درس حد یث
زمرہ : النور

عَنْ ابیْ هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قال، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا دَخَلَ شَهْرُ رَمَضَانَ فُتِّحَتْ أَبْوَابُ السَّمَاءِ وَغُلِّقَتْ أَبْوَابُ جَهَنَّمَ وَسُلْسِلَتْ الشَّيَاطِينُ

(صحیح البخاری:1899)

حضرت ابو ہریرۃؓ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:’’ جب رمضان کا مہینہ آتا ہے، تو آسمان کےدروازے کھول دیے جاتے ہیں، جہنم کے دروازے بند کردیےجاتے ہیں اور شیاطین کو زنجیروں سے جکڑ دیا جاتا ہے۔‘‘

خوش نصیب ہوگا وہ جسے ایک بار پھر رمضان المبارک کی مبارک ساعتیں میسر آئیں اور انتہائی بد نصیب ہوگا وہ، جسے یہ ماہِ مبارک ملے اور وہ اس سے فائدہ نہیں اٹھا سکے۔
رمضان المبارک سے بھر پور فائدہ اٹھا نے کے لیے ضروری ہے کہ پہلے سے ہی اس کی تیاری کی جائے۔ حضور اکرمﷺرمضان کے بعد سب سے زیادہ روز ے ماہ شعبان میں رکھا کرتے تھے۔ اس سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ شعبان کا مہینہ، جو رمضان المبارک سے بالکل متصل ہے۔ تیاری کے لیے موزوں مہینہ ہے۔
رمضان المبارک سے حقیقی معنوں میں فائدہ اور فیض اُٹھانے کا درست طریقہ یہ ہے کہ رمضان المبارک کی تیاری شعبان، بلکہ رجب المرجب ہی کے مہینے سے شروع کر دی جائے ۔ احادیث سے بھی یہی معلوم ہوتاہے اور یہی شریعت کا تقاضا ہے۔
عام زندگی میں بھی ذرا غور کیجیے۔ سفر کی تیاری سفر شروع ہونے سے پہلے کی جاتی ہے، سفر شروع ہونے کے بعد نہیں۔ رمضان ایک سفر ہے، تزکیہ کا سفر ۔اِس سفر کی تیاری اگر سفر شروع ہونے کے بعد کی جائے گی تو مشکل ہو جائے گی۔ اس لیے عقل ودانش کا تقاضا بھی ہے کہ تزکیہ کے اس سفر کی تیاری، جس کا آغاز یکم رمضان المبارک سے ہور ہا ہے، رجب اور شعبان ہی میں کر لی جائے، تاکہ سفر کا آغاز یک سوئی اور اطمینان سے ہو۔
اس کے بر خلاف جب ہم رمضان کی تیاری رمضان کا چاند نظر آنے کے بعد کرتے ہیں تو پہلا ہفتہ سحری اور افطاری کے لوازمات کی دست یابی ہی میں گزر جاتا ہے ، پھر عید کی تیاری کی فکرستانے لگتی ہے۔
نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ جوں جوں رمضان گزر تا ہے، اگرچہ سحری بھی ہوتی ہے، افطاری بھی ، روزہ بھی ہوتا ہے ، ذکر واذکار کا سلسلہ بھی، مگر یکسوئی اور اطمینان نصیب نہیں ہوتی جو کہ روحانی پرواز کے لیے شرطِ اول ہے۔
اس ماہ کی خصوصیات کا ذکر کرتے ہوئے رسول اکرم ؐنے فرمایا: ’’یہ صبر کا مہینہ ہے اور صبر کا بدلہ جنّت ہے۔ ‘‘ یہ مہینہ واقعی صبر کا ہے۔ اس لیے کہ اس میں جائز، حلال اور طیّب چیزوں سے بھی انسان صبح صادق سے غروبِ آفتاب تک رُکتا ہے۔ یہ رکنا دراصل صبر اور تقویٰ ہے۔
اس مبارک مہینے کی دوسری خصوصیت یہ ہے کہ یہ ہم دردی اور غم خواری کا مہینہ ہے۔ اس ماہ میں غم گساری اور ہم دردی کے احساسات انسان میں پیدا ہوتے ہیں۔
اس ماہ کی تیسری خصوصیت یہ ہے کہ اس میں مومن بندوں کے رزق میں اضافہ کیا جاتا ہے۔ عام طور پر روزہ رکھنے سے کچھ لوگ اس لیے بھی کتراتے ہیں کہ سارا دن مشقت نہیں ہوسکے گی، تو ہماری کارکردگی پر فرق پڑے گا اور اس طرح ہماری کمائی میں کمی آسکتی ہے۔ اس اندیشے کا ازالہ کردیا کہ ہرگز ایسا نہیں ہے۔ بندۂ مومن کو یقین ہونا چاہیے کہ روزے کی وجہ سے اس کے رزق میں کوئی کمی نہیں آئے گی، چاہے کارکردگی عام دنوں سے کم ہوجائے۔
رمضان واقعی نیکیوں کی برسات کا مہینہ ہے۔ اس مہینے میں اگر ہم صحیح معنوں میں محنت کرکے اپنے نفس کی تربیت کرلیں تو اس کا اور کوئی بدل نہیں ہوسکتا اور اگر ہم اس ماہ میں بھی اﷲ کی رحمت سمیٹنے اور اپنی بخشش کرانے سے محروم رہ جائیں تو پھر ہم سے بڑا بدنصیب اور کوئی نہیں ہوسکتا۔
ایک مقام پر رسول اکرم ؐنے فرمایا: ’’کتنے ہی روزے دار ایسے ہیں کہ انہیں روزے سے سوائے بھوک اور پیاس کے اور کچھ حاصل نہیں ہوتا۔‘‘
یہ سوچنے کا مقام ہے کہ کہیں ایسا تو نہیں کے ہم بھی اس زمرے میں آ رہے ہیں؟ کہیں ہم اپنا سارا وقت گھر کے کاموں میں اور ادھر اُدھر کی مصروفیت میں تو نہیں نکال دیتے اور روزہ محض بھوکا پیاسا رہنے والے کی طرح گزار دیتے ہیں؟
چوں کہ رمضان کے مہینے میں مسلم خواتین کی ذمہ داری دوہری ہو جاتی ہے۔ انہیں جہاں ایک طرف روزہ، نماز، تلاوت قرآن کریم اور ذکر واذکار اور دیگر نوافل کی بجاآوری میں دن ورات کا زیادہ ترحصہ گزارنا پڑتا ہے، وہیں انہیں گھروں کو ہمیشہ صاف ستھرا رکھنے سے لے کر افطار وسحری میں انواع واقسام کی ماکولات و مشروبات کی منصوبہ بندی کرنا اور پھر انہیں تیار کرنا اور وقت پر انھیںدسترخوان پر سجا نا ہوتا ہے۔ اسی کے ساتھ انھیں اپنے بچوں کی دیکھ بھال بھی کرنا ہوتی ہے اور شاپنگ کے لیے بازاروں کا رخ بھی کرنا پڑتا ہے۔
روزہ اپنی ذات میں ایک تیاری ہے، جو مسلمان مرد اور مسلمان عورت دونوں انجام دیتے ہیں۔ یہ ان میں ذمہ داری کا ایسا احساس پیدا کرتی ہے کہ جو انہیں مستقل مستعد رکھتاہے۔ چنانچہ عورت روزے کی قدرت کے ساتھ اپنی ذمہ داریاں ادا کرتی ہے اور ایسا اسی وقت ہو سکتا ہے، جب وہ یہ جان لے کہ اس کی ذمہ داریاں بھی اسی طرح مقدس ہیں، جس طرح یہ مہینہ مقدس ہے۔
درحقیقت رمضان المبارک کے دو متوازی پروگرام ہیں۔ ایک ہے دن کا روزہ اور دوسرا ہے رات کا قیام۔ رسول کریمﷺ نے فرمایا: ’’جس نے ایمان اور اجر و ثواب کی امید کے ساتھ رمضان کے روزے رکھے، اس کے پچھلے تمام گناہ معاف کر دیے گئے، جس نے رمضان (کی راتوں) میں قیام کیا (قرآن سننے اور سنانے کے لیے) ایمان اور اجر و ثواب کی امید کے ساتھ، اس کے بھی تمام سابقہ گناہ معاف کر دیے گئے، جو لیلۃ القدر میں کھڑا رہا (قرآن سننے اور سنانے کے لیے) ایمان اور اجر و ثواب کی امید کے ساتھ، اس کی بھی سابقہ تمام خطائیں بخش دی گئیں۔‘‘
رمضان المبارک کی ساعتوں کو ضائع ہونے سے بچانے کے لیے پورے ماہ کا ایک ٹائم ٹیبل بنائیں، جس میں اپنی ملازمت ، تجارت اور کاروبار کے علاوہ اوقات کو زیادہ سےزیادہ اطاعت شعاری اور عبادت کے لیے مقرر کریں اور حتی المقدور اس نظام الاوقات پر عمل کریں۔
یاد رکھیے کہ رمضان المبارک کے دن اور رات کا ایک ایک لمحہ اتنا قیمتی ہے کہ ایک پوری زندگی دے کر بھی اس کا نعم البدل ملنا محال ہے۔ رمضان المبارک کے شروع ہونے سے پہلے ایک فہرست بنا لی جائے کہ اس ماہ مبارک میں وہ دنیاوی امور جو انجام دینا ناگزیر ہیں، کون سے ہیں اور کون سے کام ایسے ہیں جن کی بجا آوری ضروری نہیں۔ ترجیحات کا تعین انسان کو سچی خوشی اور کامیابی عطا کرتا ہے۔

’’یہ صبر کا مہینہ ہے اور صبر کا بدلہ جنّت ہے۔ ‘‘ یہ مہینہ واقعی صبر کا ہے۔ اس لیے کہ اس میں جائز، حلال اور طیّب چیزوں سے بھی انسان صبح صادق سے غروبِ آفتاب تک رُکتا ہے۔ یہ رکنا دراصل صبر اور تقویٰ ہے۔

ویڈیو :

آڈیو:

3 Comments

  1. Ghazala parveen

    Asslamualykum
    Alhmdulilah ramzanul mubark sepehle sahi waqt pr yadduhani duruse hadees k zariyeki gai h.
    Hadiya e magzine ka ejaz hi yahi h ki waqt pr bahut kam words M bahut si malumaat fraham karti h. Jazakallah hu kheran kaseera.

    Reply
  2. Shifa faiz

    Assalamualaikum mashallah bhut hi umdah Andaaz mai ramzan ka istaqbal kaise karein batya gya haadiya e magazine mai
    Jazakillah Khair fi dunia wa aakirah

    Reply
  3. jamil rehman

    mashallah

    Reply

Submit a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

مارچ ٢٠٢٢