خواتین کی بیداری ہی یوپی انتخابات میں اہم کردار اداکرے گی
جواہر لال نہرو کا ایک مشہور قول ہے کہ: ’’لوگوں کو جگانے کےلیے خواتین کا جاگنا ضروری ہے۔اگر وہ جاگ گئیں تو خاندان آگے بڑھتا ہے،گاؤں آگے بڑھتا ہے اور ملک ترقی کی طرف گامزن ہوتاہے ۔‘‘
اتر پردیش میں بڑھتے ہوئے خواتین کے خلاف جرائم کو دیکھتے ہوئے ہمیں یہ محسوس ہوتاہےکہ یوپی کی خواتین کو اپنے صوبےکوآگےبڑھانے کے لیےجاگنا ہوگا اور اگر اس وقت وہ نہیں جاگیں تو پھرشاید پانچ سال پچھتانا ہی پڑے۔ NCRB کے ڈیٹا کے مطابق خواتین کے خلاف جرائم کی شرح کے معاملے میں یوپی پہلے نمبر پر ہے ۔2019 میں خواتین کے خلاف جرائم کی کل 405,861معاملے درج ہوئے،جس میں سے صرف اترپردیش میں 59,853معاملے درج کیے گئے تھے ۔یہ اعدادوشمار ملک میں کل معاملوں کا 14.7فیصد ہے۔جو کسی بھی اسٹیٹ کے مقابلے میں بہت زیادہ ہے۔ اس کے بعد راجستھان میں41,550معاملے(10.2%)، مہاراشٹر میں 37,144 معاملے (10.2%) درج کیے گئے ۔
اسی طرح سال 2018 میں اتر پردیش میں خواتین کے خلاف جرائم کے 59,445معاملے اور سال 2017 میں 56,011معاملے سامنے آئے تھے۔ اس سے پتا چلتا ہے کہ سال در سال اسٹیٹ میں خواتین کے خلاف جرائم کے معاملے بڑھتے ہی جارہے ہیں۔
2020 میں اتر پردیش میں 2,769زنا کے معاملے درج ہوئے۔ 2021میں قومی خواتین کمیشن کی جاری کردہ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پچھلے سال گھریلو تشدد سے جڑی سب سے زیادہ شکایت اترپردیش سے ملیں۔ اتر پردیش میں خواتین کے خلاف جرائم کی سب سے زیادہ 15,828
شکایت درج کی گئیں۔ اس کے بعد دلی میں 3,336،مہاراشٹر میں 1,504،ہریانہ میں 1,460 اوربہار میں 1,456 شکایت درج کی گئیں۔ لیکن ان سب کے باوجود اس بار کے ودھان سبھا چناؤ میں خواتین کی حفاظت کامسئلہ غائب ہے۔ جب کہ الیکشن کمیشن کے الیکٹورل رول ڈیٹا کے مطابق یو پی میں 14.51کروڑ ووٹرہیں، جس میں 7.85کروڑ مرد اور 6.66کروڑ خواتین ہیں۔ یعنی اترپردیش کے کل ووٹرز میں 45 فیصد ووٹرز ہیں، جو سیاست کی بساط الٹنے کا دم رکھتے ہیں۔
خواتین ووٹرز کو لبھانے کے لیے کانگریس پارٹی نے اس چناؤ میں ایک مہم جاری کی ہے کہ ’’لڑکی ہوں، لڑ سکتی ہوں!‘‘ خواتین کو بااختیار بنانے والے اس نارے نے کیچڑ اچھالنے والی سیاست میں ایک اچھا پیغام ضرور دیا، لیکن کیا اس سے خواتین ووٹرز کا کانگریس کی اور رجحان بڑھے گا، یہ تو وقت ہی بتائے گا۔ لیکن اس نعرے نے خواتین کو اپنی اور متوجہ ضرور کیا ہے۔ اس کے علاوہ کانگریس نے خواتین کو متوجہ کرنے کے لیے ایک اور داؤ کھیلا ہے۔ وہ یہ کے اترپردیش میں جتنے بھی امیدوار بنائے ہیں، ان میں سے چالیس فیصد خواتین کو ٹکٹ دیا ہے اورطلبہ کو اسکوٹی اور اسمارٹ فون دینے کا بھی پرینکا گاندھی کی طرف سے وعدہ کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ ابھی تک کسی اور پارٹی کی طرف سے خواتین کولے کر کوئی بڑی کوشش نہیں کی گئی ہے۔
ایسے میں اتر پردیش کی خواتین کو اس بار ہوشمندی کے ساتھ اپنے ووٹ کا استعمال کرنا ہوگا۔ کیوں کہ ریاست میں اس وقت جو سب سے بڑا مدعا ہے،وہ خواتین کے خلاف بڑھتے جرائم کا ہے۔ایسے میں سبھی سیاسی پارٹیوں کا یہ سب سے بڑامدعا ہونا چاہیے۔ لیکن الزام تراشی کی سیاست میں اس مدعے کو کنارے کر دیا گیا ہے۔ اس کی ایک وجہ سیاست میں خواتین کی نمائندگی کا کم ہونا ہے اور یہ پورے بھارت کا ایک اہم مسئلہ ہے۔ بھارت میں ووٹرز کے جنسی تناسب(1000 مرد ووٹرز پر خواتین ووٹرز کی تعداد) میں 1960 کے تناسب میں 715 سے بڑھ کر 2000 کے تناسب میں 883 تک اضافہ ظاہر کرتی ہے اور 2019 کے عام انتخابات میں پہلی بار مردوں کے مقابلے میں خواتین کے ذریعےمزید ووٹ ڈالنے کےامکانا ت تھے۔ پھر بھی خواتین کوسیاسی طور پر خصوصی سیاسی سرگرمیوں، عوامی سرگرمیوں، جیسے انتخابی مہم یااحتجاج وغیرہ میں حصہ لینے یا کسی سیاسی پارٹی کے ساتھ پہچان قائم کرنے کے امکان کم ہوتے ہیں۔
2017 اترپردیش ودھان سبھا انتخاب میں 42 خواتین نے کام یابی حاصل کی۔ ضمنی الیکشن میں ملی کام یابی کے بعد یہ تعداد بڑھ کر 44 ہو گئی۔ ان میں سے بھاجپا سے 37، سپا، بسپا، کانگریس سے دو،دو، اپنا دل سے ایک خاتون ودھایک ہے۔ سنسد میں یوپی سے صرف 11 خواتین پہنچیں، جن میں سے بھاجپا سے8، کانگریس، بسپا اور اپنا دل سے ایک، ایک سانسد شامل ہے۔
انتخابات میں خواتین سے جڑی پریشانیاں اہم انتخابی مسئلہ نہیں بن پاتیں۔ اس لیے خواتین ووٹرز کو ہی ہوشیاری کے ساتھ ووٹ دینا ہوگا۔ پردیش میں پچھلی دو دہائیوں سے خواتین ووٹرز نے حکومت بنانے میں اہم رول ادا کیا ہے۔
2012 کے ودھان سبھا چناؤ میں پہلی بار خواتین کا ووٹنگ فیصد مردوں سے زیادہ تھا۔ خواتین کا ووٹنگ فیصد 60 فیصد تھا۔ اکھلیش یادو نے لڑکیوں کو مفت تعلیم اور خواتین کو ساڑی بانٹنے کا وعدہ کیا تھا، جس کانتیجہ یہ ہوا کہ سماجوادی پارٹی پہلی بار حکومت میں آئی اور اس نے 403 میں سے 224 سیٹیں حاصل کر لیں۔اسی طرح 2017 میں جب انتخاب ہوئے تو بھاجپا نے گریجویشن تک لڑکیوں کو مفت تعلیم دینے کی بات کہی۔ ہر گھر میں ٹوائلٹ اور گیس کنکشن کا وعدہ بھی کیا۔ 2012 کے مقابلے میں خواتین کا ووٹنگ فیصد 4% اور بڑھ گیا اور بھاجپا 312 سیٹیں جیت کر حکومت میں آگئی۔
اکثریت تک پہنچانے میں فیصلہ کن کردار نبھانے والی خواتین آبادی کی قابل رحم حالت یہ دکھاتی ہے کہ سماج چاہے جتنا پیش رفت کرلے، لیکن خواتین کی حالت پر پدرانہ سوچ ہمیشہ ہاوی رہتی ہے۔مردانہ غلبے والا معاشرہ ان کی حالت سدھارنا ہی نہیں چاہتا اور سیاسی قیادت میں بھی یہ پدرانہ سوچ حاوی ہے۔ جب کہ آزادی کی لڑائی سے لے کر دیش کی سیاست میں ہمیشہ جب بھی موقع ملا تو خواتین نے اپنی سوچ بوجھ کا لوہا منوایا ہے۔ آج بھی بیرونی ممالک میں بھارت کو اندرا گاندھی کے نام سے جانا جاتا ہے، لیکن اس کے باوجود خواتین کی قیادت نے اور خواتین کی سیاست میں برابرشرکت دن پر دن کم ہوتی جا رہی ہے اور ملک میں خواتین کے خلاف جرائم لگاتار بڑھتے جا رہے ہیں۔ ایسے میں یہ ودھان سبھا الیکشن میں 45 فیصد وورٹرز کے لیے ایک موقع ہے، جو پردیش میں خواتین کی حالت کو سدھارنے میں کام آ سکتا ہے۔

انتخابات میں خواتین سے جڑی پریشانیاں اہم انتخابی مسئلہ نہیں بن پاتیں۔ اس لیے خواتین ووٹرز کو ہی ہوشیاری کے ساتھ ووٹ دینا ہوگا۔
پردیش میں پچھلی دو دہائیوں سے خواتین ووٹرز نے
حکومت بنانے میں اہم رول ادا کیا ہے۔

0 Comments

Submit a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

مارچ ٢٠٢٢