نیند کی کمی انسانی صحت کے لیے تباہ کن
عالمی یوم نیند(World sleep day)پوری دنیا میں ہر سال 19؍ مارچ کو منایا جاتا ہے۔ صحت مند نیند کے فوائد اور نیند کی کمی کے باعث ہونے والے نقصانات کے متعلق لوگوں میں شعور و بیداری پیدا کرنا، اس دن کا مقصد ہے ۔آج دنیا کی آبادی کا تقریباً نصف حصہ نیند کے مسائل سے دوچار ہے۔ جسم کا صحت مند یا غیر صحت مند ہونا،نیند پر منحصر ہوتا ہے۔ آج ہمارے سماج میں اخلاقی برائیاں اور رذائل افعال کا دور دورہ ہے ۔ الکوحل کا استعمال، تمباکو نوشی، نشہ آور مشروبات کا استعمال، موبائل، ٹی وی، لیپ ٹاپ پر وقت کا بہت زیادہ مصرف کرنا، دیر رات تک جاگنا، خوف و ڈر، فکرو پریشانی، معاشی بحران سے دوچار ہونا جیسی وجوہات کی بنا پر انسان کا ذہنی توازن خراب ہو رہا ہے، جس کی وجہ سے جرائم میں اضافہ ہو رہا ہے ۔ نتیجہ نیند کا نہ آنا، سکون کا نہ ہونا اور صحت کی خرابی کے مسائل درپیش ہو رہے ہیں۔
صحت کی خرابی کا مطلب ہمہ اقسام کی جسمانی بیماریوں کا پیدا ہونا جیسے مدافعتی نظام کا خراب ہونا، یاداشت کا کم زور ہونا، بینائی کم زور ہونا، دھندلا پن آنا، نظر کا ہائجن ہونا، دماغ کا مضطرب رہنا، ڈپریشن کا شکار ہونا، جسمانی فالج ہونا، فشارِ خون کی شکایت ہونا وغیرہ۔
اس کے برعکس کچھ ایسے انسان جو کسی نہ کسی مرض کے شکار ہیں، ان کی نیند پوری ہونا ضروری ہوتا ہے۔ جیسا کہ قلبی امراض کے شکار لوگ، ذیابیطس والے، زیادہ موٹاپا، ذہنی دباؤ، بھوک نہ لگنے والے، مہلک بیماری جیسے کینسر وغیرہ ۔ ان کی نیند کی کمی عمر کو گھٹا دیتی ہے ۔ آج کے جدت پسند اور چیلنجز بھرے دور میں جہاں انسان وقت کی ۔ بے سکونی کا شکار ہے۔ طالب علم ناکامی کے خوف سے ہراساں ہے، تو تعلیم یافتہ نوجوان بےروزگاری سے پریشان ہیں۔ والدین اولاد کی تربیت کے مسائل سے دوچار ہیں، تو جوان بیٹیاں کیرئر بنانے، اچھے رشتے نہ ملنے سے فکر مند ہیں، وہیں شادی شدہ خواتین سسرالی مسائل سے دوچار ہیں۔ اتنا ہی نہیں، حاسدین کی تنقید، اختلاف رکھنے والوں کا ناگوار رویہ، دشمنوں کی سازشیں، اپنوں سے ملنے والے الزامات و تہمتوں کی بوچھار، اقربا کی بے یقینی، حوصلہ شکنی، ناانصافی، زہر آلود باتیں الغرض اس پر آشوب اور پر فتن دور میں ہر انسان ان سنگین مسائل سے دوچار اور پر سکون اور ضرورت کے مطابق نیند سے محروم ہے ۔
نیند سے محروم یا پھر آدھی ادھوری نیند کا شکار انسان دماغی کارکردگی کو صحیح طور پر پیش نہیں کرسکتا اور نہ ہی اپنی صلاحیتوں کا ارتقاء۔ خالقِ کائنات کے بنائے ہوئے منظم نظام زندگی کے تحت کارخانہ حیات چل رہا ہے، تا کہ انسان اس دنیا میں پرسکون زندگی کزار سکے۔ جیسے دن اور رات کا نکلنا، بارش کا برسنا، نباتات کا زمین سے اگنا اور آفاق و انفس میں پھیلی ہوئی نشانیاں۔ ان ہی نشانیوں میں سے ایک رات کو سونے کے لیے بنانا ہے۔اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

وَ مِنْ اٰیٰتِهٖ مَنَامُكُمْ بِالَّیْلِ(الزمر:23)

’’ اور اس کی نشانیوں میں سے رات کو تمھارا سونا۔‘‘
نیند تمام جانداروں کی فطری ضرورت ہے۔ تاکہ وہ دن بھر کی مشغولیت کے بعدان کے جسم کو راحت پہنچے اور وہ تازہ دم ہو سکیں۔ خالقِ کائنات نے جانداروں کی اس ضرورت کو پورا کرنے کے لیے رات بنائی۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
وَهُوَ الَّـذِىْ جَعَلَ لَكُمُ اللَّيْلَ لِبَاسًا وَّالنَّوْمَ سُبَاتًا وَّجَعَلَ النَّـهَارَ نُشُوْرًا (الفرقان:47)
’’اور وہی ہے جس نے تمہارے لیے رات کو اوڑھنا اور نیند کو راحت بنا دیا اور دن چلنے پھرنے کے لیے بنایا۔‘‘
اس آیت کی تفسیر کرتے ہوئے صاحبِ معارف القرآن لکھتے ہیں :’’ اللہ تعالیٰ نے رات کو لباس سے تعبیر فرمایا کہ جس طرح لباس انسان کے پورے بدن کا ساتر ہے، اسی طرح رات ایک قدرتی پردہ کی چادر ہے، جو پوری کائنات پر ڈال دی جاتی ہے۔ سُبَاتًا، سبت سے مشتق ہے، جس کے اصل معنیٰ قطع کرنے کے ہیں۔ سبات وہ چیز ہے، جس سے کسی دوسری چیز کو قطع کیا جائے۔نیند کو اللہ تعالیٰ نے ایسی چیز بنایا ہے کہ دن بھر کی محنتوں کی تکان اور کم زوری اس سے قطع ہوجاتی ہے۔ افکار و خیالات منقطع ہو کر دماغ کو آرام ملتا ہے، اس لیے سبات کا ترجمہ راحت کا کیا جاتا ہے۔ معنی آیت کے یہ ہوگئے کہ ہم نے رات کو ایک چھپانے والی چیز بنایا، پھر اس میں انسان اور سارے جانداروں پر نیند مسلط کردی، جو ان کے آرام و راحت کا سامان ہے۔
یہاں کئی چیزیں قابل غور ہیں۔ اول یہ کہ نیند کا راحت ہونا تو ہر شخص جانتا ہے، مگر انسانی فطرت یہ ہے کہ روشنی میں نیند آنا مشکل ہوتا ہے اور آبھی جائے تو جلد آنکھ کھل جاتی ہے۔ حق تعالیٰ نے نیند کے مناسب رات کو تاریک بھی بنایا اور ٹھنڈا بھی۔ اسی طرح رات خود ایک نعمت ہے اور نیند دوسری نعمت اور تیسری نعمت یہ ہے کہ سارے جہان کے انسانوں جانوروں کی نیند ایک ہی وقت رات میں جبری کردی۔ ورنہ اگر ہر انسان کی نیند کے اوقات دوسرے انسان سے مختلف ہوتے تو جس وقت کچھ لوگ سونا چاہتے، دوسرے لوگ کاموں میں مصروف اور شور شغب کا سبب بنے رہتے۔ اسی طرح جب دوسروں کے سونے کی باری آتی تو اس وقت کام کرنے والے چلنے پھرنے والے ان کی نیند میں خلل انداز ہوتے۔ اس کے علاوہ ہر انسان کی ہزاروں حاجتیں دوسرے انسانوں سے وابستہ ہوتی ہیں باہمی تعاون و تناصر اور کاموں میں بھی شدید حرج ہوتا کہ جس شخص سے آپ کو کام ہی اس کے سونے کا وقت ہے اور جب اس کے جاگنے کا وقت آئے گا تو آپ کا سونے کا وقت ہوگا۔
اگر ان مقاصد کی تکمیل کے لیے کسی بین الاقوامی معاہدہ سے کام لیا جاتا کہ سب لوگ اپنے سونے کا وقت ایک ہی مقرر کرلیں، اول تو ایسا معاہدہ اربوں کروڑوں انسانوں میں ہونا آسان نہ تھا، پھر اس پر کار بند رکھنے کے لیے ہزاروں محکمے کھولنے پڑتے۔ اس کے باوجود عام قانونی اور معاہداتی طریقوں سے طے ہونے والی چیزوں میں جو خلل ہر جگہ رشوت، رعایت وغیرہ کے سبب پایا جاتا ہے وہ پھر بھی باقی رہتا۔اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کاملہ سے نیند کا ایک وقت جبری طور پر مقرر کردیا ہے کہ ہر انسان اور ہر جانور کو اسی وقت نیند آتی ہے۔ کبھی کسی ضرورت سے جاگنا بھی چاہے تو اس کے لیے مشکل سے انتظام کرپاتا ہے۔
اگر انسان اس فطری قانون کی خلاف ورزی کرتا ہے تو اسے جسمانی، ذہنی اور نفسیاتی مسائل کا شکار ہوتا ہے، ساتھ ہی اس کے جسم کو مکمل توانائی نہ ملنے سے وہ تھکن اور سستی کا شکار ہو جاتا ہے۔ آج بیشتر لوگ انسومنیا( insomnia ) کا شکار ہیں، جو کہ ہیجانی کیفیت سے پیدا ہوتی ہے۔ یہ کچھ عرصہ تک رہتی ہے اور جب یہ کیفیت ختم ہوتی ہے تو معاملہ حل ہو جاتا ہے۔ اس کے علاوہ جسمانی مشقت کے بعد انسان کے اعصاب مضمحل اور تناؤ کا شکار ہوتے ہیں اور یہ اعصابی و ذہنی تھکن پیدا کرتے ہیں، جس کے بعد انسان کو نیند کی سخت ضرورت محسوس ہوتی ہے ۔جب وہ پر سکون نیند لیتا ہے تو تروتازہ محسوس کرتا ہے ۔
نیند نہ آنے کی وجوہات
۱۔الکوحل اور کیفین کا استعمال
۲۔سگریٹ نوشی /تمباکو نوشی
۳۔نشہ آ ور مشروبات /اشیاء کا استعمال
۴۔نیند کی ادویات کا استعمال
۵۔وزن کم کرنے یا گھٹانے والی دواؤں کا استعمال
۶۔چائے/کافی کا زیادہ استعمال
۷۔الیکٹرانکس آلات، جیسے ٹی وی، موبائل، لیپ ٹاپ وغیرہ کا زیادہ و غیر ضروری استعمال
۸۔جزباتی ہیجان پیدا کرنے والی ویب سائٹس کا استعمال
۹۔ہر وقت اداسی طاری رکھنا/ مایوسی کا شکار ہونا
۱۰۔بے خوابی کا علاج نہ کرنا
۱۱۔تھکے ذہن سے کام کرنا/ تھکے اعصاب کے ساتھ کام کرنا
۱۲۔لامحالہ بگاڑ پیدا کرنے والے ناولس کا مطالعہ وغیرہ ۔
رات کو دیر تک جاگنا اور صبح سویرے دیر سے اٹھنا اور دیر سے ناشتہ کرنے سے جسم میں کیلوریز بڑھ جاتی ہیں، نتیجتاً وزن بڑھنے لگتا ہے اور فرد موٹاپے کا شکار ہو جاتا ہے۔ لیکن اگر صبح جلدی اٹھیں اور اطمینان سے ناشتہ کریں تو صحت اچھی رہتی ہے ۔ دیر سے اٹھ کر افراتفری کے عالم میں ذمہ داریوں کو نبھانا، آدھا ادھورا ناشتہ کرنا، جھنجلاہٹ اور چڑچڑے پن کا شکار ہونا، اس سے گھریلو زندگی کے ساتھ ساتھ کاروبارِ زندگی اور دوستانہ ماحول بھی متأثر ہوتا ہے۔
اللہ تعالی خوبصورت ہے اور خوبصورتی کو پسند کرتا ہیں۔ جلدی اٹھنے سے بہتر انداز میں تیار ہو کر باہر نکلا جا سکتا ہے، جو خوبصورتی کی علامت ہے۔ جلدی اٹھنے سے دماغ تروتازہ ہوتا ہے، جو بہترین کارکردگی کی علامت ہے۔ جلدی سونا اور جلدی اٹھنا آپ کو صحت مند دولت مند اور عقلمند بناتا ہے ۔صبح جلدی اٹھنے کے بعض اہم فوائد ذیل میں بیان کیے جا رہے ہیں:
1۔ورزش کے لیے مناسب وقت
2۔بہتر ناشتہ
3۔تروتازہ کھلی ہوا کاماحول
4۔خوش مزاجی
5۔ پر سکون ماحول میں مسائل کا حل
6۔ زیادہ خوبصورتی
7۔بہتر کارکردگی
8۔ ہجوم سے چھٹکارا
9۔ تخلیقی صلاحیت میں اضافہ
10۔مثبت خیالات کا پروان چڑھنا
11۔ دماغی صحت میں بہتری
12۔بہتر پڑھائی کا موقع
13۔غور و فکر کرنے کی صلاحیت کا پیدا ہونا
14۔تحقیقی اور تخلیقی صلاحیت میں اضافہ
15۔مثبت نظریہ، مثبت سوچ وغیرہ
تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ جو طلبہ صبح جلدی اٹھتے ہیں، وہ پڑھائی میں ان طلبہ سے زیادہ بہتر ہوتے ہیں جو دیر تک سوتے ہیں۔ کامیاب لوگ رات کو جلدی سوتے ہیں اور صبح جلدی اٹھتے ہیں۔ مقررہ وقت پر کاموں کو بہتر طور پرانجام دیتے ہیں۔ رات میں دیر تک جاگنے والوں میں عجیب و غریب خیالات کی گردش ہوتی ہے اور وہ منفی سوچ کا شکار ہوتے ہیں۔ سستی، کاہلی،بےچینی ان کا خاصہ ہوتی ہے ۔جب کہ رات جلدی سونےاورصبح جلدی اٹھنے والوں میں خیالات کی پاکیزگی اور مثبت سوچ ونظریہ پایا جاتا ہے۔
جنوبی آسٹریلیا یونیورسٹی کی تحقیق کے مطابق ہر11 افراد میں ایک فرد ذیابیطس ٹائپ ٹو اور مختلف امراض و طبی مسائل کا شکار ہوتا ہے،جو کہ راتوں کو دیر تک جاگتا ہے ۔
وَجَعَلْنَا نَوْمَعكُمْ سُبَاتًا( النبا :09)
’’اور ہم نے تمھاری نیند کو آرام کا سبب بنایا ۔‘‘
جس طرح نیند خدا کا عظیم عطیہ ہے، اسی طرح رات میں نہ سونا یا پھر نیند میں افراط و تفریط کی روش اختیار کرنا بھی کفرانِ نعمت ہے۔( البتہ رات کو ذریعۂ معاش کی خاطر ملازمت کرنا ضرورت ہے تو وہ لوگ دن میں نیند پوری کرسکتے ہیں) انسانی زندگی دو مراحل کا ملاپ ہے: ایک بیداری دوسرا نیند ۔ بیداری کی حالت میں انسان زندگی کے تقاضوں جیسے حرکات و سکنات، خیالات و تصورات، احساسات و ضروریات کو مکمل کرتا ہے۔ اسی طرح نیند میں وہ تمام افعال سے معطل ہو جاتا ہے۔ نیند ایک عارضی موت ہے۔ اگر مغرب کی تقلید کی بات کریں تو آج امریکہ جیسے ملک میں بھی ہر 8 افراد میں سے ایک فرد کی موت نیند کی وجہ سے ہوتی ہے، جو راتوں کو جاگنے کی وجہ سے دن میں نیند کا غلبہ میں حادثات کا شکار ہوجاتے ہیں ۔
عمر کے لحاظ سے نیند کی ضرورت
بچوں کے لیے12 سے 15،جوانوں کے لیے7ست 8 گھنٹے اور بوڑھوں کے لیے 6 گھنٹے کی نیند ضروری ہے ۔ اور اس کا تقاضا پورا کرنے سے اچھی صحت برقرار رہتی ہے ۔ طبی اعتبار سے دن میں سونا رات میں سونے سے زیادہ نقصان دہ ہے۔
جو لوگ سونے اور جاگنے کے معاملے میں اسلامی اصول و ضوابط پر کاربند ہوتے ہیں، وہ دنیا اور آخرت میں کامیاب ہوتے ہیں اور صحت اور تندرستی والے ہوتے ہیں۔ اس کے برعکس ضرورت سے کم یا ضرورت سے زیادہ سونا، مطلب موت کو دعوت دینا ہے۔ محققین کے مطابق دوپہر میں ایک گھنٹہ یا اس سے زائد سونا، جسم کو کئی امراض کا گھر بناتا ہے اور اسلام بھی یہی تعلیم دیتا ہے۔ تبھی تو اسلام نے دوپہر میں قیلولہ کو ترجیح دی ہے، جس کا وقفہ 15سے20 منٹ کا ہوتا ہے۔ چائنا اور دیگر ممالک میں آج دفتری اوقات میں ملازمین کو 30 منٹ قیلولہ کرنے کی ترغیب دی جاتی ہے ۔
ایک حدیث میں اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا:’’قیلولہ کیا کرو، کیوں کہ شیاطین قیلولہ نہیں کرتے۔‘‘(سنن ابن ماجہ) لیکن موجودہ وقت میںدن کے اوقات میں 2-3 گھنٹے سونے کا رواج چل پڑا ہے ۔ نتیجہ سانس کا پھولنا، کولیسٹرول کا بڑھنا، کیلوریز کی مقدار سے وزن کا بڑھنا جیسے مسائل پیدا ہورہے ہیں۔ اس کے علاوہ دوپہر میں سونے والے زیادہ تر نمونیا جیسی بیماری کا شکار ہوتے ہیں ۔
بہتر ہے کہ رات کو جلد سونے کا اہتمام کیا جائے اور صبح جلد اٹھنے کی کوشش کی جائے ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
وَمِنْ رَحْمَتِهِ جَعَلَ لَكُمُ الّيلَ والنّهَارِ لِتَسْكُنوُ فِيْهِ وَ لِتَبتَغُوْ مِنْ فَضْلِهِ و لَعَلَّكُمْ تَشكُرُوْنَ( القصص:72)
’’اور اس نے اپنی رحمت سے تمہارے لیے رات اور دن بنائے کہ رات میں آرام کرو اور دن میں اس کا فضل ڈھونڈو( یعنی کسب معاش) اور اس لیے کہ تم حق مانو۔‘‘
فَالِقُ الْإِصْبَاحِ وَجَعَلَ اللَّيْلَ سَكَنًا وَالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ حُسْبَانًا ۚ ذَٰلِكَ تَقْدِيرُ الْعَزِيزِ الْعَلِيمِ
( النعام:96)
( وہی ) صبح( کی روشنی) کو رات کا اندھیرا چاک کرکے نکالنے والا ہے اور اسی نے رات کو آرام کو لیے بنایاہے اور سورج اور چاند کو حساب وشمار کے لیے یہ بہت غالب بڑے علم والے( ربّ )کا مقررہ اندازہ ہے۔ ‘‘

رات کو دیر تک جاگنا اور صبح سویرے دیر سے اٹھنا اور دیر سے ناشتہ کرنے سے جسم میں کیلوریز بڑھ جاتی ہیں، نتیجتاً وزن بڑھنے لگتا ہے اور فرد موٹاپے کا شکار ہو جاتا ہے۔ لیکن اگر صبح جلدی اٹھیں اور اطمینان سے ناشتہ کریں تو صحت اچھی رہتی ہے ۔ دیر سے اٹھ کر افراتفری کے عالم میں ذمہ داریوں کو نبھانا، آدھا ادھورا ناشتہ کرنا، جھنجلاہٹ اور چڑچڑے پن کا شکار ہونا، اس سے گھریلو زندگی کے ساتھ ساتھ کاروبارِ زندگی اور دوستانہ ماحول بھی متأثر ہوتا ہے۔

0 Comments

Submit a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

مارچ ٢٠٢٢