قاری کی رائے

محترمہ ایڈیر صاحبہ!
اسلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
ماہ ِفروری ھادیہ ای- میگزین کا مطالعہ کیا،دل کی گہرائیوں سے دعا نکلی کہ ’پروردگار! اسے بام عروج پر پہنچا دے اور اتنی ترقی دے کہ یہ ہر گھر میں پہنچ جائے۔‘ سچ کہوں تو میری دلی خواہش یہی ہے یہ کہ کتابی شکل میں ہو اور میں اسے چائے کی چسکیاں لیتے ہوئے مطالعہ کروں، کیوں کہ مطالعہ کا مزہ تو اسی میں ہے ۔
تمام مضامین بہترین ہیں ۔میری طرف سے مبارکباد! خصوصاً ’خداکرے جوانی تیری رہے بے داغ‘، ’خواتین میں اسلامی تحریک‘ ،’سوشل میڈیااور خواتین‘ بہت اچھے لگے۔ مضمون ’الیکٹرانک ردّی‘ اور ’سيلان الرحم‘ کافی معلوماتی لگے ۔ حیدرآباد آنے کے بعد نازنین سعادت سے ہماری کا فی گہری دوستی ہے ۔ اللہ تعالیٰ انھیں مزید لکھنے اورکام کرنے کی توفیق دے (آمین) ۔
میرا ایک افسانہ ھادیہ کی زینت بن چکا ہے، الحمد الله ۔ مصروفیت کی بنا پر قلم رک سا گیا ہے۔ ان شاءاللہ پھر سے کام شروع کروں گی۔ ابھی چند مضامین، جیسے گرلز پلانٹ اور معارِجہاں کا مطالعہ باقی ہے ۔ استادِ محترم مرحوم مولانا یوسف اصلاحیؒ کے بارے میں مضمون پڑھ کرانکھیں بھیگ گئیں۔ واقعی آپ کی تحریریں ہماری زندگیوں کے لیے مشعلِ راہ ہیں۔ اللہ تعالیٰ انہیں کروٹ کروٹ جنت نصیب کرے اوران کی لحد کو نور سے منور فرمائے، آمین ۔
جب میں جی آئی او کی پریسیڈنٹ تھی، تب نظام آباد کے ایک اجتماع میں انہوں نے طالبات سے ملاقات کی تھی اور تین سال پہلے جب میں حیدرآباد آئی تھی، مسجد عزیزیہ میں ان کی تقریر سنی تو میری خوشی کی انتہا نہ رہی۔ یوں تو یوٹیوب پر سب کچھ مل جاتا ہے، مگر لائیو دیکھنے اور سننے کا ایک الگ ہی مزہ ہوتاہے ۔ جن کی کتابیں ہم پڑھتے ہیں، وہ اگر ہمارے سامنے اسٹیج پر ہوں، تو یہ احساس دل کو خوشی اور طمانیت بخشتا ہے۔ بہرحال اس کلر فل میگزین کے لیے دل کی گہرائیوں سے دعا اور مبارکباد۔

نواز تحسین جگتیال صاحبہ !

وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ
آپ کی پرخلوص دعائیں، ہمت اور حوصلہ بڑھاتی ہیں ۔ایک افسانے کے بعد ہم انتظار ہی کرتے رہے ۔آپ کے قلم کے جمود ٹوٹنے کا ہمیں انتظار رہے گا ۔
ان شاءاللہ آپ کی مراد پوری ہوگی۔ اگر اللہ نے چاہا تو ھادیہ کتابی شکل میں آپ کے ہاتھ میں ہوگا ۔
جزاک اللہ خیراً

ایڈیٹر ھادیہ ای ۔میگزین

0 Comments

Submit a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

مارچ ٢٠٢٢