زمرہ : النور

وَمَاۤ اَرۡسَلۡنٰكَ اِلَّا رَحۡمَةً لِّـلۡعٰلَمِيۡنَ ۞
قُلۡ اِنَّمَا يُوۡحٰۤى اِلَىَّ اَنَّمَاۤ اِلٰهُكُمۡ اِلٰـهٌ وَّاحِدٌ‌  ۚ فَهَلۡ اَنۡـتُمۡ مُّسۡلِمُوۡنَ ۞
(الانبیاء ۱۰۷۔۱۰۸)

ترجمہ (مع تفہیم)

اور ہم نے آپ کو کسی اور بات کے واسطے (رسول بناکر) نہیں بھیجا، مگر دنیا جہاں کے لوگوں پر(اپنی ) مہربانی کرنے کےلیے (وہ مہربانی یہی ہے کہ لوگ رسول سے ان مضامین کو قبول کریں اور ہدایت کے ثمرات حاصل کریں اور جو قبول نہ کرے وہ اس کاقصور ہے۔ اس سے اس مضمون کی صحت پر کوئی اثر نہیں پڑنا) آپ ان لوگوں سے (بطور خلاصہ کلام مکرر) فرمادیجئے کہ میرے پاس تو (موحدین اور مشرکین کے باہمی اختلاف کے بارے میں) صرف یہ وحی آئی ہے کہ تمہارا معبود ایک ہی معبود ہے۔ (معارف القران)

رحمت : دنیا اور آخرت دونوں جہاں کی رحمت مراد ہے۔
عالمین : عالم کی جمع ہے تمام جہاں والےمومن کافر ، دین دنیا،انسان جن، حیوانات نباتات، جمادات۔
روایات کا ربط:
نبیٔ رحمت کا تمام عالمین کے لیےرحمت ہونا اور ان آیات کا باہمی ربط کچھ اس طرح ہےکہ تمام کائنات کی حقیقی روح اللہ کا ذکر اور اُس کی عبادت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جس وقت زمین سے یہ روح نکل جائے گی اور زمین پر کوئی اللہ اللہ کہنے والا نہ رہے گا تو ان سب چیزوں کی موت یعنی قیامت آجائے گی ،اور جب ذکر اللہ و عبادت کا ان سب چیزوں کی روح ہونا معلوم ہو گیا، تو رسول اللہ کا ان سب چیزوں کے لئے رحمت ہونا خود بخود ظاہر ہوگیا، کیونکہ اس دنیا میں قیامت تک ذکر اللہ اور عبادت آپ ہی کے دم قدم اور تعلیمات سے قائم ہے۔ اسی لئے رسول اللہﷺ نے فرمایا ہے:
انا رحمة مهداة

( میں اللہ کی طرف سے بھیجی ہوئی رحمت ہوں۔)
( ابن عساکر عن ابو ہریرۃ)
اور ایک روایت ہے ،فرمایا:

اناررحمة مهداة يرفع قوم وخفض اخرین
(میں اللہ کی بھیجی ہوئی رحمت ہوں تاکہ ایک قوم کو سر بلند کردوں اور دوسری قوم کو پست کردوں۔) (ابن کثیر)
اس سے معلوم ہوا کہ کفر وشرک کو مٹانے کے لیے کفار کو پست کرنا اور اُن کے مقابلے میں جہاد کرنا بھی عین رحمت ہے، جس کے ذریعہ سرکشوں کو ہوش آکر ایمان اور عمل صالح کا پابند ہوجانے کی امید کی جاسکتی ہے۔ (واللہ اعلم)
معارف:
اس آیت میں آپ ﷺ کی افضلیت تمام مخلوقات پر ثابت ہوتی ہے ۔ نیز دونوں جہانوں کی سعادتیں حاصل کرنے کا ذریعہ ایمان والے کے لیے کامیابی اور بے ایمان کے لیے دنیا میں کلی عذاب سے بچنا اور آخرت میں اس رحمت سے کوئی حصہ نہ پانے کا ہے ۔ نیز اصل رحمت تو توحید کو اپنا لینا اور شرک سے بچ جانا ہے۔ (معارف القران)
آپ کا عالمین کے لیے رحمت ہونا:
ساری دنیا کے لیے:
اپنی تعلیمات کے ذریعہ ساری دنیا کو دین و دنیا کی سعادتوں سے ہمکنا ر کرنا ۔ امت کا بالکلیہ تباہی و بربادی سے محفوظ کر دیا جانا، جبکہ پچھلی قومیں حرف غلط کی طرح مٹادی گئیں۔
آپ کا غصہ کرنا اس کے حق میں قیامت والے دن رحمت کا باعث رحمت کا حصہ ہوگا۔ (مسند احمد 437، ابو داؤد 4659)
اپنے دو نام اللہ نے آپ کو عطا فرمائے: رؤوف رحیم (سورہ التوبہ 118)
عاصیوں کے لیے آپ کی شفاعت (ان کے حق میں رحمت ہے)(سورہ محمد 19)
آخرت کے اعتبار سے:
نبیوں ،رسولوں اور تمام مخلوقات کے لئے رحمت ہوں گے۔ آپ کی سفارش پر حساب کتاب کی شروعات ہوگی۔
‌ دنیا جہالت اور تباہی کے دہانے پر تھی۔ انسانیت سسکتی اور دم توڑتی نظر آرہی تھی، آپ کی رحمت کی روشنی سے پوری دنیا فیضیاب ہونے لگی۔
آپ ابر رحمت بن کر انسانیت پر برسے، اور ان کو کفر و شرک ، ضلالت و گمراہی کے گھٹا ٹوپ اندھیروں سے نکال کر توحید باری سے منور کیا۔ انسانیت سے گری ہوئی قوم کو مثالی پاکیزگی کا تصور دیا۔ سراج منیر کی طرح ایسی روشن زندگی گزاری کہ وہ کفار جن کی بد اعمالیوں کی وجہ سے کوئی ان پر حکومت کرنا بھی عیب اور توہین سمجھتا تھا۔ ان کو رحمۃ للعالمین نے اوصاف و اخلاق سے مزین کردیا۔ یکسر حالت بدل دی۔
بے ایمانوں کے لیے رحمت:
آپ کی رحمت آپ کے دشمنوں پر بھی اس طرح جاری رہی کہ آپ اپنے مخالفین کی کبھی بھی جلدی پکڑ نہیں چاہی۔
وما کان اللہ لیعذبہم و انت فیہم (الانفال 33)
زمینی خسف و آسمانی قذف سے بچے رہے۔
قیدیوں کو معاف کرنا ،آزاد کرنا آپ کی شان رہی۔ طائف میں ستائے جانے پر حضرت جبرئیل علیہ السلام کا من جانب اللہ عذاب کے فرشتوں کو لانا اور آپ کا رحمت سے بھرا بول ’’مجھے اس بات کا امید ہے کہ اللہ ان کی نسل سے ایسی اولاد پیدا کرے گا جو اکیلے اللہ کی عبادت کرے گی اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرائے گی۔‘‘پوری حیات مبارکہ میں کبھی کسی ایک فرد کا بھی قتل نہ کیا جبکہ آپ پر کئی قاتلانہ حملے ہوئے ۔
پیغام توحید کی پاداش:
اللہ کی راہ میں مختلف آزمائشوں اور تکالیف سے آپ کو اور آپ کے اصحاب کو گزرنا پڑا۔ آپ پر کبھی گندگی پھینکی گئی، پتھر برسائے گئے ، مجنون دیوانہ ساحر کہا گیا ۔ ظلم وستم کا نشانہ بنایا گیا ۔ شعب ابی طالب میں محصور کیے گئے ۔ سوشل بائیکاٹ کیا گیا۔ایمان لانے والے اصحاب کو بھی ظلم و ستم کا نشانہ بنایا گیا ، گرم ریت ، دہکتے کوئلوں پر لٹایا گیا ۔ لوہے کی سیخوں سے داغا گیا ہر طرح کے حربے اور کئی طرز کی تکالیف دی گئیں، یہاں تک کہ دربدر کردیا گیا ۔ مکہ سے باہر کردیا گیا ۔ رسول اللہ کی رحمت کا تقاضہ بدلہ لینا تو محال، بد دعا تک نہ کی ،بلکہ ان کی رشد و ہدایت کے لئے دعاء فرمائی ۔
پھر چشم فلک نے وہ مناظر بھی دیکھے کہ دس ہزار جاںنثاروں کے لشکر کے ساتھ اسی مکہ میں بحیثیت فاتح داخل ہوتے ہیں ۔
ظلم و ستم کرنے والے خوف زدہ ہیں کہ انتقاماً کیا ہوگا ؟ سب گم ہیں۔ کس طرح کا بدلہ ہوگا؟ اسی کس مپرسی کے عالم میں نبیٔ رحمۃ للعالمین کی ندا آتی ہے :
’’لا تثریب علیکم الیوم‘‘
اللہ اکبر!
جانور و نباتات کے حق میں:
نہ صرف انسان بلکہ حیوانات کے بارے میں بھی آپ کی رحمت کا ہم مشاہدہ کرتے ہیں ۔ ان کے بارے میں احسان کا حکم دیا اور اس کو اجر و ثواب کا باعث بتلایا ۔بدسلوکی پر وعیدیں بھی سنائیں۔ نہ صرف جاندار بلکہ بے جان کے حق میں بھی ہم آپ کی رحمت کاملہ کا مشاہدہ کرتے ہیں۔ ہرے بھرے پھل دار درخت نہ کاٹے جائیں اور بے ضرورت نباتات بھی ضائع نہ کیے جائیں۔
صلی اللہ علیہ وسلم مررا مررا بکرۃ واصیلا کما حقہ

ویڈیو :

آڈیو:

وَمَاۤ اَرۡسَلۡنٰكَ اِلَّا رَحۡمَةً لِّـلۡعٰلَمِيۡنَ ۞
قُلۡ اِنَّمَا يُوۡحٰۤى اِلَىَّ اَنَّمَاۤ اِلٰهُكُمۡ اِلٰـهٌ وَّاحِدٌ‌  ۚ فَهَلۡ اَنۡـتُمۡ مُّسۡلِمُوۡنَ ۞
(الانبیاء ۱۰۷۔۱۰۸)

ترجمہ (مع تفہیم) :
اور ہم نے آپ کو کسی اور بات کے واسطے (رسول بناکر) نہیں بھیجا، مگر دنیا جہاں کے لوگوں پر(اپنی ) مہربانی کرنے کےلیے (وہ مہربانی یہی ہے کہ لوگ رسول سے ان مضامین کو قبول کریں اور ہدایت کے ثمرات حاصل کریں اور جو قبول نہ کرے وہ اس کاقصور ہے۔ اس سے اس مضمون کی صحت پر کوئی اثر نہیں پڑنا) آپ ان لوگوں سے (بطور خلاصہ کلام مکرر) فرمادیجئے کہ میرے پاس تو (موحدین اور مشرکین کے باہمی اختلاف کے بارے میں) صرف یہ وحی آئی ہے کہ تمہارا معبود ایک ہی معبود ہے۔ (معارف القران)

1 Comment

  1. شیریں کوثر خانم

    ما شاء االلہ بہت ہی بہترین اور الگ انداز میں حضرت محمد صلی علیہ وسلم کی بعثت بتائے ہیں کیا میں یہ درس قرآن ہمارے اجتماع میں کر سکتی ہوں

    Reply

Submit a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

۲۰۲۲ اکتوبر