بچوں میں شکر گزاری کا جذبہ کیسے پیدا کریں

شکرگزاری ایک مسلمان کی زندگی کا بہت ہی اہم حصہ ہے۔ یہ وہ صفت ہے جو انسان کو نیکی اور سیدھی راہ کی طرف لے جاتی ہے اور بہت سے فتنوں سے محفوظ رکھتی ہے۔ ہمیں بچوں میں بچپن ہی سے اس صفت کو پیدا کرنا چاہیے ۔ آج سوشل میڈیا اور انٹرنیٹ کے دور میں، اس بات کی ضرورت اور زیادہ بڑھ گئی ہے کہ بچوں کے اندر ان بہترین اور جامع اوصاف کو پیدا کیا جائے۔ جب بچے سوشل میڈیا پر مشہور سیلیبریٹیز اور دیگر سوشل میڈیا انفلوئنسرز کی خوشنما زندگی کو دیکھتے ہیں، تو اس کی رنگینیوں میں گم ہوجاتے ہیں اور اپنی زندگی کا موازنہ ان کی زندگی سے کرنے لگتے ہیں۔ یہ موازنہ جب زور پکڑ لیتا ہے تو آگے چل کر بہت سارے فتنوں کی وجہ بنتا ہے۔ اسی کا نتیجہ رشتوں میں بگاڑ،گھر کے افراد کی آپس میں دوریاں اور بچوں کا اپنے والدین سے مسلسل نت نئ فرمائشوں کے شکل میں نظر آتا ہے۔
شکر گزاری وہ نعمت ہے جو بچوں میں اسی وقت پیدا ہوتی ہے جب انہیں یہ احساس ہو کہ اللہ نے ہمیں جو کچھ بھی عطا کیا ہے، اس پر ہمیں خوش اور مطمئن رہنا ہے اور حرص اور حسد سے بچنا ہے۔ جب ان میں یہ احساس پیدا ہوجائے تو وہ اللہ کی عطا کردہ نعمتوں کا اعتراف کریں گےاور اس کا شکر ادا کریں گے۔ والدین کے لیے بہت ضروری ہے کہ وہ یہ احساس بچوں میں بچپن ہی سے پیدا کریں۔ بچوں سے کہیں کہ وہ ہر رات سونے سے پہلے اللہ کی عطا کردہ تمام نعمتوں کو یاد کرکے اور اس کے لیے اللہ کا شکر ادا کرکے سوئیں۔
آج کل جب نوجوان بچے سوشل میڈیا پر مشہور سیلیبریٹیز کی زندگیوں کو دیکھ کر متأثر ہوتے ہیں تو، اپنے آپ کو محروم اور بدنصیب تصور کرتے ہیں، اسی وجہ سے ڈپریشن کا شکار ہوتے ہیں اور اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ بچے کمتری کا شکار ہوتے ہیں اور سب سے الگ ہوکر اپنے آپ کو اکیلا کر لیتے ہیںیا پھر غلط اور ناجائز طریقے اپنا کر وہی کچھ حاصل کرنا چاہتے ہیں، جو وہ اسکرین پر دیکھتے ہیں۔ حالاں کہ انہیں اس بات کا احساس نہیں ہوتا کہ جو کچھ سوشل میڈیا پر دکھایا جاتا ہے وہ ہمیشہ سچ نہیں ہوتا،بلکہ وہ ایک دکھاوا اور فریب ہوتا ہے۔ کیمرے کے پیچھے ان سیلیبریٹیز کی اصل دنیا میں کئی الجھنیں اور بے سکونی ہوتی ہے۔ کئی مشہور اور ملینز کی تعداد میں فولوورس رکھنے والی ماڈلس نے اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ ان کی اصل زندگی تاریکیوں سے گھری ہوئی ہے اور وہ ڈپریشن کا شکار ہیں۔
جو کچھ اسکرین پر دکھایا جاتا ہے، وہ ہمیشہ سچ نہیں ہوتا۔ نیورک کی مشہور ماڈل بیلا حدید نے حال ہی میں انسٹاگرام پر ایک پوسٹ شائع کی ، جس میں اس نے اپنی کئی روتی ہوئی اور اداس تصاویر پوسٹ کی ہیں اور لکھا ہے کہ وہ بھی ڈپریشن کا شکار ہو چکی ہیں اور ان کی اصل زندگی کئی مسائل اور مشکلات کا شکار ہے۔
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ سوشل میڈیا پر دکھائی جانی والی ہر چیز سچ نہیں ہوتی۔ ہمیں اپنے بچوں کو یہی سمجھانا ہے کہ وہ اپنی زندگی کا موازنہ کسی بھی معاملے میں سوشل میڈیا پر دکھائے جانے والے فریب سے نہ کریں۔ بحیثیت مسلمان ہماری زندگی اللہ کی دی ہوئی ایک امانت ہے اور ہمیں اس کا صحیح استعمال کرنا ہے۔ اپنی نعمتوں کا احساس کرکے ،ان نعمتوں پر اللہ کا شکر ادا کرکے، ان نعمتوں کا صحیح استعمال کرنا ہے۔ اپنی نعمتوں سے منھ پھیرنا کفرانۂ نعمت ہے اور ایسا کرنا گناہ میں شامل ہے۔ قیامت کے دن ہم سے ضرور ان نعمتوں کے بارے میں حساب کتاب ہوگا۔
ہمیںاپنے بچوں میں یہ عادت پیدا کرنی ہے کہ وہ کبھی اپنا اور اپنی زندگی کا موازنہ دوسروں سے نہ کریں۔ اللہ نے ہر انسان کو الگ الگ نعمتوں سے نوازا ہے اور ہر انسان کی اپنی الگ الگ الجھنیں اور پریشانیاں ہیں۔ ایک مومن کی اصل کامیابی اس بات میں ہے کہ وہ اللہ کے دیے ہوئے وسائل اور نعمتوں کا صحیح استعمال کرکے، اپنے آپ کو جنت میں جانے کے قابل بنائے، نا کہ اپنی پوری زندگی اس کوشش میں ضائع کرے کہ ، دوسروں کی پاس جو ہے، وہ اسے کیسے حاصل کرے اور یہ سوچ کر کہ جو دوسروں کے پاس ہے وہ میرے پاس کیوں نہیں؟ یہی احساس حسد کی سب سے بڑی وجہ بنتا ہے۔ حدیث پاک کا مفہوم ہے: ’’حسد نیکیوں کو اس طرح کھا جاتا ہے جس طرح آگ لکڑی کو۔‘‘ (سنن ابن ماجہ )
جس طرح ایک برائی دوسری برائی کی وجہ بنتی ہے ،اسی طرح ناشکری، حسد کی وجہ ہے۔ اس لیے والدین کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے بچوں کو ہر حال میں اللہ کا شکر ادا کرنا سکھائیںاور سب سے پہلے خود اپنے اندر اس صفت کو پیدا کریں۔اٹھتے بیٹھتے ہر حال میں الحمد للہ کہیں، تاکہ بچے ہم سے اس صفت کو اپنالیں۔
شکرگزاری کے فوائد میں سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ اس سے ہماری نعمتوں میں اضافہ ہوتا ہے۔ قرآن مجید میں اللہ تعالی کا ارشاد ہے:
’’اور (یاد کرو) جب تمہارے رب نے آگاہ فرمایا کہ اگر تم شکر ادا کرو گے تو میں تم پر (نعمتوں میں) ضرور اضافہ کروں گا اور اگر تم ناشکری کرو گے تو میرا عذاب یقیناً سخت ہے۔‘‘ (ابراہیم:7)

شکر گزاری وہ نعمت ہے جو بچوں میں اسی وقت پیدا ہوتی ہے جب انہیں یہ احساس ہو کہ اللہ نے ہمیں جو کچھ بھی عطا کیا ہے، اس پر ہمیں خوش اور مطمئن رہنا ہے اور حرص اور حسد سے بچنا ہے۔ جب ان میں یہ احساس پیدا ہوجائے تو وہ اللہ کی عطا کردہ نعمتوں کا اعتراف کریں گےاور اس کا شکر ادا کریں گے۔

ویڈیو :

آڈیو:

0 Comments

Submit a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

مارچ ٢٠٢٢