں کی بوچھاڑ کی، ان کے جسم کو چھلنی چھلنی کیا، انہیں پابند سلاسل کیا، انہیں اذیتیں پہنچائیں، مگر اہلِ ایمان ہمیشہ نشیب وفراز سے دوچار ہوتے رہے، لیکن انھوں نے ہر محاذ پر ثابت قدمی کا ثبوت دیا۔ ان کے قدم ڈگمگائے نہیں۔ وہ ظالموں کے سامنے سیسہ پلائی ہوئی دیوار کے مانند ثابت ہوئے۔
ہبہ الدباغ کی یہ داستان بھی اسی کشمکش کا ایک حصہ ہے۔ صرف پانچ منٹ بے گناہ ھبہ کی ایامِ اسیری کی داستان ہے۔ یہ خود نوشت آنسوؤں اور خون کے قطروں سے لکھی گئی داستانِ عزیمت ہے۔معصوموں کی آہ و بکا ، نوجوانوں کی چیخیں،ڈنڈوں اور کوڑوں کی بارش ہے۔ نوچی ہوئی داڑھیاں ہیں۔ جسم سے بہتا لہو ہے، عقوبت خانوں میں امت کی بیٹیوں اور بیٹوں پر ہونے والے درد ناک سزاؤں کا تذکرہ ہے، آزادی کی پکار ہے اور امت مسلمہ اور مسلم حکمرانوں کی بے حسی اور بے غیرتی ہے۔
ھبۃ الدباغ نے خود نوشت میں اپنی اور اپنے ساتھیوں پر گزر نے والی اذیتوں، تکلیفوں اور سختیوں کو بیان کیا ہے۔ مساوات کا علم بلند کرنے والے، عورتوں کے حقوق کا نعرہ لگانے والے، عورتوں کے تحفظ کی صدائیں بلند کرنے والے مکار، کذاب حکمرانوں کی منافقت کو عیاں کیا ہے۔ طاغوتی حکمرانوں کی جانب سے ہورہے امت کی بیٹیوں پر ظلم و ستم و بربریت، ان کی عیاری، مکاری، چالبازی اور دھوکہ دہی کا پردہ فاش کیا ہے۔ امت کی ان مظلوم بیٹیوں کو حوصلہ دیا، ہمت کا درس دیا جو کسی کال کوٹھری میں قید و بند کی صعوبتیں برداشت کر رہیں ہیں۔
یہ حافظ الاسد کا ظالمانہ دور تھا۔ ایک طرف فرعون مصر اخوانیوں کے خون سے ہولی کھیل رہے تھے، انہیں پھانسیوں کے پھندے پر لٹکا رہے تھے، تو دوسری طرف پوری دنیا میں اس فکر کے حاملین کو کچلنے کی کوشش کی جارہی تھی۔ ہندوستان، فلسطین، یمن، عراق، افغانستان اس میں نمایاں تھے۔ امریکہ و اسرائیل کے اشاروں پر ناچنے والے حافظ الاسد نے شام میں بھی اسلامی فکر کے حاملین کو بے دردی سے کچلا۔ مصر میں زینب الغزالی، پاکستان میں ڈاکٹر عافیہ صدیقی تو شام میں ھبہ الدباغ بھی اسی ظلم کا شکار ہوئیں، جو دمشق کی یونیورسٹی میں الشرعیہ کی طالبہ تھیں۔ جو اپنے دل میں کئی خواب سجائے بیٹھی تھیں۔ ان کی زندگی ترو تازہ پھول کی مانند گزر رہی تھی۔وہ والدین کی لاڈلی، بھائیوں کی چہیتی تھیں۔ وہ سعادت کی زندگی جی رہی تھیں۔ حصول علم کی خاطر حمات چھوڑ کر دمشق گئیں، مگر انھیں کیا معلوم کہ اس کے سارے خوابوں پر پانی پھیر دیا جائے گا۔ ایک ترو تازہ پھول کو مسل دیا جائے گا۔ اس کی زندگی کا چین و سکون چھین لیا جائے گا۔ اسے نو سال کے لیے عقوبت خانے میں ڈال کر، اس کی زندگی کو وحشت ناک بنا دیا جائے گا۔
دسمبر 1980 کی رات جب وہ اپنے فائنل ایئر کے ایگزام میں مصروف تھیں، طاغوتی حکمرانوں کے خفیہ کارندوں نے اپنی مکاری، عیاری اور دھوکہ دہی کے ذریعہ بلا جرم ھبہ کو گرفتار کیا۔ تحقیقات کے بہانے لے کر گئے اور انہیں عقوبت خانہ میں ڈال دیا۔ ان پر تھپڑوں اور کوڑوں کی بارش کی گئی۔ ہاتھ پاوٴں باندھ کر تشدد کیا گیا۔ لکڑی کے تختہ پر لٹا کر گردن، کلائیاں، پیٹ، گھٹنے اور پاؤں اس سے باندھ دیے گئے۔ پاؤں فضا میں اور سر زمین پر۔ زنجیروں ڈنڈوں اور لاٹھیوں کی بوچھاڑ کی جاتی، جس کی بنا پر سرخ سرخ، گرم گرم لہو ابل پڑتا۔ زنجیروں سے ہاتھ پاوٴں باندھ کر جکڑا گیا۔بے ہودہ مغلظات کی بوچھاڑ کی گئی۔گالی گلوچ کرکے ذہنی اذیتیں پہنچائی گئیں۔ بجلی کا کرنٹ لگایا گیا۔ باحجاب بیٹیوں کو بے حجاب کیا گیا۔ صنف نازک کے ساتھ ایسا سلوک کیا گیا ، جسے سن کر زمین بھی کانپ اٹھے۔ وحشیانہ تعذیب کے سبب کتنے ہی قیدی اعصابی اور ہسٹریائی امراض کا شکار ہوگئے۔
اسی دوران اُن کی والدہ کو اسی قید خانہ میں قید کیا گیا۔ حال یہ کہ بیٹی کو ماں سے اور ماں کو بیٹی سے ملنے کی اجازت نہیں۔ والدین کو تشدد کا نشانہ بنا کر ان کے آٹھ بہن بھائیوں کو ظالموں نے شہید کردیا۔ مگر امت اس عظیم بیٹی کے پاؤں میں لغزش نہیں آئی۔ وہ مایوس نہیں ہوئیں۔ ظالموں کے سامنے جھکی نہیں۔ صبر کیا، ثابت قدمی کا ثبوت دیا اور امت کی یہ بیٹی عظیمت و شجاعت کا پیکر بنی رہیں۔ چچا اور چچی جان کو والدین، بھائی اور بہن کی شہادت پر ماتمی سیاہ لباس میں دیکھ کر کہا آپ آئندہ مجھے ماتمی لباس میں ملنے نہ آئیں، کیوں کہ شہید زندہ ہوتے ہیں، مردہ نہیں۔
عقوبت خانہ میں نو سال گزر گئے۔دنیا اجنبی ہوگئی۔ ترو تازہ پھول مرجھا گیا۔ جبر و ظلم کے باعث جوانی نے بڑھاپے کی شکل اختیار کرلی۔ اعضا شل ہوگئے۔ ہمت جواب دے گئی۔ خواب بکھر گئے۔ والدین، بھائی بہن شہید ہوگئے۔ آخر کار رہائی کا حکم جاری ہوتا ہے اور ھبۃ الدباغ یہ سوچنے پر مجبور ہوجاتی ہیںکہ کس جرم کی بنا پر ظالموں نے ان کی زندگی اس سے چھین لی۔
یہ اسلام کی اس عظیم بیٹی کی داستان ہے، جس کے والدین اور آٹھ بہن بھائیوں کو دوران قید ظالموں نے شہید کر دیا، مگر ان کے قدم ڈگمگائے نہیں۔ یہ داستان ایمانی حمیت، حوصلہ، ہمت اور شجاعت سے لبریز ہے۔یہ خود نوشت صرف پانچ منٹ نہیں، بلکہ شام کی جیلوں میں گزارے ہوئے لرزہ خیز مظالم کے نو سال ہیں۔
یہ داستان ھبہ ہی کی داستان نہیں بلکہ عافیہ صدیقہ ، زینب الغزالی، گونتناموں، ابو غریب، تہاڑ، کیوبا، سربیا، اور دنیا بھر کے قید خانوں میں قید بے گناہ ماؤں، بہنوں اور بیٹیوں پر ہونے والے مظالم کی داستان ہے، جو جیلوں کی کال کوٹھریوں میں سسک رہیں ہیں، خون کے آنسو رو رہی ہیں، چلا رہیں ہیں۔ جن سے ان کی نوجوانیاں جھین لی گئیں، جن کی عزت و ناموس سے کھلواڑ کیا جا رہا ہیں۔
کئی بے گناہ ہبائیں ہیں، جو دین کی خاطر طاغوتی حکمرانوں کے ظلم و تعذیب کا شکار ہیں، جو عقوبت خانوں میں درد ناک اذیتیں سہہ رہی ہیں، جو تعذیب کے سبب چلنے پھرنے سے معذور ہوگئی ہیں، ایک دو نہیں، ہزاروں ہیں۔ کشمیر میں، برما میں، فلسطین میں،شام میں، مصر میں، چین میں، جو دشمنوں کی دست درازی کا شکار ہیں، جو تڑپ رہی ہیں، کراہ رہی ہیں اور فریادیں کر رہیں ہیں۔
کہاں ہے مسلم حکمراں؟کہاں ہیںوہ ایمانی حمیت سے سرشار مسلمان، جو کسی مسلمان بیٹیوں کے ڈوپٹے سے کھیلنے والے ظالموں کا ہاتھ کاٹ دیا کرتے تھے؟ کہاں ہیں جنہوں نے سندھ کی ایک بہن کے خط پر وہاں کے ظالموں کو واصل جہنم کر کے اسے اسلامی سلطنت میں داخل کیا تھا ؟
کاش ! کوئی تو ہو جو ان مظلوم ماؤں، بہنوں اور بیٹیوں کی عزتوں کو پامال ہونے سے بچائے۔ ان کے بہتے آنسوؤں کو پوچھیں۔ ان کی فریادوں کو سنے۔ ان کے درد کی دوا بنے۔ مصلحت و بزدلی کی چادر کو چاک کرے۔
قبل اس کے کہ وہ وقت آ پہنچے جب اللہ ان معصوموں کے تعلق سے حشر میں پوچھے گا:

کیا عذر تراشو گے اس دن؟
کیا اپنے قوی سے کام لیا؟
تھا پاس خزانہ قوت کا
وہ کس مقصد پر خرچ کیا؟
جب کفر سے دیں کی ٹکر تھی
تو تم نے اس وقت کس کا ساتھ دیا ؟

کئی بے گناہ ہبائیں ہیں، جو دین کی خاطر طاغوتی حکمرانوں کے ظلم و تعذیب کا شکار ہیں، جو عقوبت خانوں میں درد ناک اذیتیں سہہ رہی ہیں، جو تعذیب کے سبب چلنے پھرنے سے معذور ہوگئی ہیں، ایک دو نہیں، ہزاروں ہیں۔ کشمیر میں، برما میں، فلسطین میں،شام میں، مصر میں، چین میں، جو دشمنوں کی دست درازی کا شکار ہیں، جو تڑپ رہی ہیں، کراہ رہی ہیں اور فریادیں کر رہیں ہیں

ویڈیو :

آڈیو:

0 Comments

Submit a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

مارچ ٢٠٢٢