رسول اللہ ﷺ کےکردار کی عظمت
نبی ﷺ اس دنیا میں اُس وقت تشریف لائے جب جہالت کے گھٹا ٹوپ اندھیرے ہر سو چھائے ہوئے تھے۔انسانیت کے قافلےمیں ہر طرف مایوسی تھی۔ جانور اور انسان میں امتیاز ان کی ظاہری ہیت کے ذریعہ ہی ممکن تھا۔جب رسول اللہ ﷺ تشریف لائے اور علم اور معرفت کا دیپ جلایا، جس نے اس تیرہ فضا کو نور ہی نور سے بھر دیا اور اب قیامت تک کے لیے جب بھی انسانیت کا قافلہ تاریکی و ظلمت میں دھنس جائے تو اسے نکالنے کے لیے اسی چراغ سے روشنی حاصل کی جا سکتی ہے۔
رسول اللہ ؐ کی شخصیت ہمہ جہت ہے۔ جس بھی پہلو سے ان کو دیکھا جائے، درس ہی درس بلکہ سراپا شخصیت کے مالک ہیں۔ ہوں بھی کیوں نا؟ آپؐ رحمت للعالمین جو ٹھہرے۔ بحیثیت شوہر،باپ، بیٹا ، امام ، معلم یا مدرس ہوں یا میدان جنگ میں سپہ سالار ہوں، جھگڑوں میں ثالث ہوں،عدالت میں منصف ہوں یا کسی بھی پہلو سے، ہم قرآن و احادیث کی روشنی میں دیکھنے کی کوشش کریں تو ہر گوشے میں معلمی کا درس اور درجہ ملتا ہے۔

جن کے کردارسے آتی ہو صداقت کی مہک
ان کی تدریس سے پتھر بھی پگھل سکتے ہیں

کتاب موجود ہو ،طلبہ بھی موجود ہوں اور معلم موجود نہ ہو تو ممکن نہیں ہے کہ محض کتاب سے طلبہ علم حاصل کر سکیں۔اس لیے کتاب اور معلم لازم اور ملزوم ہیں۔بالکل اسی طرح اللہ تعالیٰ نے انسانیت کی ہدایت کے لیے قرآن مجید کے ساتھ ساتھ معلم یعنی اپنے محبوب نبی ﷺ کو دنیا میں بھیجا اور خود نبی ﷺ نے فرمایا :
انما بعثت معلما۔ ’’مجھے معلم بنا کر بھیجا گیا ہے۔‘‘
صحیح مسلم کی روایت ہے کہ ’’نیکی حسن اخلاق کا نام ہے اور برائی وہ ہے جو تیرے دل میں کھٹکے اور تمہیں ناپسند ہو کہ لوگ اسے جانیں۔‘‘(رواہ مسلم و ابوداؤد)
سنن ترمذی میں ایک جگہ نبی کریمﷺارشاد فرماتے ہیں کہ ’’تم میں سب سے بہتر وہ ہے جو اخلاق کے اعتبار سے سب سے اچھاہو۔‘‘ چنانچہ عظمت اخلاق آخری نبی ؐکا امتیاز ہے۔ سارے انبیاء اخلاق کی تعلیم دینے کے لیے دنیا میں آ ئے، مگر آپؐاس ہدایت کے آخری رسول ہیں۔یا یوں سمجھیے کہ قرآن نظریۂ اخلاق ہے اور رسول اللہ ﷺ نمونۂ اخلاق ہیں۔ جب نظر یہ عمل میں ڈھلتا ہے تو کمی بیشی عموماً ہوجاتی ہے۔ مگر اخلاق کا نظریہ جتنا معقول اورمستحکم ہے، اتنا ہی مستحکم اخلاق کا نمونہ بھی ہے۔ اسی لیے دنیا کے بیش تر مفکرین اور معلّمین کی نظر میں اخلاق کا درس خوشنما نظر آتاہے۔مگر جب ان کے قریب جائیے تو فکر وعمل کا تضاد اور گفتار و کردار کااختلاف سامنے آتا ہے۔ لیکن رسول پاک ﷺ کا معاملہ یہ ہے کہ ان کی گفتار جتنی پاکیزہ ہے، کردار اتناہی پاکیزہ نظر آتا ہے۔ تعلیم جتنی روشن نظر آتی ہے، سیرت اتنی ہی صیقل دکھائی دیتی ہے۔کہیں پر کوئی جھول یا کسی قسم کا کھوٹ نہیں اوراس میں کوئی شک نہیں کہ آپ واقعی اس اعزاز کے مستحق تھے۔ کیوں کہ وہ کون سا خلق حسن ہے، جو آپ کی ذات گرامی میں نہیں تھا۔ نبوت ملنے سے پہلے ہی لوگ آپؐ کو امین و صادق کہا کرتے تھے۔بقول شاعر؎

تیرے کردار پہ دشمن بھی انگلی رکھ نہیں سکتا
تیرا اخلاق تو قرآن ہی قرآن ہے ساقی

غصے کو دبانا اور ضبط کرنا بڑی اعلیٰ صفت ہے، جو برسوں کی ریاضت کے بعد کسی کو حاصل ہوتی ہے۔ اس کے فضائل بیان کردینا تو آسان ہے، مگر اس پر عمل کرنا بڑا مشکل ہے۔ لیکن آپؐکے اندر یہ اعلیٰ صفت کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی۔اگر سیرت کا مطالعہ غور سے کیا جائے تواس کی مثالیں قدم قدم پر ملیں گی۔ آپؐکی صاحبزادی حضرت زینبؓجب مکہ سے ہجرت کرکے (اونٹ پر سوار ہوکر) مدینہ منورہ کی جانب روانہ ہورہی تھیں تو راستے میں ہبار بن اسود نامی ایک شخص نے انہیں اتنی تیزی سی نیزہ مارا کہ وہ اونٹ سے گرپڑیں۔ ان کا حمل ساقط ہوگیا۔وہ اس صدمے کی تاب نہ لاسکیں اور اللہ کو پیاری ہوگئیں۔ رسول اکرمﷺکو جب اس حادثے کی خبر ہوئی تو آپ بہت غضب ناک ہوئے اور آپؐ کو اس بات سے بہت صدمہ ہوا۔ جب بھی اس حادثے کی یاد تازہ ہوجاتی تو آپؐ آب دیدہ ہوجاتے۔ لیکن جب ہبار بن اسود اسلام لے آئے اور معافی کی درخواست کی، توآپؐنے انھیں معاف کردیا۔
اسی طرح وحشی بن حرب، جن کی ذات سے اسلامی تاریخ کے تلخ ترین حادثے کی یاد وابستہ ہے، جنھوں نے رسول اکرمؐکے محبوب و مشفق چچا کو قتل کیاتھا۔ لیکن جب وہ اسلام قبول کرکے خدمت اقدس میں حاضر ہوئے تو آپؐ نے ان کو معاف کر دیا۔ پھر آپؐنے ان سے حضرت حمزہؓ کے قتل کی کیفیت دریافت فرمائی۔ جب انھوں نے واقعہ بیان کیا تو آپؐپر گریہ طاری ہوگیااور فرمایا: وحشی! تمہارا قصور معاف ہے، لیکن تم میرے سامنے نہ آیا کرو۔ تمہیں دیکھ کر پیارے شہید چچا کی یاد تازہ ہوجاتی ہے۔
چنانچہ نبی کریم ﷺ نے اپنے اخلاقِ حسنہ کی دولت سے تڑپتی انسانیت کی غمخواری کی، اپنے ازلی وابدی دشمنوں کو پتھر کے جواب میں پھولوں کا گلدستہ پیش کیا، نفرت کے اندھیروں میں الفت و محبت کی شمع روشن کی اور آپسی تفرقہ بازی اور دائمی بغض و عداوت کی بیخ کنی کرکے بھائی چارگی اور الفت ومحبت کے چشمے بہائے۔یہی نہیں بلکہ ذرا دو قدم آگے بڑھ کر فتح مکہ کی تاریخ کے اوراق کو الٹ کر دیکھیے کہ آپﷺ مکہ میں فاتحانہ انداز میں داخل ہوتے ہیں۔ صحابہ کرام کی دس ہزار جمعیت آپ کے ساتھ ہے۔ صحابۂ کرام اعلان کرتے ہیں:

’’الیوم یوم الملحمۃ‘‘۔

آج بدلے کا دن ہے۔ آج جوش و انتقام کو سرد کرنے کا دن ہے۔ آج شمشیروسناں کا دن ہے، آج گذشتہ مظالم کے زخموں پر مرہم رکھنے کا دن ہے۔ آج ہم اپنے دشمنوں کے گوشت کا قیمہ بنائیں گے۔ آج ہم ان کی کھوپڑیوں کو اپنی تلواروں پر اچھالیں گے۔ آج ہم شعلہٴ جوالہ بن کر خرمن کفار کو جلاکر بھسم کردیں گے اور گزشتہ مظالم کی بھڑکتی چنگاری کو ان کے لہو سے بجھائیں گے۔لیکن تاریخ شاہد ہے اور زمین و آسمان گواہی دیتے ہیں کہ ایساکچھ نہیں ہوا۔ رحمتِ نبویؐجوش میںآ ئی اور زبان رسالت کی صدائیں لوگوں کے کانوں سے ٹکراتی ہیں:
’’لاتثریب علیکم الیوم واذہبوا انتم الطلقاء‘‘۔
کہ جاؤ تم سب آزاد ہو، تم لوگوں سے کسی قسم کا بدلہ نہیں لیا جائے گا۔ یہ تھاآپؐ کا اخلاق کریمانہ۔یہ تھا آ پ کے اخلاق حسنہ کا اعلیٰ نمونہ، جس کی مثال سے دنیا قاصر ہے۔
ابوسفیان جو عزوئہ بدر، غزوئہ احد اور غزوئہ خندق وغیرہ میں لڑائیوں کا سرغنہ تھا۔ جس نے نہ جانے کتنے مسلمانوں کو تہہ تیغ کرایا، کتنی دفعہ خود حضورﷺ کے قتل کا فیصلہ کیا، جو ہر ہر قدم پر اسلام کا سخت ترین دشمن ثابت ہوا۔ لیکن فتح مکہ کے موقع پر جب حضرت عباسرؓکے ساتھ آپؐ کے سامنے آتاتھا تو اس کا ہرجرم اس کے قتل کا مشورہ دیتا ہے۔ مگر رحمت عالم ﷺ کے اخلاق کریمانہ اور عفو عام ابوسفیان سے کہتے ہیں کہ ڈر کا مقام نہیں، محمدالرسول اللہ ﷺ انتقام کے جذبے سے بالاتر ہیں۔ پھر حضور ﷺ نے نہ صرف اس کو معاف فرمادیا، بلکہ آپ نے یہ بھی فرمایا:
’’من دخل دار أبی سفیان کان آمنا‘‘
(جو ابوسفیان کے گھر میں پناہ لے گا اس کو بھی امن ہے۔)
بلند اخلاق کی ایسی جیتی جاگتی، دائمی اور عالم گیر مثال کیا کوئی پیش کرسکتا ہے؟ یا دنیا نے اپنے معرض وجود کے دن سے اب تک ایسی نظیر دیکھی ہے؟ ہرگز نہیں! یہ فضل خاص ہے جو اللہ رب العزت نے آپؐکو عطا کیاتھا۔ رسالت محمدی ﷺ کی بنیادی ذمہ داری قرآن کی تلاوت اوراس کی تعلیم تھی اور خود حضور ﷺ کی زندگی اس کا عملی نمونہ تھی۔ یہی وجہ ہے کہ ایک طرف اللہ تعالیٰ قرآن کو راہِ راست کی ضمانت قرار دیتا ہے: ’’بے شک یہ قرآن سیدھے راستے پر گام زن کرتا ہے‘‘ (سورۂ بنی اسرائیل) اور دوسری طرف آں حضور ﷺ کی سیرت مبارکہ کو نمونہٴ زندگی بنالینے کی تلقین کرتا ہے کہ تمہارے لیے رسول اکرم ﷺ کی ز ندگی میں بہترین نمونہ ہے۔ مگر اس شخص کے لیے جو اللہ اور قیامت پر یقین رکھتا ہے اور کثرت سے ذکر خدا کرتاہے۔ (سورۂ الاحزاب)
چنانچہ آپؐنے عالم انسانیت کو اخلاقیت کا وہ اعلیٰ نمونہ پیش کیا، جس کی گواہی اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں فرماتا ہے:
’’انک لعلی خلق عظیم‘‘ ۔
علامہ قبال ؒ شاعر مشرق نے اسی لیے تو بال جبرئیل میں واضح کردیا تھا:

وہ دانائے سبل ختم الرسل مولائے کل جس نے
غبار راہ کو بخشا فروغ وادی سینا!
نگاہ عشق و مستی میں وہی اول وہی آخر
وہی قرآن وہی فرقاں وہی یٰسین وہی طٰہ

چنانچہ نبی کریم ﷺ نے اپنے اخلاقِ حسنہ کی دولت سے تڑپتی انسانیت کی غمخواری کی، اپنے ازلی وابدی دشمنوں کو پتھر کے جواب میں پھولوں کا گلدستہ پیش کیا، نفرت کے اندھیروں میں الفت و محبت کی شمع روشن کی اور آپسی تفرقہ بازی اور دائمی بغض و عداوت کی بیخ کنی کرکے بھائی چارگی اور الفت ومحبت
کے چشمے بہائے۔

1 Comment

  1. Shaheen

    Masha Allah

    Reply

Submit a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

مارچ ٢٠٢٢