دسمبر٢٠٢٢
معذورینِ ہندوستان
انسانی جسم میں کسی بھی عضو ،یا جسم کے کسی بھی حصے یا جسمانی صحت کے بنیادی اُصول سے محرومی کے حامل افراد معذور کہلاتے ہیں۔ یعنی انسان کے جسمانی اعضاء کو ایسی چیز کا عارض ہونا جن سے اُس کے مزاج میں فرق واقع ہو اور اُس کی کارکردگی آنے والے فرق سے متاثر ہو، اسے معذوری کہتے ہیں۔ جبکہ ماہرینِ طب کے مطابق ہر وہ شخص جس کے لیے عارضی نہیں بلکہ مستقل بنیادوں پر عام کاروبارِ زندگی میں حصہ لینا محدود بن جائے، اُسے معذور کہتے ہیں۔ ہمارا ملک ہندوستان دنیا کے ان ممالک میں سے ایک ہے، جن میں معذور افراد کی تعداد سب سے زیادہ ہے۔ ہندوستان کی مردم شماری 2011ء کے مطابق ہمارے ملک میں2.68 کروڑ معذورافراد ہیں، جن کا ہماری آبادی میں کل حصہ 2.21فی صد ہے، جس کے سبب معذور افراد کو نت نئی پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جن میں سے ایک معذورین کے لیے تعلیم کے حصول میں درپیش مسائل بھی ہیں۔ یوں تو تعلیم ہر بچے کے مستقبل کو سنوارتی ہے، انہیں خودمختار زندگی گزارنے کے علاوہ پیشہ ورانہ اور سماجی زندگی کے لیے تیار کرتی ہے، بلکہ تعلیم تو ہر انسان کا بنیادی حق ہے، لیکن یہ حقیقت ہے کہ وہ افراد جو کسی نہ کسی جسمانی یا ذہنی معذوری کا شکار ہیں، ان کی تعلیم کے حصول کی راہ میں رکاوٹیں حائل ہیں،جس کے سبب روزانہ بہت سی مختلف قسموں کی رکاوٹوں اور تکالیف کا انہیں سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس لیے تعلیم کا نظم و نسق اور معذوری سے نمٹنے کا راستہ تلاش کرنے کی ضرورت ہے، تاکہ معذوری میں مبتلا افراد کو باوقارزندگی گزارنے کے لیے بااختیار بنایا جا سکے۔
معذوری کے اقسام
معذوری کسی بھی قسم کی ہو سکتی ہے، ذہنی بھی اور جسمانی بھی، پیدائشی بھی ہوسکتی ہے اور حادثاتی بھی۔ انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن (International Labor Organization) کی رپورٹ کے مطابق دنیا میں تقریباً ایک ارب افراد کسی نہ کسی قسم کی معذوری کا شکار ہیں۔ ماہرین کے مطابق معذوری تین قسم کی ہوتی ہے۔ جسمانی معذوری، ابلاغی معذوری اور دماغی معذوری ۔
(1)جسمانی معذوری: جسم میں ایسا نقص، زخم یا عیب کا پایا جانا جو انسانی زندگی کے معمولات سر انجام دینے میں رکاوٹ پیدا کرتے ہیں،وہ جسمانی معذوری کہلاتے ہیں۔
(2) ابلاغی معذوری: قوتِ گویائی یا سماعت میں کمی یا مکمل طور پر اس صلاحیت کا نہ ہونا ابلا غی معذوری کہلا تاہے۔ ( زبان کی معذوری کا شکار ایک شخص بالکل ہی گونگا ہو سکتا ہے، جب کہ دوسرا شخص محض ہکلاتا ہے یا پھر اس کی زبان میں توتلاہٹ ہوتی ہے۔)
(3) دماغی معذوری: دماغی امراض اکثر اوقات بچپن سے لاحق ہو جاتے ہیں اور بعض دفعہ ان کا سبب زندگی میں پیش آنے والے تلخ حادثات اور واقعات بھی بن جاتے ہیں ۔ اسی طرح دیگر امراض اور معذوریاں اپنی ہیئت اور نوعیت میں ہر شخص اور ہر فرد کے لیے ممکنہ طور پر مختلف ہو سکتے ہیں۔ اس کی وجہ سے تعلیم و تربیت گاہیں ایسے افراد کے لیے مختلف ہو سکتی ہیں۔ یعنی چاہے بچہ کسی بھی صورتحال کا شکار ہو، تعلیم اس کا حق ہے۔
ہندوستان میں معذورین کی تعلیم کا نظم و نسق
دنیا بھر میں کی جانے والی تحقیقات سے معلوم ہوتا ہے کہ معذوری کے شکار بچوں کو الگ تھلگ اداروں میں پڑھانے کے بجائے مرکزی دھارے کے اسکولوں میں پڑھانا چاہیے۔ یہ سب بچوں کے لیے بہتر ہے۔ جبکہ کچھ ممالک میں ابھی بھی اس حوالے سے بحث ہے کہ شدید چیلنجز کے شکار بچوں کو الگ اداروں میں پڑھایا جائے، مگر معمولی یا درمیانے درجے کے چیلنجز کے شکار بچوں کو مرکزی دھارے کے اسکولوں میں پڑھانا نہایت اہم ہے۔ حال ہی میں برطانوی حکومت نے جسمانی معذوری کے حوالے سے ایک عالمی سربراہی کانفرنس منعقد کی تھی۔ اس ایونٹ کے شریک میزبان کئی بین الاقوامی تنظیمیں تھیں۔ اس عالمی سربراہی کانفرنس کا ایک نہایت اہم حصہ مشمولہ تعلیم تھی،یعنی ’’تعلیم تمام بچوں کے لیے۔‘‘مانا یہ جاتا ہے کہ معذورین کو مرکزی دھارے کے اسکولوں میں ہی سنبھالا جاسکتا ہے۔ عموماً معذور بچوں کے اسکول جانے کے امکانات کم ہوتے ہیں، معذوری سے دوچار بچے وسائل کی کمی کے باعث اساتذہ کی کمی اور بعض جسمانی رکاوٹوں کی وجہ سے اسکول جانے کی حوصلہ شکنی کرتے ہیں۔ اس لیے اساتذہ کی اس حوالے سے تربیت ہونی چاہیے کہ وہ اسکولوں میں ایسے بچوں کی شناخت کریں جو کسی چیلنج کے شکار ہوں، تاکہ انہیں تشخیص کے لیے میڈیکل سسٹم کی جانب بھیجا جاسکے ، جس سے معذور بچوں کو مؤثر مدد فراہم کرنا سہل ہو سکے گا۔ اس کے علاوہ اساتذہ کو یقینی بنانا چاہیے کہ تمام بچوں کے ساتھ منصفانہ سلوک ہو، کسی کو ہراساں نہ کیا جائے نہ ان پر کوئی ہاتھ اٹھائے۔ وہ بچے جو چیلنجز کے شکار ہوتے ہیں، انہیں اضافی مدد و حمایت کی ضرورت بھی پڑے گی۔ ہوسکتا ہے کہ یہ اساتذہ کی جانب سے اضافی وقت اور کوشش کی صورت میں ہو۔ اس لیے معذور بچوں کے لیے اساتذہ کی ٹریننگ بھی ضروری ہے۔ بھارت کے آئین کے مطابق ، ایکٹ41 کہتا ہے کہ سرکار کو معذورین کے لیے ہمہ وقت تیار ہوکر کچھ نہ کچھ کرتے رہنا چاہیے۔ وہیں اگر ہم ابتدائی تعلیم کی بات کریں تو دھارا RTI کے تحت6 سے14 سال کے بچوں کے لیے تعلیم مفت اورلازمی ہے۔ جبکہ پرائیوٹ اسکولوں میں 25 فی صدریزرویشن معذورین کے لیے مخصوص ہے۔ حکومتِ ہندوستان نے معذور افراد کے حقوق سے متعلق ایکٹ RPWD act 2016 بھی بنایا ہے جس کانفاذ19 اپریل 2017ءسےہوگیا۔ یہ ایکٹ دیگر چیزوں کے ساتھ ساتھ سرکاری ملازمتوں میں 5فی صد ریزرویشن فراہم کرتا ہے ، ان کے لیے قابل رسائی فیچرز قائم کرتا ہے، معذوری سےمتعلق مرکزی اور ریاستی مشاورتی بورڈ کے ذریعے فیصلہ سازی کے عمل میں PWDs کی شراکت داری ، شمولیاتی تعلیم وغیرہ فراہم کرتا ہے۔
مذکورہ ایکٹ کی دفعہ12 خاص طور سے انصاف تک رسائی کو یقینی بناتا ہے، جو دیگر چیزوں کے ساتھ ساتھ حکومت کوگواہیاں درج کرنے، معذور افراد کے ذریعے اپنی زبان میں دی گئی دلیل یارائے اور رابطے کے ذرائع کا حق فراہم کرتا ہے۔
معذورین کی تعلیم سے متعلق اقوام متحدہ کا فیصلہ
اندازے کے مطابق دنیا بھر میں معذور بچوں کی تعداد 9 کروڑ90 لاکھ کے لگ بھگ ہے۔ ان کی معذوری کے باعث خدشہ ہے کہ یہ بچے کہیں تعلیم جیسے بنیادی حق سے محروم نہ رہ جائیں۔ اقوامِ متحدہ کے پائیدار ترقی کے اہداف 2030ء میں ایک ہدف تمام انسانوں کے لیے معیاری اور مساوی تعلیم کا حصول بھی شامل ہے۔ البتہ ایجوکیشن کمیشن 2016ء کی رپورٹ کے مطابق کم اور درمیانی آمدنی والے ملکوں میں3کروڑ 25 لاکھ معذور بچے اسکول سے باہر ہیں۔
1982ء میں اقوام متحدہ نے معذور افراد کے حقوق کو انسانی حقوق کا درجہ دیتے ہوئے تمام ممالک سے مطالبہ کیا کہ معذور افراد کو صحت ،تعلیم اور ملازمت میں عام افراد کے برابر مواقع فراہم کریں۔ علاوہ ازیں اقوام متحدہ میں 1982ء کو معذور افراد کا عالمی سال قرار دیتے ہوئے ان کےلیے باقاعدہ ایک World Program of action بھی ترتیب دیا۔ معذور بچوں کو تعلیم سے دور رکھنا نہ صرف بنیادی حقوق اور سماجی انصاف کا مسئلہ ہے، بلکہ یہ اقوامِ متحدہ کے پائیدار ترقی کے اہداف 2030ء کے حصول کی راہ میں بھی بڑی رکاوٹ ہے۔ 2030ء میں ایک دہائی کا عرصہ رہ گیا ہے، تعلیم کے میدان میں پیچھے رہ جانے والوں کو اس زیور سے آراستہ کرنے کے لیے دنیا کو مالی وسائل اور سیاسی پختگی کا مظاہرہ کرنے کی ضرورت ہے، تاکہ’ ’تعلیم سب کے لیے‘ ‘کا ہدف سب کے لیے اپنی تعبیر تک رسائی حاصل کر سکے۔
قبل از پیدائش معذوری کی شناخت
کچھ چیلنجز کی تشخیص رحمِ مادر میں ہی کی جاسکتی ہے۔ کچھ معذوری پیدائش کے بعد سامنے آتے ہیں ،جبکہ کچھ عمر کے ابتدائی سالوں میں۔ ہمیں ایسے نظام کی ضرورت ہے جہاں معذوری کی جلد از جلد شناخت ہو سکے۔ اگر کسی بچے پر کسی قسم کے فزیکل چینلج کے شکار ہونے کا شبہ ہو، تو اسے تشخیص کے لیے میڈیکل سسٹم بھیجا جانا چاہیے۔ معذوری کی شناخت کے بعد ہمارے پاس بچوں کی بحالی کے لیے ضروری سسٹمز ہونے چاہئیں۔
معذور بچوں کے انسانی حقوق کی اقسام
قانون سازی کی دفعات کے باوجود، معذور طلبہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا شکار ہیں۔
(1)معذور افراد خاص طور پر بدسلوکی اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی کا شکار ہوتے ہیں۔غلط فہمیوں، تعصب اور سماجی اخراج کی وجہ سے، معذور افراد کو بہت زیادہ خطرہ ہوتا ہے اور وہ اکثر ہراساں، دھونس اور تشدد کا شکار ہوتے ہیں۔
(2) معذور افراد بھی جنسی زیادتی کا شکار ہو سکتے ہیں، خاص طور پر اگر ان میں ذہنی معذوری ہو۔
(3) اداروں کے اندر، جیسے ذہنی نگہداشت کی سہولیات یا جیلوں میں معذور افراد کو نظر انداز کیا جا سکتا ہے، انہیں ناکافی دیکھ بھال یا رہائش دی گئی ہے، روکا جا سکتا ہے یا طے شدہ اور جسمانی ذہنی یا جنسی تشدد کا نشانہ بنایاجا سکتا ہے۔
(4) اداروں میں بھی معذور افراد کے ساتھ زیادتی ہو سکتی ہے اگر انہیں مفت اور باخبر رضامندی کے بغیر ادویات دی جائیں، یا طبی طریقۂ کار کے تابع ہوں، جیسے جبری نس بندی یا اسقاط حمل، سرجری یا دیگر مداخلتیں اور الیکٹرو شاک علاج۔
(5) یہاں تک کہ ان کے اپنے گھروں میں بھی، معذور افراد خاص طور پر دیکھ بھال کرنے والوں، صحت کے پیشہ ور افراد یا یہاں تک کہ خاندان کے افراد کے ذریعہ بدسلوکی کا شکار ہوسکتے ہیں۔
Comments From Facebook

0 Comments

Submit a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

دسمبر٢٠٢٢