دسمبر٢٠٢٢
ملک کی ترقی اور پیداوار میں عوام کی محنت اور کوششوں کا دخل ہوتا ہے، لہٰذا آمدنی میں بھی ہر شخص کا لازماًحق ہونا چاہیے۔آمدنی کم اور ٹیکسز کی بھاری شرح سے ادائیگی کے لزوم نے عام شہریوں کی کمر توڑ دی ہے۔ غریب ’’غریب تر‘‘ہوتا جارہا ہے اور ملک کے امیر ترین لوگ خصوصی مراعات اور حکومت کی نوازش کے ذریعہ اپنی دولت میں اضافہ ہی کرتے جارہے ہیں۔
’’امریکہ اور چین کے بعد دنیا میں سب سے زیادہ یعنی 40ارب پتی سرمایہ دار (جن کے پاس سو کروڑ ڈالر یا سات ہزار کروڑ روپے سے ذیادہ دولت ہے۔ ) اب ہمارے ملک میں ہیں،لیکن دولت میں اس بے پناہ اضافہ کے باوجود صورت حال یہ ہے کہ آج بھی دنیا کی غریب ترین آبادی کا سب سے بڑا حصہ ہمارے ملک میں ہی ہے “(ہندتو انتہا پسندی:سعادت اللہ حسینی)
اگر دولت کا یوں ارتکاز نہ ہوتا بلکہ عادلانہ تقسیم ہوتی تو ملک سے غربت کا خاتمہ ممکن تھا، کیونکہ ان امراء کی مجموعی دولت ملک سے غریبی دور کرنے کے لیے کافی ہے۔ کچھ تفاوت کے ساتھ دولت میں کمی بیشی تو عین فطری ہے ، جذبۂ ہمدردی اور احسان شناسی کے فروغ کا ذریعہ ہے ،لیکن تقریباًساری دولت سمٹ کر امیروں کے حوالے ہوجائےتو یہ بد ترین نا انصافی ہے۔اسلام میں ایسی نا انصافی اور بے اعتدالی ناپسندیدہ ہے۔ اسلام کی اقتصادی تعلیم یہ ہے کہ معاشی نمو ہو، ملک کی مجموعی پیداوار میں ترقی ہو۔ کمائی کی عدل کے ساتھ تقسیم ہو۔ لوگوں کی انفرادی دولت میں بھی اضافہ ہو ،لیکن غریب کا حق نظر انداز نہ ہو ،دولت امراء سے غرباءکی جانب بہے، ملک کے ہر شہری تک بنیادی ضروریات زندگی پہنچیں، کوئی ایک شخص بھی اس سے محروم نہ رہے۔ نکتہ:
جو مال اللہ نے تجھے دیا ہے اس سے آخرت کا گھر بنانے کی فکر کر اور دنیا میں سے بھی اپنا حصہ فراموش نہ کر، احسان کر جس طرح اللہ نے تجھ پر احسان کیا ہے (القصص)

0 Comments

Submit a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

دسمبر٢٠٢٢