شوہر بیوی کے معاملات میں ساس کی بے جا مداخلت
محترمہ ایڈیٹر صاحبہ!
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
آپ ھادیہ میں خواتین کے سوالات کا جواب دیتی ہیں۔ لیکن میرابھی اپنی بیوی سے متعلق سوال ہے، جس کا تعلق بھی الجھن سے ہے۔ امید کہ آپ میرے سوال کا جواب بھی عنایت فرمائیں گی ۔
میرا سوال یہ ہے کہ میری شادی کو دوسال ہوگئے ہیں۔ اسلامی تعلیمات پر عمل کرتے ہوئے میں نے جہیز نہیں لیا تھا اور شادی بھی بن والد کی لڑکی سے کی۔ لیکن میری بیوی کو اپنی امی ،یعنی میری ساس سے ہر لمحہ باتیں کرنے کا شوق ہے اور ان کی امی بھی بہت زیادہ ہمارے معاملات میں مداخلت کرتی ہیں۔ہر دو دن بعد اہلیہ کو میکے بلالیتی ہیں۔میں ذہنی طور پر بے حد پریشان ہوں ۔جاب کے سلسلے میں فیملی سے دور رہتا ہوں۔ بیوی کا بار بار میکے جانا اور میری موجودگی میں بھی ماں سے ذرا ذرا سی بات فون پر بتانا اوران کی امی کی سیکھ پر فرمائشیں کرنا، میری لیے سخت ذہنی اذیت کا باعث بنتا ہے ۔ براہِ کرم اس سلسلے میں میری رہ نمائی فرمائیں۔

ڈاکٹر نازنین سعادت سے رہ نمائی حاصل کرنے کے لیے نیچے کلک کریں۔

ویڈیو :

1 Comment

  1. رضوانہ قائد

    ماشآءاللّٰہ ۔۔۔ اچھا حل پیش کیا ہے آپ نے ۔۔۔ لیکن میری رائے میں اس میں ابھی کمی ہے ۔۔۔ اور وہ یہ کہ کہ ۔۔۔ مذکورہ مسئلے میں مسئلہ گزار یعنی شوہر صاحب اہنی فیملی سے دور ہیں ۔۔۔ یعنی ان کی بیوی شوہر کی غیرموجودگی میں سسرال میں رہائش پذیر ہے ۔۔۔ کیا یہ شرعی لحاظ سے درست ہے؟
    مسئلے کی بنیاد ہی ؛یوی کا شوہر کے بغیر سسرال میں رہنا ہے ۔۔۔ اور یہی شوہر بیوی کے مابین اختلافات کی وجہ بننا عام مشاہدہ ہے ۔۔۔۔ پھرا سمآرٹ فون کا زمانہ ۔۔۔ بیوی کی میکے سے رابطے کی خبریں جس ذریعے، یقیناً شوہر کی والدہ، تو ان کا بھی کوئی تذکرہ نہیں ۔۔۔۔ حالانکہ کہ اسمارٹ فون(فوری رابطےکی سہولت) کی صورت میں شر کا خدشہ . اور امکان دونوں (لڑکی و لڑکے کی والدات) کی جانب سے ہو سکتا ہے ۔۔۔ مگر شوہر صاحب نے اپنی والدہ کی “حفاظت” کی ۔۔۔ اور آپ نے بھی اس پہلو کو نظرانداز کیا ۔۔۔
    جزاک اللّٰہ خیر کثیر

    Reply

Submit a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

مارچ ٢٠٢٢