رہائی کی ترکیب
سہیل اور نعیم اس کوٹھری کی واحد کھڑکی سے لگے کھڑے تھے۔دور دور تک کسی ذی روح کا نام و نشان نہ تھا۔بے آب وگیاہ ویرانہ تھا ،جو گرمی کی شدت سے تپ رہا تھا اور یہ تپش ان تک گرم ہواؤں کے ذریعے پہنچ رہی تھی۔کھڑکی سے باہر وہ سر تو کیا ہاتھ بھی نہیں نکال سکتے تھے، کیوں کہ کھڑکی پر لوہے کی مضبوط سلاخیں نصب تھیں۔ کمرے کے کچے فرش پر ایک بدرنگ، پھٹی پرانی اور میلی سی دری بچھی ہوئی تھی۔ایک کونے میں مٹکا اور اس پر ایک سلور کا گلاس رکھا ہوا تھا۔کمرے میں نہ پنکھا تھا، نہ بلب۔گویا وہ کوٹھری ان کے لیے پنجرہ تھی۔
کوٹھڑی کے دروازے پر ایک ہٹا کٹا، گونگا بہرہ شخص پہرہ دے رہا تھا، جو زبان سے نہیں، آنکھوں سے باتیں کرتا تھا۔اس کی سرخ ڈراؤنی آنکھوں کو دیکھ کر وہ بری طرح ڈرگئے تھے۔
وہ کل رات کو یہاں لائے گئے تھے۔صبح نعیم نے ہمت کرکے گونگے سے بات کرنے کی کوشش کی تھی۔سہیل نے ابھی اشاروں سے اس کی منت سماجت کی،مگر اس کی غضب ناک آنکھوں نے اس ٹرے کی طرف اشارہ کیا جو لے کر آیا تھا، جس میں باسی روٹی کے ساتھ ابلے ہوئے آلو رکھے تھے۔
’’اب ہم کیا کریں؟ کیسے اس کوٹھری سے باہر نکلیں؟ میری امی پریشان ہو رہی ہوں گی، رات بھی گزرگئی۔‘‘سہیل رو دینے کو تھا۔
’’حوصلہ رکھو سہیل!ہمیں ہمت سے کام لینا چاہیے۔‘‘ نعیم نے اسے حوصلہ دیا۔ اگرچہ وہ خود بھی اندر بے حد خوف زدہ تھا۔
’’معلوم نہیں ہم گھر سے کتنی دور ہیں؟یہ بھی خدا کا شکر ہے کہ انھوں نے ہمیں ایک جگہ رکھا ہوا ہے،اگر ہم الگ الگ ہوتے تو بتاؤ ہمارا کیا حال ہوتا۔ آخریہ لوگ ہم سے چاہتے کیا ہیں؟‘‘سہیل بولا۔
’’ظاہر ہے پیسہ چاہتے ہیں۔پردہ فروش ہیں۔ بچوں کو اغوا کرکے بیچتے ہوں گے۔‘‘نعیم کی اس بات پر سہیل کانپ کر رہ گیا۔ اسے شدت سے اپنی بے وقوفی پر غصہ آنے لگا، جس کی وجہ سے وہ خود بھی پھنسا تھا اور نعیم کو بھی مشکل میں ڈال دیا تھا۔
’’بات سنو بیٹا!‘‘ وہ ایک معقول لباس میں ملبوس ایک معزز شخص لگ رہا تھا،جو سہیل سے مخاطب تھا۔سہیل اور نعیم دونوں اس وقت گلی میں کھڑے زور و شور سے اسکول کی کوئی بات کررہے تھے۔
’’جی انکل!‘‘سہیل نے ادب سے کہا۔کیا آپ بتا سکتے ہیں کہ یہ گھر والے کب تک آئیں گے؟‘‘ اس نے سامنے والے گھر کی طرف اشارہ کیا،جس کے مرکزی دروازے پر تالا نظر آرہا تھا۔
دراصل مجھے انھیں کچھ ضروری کاغذات دینے تھے اور میں اس وقت جلدی میں ہوں۔ آپ شاید ان کے پڑوسی ہیں۔ آپ فائل لے لیں۔ انھیں دے دیجیے گا۔ میں بعد میں ان سے مل لوں گا۔‘‘
اس شخص نے سوال کرتے ہی پھر پوری بات کردی۔
’’جی اچھا۔‘‘سہیل نے سوچے سمجھے بغیر جواب دیا۔
’’آجائیں پھر۔وہ گلی کے کونے میں میری گاڑی کھڑی ہے۔‘‘
سہیل کے ہامی بھرنے پر وہ شخص مڑا۔
نعیم نے سہیل کو مکاّ مارا، لیکن وہ اپنی ہی دھن میں چل پڑا تھا۔مجبوراً نعیم کو بھی اس کا ساتھ دینا پڑا۔گلی کے موڑ پر مڑتے ہی اچانک وہ شخص رکا،پھر اس نے پیچھے مڑ کر سہیل اور نعیم کے پیچھے کسی کو دیکھا اور پھر اچانک دو مضبوط ہاتھوں نے دونوں کے منھ دبوچ لیے۔ اس کے بعد انھیں کچھ ہوش نہ رہا۔شام کوان کی آنکھ اس کال کوٹھری میں کھلی۔
کافی دیر تک وہ چیختے چلاتے رہے،مگر کوئی جواب نہ ملا۔ صبح گونگے سے ان کی ملاقات ہوئی تھی۔اس کے سامنے چیخنے چلانے کا بھی کوئی فائدہ نہ ہوا تھا،البتہ اگر آس پاس آبادی ہوتی تو لوگ ضرور متوجہ ہوجاتے،مگر ایسا نہ ہوا۔
یکایک دور سے کسی ہارن کی آواز انھیں سنائی دی۔جلد ہی وہ گاڑی گزر گئی۔ وہ ایک دوسرے کو خاموشی کا اشارہ کرتے ہوئے کان لگا کر باہر کی آوازیں سننے کی کوشش کرنے لگے۔وقفے وقفے سے گاڑیوں کے گزرنے کی مدہم آوازیں آرہی تھیں۔
’’لگتا ہے،ہائی وے زیادہ دور نہیں ہے۔‘‘ نعیم بولا تو سہیل نے اثبات میں سر ہلادیا۔
’’اب کیا کریں؟کیسے کسی کو اس طرف متوجہ کریں؟‘‘ سہیل بے صبری سے بولا۔
نعیم بے خیالی میں کمرے کا جائزہ لینے لگا۔نہ ان کے پاس کاغذ قلم تھا اور نہ کوئی ایسی چیز جس سے وہ باہر والوں کو کوئی اطلاع دے سکتے۔
وہ آہستہ آہستہ کمرے کا چکر لگانے لگا۔ سہیل بے بسی سے مٹھیاں بھینچ رہا تھا۔ نعیم دیوار پر لگے ایک چھوٹے سے آئینے کے سامنے جاکر رک گیا اور اپنا عکس دیکھنے لگا۔ اس کے بال دھول مٹی میں اٹے ہوئے تھے اور چہرہ زرد تھا۔یہی حال سہیل کا بھی تھا۔ یکایک ایک خیال اس کے دماغ میں بجلی کی طرح آگرا۔اس کی آنکھیں چمکنے لگیں۔اس نے آئینہ دیوار سے اتار لیا۔
’’یہ کیا کررہے ہو؟‘‘ سہیل کے منھ سے نکلا۔
نعیم کوئی جواب دیے بغیر کھڑکی کے قریب آیا اور آئینے کو دھوپ کی روشنی میں لہرانے لگا۔ سورج کی شعاعیں آئینے سے منعکس ہوکر بہت دور دور تک پہنچنے لگیں۔ پھر اس نے آئینے کا رخ گاڑیوں کی آواز کی سمت کردیا۔
اس کا منصوبہ سمجھ کر سہیل کے چہرے پر بھی جوش کی لہریں دوڑنے لگیں۔ یکے بعد دیگرے گاڑیاں گزرتی رہیں، لیکن نعیم نے ہمت نہ ہاری۔
’’کوئی گاڑی رک نہیں رہی۔‘‘ کافی دیر بعد سہیل مایوسی سے بولا۔
’’ہم اپنی کوشش جاری رکھیں گے،اس کے علاوہ ہم کچھ نہیں کرسکتے۔‘‘ نعیم نے جواب دیا۔
وہ کافی دیر تک یہ عمل دہراتے رہے،آخر نعیم بھی دل ہی دل میں مایوس کا اظہار نہیں کرنا چاہتا تھا۔ ایک امید ہی تو تھی جو انھیں عمل پر ابھاررہی تھی۔آزادی کی امید……..!
پھر سہیل نے آئینہ تھام لیا۔
’’ہمارے پاس کسی کو متوجہ کرنے کا اور کوئی راستہ نہیں ہے، تو جب تک سورج کی روشنی کھڑکی تک آرہی ہے،ہم اسی طریقے کو آزماتے ہیں۔‘‘ نعیم بولا۔
آہستہ آہستہ سورج کی شعاعیں کھڑکی سے سرک رہی تھیں اور دونوں مایوس ہوتے جارہے تھے کہ اچانک انھوں نے کسی گاڑی کے بریک لگنے کی آواز سنی۔ دونوں میں جیسے پھر سے جان پڑگئی اور سہیل جوش و خروش سے آئینہ لہرانے لگا۔
’’کون بد تمیز ہے ؟ یہ کیا حرکت ہے؟‘‘
انھوں نے کچھ ہی دیر میں ایک دبنگ آواز سنی۔
’’مدد………مدد………!‘‘ نعیم چلایا۔
’’ہم یہاں بند ہیں ہمیں باہر نکالو۔‘‘
سہیل نے سلاخوں سے منھ باہر نکالنے کی کوشش کرتے ہوئے کہا۔ دوسری طرف فورا خاموشی چھا گئی۔
دونوں ایک بار پھر مل کر مدد،مدد پکارنے لگے۔پہریدار شاید وہاں نہیں تھا۔ ورنہ وہ ضرور سن لیتا۔
پھر دور جھاڑیوں میں انھوں نے ایک ہیولہ دیکھا۔
’’اوہ………پولیس!………ہائی وے پولیس!‘‘ سہیل چیخا۔وہ نیلی وردی پہچان چکا تھا۔
’’سر!ہم یہاں قید ہیں………ہمیں باہر نکالیے۔‘‘نعیم زور سے بولا۔ کچھ ہی دیر میں چوکنے کے انداز میں ادھر ادھر دیکھتے ہوئے ایک پولیس افسر ان کی کھڑکی کے سامنے آ کھڑا ہوا۔نعیم نے جلدی جلدی ساری روداد سنا ڈالی۔
’’حوصلہ رکھو بچو! ہمارے مزید ساتھی آرہے ہیں۔ کچھ ہی دیر میں آپ آزاد ہوں گے۔‘‘ان کا ساتھی فون پر لوکیشن بتا رہا تھا۔ ہائے وے پولیس کے مزید جوان آچکے تھے۔ کمرے کا تالا توڑ کر انہیں نکالا گیا۔
’’بچوں کو لے جاؤ ارشاد! ہم میزبان کا انتظار کریں گے۔‘‘ نعمان نامی پولیس آفیسر نے دوسرے ساتھی کے ساتھ انھیں بھجوا دیا۔دونوں خدا کا شکر ادا کرتے ارشاد کے ساتھ پولیس چوکی پہنچ گئے۔
معلوم ہوا کہ گزرنے والی گاڑیوں نے آگے ہائے ویز پولیس کو شکایت کی تھی کہ کوئی شخص سڑک کے آس پاس یہ حرکت کررہا ہے۔ اسی شکایت کےباعث دو پولیس آفیسر وہاں تک پہنچے تھے۔
گونگے کی گرفتاری کی اطلاع انھیں گھر پر ملی تھی۔دراصل یہ پورا ایک گروہ تھا جو شہر اور ملحقہ علاقوں میں یہ گروہ بچے اغوا کرکے آگے بیچتا تھا۔ گونگے کے ذریعے پولیس اصل گروہ کی تلاش میں سرگرداں ہوگئی تھی۔
نعیم اور سہیل کی بہادری اور عقل مندی کے اعتراف میں انھیں کئی انعامات ملے۔ خاص طور پر ان کے اسکول کی طرف سے انھیں حوصلہ مند بچوں کا جو خطاب ملا تھا، وہ ان کے لیے کسی اعزاز سے کم نہ تھا۔

کوٹھڑی کے دروازے پر ایک ہٹا کٹا، گونگا بہرہ شخص پہرہ دے رہا تھا، جو زبان سے نہیں، آنکھوں سے باتیں کرتا تھا۔اس کی سرخ ڈراؤنی آنکھوں کو دیکھ کر وہ بری طرح ڈرگئے تھے۔
وہ کل رات کو یہاں لائے گئے تھے۔صبح نعیم نے ہمت کرکے گونگے سے بات کرنے کی کوشش کی تھی۔سہیل نے ابھی اشاروں سے اس کی منت سماجت کی،مگر اس کی غضب ناک آنکھوں نے اس ٹرے کی طرف اشارہ کیا جو لے کر آیا تھا، جس میں باسی روٹی کے ساتھ ابلے ہوئے آلو رکھے تھے۔

0 Comments

Submit a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

مارچ ٢٠٢٢