اپنے بیٹے مدثر کے لیے

اے مری جان، مری آنکھ کے تارے مونی
راحت قلب و جگر، راج دلارے مونی

تم ہی ہو وجہ سکوں، تم ہی مرے دل کا قرار
تم سے قائم ہیں یہ خوش رنگ نظارے مونی

تم مداوائے الم، تم ہی غم دل کی دوا
تم سے وابستہ مرے کیف ہیں سارے مونی

میری امیدوں کے تم سے ہی فروزاں ہیں چراغ
تم مرے شمس و قمر تم ہی ستارے مونی

تم مری قیمتی، نایاب متاع جاں ہو
تم پہ ماں اک نہیں سو جان بھی وارے مونی

تم مرے گلشن ہستی کا ترو تازہ گلاب
دیکھے ہر پھول جسے رشک کے مارے مونی

تم سے معدوم ہوئی شدت کرب ہجرت
پائے گُر تم نے مسیحائی کے سارے مونی

تم مری جان غزل، شعر و سخن کے محور
میرے شعروں میں ہیں مضمون تمہارے مونی

0 Comments

Submit a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

مارچ ٢٠٢٢