زمرہ : النور

أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم
بِسْمِ اللٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
رَبِّ هَبۡ لِىۡ مِنَ الصّٰلِحِيۡنَ ۞ فَبَشَّرۡنٰهُ بِغُلٰمٍ حَلِيۡمٍ ۞ فَلَمَّا بَلَغَ مَعَهُ السَّعۡىَ قَالَ يٰبُنَىَّ اِنِّىۡۤ اَرٰى فِى الۡمَنَامِ اَنِّىۡۤ اَذۡبَحُكَ فَانْظُرۡ مَاذَا تَرٰى‌ؕ قَالَ يٰۤاَبَتِ افۡعَلۡ مَا تُؤۡمَرُ‌ سَتَجِدُنِىۡۤ اِنۡ شَآءَ اللّٰهُ مِنَ الصّٰبِرِيۡنَ ۞ فَلَمَّاۤ اَسۡلَمَا وَتَلَّهٗ لِلۡجَبِيۡنِ‌ۚ ۞ وَنَادَيۡنٰهُ اَنۡ يّٰۤاِبۡرٰهِيۡمُۙ ۞ قَدۡ صَدَّقۡتَ الرُّءۡيَا ‌ ‌ۚ اِنَّا كَذٰلِكَ نَجۡزِى الۡمُحۡسِنِيۡنَ ۞ اِنَّ هٰذَا لَهُوَ الۡبَلٰٓؤُا الۡمُبِيۡنُ ۞ وَفَدَيۡنٰهُ بِذِبۡحٍ عَظِيۡمٍ ۞
(سورۃ الصافات آیت نمبر 100-107)

’’اے میرے رب ! مجھے نیک بخت اولاد عطا فرما،تو ہم نے اسے ایک بردبار بچے کی بشارت دی ،پھر جب وہ بچہ اتنی عمر کو پہنچا کہ اس کے ساتھ چلے پھرے ،تو ابراہیم نے کہا میرے پیارے بچے ! میں خواب میں اپنے آپ کو تجھے ذبح کرتے ہوئے دیکھ رہا ہوں ۔ اب تو بتا کہ تیری کیا رائے ہے؟ بیٹے نے جواب دیا کہ ابا ! جو حکم ہوا ہے ،اسے بجا لائیے، ان شاءاللہ آپ مجھے صبر کرنے والوں میں سے پائیں گے ۔ غرض جب دونوں مطیع ہوگئے اور اس نے اس کو پیشانی کے بل گرادیا ۔تو ہم نے آواز دی کہ اے ابراہیم ! یقیناََ تو نے اپنے خواب کو سچا کر دکھایا ،بیشک ہم نیکی کرنے والوں کو اسی طرح جزا دیتےہیں۔در حقیقت یہ کھلا امتحان تھا ۔اور ہم نے ایک بڑا ذبیحہ اس کے فدیہ میں دے دیا۔‘‘
آیات میں مذکور اطاعت خداوندی کی اعلی مثال پیش کرنے والا واقعہ نبی ابراہیم علیہ السلام اور انکے فرزند حضرت اسماعیل علیہ السلام کا ہے۔
حضرت ابراہیم علیہ السلام الگ الگ آزمائش سے گزرتے رہے۔ہوش سنبھالا، اپنے والد آزر کے کام میں ہاتھ بٹانے لگے، جلد بتوں سے انکار کیا۔ پھر کیا تھا،اپنے بیگانے ہوگئے، قوم دشمن بن گئی، وہ گلیاں جن میں کبھی کھیلا کودا کرتے تھے وہ تنگ ہوگئیں۔ جو نگاہیں جواں ابراہیم کو دیکھ کر رشک کیا کرتی تھیں اب ان سے بیزاری ٹپکنے لگی، حاکم وقت نے زندگی تنگ کردی، تکلیف پہنچا نے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہ جانے دیا، آخر وہ وقت بھی آیا کہ اپنوں کو چھوڑ کر نامعلوم منزل کی طرف نکل پڑے۔ اپنے رب کے مشن میں پوری مستعدی سے لگ گئے، اب عمر ڈھلنے لگی، اللہ سے دعا کی کہ اے رب نیک صالح اولاد نصیب فرما، دعا قبول ہوگئی، حضرت ابراہیم علیہ السلام اور انکی اہلیہ بی بی ہاجرہ کی زندگی میں خوشیوں کی بہار آگئی۔
ابھی ننھے اسماعیل علیہ السلام اپنے پیروں پر کھڑے ہونا بھی نہیں سیکھ سکے تھے، ابھی انکے والدین نے انھیں جی بھر کر کھلایا بھی نہ تھا، اپنے لال کے ساتھ ابھی چند دن ہی گزارے تھے کہ حضرت ابراہیم کو اللہ کا حکم ملتا ہے اپنی اہلیہ اور بچے کو صفا پہاڑی پر چھوڑ کر دعوت دین کے مشن پر نکل جائیں، اپنے لخت جگر، اور ہر مصیبت میں ساتھ دینے والی رفیق حیات کو یوں غیرآباد بیا باں میں چھوڑ جانا، بہت آزمائش میں ڈال دینے والا حکم تھا۔
لیکن جب اللہ کا یہ حکم بی بی ہاجرہ علیہا السلام نے سنا تو بغیر کسی خوف کے کہنے لگیں’’ آپ اپنے رب کے حکم کی تعمیل کریں، وہ ہمارے ساتھ ہے۔‘‘ یقیناً رب کی اطاعت کرتے وقت بندہ تنہا بالکل نہیں ہوتا، اس کا رب اس کے ساتھ ہوتا ہے۔
حضرت ابراہیم علیہ السلام دیا گیا مشن مکمل کرکے جب لوٹے تو وہاں پانی کا شیریں چشمہ بہہ رہا تھا، جس کے ارد گرد ہرے بھرے پیڑ پودے نکل آئے تھے، کچھ لوگ بھی آباد ہوچکے تھے۔
اب اپنے لخت جگر پر باپ کی محبت، ماں کا دلار نچھاور ہورہا تھا، آزمائش کے لمبے سفر کے بعد یہ ایام میسر آئے تھے، لیکن ابھی امتحان مکمل نہیں ہوا تھا، اللہ کا حکم آتا ہےکہ اپنے لخت جگر کی قربانی پیش کرو، وہ لخت جگر جس کے لئے دعائیں کی گئی تھیں، جس سے مدتوں کے فراق کے بعد اب ملے تھے۔
اپنے لخت جگر سے رب کا حکم بیان کرتے ہیں، بچے نے اپنی نیک ماں کے سائے میں پرورش پائی تھی، اپنے باپ کی اطاعت و بندگی کی بے مثال زندگی وہ جانتا تھا، اپنے رب کی اطاعت کے لئے وہ مکمل تیار ہوچکاتھا، فوراً کہتاہے ’’ پیارے ابا جان! جو حکم ملا ہے اسے کر گزریں ان شاء اللہ آپ مجھے ثابت قدم پائیں گے۔‘‘
اس واقعہ سے حضرت اسماعیل کے بے مثال جذبے کی تو شہادت ملتی ہی ہے۔اس کے علاوہ یہ بھی معلوم ہوتا ہےکہ اس کم سنی ہی میں اللہ تعالی نے انہیں کیسی ذہانت اور کیسا علم عطا کیا تھا۔
یہ واقعہ منیٰ کے مقام پر پیش آیا تھا، حضرت ابراہیم علیہ السلام نے فرزند کے گلے پر چھری چلائی ۔اللہ کی قدرت ایسی کہ چھری نے کام نہ کیا۔
بعض تاریخی اور تفسیری روایات سے معلوم ہوتا ہےکہ شیطان نے تین مرتبہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو بہکانے کی کوشش کی ۔ہر بارحضرت ابراہیم علیہ السلام نے اسے سات کنکریاں مار کر بھگا دیا ،آج تک منیٰ کے تین جمرات پر اسی پسندیدہ عمل کی یادگار میں کنکریاں ماری جاتی ہیں۔
حضرت زید بن ارقم رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ نے عرض کیا’’ یا رسول اللہ!یہ قربانیاں کیا ہیں؟‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا’’ یہ تمہارے باپ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی سنت ہے ۔‘‘صحابہ نے عرض کیا ۔’’یا رسول اللہ! اس سے ہم کو ثواب ملے گا؟‘‘ فرمایا ’’ہر بال کے بدلے ایک نیکی ہے ۔‘‘
ام المؤ منین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا نے کہا کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ’’ قربانی کے ایام میں ابن آدم کا کوئی عمل خداتعالیٰ کے نزدیک قربانی پیش کرنے سے زیادہ پسندیدہ نہیں ۔اور جانور قیامت کے دن اپنے سینگوں ،بالوں ،کھروں کے ساتھ آئے گا ۔اور قربانی کا خون زمین پر گرنے سے قبل خداتعالیٰ کے پاس پہنچ جاتا ہے۔‘‘
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا کہ’’ جس میں وسعت ہو اور قربانی نہ کرے تو وہ ہماری عیدگاہ کے قریب ہرگز نہ آئے ۔‘‘
آخری نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم نرمی اور محبت کے پیکر، ایسے شخص کو عیدگاہ سے بھی دور رہنے کا حکم اس لیے دیتے ہیں، کیونکہ باپ ابراہیمؑ کا ہر عمل اسوہ ہے، ان کا ایمان، ان کاصبر، ان کی عزیمت، اللہ پر ان کا یقین،اور اس کی اطاعت کے لئے ہر وقت تیار رہنا،نبی ابراہیم علیہ السلام کی زندگی ان اعلیٰ اوصاف سے عبارت ہے۔ عیدالاضحٰی کی قربانی پیش کرکے ہم ان اوصاف کو اپنانے کا گویا عہد کرتے ہیں۔ اس راہ پر چلنے کا عزم باندھتے ہیں۔ جس پر ہمارے باپ ابراہیم علیہ السلام چلے۔ جس راہ کو اللہ نے قرآن کی آیات کے ذریعے روشن کر دیا ہے۔
فرمان الہی ہے، ترجمانی:
’’اللہ کی راہ میں جدوجہد کرو جیسا کہ جدوجہد کرنے کا حق ہے۔ اُس نے تمہیں اپنے کام کےلیے چُن لیا ہے ،اور دین میں تم پر کوئی تنگی نہیں رکھی۔ قائم ہو جاوٴ اپنے باپ ابراہیمؑ کی ملّت پر۔اللہ نے پہلے بھی تمہارا نام ’’مسلم‘‘ رکھا تھا اور اس (قرآن)میں بھی (تمہارا یہی نام ہے)۔ تاکہ رسول ؐ تم پر گواہ ہوں اور تم لوگوں پر گواہ۔ پس نماز قائم کرو ، زکوٰة دو، اور اللہ سے وابستہ ہو جاوٴ۔ وہ ہے تمہارا مولیٰ، بہت ہی اچھا ہے وہ مولیٰ اور بہت ہی اچھا ہے وہ مددگار ۔‘‘(سورۃ الحج ،آیت نمبر :۷۸)
زندگی کی کاوشیں اور دوڑ دھوپ اللہ سے وابستگی عطا کردیںتو ایک مومن کو پھراورکیا چاہیے،اور اگر زندگی کی آسائش، مال و دولت اللہ سے دور کردے تو ایسی نعمت کا ایک مومن بندہ کیا کرے؟
اللہ کی محبت میں سرشار مومن بندہ تو صرف پکارے: ’’ میری کاوشوں کا حاصل تیری بندگی یا رب!‘‘ یہی تو حضرت ابراہیم علیہ السلام کی جدوجہد اور قربانیوں کی بازگشت ہے۔

اپنے لخت جگر پر باپ کی محبت، ماں کا دلار نچھاور ہورہا تھا، آزمائش کے لمبے سفر کے بعد یہ ایام میسر آئے تھے، لیکن ابھی امتحان مکمل نہیں ہوا تھا، اللہ کا حکم آتا ہےکہ اپنے لخت جگر کی قربانی پیش کرو، وہ لخت جگر جس کے لئے دعائیں کی گئی تھیں، جس سے مدتوں کے فراق کے بعد اب ملے تھے۔

ویڈیو :

آڈیو:

0 Comments

Submit a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

جولائی ٢٠٢٢