کیا ہم آپ کا میموری کارڈ ہیں؟

بہن توبہ کرکے ایک بات بتاتی ہوں۔ کسی سے ذکر نہ کرنا۔ اپنا سمجھ کر بتارہی ہوں…..اور پھر داستان شروع…..
جاتے ہوئے….. ہاں! کسی سے ذکر نہ کرنا۔ بہن سمجھ کر آپ کو بتادیا۔
جب آپ سے کوئی اپنی بات سنا کر کہتا ہے کہ کسی سے مت بتانا ۔تو سوال یہ ہے کہ پھر اس بات کا کب تک ڈاٹا جمع رکھنا ہے؟
کب تک اسے ڈلیٹ نہ کریں؟
کیا ہم آپ کا میموری کارڈ یا ہارڈ ڈسک ہیں؟
سچ پوچھیں تو ایسے بے بنیاد باتیں، جس کے سننے اور توجہ دینے میں نہ ہمارا بھلا ہے نہ آپ کا، وہ صرف مائنڈ کا اسپیس لیتی ہیں اور دماغ اکثر ہینگ ہونے لگتا ہے۔
بات صاف صاف کرتے ہوئے اگلے بندے سے کہیے کہ جو بات آپ سنارہے ہیں( میری عادت ہے کہ نفس مسئلہ سے لازماً کہوں گی)بطور چغلی ہم سے کچھ نہ کہیں۔اصلاح کروانی ہو تو بات بتائیں یا ہمیں معاف فرمادیجیے گا۔ ہم خواہ مخواہ ڈیٹاجمع نہیں رکھتے۔ اس طرح جب آپ کی شخصیت کا تأثر بنے گا تو یقین کریں کہ بامقصد لوگ آپ سے ملیں گے۔
کسی کی بات سن کر پیٹ میں رکھنا ایک برائی ہی ہے۔ بات سنی جائے، اس لیے کہ دو لوگوں کے درمیان صلح مقصود ہویا بات سننے کی وجہ مشورہ مقصود ہو کہ آپ سے مشورہ طلب کیا جائے۔ اس ضمن میں بات بھی بتائی جارہی ہے یا بات سننے کی وجہ کسی کی کاؤنسلنگ مقصود ہو۔
کسی سے ذکر نہ کرنا کہتے ہوئے کوئی کچھ کہے تو سمجھ لیجیے کہنے والے نے آپ کو میموری کارڈ سمجھ کر استعمال کرنے کا تہیہ کرلیا ہے۔ اس سے پہلے کہ وہ کچھ کہے، آپ معذرت کرلیجیے۔
اس تکنیک نے ہمیں بڑا سکون بخشا ہے۔ کوئی ہمیں اپنی بات بتاکر یہ نہیں کہہ سکتا کہ کسی سے نہ کہنا۔ اِن کیس اگر کوئی ہم سے کہے کہ کسی کو بتانا مت، تب ہم فوراً سوال کریں گے کہ ہم سے بتانے کا مقصد کیا ہے؟
ہاں صلاح مانگنی ہو،مشورہ طلب کرنا ہویا صلاح کروانا مقصود ہو، تب توجہ کرتے ہیں۔ اس سے ہم نے ادھر ادھر دیکھ کر چغلی کرنے والوں سے نجات پالی ہے یا ’خدا معاف کرے‘ کہہ کر شروع کرنے والوں سے بھی اللہ نے محفوظ رکھا ہے۔
سچ کہیں تو لوگ بات رکھنے کے لیے اکسا اکسا کر پوچھتے ہیں اور محظوظ ہوتے ہیں اور کسی کا راز رکھنے کی احادیث سناتے ہیں۔ کوئی انہیں سمجھائے کہ کوئی راز از خود ہاتھ آجائے تو پردہ رکھیں۔ کسی کے درمیان تعلق کی ابتری کے قصے اکسا اکسا کر پوچھ کر سننا نہایت مہمل عمل ہے۔ نہ کھوج کرکے پوچھے گئے راز، راز ہیں اور نہ رازداری سے بتاکر نہ بتانے کی تلقین راز ہے۔

0 Comments

Submit a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

مارچ ٢٠٢٢