حکمت۔مومن کی پہچان
عالم ارضی کی بساط پر فکر و عمل کے مہرے، آگے کی طرف سیدھی چال چلتے ہیں۔ لیکن وہ اپنے پچھلے خانوں سے غافل بھی نہیں رہتے ۔اب اس قوم میں حکمت کہاں باقی رہ جاتی ہے، جو اپنا ماضی اور اپنی تاریخ بھلا بیٹھی ہے ۔
کتنی افسوس ناک صورتِ حال ہے کہ ہم اپنے اسلاف کے تعلیمی ورثے کا تکیہ بنا کر غفلت کی نیند سوئے ہوئے ہیں ۔ ہمارے خوابیدہ ذہن یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ ہم ذلالت کی کس قدر گہری کھائیوں میں گرے ہوئے ہیں ۔ کبھی کوئی حادثاتی لمحہ ہمیں جھنجوڑتا بھی ہے، تب بھی ہمیں ان مسیحاؤں کی ہی تلاش رہتی ہے اور ان ہی ہاتھوں کو تھامنے کے لیے کوشاں رہتے ہیں، جن ہاتھوں نے ہمیں ان گہرائیوں میں دھکیلا ہے۔
آج ضرورت اس بات کی ہے کہ’’ لوٹ پیچھے کی طرف اے گردش ایام تو‘‘ کے مصداق ہم چودہ سو سال پیچھے جاکر ہمارے مسیحا اس ہادئ عالم کی تعلیمات پر عمل پیرا ہوں، جو نہ صرف آج بلکہ قیامت تک آنے والے زمانوں کی رہنمائی کے لیے ہیں اور ہماری ترقی کے ضامن بھی ۔
نکتہ : مومن کی پہچان ہی حکمت سے ہوتی ہے اور علم وعمل کے بغیر حکمت کہاں ؟
عالم ارضی کی بساط پر فکر و عمل کے مہرے، آگے کی طرف سیدھی چال چلتے ہیں۔ لیکن وہ اپنے پچھلے خانوں سے غافل بھی نہیں رہتے ۔اب اس قوم میں حکمت کہاں باقی رہ جاتی ہے، جو اپنا ماضی اور اپنی تاریخ بھلا بیٹھی ہے ۔
کتنی افسوس ناک صورتِ حال ہے کہ ہم اپنے اسلاف کے تعلیمی ورثے کا تکیہ بنا کر غفلت کی نیند سوئے ہوئے ہیں ۔ ہمارے خوابیدہ ذہن یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ ہم ذلالت کی کس قدر گہری کھائیوں میں گرے ہوئے ہیں ۔ کبھی کوئی حادثاتی لمحہ ہمیں جھنجوڑتا بھی ہے، تب بھی ہمیں ان مسیحاؤں کی ہی تلاش رہتی ہے اور ان ہی ہاتھوں کو تھامنے کے لیے کوشاں رہتے ہیں، جن ہاتھوں نے ہمیں ان گہرائیوں میں دھکیلا ہے۔
آج ضرورت اس بات کی ہے کہ’’ لوٹ پیچھے کی طرف اے گردش ایام تو‘‘ کے مصداق ہم چودہ سو سال پیچھے جاکر ہمارے مسیحا اس ہادئ عالم کی تعلیمات پر عمل پیرا ہوں، جو نہ صرف آج بلکہ قیامت تک آنے والے زمانوں کی رہنمائی کے لیے ہیں اور ہماری ترقی کے ضامن بھی ۔
نکتہ : مومن کی پہچان ہی حکمت سے ہوتی ہے اور علم وعمل کے بغیر حکمت کہاں ؟

0 Comments

Submit a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

مارچ ٢٠٢٢