میری بہن! حیاکرو (آخری قسط)
حسناء:
را….رابعی کل رات میں نے بہت ہی بھیانک اور خوف ناک خواب دیکھا۔ میں قبر میں ہوں ، سانپ اوربچھو مجھے کاٹ رہے ہیں اور کوئی میری مدد کو نہیں آرہا ہے۔ اُسی وقت تمہارا چہرہ نمودار ہوا اُس وقت مجھے سکون حاصل ہوا۔مجھے رات بھر بہت بے چینی ہوئی اورمیں صحیح سےسو نہیں سکی۔بس صبح ہونے کا انتظار اور تم سے ملنے کی تڑپ تھی۔ رابعی مجھے معاف کردو!تم مجھے کل کچھ کہنے والی تھیں، بتاؤنا….(آنسو پونچھتے ہوئے۔)
رابعی:
(خاموشی کے انداز میں نظر اُٹھاکر )حسناء!تمہارا جو خواب ہے، اللہ نے تمہیں اُس کے راستے پر چلنے کے لیے بھیجا ہےاور شاید مجھے اس کا ذریعہ بنایا ہو۔
حسناء!اگر تم خراب ہوگی تو ساری نسلیں خراب ہوں گی۔ہمیں اس مغربی کلچر کو چھوڑنا چاہیے ۔یہ فیشن، غیر مردوں سے باتیں، نیم عریاں لباس، یہ سب چیزیں قبر میں سانپ بچھو ہی تو پیدا کریں گے۔عورت کو اللہ نے حدودِ اسلام میں رہنے کو کہا ہے۔جو عورتیںغیرمردوں سے باتیں کرتی ہیں، اپنے جسم کی نمائش کرتی ہے، ایسی عورتوں کو تو جہنم رسید کردیاجائے گا ۔
حسناء تمہیں پتا ہے کہ جب عورت خوشبو لگا کر باہر نکلتی ہے اور اس کی خوشبو کوئی غیر محرم محسوس کر لے تو اِس پر فرشتے لعنت بھیجتے ہیں ۔رسول اللہ ﷺ نے فرما یا کہ یہ تو گوارہ کیا جاسکتا ہے کہ آدمی کے سر میں لوہے کی کیل ٹھونک دی جائے، لیکن گوارا نہیں ہے کہ وہ کسی ایسی عورت کو چھوئے جو اس کے لیے حلال نہ ہو۔
سدرہ:
کیا اسلام میں عورت کو زیب و زینت ترک کر نے کا حکم ہے؟
رابعی:ارے نہیں سدرہ!شریف خاتون کو اسلام نے بناؤ سنگار کی بھی اجازت دی ہے۔زیوروں سے سنورنے اور حسن کو نکھارنے کی بھی اجازت دی ہے۔لیکن اس کی ساری دل کشی اور دل ربائی صرف اس ایک مرد کے لیے ہوتی ہے۔جس کو خدا کے نام کی برکت سے اس نے اپنا ’زندگی کا ساتھی‘ منتخب کیاہے اور جس کو خوش رکھنے پر خود رسول اللہ ﷺ نے جنت کی خوش خبری دی ہے۔
حسناء:
رابعی!کیا میں اب بدل سکتی ہوں؟میری زندگی کو صحیح راہ پر لاسکتی ہوں؟
سدرہ :
ہاں حسناء!اللہ نے وہ خواب تمہاری تبدیلی کا ذریعہ بنایا ہے ۔حسناء مستقبل میں تم کئی ذمہ داریوں کو اُٹھانے والی ہو اور تمہارے ہاتھوں میں ایک نسل پروان چڑھے گی۔اللہ کا شکر اور فضل ہے کہ اس نے تمہیں ہدایت دی، ورنہ تو کتنی نسلیں تباہ و برباد ہو سکتی تھیں۔
حسناء:
ہاں میں تو سب کو جہنم میں لے جانے والی بن جاتی۔(آنکھوں سے آنسو رواں ہوجاتے )اے اللہ! میرے جیسے تمام لڑکیوں کو ہدایت دے،آمین۔
رابعی:
جدید دور کی تعلیمی اداروں کی خامی اور برائی یہی ہے کہ لڑکیاں اور لڑکے فیشن پرستی کے نام پردوستی کر بیٹھے ہیں ۔ہماری نوجوان نسل فون کے غلط استعمال سے برباد ہوتے جارہے ہیں ۔جس سے معاشرے کو بہت بڑا نقصان ہوسکتا ہے ۔گھروں میں والدین پریشان ہوتے ہیں اور سوسائٹی کے لوگ بھی پریشان ہوتے ہیں ۔اللہ تعالیٰ ہدایت دے،آمین ۔
رابعی :
حسناء! اسلام دراصل ایک ایسا پاکیزہ اور مثالی معاشرہ وجود میں لانا چاہتا ہے،جو اخلاقی قدروں کی حفاظت کے لیے ایک مضبوط قلعہ ہو۔ جس کے چاروں طرف شرم و حیا،غیرت و شرافت کی فصیل ہواور جس میں کسی جہت سے بھی خواہش، منکرات، بد اخلاقی اور آوارگی،آزادی اور عیاشی کی گنجائش نہ ہو۔ یہ ایک واضح حقیقت ہے کہ ایسے معاشرے کی تعمیر میں خواتین کا حصہ مردوں سے کہیں زیادہ ہے۔
حسناء:
ماشااللہ!اللہ مجھے توفیق دے۔ میرے لیے دعا کرنا رابعی ۔
رابعی:انشاءاللہ ضرور۔ اللہ تمہیں استقامت عطا کرے اوراس راہ کی مشکلات کو آسان کردے،آمین۔
سدرہ:آمین!اب چلیں کلاس کا وقت شروع ہونے والا ہے ۔

(تینوں کلاس کے لیے چلی جاتی ہیں )

0 Comments

Submit a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

مارچ ٢٠٢٢