دسمبر٢٠٢٢
والدین بننا دنیا کا سب سے بڑا اعزاز ہے۔ جن پر اللہ رب العالمین بچوں کی ذمہ داری ڈالتا ہے، ان کی طاقت، قوت اور سکت کے لحاظ سے ہی ڈالتا ہے۔ اللہ کسی متنفس پر اس کی مقدرت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالتا ۔بچوں کی تربیت کی ذمہ داری کو بہت خوشی سے قبول کرنا اور بچے کی تربیت کے تئیں اپنی ذات میں تبدیلی لانا زیرک والدین کا شعار ہوتا ہے ۔
آئیے! جانتے ہیں بچے کی نشو ونما اور ارتقاء کیا ہے۔
Growth and Developmentکے فرق سمجھنا اس سلسلے میں ضروری امر ہے ۔
نشوونما (Growth):
بچے کا جسمانی ارتقاء، جیسے اس کا وزن، قد، رنگ، بال اور ہیئت کا بننا ہے۔ یہ عمل ایک مدت تک جاری رہتا ہے۔ اس میں والدین کا رول یہ ہے کہ وہ بچے کو بھرپور غذائیت فراہم کریں، صفائی سھترائی کا خیال رکھیں ۔بچے جب بالغ ہوجائیں تب اس مخصوص مدت کےبعد اسکا گروتھ رک جائے گا ۔نشوونما کے عمل کو دیکھاجاسکتا ہے، تقابل کیا جاسکتا ہے ۔
ارتقاء(Development):

بچے کا ارتقاء رحم مادر سے شروع ہوتا ہے اور قبر میں جانےتک انسان کاارتقاء جاری رہتا ہے ۔سیکھنے اور پروان چڑھنے کے عمل میں کئی عوامل کام کرتے ہیں جیسے اس کی عمر، تجربہ، جذب کرنے کی اہلیت اور منطقی صلاحیت ،بچے کے سکھانے کے وسائل وغیرہ۔والدین چونکہ بیک وقت بچے کی نشوونما اور ارتقاء دونوں کے ذمہ دار ہیں، اس لیے انہیں سمجھنا ضروری ہے کہ نشوونما کا عمل ایک مدت کے بعد رک جاتا ہے، تاہم ارتقاء ساری عمر جاری رہتا ہے۔
ارتقاء کےکچھ اصول ہیں، ان میں سب سے اہم اصول ماحول اور وراثت ہے۔وراثتی خوبیاں بچے کے ارتقاء میں رول ادا کرتی ہیں لیکن دوسرا بڑا رول ماحول کا ہے ۔بعض ماہرین کے نزدیک بچے کے ارتقاء میں زیادہ بڑا رول ماحول کا ہی ہے ۔ماحول سے بچہ بہت کچھ سیکھتا ہے ۔آپ پیغمبرانہ طریقۂ تربیت میں بچوں کی تربیت کے اصول کا بڑا حصہ عملی تربیت پر مبنی پائیں گے ۔ زیادہ تر روحانی طریقۂ تربیت، عقیدے کی پختگی ،عملی طریقہ، دوستانہ ماحول، مشفقانہ وپدرانہ انداز سے متعلق مثالیں زیادہ ملیں گی ۔
پیغمبروں نے صالح اولاد کے لیے باضابطہ دعائیں مانگی ہیں ۔

بچے کی طلب کے لیے پیغمبروں کی دعائیں:

یہ بچے کا حق ہے کہ اس کے والدین اسے اللہ سے دنیا وآخرت کی بھلائی کے ساتھ طلب کریں ۔اولاد قسمت میں ہوتو مل ہی جائے گی۔ دنیا میں بڑی آبادی کے پاس اولاد ہے، لیکن جو اولاد رب سے خاص مقصد کے ساتھ طلب کی جاتی ہے، اللہ ان دعاؤں کو سنتا ہے ۔صالح اولاد کے لیےدعا کرنا پیغمبروں کا طریق رہا ہے ۔مریم علیہاالسلام کی والدہ نے دعا کیا:

ِاِذۡ قَالَتِ امۡرَاَتُ عِمۡرٰنَ رَبِّ اِنِّىۡ نَذَرۡتُ لَـكَ مَا فِىۡ بَطۡنِىۡ مُحَرَّرًا فَتَقَبَّلۡ مِنِّىۡ ۚ اِنَّكَ اَنۡتَ السَّمِيۡعُ الۡعَلِيۡمُ‌ ۞ (سورۃآل عمران:35)

 وہ اس وقت سُن رہا تھاجب عمران کی عورت کہہ رہی تھی کہ
’’میرے پر ور دگار! میں اس بچے کو جو میرے پیٹ میں ہے تیری نذر کرتی ہوں ، وہ تیرے ہی کام کے لیے وقف ہوگا۔ میری اس پیشکش کو قبو ل فرما۔ تُو سننے اور جاننے والاہے۔‘‘پھر جب وہ بچی اس کے ہاں پیدا ہوئی تو اس نے کہا ’’مالک! میرے ہاں تو لڑکی پیدا ہو گئی ہے،حالانکہ جو کچھ اس نے پیدا کیا تھا، اللہ کو اس کی خبر تھی،اور لڑکا لڑکی کی طرح نہیں ہوتا۔ خیر ، میں نے اس کا نام مریم رکھ دیا ہے اور میں اسے اور اس کی آئندہ نسل کوشیطانِ مردود کے فتنے سے تیری پناہ میں دیتی ہوں۔‘‘آخر کار اس کے رب نے اس لڑکی کو بخوشی قبول فرما لیا۔ اُسے بڑی اچھی لڑکی بناکر اُٹھایا۔ اور زکریّا کو اس کا سرپرست بنادیا۔ زکریا جب کبھی اس کے پاس محراب میں جاتا تو اس کے پاس کچھ نہ کچھ کھانے پینے کا سامان پاتا۔ پوچھتا ’’مریم ! یہ تیرے پاس کہا ں سے آیا؟‘‘ وہ جواب دیتی’’ اللہ کے پاس سے آیا ہے۔‘‘ اللہ جسے چاہتاہے بے حساب دیتا ہے۔
مریم علیہا السلام کی صلاحیت کو دیکھ کر زکریا علیہ السلام کے دل میں اولاد کی تڑپ جاگی۔مریم علیہاالسلام کا جواب سن کر حضرت زکریا علیہ السلام نہایت محظوظ ہوئے اور دل میں اس خواہش نے چٹکی لی کہ میرے گھر میں بھی ایسی ہی روح آئے۔چنانچہ حضرت زکریا علیہ السلام نے دعا کی کہ اے مولا! تو دعاؤں کا سننے والا اورقبول کرنے والا ہے ۔ مجھے بھی نیک اولاد عنایت کر۔اس دعاء میں یہ بات قابل ذکر ہے کہ انبیاء علیہم السلام اولاد چاہتے ہیں بھی ہیں تو ایسی جس سے نسل انسانی کا فائدہ ہو۔

بچے کے تحفظ کی ذمہ داری
بچوں کے تحفظ کی ذمہ داری والدین کی ہے۔ ان کی ضرورتوں کا خیال رکھنا اورانہیں نفع ونقصان سے بچانا والدین کی ذمہ داری ہے ۔موسیٰ علیہ السلام کی والدہ نے جب بچے کےلیےفرعون سے خطرہ محسوس کیا تو اللہ نے دل میں بات ڈالی کہ وہ دریا میں بہادے، بڑی حکمت کے ساتھ ان کی والدہ نے صندوق بنایا ،اوراس طرز پر بنایا کہ وہ تیر سکے۔ بچے کو توازن کے ساتھ ڈالا، گویا حکمت اور مہارت کو بروئے کار لاتے ہوئے بچے کو بچایا۔ اس وقت بچے کی حفاظت کا یہ طریقہ درست لگا ،وہ اس وقت کا تقاضا تھا ۔آج ماؤں کے نزدیک اپنے بچوں کی حفاظت کے لیے دین و ایمان کی حفاظت، عریانیت، بے حیائی،اباحیت پسندی سے بچانا وقت کی ضرورت ہے ،ماؤں کو اسی نہج پر تدبیر کرنی ہوگی ۔
بچے کی بنیادی ضرورت کی ذمہ داری

  بچے کی بنیادی ضرورت کھانا پانی ہے۔ بی بی ہاجرہؑ کی مثال اپنے بچے کی بھوک پیاس کے لیے جدو جہد کی اعلیٰ ترین مثال ہے، وہیں اس واقعہ      میں شوہر بیوی کی زبردست مطابقت(Understanding) کی بھی مثال ہے کہ اگر اللہ رب العالمین کاحکم ہے تو سرتسلیم خم، یہ کیفیت حضرت ہاجرہؑ کی جب جب سامنے آتی ہے، اسی درجے کا صبر ،تحمل اور یقین اللہ سے طلب کرنے کودل چاہتا ہے ۔سخت محنت اورپانی کے لیے کی گئی سعی کو اللہ نے رہتی دنیاکے لیےمثال بنادیا ۔جومائیں اپنے بچوں کےلیے مشقت برداشت کرتی ہیں ۔ان کی ضروریات کی تکمیل کے لیے تگ ودو کررہی ہیں، حلال طریقے کی راہ پر ہیں، ان کی محنت اللہ ضائع نہیں کرے گا۔ ان کا اعتماد اس لحاظ سے بلند ہوتا ہے کہ ضرورتوں کی تکمیل اور شوہر کے ساتھ مفاہمت ان کے لیے سنتِ ہاجرہ علیہا السلام ہے ۔

بچوں سے دوستانہ و مشفقانہ تعلق
یوسف علیہ السلام نے خواب اپنے والد سے بتایا، اس سے دونوں یعنی والد اور بیٹے کاآپسی تعلق واضح ہوتا ہے کہ والد ہی وہ واحد اعتماد کی جگہ ہے جہاں وہ اپنی بات بتا سکتے ہیں ۔والد کا تعلق اپنے بیٹے سے دوستانہ و مشفقانہ ہونا چاہیے، تاکہ وہ بے خوف وخطر اپنے والد پر بھروسہ کرے ۔
اچھائی برائی کی تمیز
والدین کی ذمہ داری ہے کہ بچے کو اچھائی برائی میں تمیز کروائیں۔ جب یوسف علیہ السلام اپنا خواب بیان کرچکے تو ان کے والد محترم نے فرمایا:
يٰبُنَىَّ لَا تَقۡصُصۡ رُءۡيَاكَ عَلٰٓى اِخۡوَتِكَ فَيَكِيۡدُوۡا لَـكَ كَيۡدًا ؕ اِنَّ الشَّيۡطٰنَ لِلۡاِنۡسَانِ عَدُوٌّ مُّبِيۡنٌ ۞(سورۃیوسف : 5)
’’بیٹا! اپنا یہ خواب اپنے بھائیوں کو نہ سُنانا ورنہ وہ تیرے درپئے آزار ہو جائیں گے، حقیقت یہ ہے کہ شیطان آدمی کا کُھلا دشمن ہے۔‘‘
یہاں خواب نہ سنانے کی تلقین سے واضح ہے کہ کچھ اہم باتوں کا اظہار نہ کرنے میں عافیت ہوتی ہے اور شیطان کے کھلا دشمن ہونے کی بات سے یہ نکتہ نکل آتا ہے کہ بچے جب باشعور ہوجائیں تو ان کے سامنے لازماً شیطان کی دشمنی واضح کریں ۔اس طرح بچے اچھائی برائی میں تمیز سیکھتے ہیں ۔
روحانی طریقۂ تربیت
جب بچے چھوٹے ہوں، شیرخوار بچے تو والدین کے عمل سے سیکھتے ہیں جیسے نماز پڑھنا، کسی کی مدد کرنا، دینی کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینا، تاہم بچے جب عنفوان شباب کو پہنچ جاتے ہیں تب والدین کی باتوں اور ان کی نصیحتوں کو پرانی باتیں سمجھتے ہیں ۔یہ دور بچے کا سیوڈو پیرئڈ کہلاتا ہے۔ دور کاذب، جس میں بچے کو یہ احساس ہوتا ہے کہ اب میں مکمل بڑا ہوچکا ہوں اور اپنا اچھا برا خود سمجھتا ہوں ۔اب وہ بڑوں کو فالو کرنے کے بجائے کوشش کرتا ہے کہ ان کی نصیحت کے برعکس عمل کرے ۔اس وقت بچوں کوکیا تلقین کرنی چاہیے اس کا اشارہ ہمیں لقمان علیہ السلام کی اپنے بیٹے کو کی گئی نصیحت سے واضح ہوتی ہے ۔پہلی تلقین شرک سے متعلق کرتے ہوئے فرمایا:
يٰبُنَىَّ اِنَّهَاۤ اِنۡ تَكُ مِثۡقَالَ حَبَّةٍ مِّنۡ خَرۡدَلٍ فَتَكُنۡ فِىۡ صَخۡرَةٍ اَوۡ فِى السَّمٰوٰتِ اَوۡ فِى الۡاَرۡضِ يَاۡتِ بِهَا اللٰهُ ‌ؕ اِنَّ اللٰهَ لَطِيۡفٌ خَبِيۡرٌ
(سورۃلقمان: 16 تا19)

[اور لقمان نے کہا تھا کہ] ’’کوئی چیز رائی کے دانہ برابر بھی ہو اور چٹان میں یا آسمانوں یا زمین میں کہیں چھُپی ہوئی ہو ، اللہ اُسے نکال لائے گا۔ وہ باریک بین اور باخبر ہے۔بیٹا !، نماز قائم کر، نیکی کا حکم دے، بدی سے منع کر ، اور جو مصیبت بھی پڑے اس پر صبر کر ۔ یہ وہ باتیں ہیں جن کی بڑی تاکید کی گئی ہےاور لوگوں سے منہ پھیر کر بات نہ کر ، نہ زمین میں اکڑ کر چل ، اللہ کسی خود پسند اور فخر جتانے والے شخص کو پسند نہیں کرتا۔اپنی چال میں اعتدال اختیار کر ، اور اپنی آواز ذراپست رکھ، سب آوازوں سے زیادہ بری آواز گدھوں کی آواز ہوتی ہے۔
جب بچے بڑے ہوجائیں تو ان کے سامنےاللہ کے احکام کو واضح کرنا والدین کی ذمہ داری ہے، اگر ابھی نہ سن پائیں بعد میں ہی سہی، یہ جملے ان پر منکشف ہوں گے اور وہ دین اسلام کی حکمتوں کو سمجھ پائیں گے ۔موجودہ حالات میں بچے سے یہ کہنا کہ اللہ کو ہر چیز کی خبر ہے،کوئی چیز رائی کے دانہ برابر بھی ہو اور چٹان میں یا آسمانوں یا زمین میں کہیں چھُپی ہوئی ہو ، اللہ اُسے نکال لائے گا؛ یہ جملہ اسے کسی نا محرم کے ساتھ چیٹ اور گفتگو سے روکے گا ۔مستقبل میں بند کمرے میں رشوت کے پیسے لیتے اسے خوف آئے گا ۔تنہائی میں گناہ سے روکنے کے لیے یہ آیت بہت اہم ہے ۔شرک سے بچنے کی نصیحت اور صبر کی تلقین بھی بچوں میں پیدا کرنا ناگزیر ہے ۔

بچے جب عنفوان شباب کو پہنچ جاتے ہیں تب والدین کی باتوں اور ان کی نصیحتوں کو پرانی باتیں سمجھتے ہیں ۔یہ دور بچے کا سیوڈو پیرئڈ کہلاتا ہے۔ دور کاذب، جس میں بچے کو یہ احساس ہوتا ہے کہ اب میں مکمل بڑا ہوچکا ہوں اور اپنا اچھا برا خود سمجھتا ہوں ۔ اب وہ بڑوں کو فالو کرنے کے بجائے کوشش کرتا ہے کہ ان کی نصیحت کے برعکس عمل کرے ۔اس وقت بچوں کوکیا تلقین کرنی چاہیے اس کا اشارہ ہمیں لقمان علیہ السلام کی اپنے بیٹے کو کی گئی نصیحت سے واضح ہوتی ہے ۔

ویڈیو :

آڈیو:

audio link

0 Comments

Submit a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

دسمبر٢٠٢٢