پردے کی اہانت شناخت کی اہانت

کالج میں ’یکسانیت‘ کو برقرار رکھنے کے لیے کرناٹک کے اڈپی میں Womens P U College کی چھ طالبات کو پرنسپل رودر گوڑا نے سخت فرمان جاری کیا کہ ’’وہ کلاس روم میں باحجاب نہیں بیٹھ سکتیں‘‘ اور ساتھ ہی یہ حکم بھی جاری ہوا کہ وہ عربی،اردو اور بیری زبانوں کا استعمال نہیں کر سکتیں۔دراصل یہ مسئلہ حجاب کا نہیں، مسئلہ اسلام کا ہے۔ مسئلہ مسلمان کا ہے اور یہ بات اتنی ہی واضح ہے، جتنی کہ چند دنوں بعد ان کی ریاست میں ہونے والے انتخابات کے لیے غیر ضروری طور پر متنازعہ موضوعات کا اٹھانا ہے۔
حجاب مسلم خواتین کی شناخت ہے۔ جس میں محفوظ محسوس کرتی ہیں۔ حجاب کی وجہ سے کمرہ جماعت میں یکسانیت کو خطرہ کیسے لاحق ہوسکتا ہے؟ اسکارف کسی کی احساس برتری یا احساس کمتری کا شکار کی وجہ کیوں کر ہوگا؟ کیا حجاب کوئی جرم ہے کہ طالبات کو کلاس روم سے نکالا جائے اور حاضری رجسٹر میں انہیں غیر حاضر بتایا جائے۔ اطلاع کے مطابق ان کے امتحان قریب ہیں۔ نفرت انگیز ماحول اور بدسلوکی کے بعد امتحان میں اچھے نمبرات لانا اب دشوار ہوگا۔
پردے کی اہانت دراصل شناخت کی اہانت ہے۔ حجاب مسلمان خواتین کا مذہبی حق ہی نہیں، آئینی اور بنیادی حق ہے۔ہمارا ملک سیکولر ملک ہوتے ہوئے بھی یہاں مسلمانوں،دلتوں، عیسائیوں، سکھوں،کسانوں غرض یہ کہ اقلیت کے ساتھ جو سلوک رواں رکھا جارہا ہے، وہ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ہے۔صد افسوس کہ ’’یکسانیت کے علمبردار‘‘ نے آئینی حقوق کو فراموش کرتے ہوئے کالج کی طالبات کو آواز اٹھانے اور احتجاج کرنے پر مجبور کیا ہے۔اگر یونی ورسٹی میں یہ واقعہ پیش آتا تو حیرت نہ ہوتی، کیوں کہ یونی ورسٹی میں سیاست اب عام بات ہوگئی ہے ۔لیکن اسکول اور کالج میں یوں مذہبی سیاست کا داخل ہوجانا، ملک کے لیے کسی بڑے خطرے کا الارم سے کم نہیں ہے۔
بہادر بہنوں کی جرأت اور استقامت کو سلام! وہ ڈٹی ہوئی ہیں، کیوں کہ ہندوستان ایک مکمل جمہوری ملک ہے ۔جہاں دستور ہر فرد کےانفرادی تشخص کی حفاظت کرتا ہے ۔ وہ کس بھی شہری کے مذہبی، ثقافتی امور میں دخل اندازی نہیں کرتا ۔ہمارا دستور ہر شہری کو اپنی مذہبی شناخت برقرار رکھنے اور کھانے، پینے کپڑے پہنے کی آزادی فراہم کرتا ہے۔اگر کوئی کسی پر اپنی پسند کے مطابق کھانے، پینے اور کپڑے پہننے پر پابندی عائد کرتا ہے یا اس کے لیے مجبور تو اس کو سب سے پہلے انسانیت پر ظلم اور ہندوستانی قانون کے مطابق جرم سمجھا جاسکتا ہے۔ طالبات مذہب کی پاسداری کرتے ہوئے احتجاج کررہی ہیں۔ ان کی ثابت قدمی ان کے اس اعتماد کی دلیل ہے، جو انھیں اسلام سے ملی ہے۔ یقیناً اسلام نے عورت کو عزت و احترام کا مقام دیا اور احساس تحفظ کے لیے عمدہ قوانین کا نفاذ بھی کیا۔ مسلم طالبات اپنے دستور کی طرف بھی نظر رکھتی ہیں اور جلد از جلد انصاف ملنے کی متمنی ہیں۔

0 Comments

Submit a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

مارچ ٢٠٢٢