شب معراج عقل ہے محو ِتماشہ لبِ بام ابھی
زمرہ : النور

سُبۡحٰنَ الَّذِیۡۤ اَسۡرٰی بِعَبۡدِہٖ لَیۡلًا مِّنَ الۡمَسۡجِدِ الۡحَرَامِ اِلَی الۡمَسۡجِدِ الۡاَقۡصَا الَّذِیۡ بٰرَکۡنَا حَوۡلَہٗ لِنُرِیَہٗ مِنۡ اٰیٰتِنَا ؕ اِنَّہٗ ہُوَ السَّمِیۡعُ الۡبَصِیۡرُ

(بنی اسرائیل:17)

’’ پاک ہے وہ جو لے گیا ایک رات اپنے بندے کو مسجد حرام سے دور کی اس مسجد تک جس کے ماحول کو اس نے برکت دی ہے ، تاکہ اسے اپنی کچھ نشانیوں کا مشاہدہ کرائے ۔ در حقیقت میں وہی سب کچھ سننے اور دیکھنے والا ہے۔‘‘

رجب المرجب کا مہینہ اس اعتبار سے بہت اہمیت حاصل ہے کہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے اس ماہِ مقدس میں نبی اکرمﷺکو معراج عطا فرمائی۔واقعۂ معراج نبی کریم ﷺ کی حیات مبارکہ کا ایک منفرد، ممتاز اور عظیم الشان معجزہ ہے۔ یہ ایک طرف رب ذوالجلال کی قدرت کاملہ کا ظہور ، الٰہی معجزہ، صداقت ونبوت کی آیت ونشانی ہے تو دوسری طرف اپنے اندر بے شمار عبرت وموعظت اور دروس ونصائح کے خزانے سے معمور اور عقیدہ وعمل کے بیش بہا موتیوں سے مالا مال ہے۔ اس واقعہ میں عقیدے کی اصلاح بھی ہے اور بہت سے معاشرتی آداب کی تعلیم بھی۔ یہ واقعہ رب کریم کے ساتوں آسمانوں کے اوپر اپنی مخلوق سے الگ اپنے عرش پر مستوی ہونے کی مضبوط ومستحکم دلیل بھی ہے اور اقامت صلوٰۃ کی ترغیب بھی۔

سفر معراج کے مراحل:

سب سے پہلا مرحلہ مسجد الحرام سے مسجد الاقصی (قبلۂ اول بیت المقدس) تک ہے۔اس سفر کے لیے آپؐ کو سواری کے لیے براق پیش کیا گیا۔ آپؐ براق پر سوار ہوئے اور جبریلؑ آپؐ کے ساتھ چلے۔ اس مرحلہ کی پہلی منزل مدینہ تھی، جہاں اتر کر آپؐ نے نماز پڑھی۔ دوسری منزل طورِ سینا کی تھی، جہاں خدا حضرت موسیؑ سے ہم کلام ہوئے۔ تیسری منزل بیت لحم کی تھی، جہاں حضرت عیسٰیؑ پیدا ہوئے۔ چوتھی منزل پر بیت المقدس تھا، جہاں براق کا سفر ختم ہوا۔
اس سفر کے دوران یہودیت و عیسائیت کے داعی، دنیا اور شیطان نے آپ ؐ کو متوجہ کرنے کی ناکام کوششیں کیں۔ اس سفر کا دوسرا مرحلہ بیت المقدس سے سدرۃ المنتہیٰ تک ہے ۔بیت المقدس پہنچ کر آپؐ نے تمام انبیاءؑ اکرام کی امامت فرمائی ۔ نماز پڑھانے کے بعد آپؐ کے سامنے تین پیالے پیش کیے گئے ۔ ایک میں پانی، دوسرے میں دودھ اور تیسرے میں شراب تھا۔ آپؐ نے دودھ کا پیالہ اٹھا لیا۔ جبرئیلؑ نے مبارکباد دی کہ آپؐ فطرت کی راہ پا گئے۔اس کے بعد ایک سیڑھی آپ کے سامنے پیش کی گئی اور جبرئیلؑ اس کے ذریعہ سے آپؐ کو آسمان کی طرف لے چلے۔ اس مرحلہ میں رسول اللہ ﷺ نے تمام آسمانوں پر مختلف انبیاء کرام سے ملاقاتیں کیں اور ہر آسمان پر آپ کا شایانِ شان استقبال ہوا۔
رسول اللہ ﷺ کی معراج کا سب سے اہم مرحلہ تیسرا مرحلہ ہے۔یہ سدرۃ المنتہی سے لے کر وصال ربوبیت کا مرحلہ ہے،جہاں آپؐ کو اللہ جل جلالہ سے ہم کلامی کا شرف بخشا گیا۔

سفر معراج کے مشاہدات:
اس سفر میں آپؐ کو جنت و دوزخ کا تفصیلی مشاہدہ کا موقع دیا گیا۔اگرچہ وہ مشاہدات تمثیلی انداز میں تھے، لیکن ان کے اندر ہماری روزمرہ کی زندگی کے لیے بہت سے اسباق ہیں۔ آپؐ نے مشاہدہ کیا کہ مجاہدین فی سبیل اللہ کا اجر ان کھیتیوں کی مانند ہے جن پر خزاں کا موسم اثر نہیں کرتا۔ نمازوں سے غفلت کا انجام، سود خور اور یتیم کا مال کھاجانے والے اور اپنے مال کو سینت سینت کر رکھنے والے سخت عذاب میں مبتلا تھے۔

سفر معراج کے تحائف:

جب سدرۃ المنتہیٰ پر جبرائیلؑ ٹھہر گئے اور آپؐ تنہا آگے بڑھے۔ جو باتیں وہاں ارشاد ہوئیں، ان میں سے چند درج ذیل ہیں:
1۔ہر روز پچاس نمازیں فرض کی گئیں، جسے بعد میں کم کر کے پانچ کردی گئیں۔ لیکن ثواب پچاس نمازوں کا ہی ملے گا۔
2۔ سورۃ البقرۃ کی آخری دو آیایتوں کی تعلیم فرمائی گئی۔
3۔شرک کے سوا دوسرے سب گناہوں کی بخشش کا امکان ظاہر کیا گیا۔
4۔ارشاد ہوا کہ جو شخص نیکی کا ارادہ کرتا ہے تو اس کے حق میں ایک نیکی لکھی جاتی ہے اور جب اس پر عمل کرتا ہے تو دس نیکیاں لکھی جاتی ہے ۔جو برائی کا ارادہ کرتا ہے تو اس کے خلاف کچھ نہیں لکھا جاتا ۔ اس پر عمل کرتا ہے تو ایک ہی برائی لکھی جاتی ہے اور توبہ کرنے پر اس برائی کو بھی بخش دیا جائے گا۔
معجزہ ٔمعراج اور جدید سائنس و ٹیکنالوجی:
1905ء میں جدید دنیا کے سائنس دان البرٹ آئن سٹائن نے theory of relativity پیش کی۔اس تھیوری میں آئن سٹائن نے واضح کیا کہ Time and space کی تمام مشکلات اس نظریے کے مکمل ادراک کے بغیر سمجھنا ناممکن ہے۔ آئن سٹائن برسوں سوچ بچار اور تحقیق کے بعد اس نتیجے پر پہنچا کہ روشنی کی نوّے فیصد رفتار سے سفر کرنے والے جسم کا حجم نصف رہ جاتا ہے اور اس کے ساتھ وقت کی رفتار بھی نصف رہ جاتی ہے۔ اس کو سادہ مثال سے سمجھ لیں کہ اگر کوئی شخص کسی ایسے خلائی جہاز میں جو روشنی کی نوّے فیصد رفتار سے دس سال سفر کرے تو اس شخص پر زمین کے مقابلے میں فقط پانچ سال گزریں گے۔ اس کی وجہ یہ کہ انسانی جسم کے اس قدر تیز سفر کرنے سے انسان کا مکمل نظام تنفس آہستہ ہو جائے گا اور اس پر وقت کم گزرے گا۔ اس نظریے کو سائنس جاننے والے بخوبی سمجھ سکتے ہیں۔مکمل تفصیل بیان کرنا پیش نظر نہیں ہے۔ اس نظریے کا سب سے اہم نکتہ یہ ہے کہ ’’اگر کوئی شخص روشنی کی رفتار سے سفر کرنے میں کامیاب ہو جائے تو اس پر وقت بالکل رک جائے گا۔‘‘ اگرچہ اس رفتار سے سفر کرنا انسان کے اختیار میں نہیں، لیکن اللہ تعالیٰ جو وقت، رفتار، روشنی اور سارے جہان کا خالق ہے، وہ اگراپنی قدرت خاص سے کسی کو اس رفتار سے سفر کروا دے تو اس شخص پر وقت تھم جائے گا۔ اور یہ بات صحیح احادیث سے ثابت ہے کہ معراج کے لیے برّاق کو بھیجا گیا تھا۔
شب معراج کی عبادت:

واقعۂ معراج کس مہینہ اور کس شب میں پیش آیا؟اس حوالے سے مختلف اقوال منقول ہیں۔اپنی طرف سے یقینی طور پر متعین کرکے کسی رات کو شبِ معراج قرار دینا درست نہیں ہے۔عوام میں مشہور یہ ہے کہ یہ رجب کی ستائیسویں رات ہے۔ تاہم اس شب میں خصوصیت سے کوئی الگ نماز یا عبادت کسی صحیح حدیث سے ثابت نہیں اور خصوصیت کے ساتھ اس رات میں عبادت کا اہتمام کرنا اور لوگوں کو ترغیب دینا درست نہیں۔

پیغامِ معراج:
روایات کے مطابق معراج کا واقعہ مکی زندگی کے بالکل اواخر میں پیش آیا۔ یہ وہ مرحلہ تھا، جب مکہ ظلم کی ایک ایسی وادی بن چکا تھا، جہاں پر مسلمانوں کے لیے مزید رہنا انتہائی دشوار ہو رہا تھا۔ کفارِ مکہ نے یہ طے کر لیا تھا کہ وہ نبی اکرمﷺ اور اہلِ ایمان کو ایسی پرتشدد زندگی سے گزاریں گے کہ ان کی طاقت ختم اور ان کی برپا کردہ اسلامی تحریک بے جان ہو جا ئے گی۔ اہلِ مکہ سے مایوس ہو کر حضورﷺ طائف گئے، لیکن وہاں کے باشندوں نے بدسلوکی، بربریت اور ظلم کی وہ داستان رقم کی کہ انسانیت کا سر شرم سے جھک گیا۔ یہ وہ پس منظر تھا جس میں واقعۂ معراج پیش آیا ،جو اس بات کی طرف اشارہ تھا کہ اے محمدﷺ ! گھبرانے کی کو ئی ضرورت نہیں۔ اگر وقتی طور پر فرش والے آپ کے ساتھ نہیں ہیں تو کوئی با ت نہیں ہے، عرش والا تو ہر حال میں آپ کے ساتھ ہے۔ اس کے ساتھ ہی اللہ تعالیٰ کفارِ مکہ اور سردارانِ طائف کو یہ بتانا چاہتے تھے کہ اللہ تعالیٰ کی بے پناہ قوت، حضرت محمدﷺ اور ان کی تحریک کے ساتھ ہے۔ وہ اللہ جو انہیں ایک رات میں مکۃ المکرمہ سے بیت المقدس تک لے جاسکتا ہے، اس کی طاقت کے سامنے تمہاری طاقت ایک رائی کے دانے کے برابر حیثیت نہیں رکھتی۔ وہ جلد ہی تمہاری طاقت کا طلسم توڑ کر اپنے پیارے نبیؐ کو سرخرو اور فاتح کر دے گا۔ اس واقعے کے اندر حضرت محمدﷺ کے لیے بھی بہت زیادہ تسلی و تشفی کا سامان تھا۔
واقعۂ معراج کی تفصیل قرآنِ مجید کے علاوہ احادیث اور سیرت کی کتابوں میں منقول ہے، لیکن اس کے دو پہلو انتہائی اہمیت کے حامل ہیں۔ اس کا ایک پہلوتو وہ تحائف ہیں، جو حضور ﷺ کو اپنی امت کے لیے عطا ہو ئے اور دوسرے وہ مشاہدات ہیں جو نبیﷺ کو اس لیے کرائے گئے تاکہ مسلمان ان کی روشنی میں اپنی زندگی کا نظام استوار کرسکیں۔
واقعۂ معراج کے دوران نبی اکرم ﷺ کے مشاہدات مسلمانوں کے اعمال و افعال کی اصلاح میں بہت زیادہ معاون ہو سکتے ہیں۔ یہ مشاہدات یہ درس دیتے ہیں کہ نیک اعمال کرنے والوں کے لیے اللہ تعالیٰ کی رحمتیں، عنایتیں اور برکتیں اس دنیا سے لے کر عالمِ آخرت تک جاری و ساری رہتی ہیں۔ جب کہ بُرے اعمال کا ارتکاب کرنے والے دنیا و آخرت میں اللہ تعالیٰ کے غضب کے مستحق قرار پاتے ہیں۔

رجب المرجب کا مہینہ اس اعتبار سے بہت اہمیت حاصل ہے کہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے اس ماہِ مقدس میں نبی اکرمﷺکو معراج عطا فرمائی۔واقعۂ معراج نبی کریم ﷺ کی حیات مبارکہ کا ایک منفرد، ممتاز اور عظیم الشان معجزہ ہے۔ یہ ایک طرف رب ذوالجلال کی قدرت کاملہ کا ظہور ، الٰہی معجزہ، صداقت ونبوت کی آیت ونشانی ہے تو دوسری طرف اپنے اندر بے شمار عبرت وموعظت اور دروس ونصائح کے خزانے سے معمور اور عقیدہ وعمل کے بیش بہا موتیوں سے مالا مال ہے۔

ویڈیو :

آڈیو:

1 Comment

  1. کلیم احمد خاں جیپورراجستہان

    ترجمہ میں مسجد حرام سے مسجد اقصا کا نام لیا گیا ہے،
    آپ نے اس کا نام کیوں بدل دیا

    اگر مولانا مودودی نے ایک غلطی کر دی تو آپ اسے کیوں دوہرانا چاہتے ہو،

    Reply

Submit a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

مارچ ٢٠٢٢