قرآن مجید کے ذریعہ انسانوں کو وہ علم حاصل ہوتا ہے جو کسی اور ذریعہ سے حاصل نہیں ہوسکتا۔ اللہ تعالی نے اپنے رسول ﷺ سے مخاطب ہوکر کہا:
وَأَنْزَلَ اللَّهُ عَلَيْكَ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ وَعَلَّمَكَ مَا لَمْ تَكُنْ تَعْلَم[النساء :113]
(اور اللہ نے تمہارے اوپر کتاب و حکمت نازل کی اور تمھیں وہ کچھ سکھایا جو تم نہیں جانتے تھے۔)
اللہ نے اہل ایمان کو خطاب کرتے ہوئے کہا:
وَيُعَلِّمُكُمُ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ وَيُعَلِّمُكُمْ مَا لَمْ تَكُونُوا تَعْلَمُونَ [البقر ة: 151]

(اور رسول تمہیں کتاب و حکمت کی تعلیم دیتے ہیں اور وہ کچھ سکھاتے ہیں جو تم نہیں جانتے تھے۔)
غرض یہ کہ قرآن مجید علم کا مخزن ہے اور اس سے سیکھنے اور سکھانے کا تعلق قائم کرنا ضروری ہے۔
اللہ پر ایمان لانے کا ضروری تقاضا یہ ہے کہ اللہ کی عبادت کی جائے اور رسول پر ایمان لانے کا ضروری تقاضا یہ ہے کہ رسول کی اطاعت کی جائے۔ اللہ کی عبادت کیسے کی جائے اور رسول کی اطاعت کیسے کی جائے،اس کا علم قرآن مجید سے حاصل ہوتا ہے۔
قرآن ،اللہ کی کتاب ہے اور قرآن پر ایمان لانے کا سب سے پہلا ضروری تقاضا یہ ہے کہ قرآن کو سیکھا اور سمجھا جائے۔ قرآن کو اللہ کی کتاب ماننے کے بعد اسے سیکھنے کا جذبہ پیدا ہونا لازم ہے، اور سیکھنے کے بعد دوسروں کو سکھانے کا جذبہ بھی لازم ہے۔ اگر کسی کے دل میں یہ جذبہ پیدا نہیں ہوتا ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اس نے قرآن کی صحیح قدر نہیں پہچانی ہے۔
ایک مومن کی زندگی قرآن سیکھنے اور سکھانے سے عبارت ہوتی ہے۔ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا:

خَيْرُكُمْ مَنْ تَعَلَّمَ القُرْآنَ وَعَلَّمَه
(بہترین لوگ وہ ہیں جو قرآن سیکھیں اور سکھائیں۔)(بخاری)
ایک مومن جیسے جیسے قرآن سیکھتا ہے، اسے معلوم ہوتا ہے کہ قرآن اس سے کیا مطالبے کرتا ہے۔ قرآن سیکھنے کے بعد ہی قرآن پر عمل کرنا اور بہترین انسان بننا ممکن ہوتا ہے۔
پچھلی امتوں کے لیے جو کتابیں بھیجی جاتی تھیں انھیں سکھانے کی ذمہ داری اللہ کے نبیوں پر ہوتی تھی۔ آخری رسول حضرت محمد ﷺ کے بعد قرآن کو سیکھنے اور سکھانے کی ذمہ داری پوری امت پر عائد ہوگئی ہے۔ اب قیامت تک قرآن سکھانے کے لیے کوئی رسول نہیں آئے گا، یہ ذمہ داری قرآن پر ایمان لانے والی امت کو ادا کرنی ہوگی۔ اسی لیے امت کے بہترین افراد وہی ہیں جو اس عظیم ذمہ داری کو ادا کریں۔
قرآن مجید کی پہلی آیت جب نازل ہوئی تو وہ اس حکم کو لے کر نازل ہوئی کہ قرآن پڑھو۔ نازل ہونے کے لحاظ سے دیکھا جائے تو قرآن کا پہلا حکم قرآن پڑھنے کا حکم ہے۔اس حکم کی اہمیت ہر مسلمان کے لیے بہت زیادہ ہے۔ قرآن کا پہلا حکم ’’اقرأ‘‘ ہے اور خود قرآن کا یہ نام پڑھنے کا تقاضا کرتا ہے۔ قرآن اس کتاب کو کہا جاتا ہے جو بار بار اور کثرت کے ساتھ پڑھی جائے۔ مثالی مسلم سماج کی ایک اہم علامت یہ ہے کہ اس میں قرآن بڑے پیمانے پر پڑھا اور سمجھا جائے۔
سماج کے تمام افراد قرآن کو سیکھنے کے عمل میں شریک ہوجائیں، اس ہدف کو حاصل کرنے کے لیے سیکھنے اور سکھانے کے تمام وسائل کو بروئے کار لانا ہوگا اور ایسی منصوبہ بندی کرنی ہوگی کہ کوئی بھی فرد اس سے محروم نہ رہ جائے۔
یہاں ہم اختصار کے ساتھ قرآن سیکھنے اور سکھانے کے کچھ پہلوؤں کا ذکر کریں گے۔
چھوٹے بچوں کو قرآن کی تعلیم دی جائے۔ کوشش کی جائے کہ وہ ناظرہ قرآن پڑھنا سیکھ لیں، تجوید کے قواعد سے واقف ہوجائیں، خوش الحانی کی مشق کرلیں، قرآن ترجمہ کے ساتھ پڑھنے لگیں اور بچپن ہی سے کچھ کچھ عربی بھی سیکھنے لگیں۔
سماج کے ناخواندہ لوگوں کے لیے تعلیم بالغان کا انتظام کیا جائے اور انھیں بنیادی تعلیم اس طرح دی جائے کہ وہ قرآن ترجمے کے ساتھ پڑھنے لگیں۔
جو لوگ ناظرہ قرآن پڑھنا نہ جانتے ہوں ،انہیں ناظرہ کی تعلیم دی جائے اور جو لوگ ناظرہ پڑھنا جانتے ہوں، انہیں ترجمے کے ساتھ قرآن پڑھنے کی ترغیب دی جائے۔
ہر ہر گھر میں قرآن کی تعلیم کا انتظام ہو، اگر ہر خاندان کا ایک فرد باقی تمام لوگوں کو قرآن سکھانے کی ذمہ داری قبول کرلے، تو پورے خاندان میں قرآن کی تعلیم عام ہوسکتی ہے۔
مسجدوں میں بچوں، بچیوں اور مرد و خواتین سب کے لیے قرآن کی تعلیم کا انتظام کیا جائے۔
oمسجد میں تدبر قرآن کا حلقہ قائم کیا جائے۔ اہل علم کا مستقل درس قرآن ہو، جسے سننے کے لیے مردوں کے علاوہ خواتین کا انتظام بھی رہے۔
نئی ٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھایا جائے اور قرآن کی تعلیم دینے والے موبائل ایپس کا بھرپور استعمال کیا جائے۔
خوش الحان قاریوں کی تلاوت سننے کے شوق کو عام کیا جائے۔ خاص طور سے ترجمے کے ساتھ۔
قرآن کی تعلیم کے آن لائن کلاس چلائے جائیں۔ خاص طور سے قرآنی عربی سکھانے کے چلن کو عام کیا جائے۔
قرآن کا علم رکھنے والے ممتاز علما ءسے استفادے کی شکلیں نکالی جائیں۔ ان سے استفادے کے لیے جدید ٹیکنالوجی کو بھی بروئے کار لایا جائے۔ زوم وغیرہ کے ذریعہ طویل فاصلوں کے باوجود مختلف شخصیات سے استفادہ کیا جاسکتا ہے۔
قرآن مجید کی آیتوں کو موضوع گفتگو بنایا جائے۔ گھر میں بڑوں اور بچوں کے ساتھ اور گھر کے باہر دوستوں کے درمیان قرآنی موضوعات پر بات کی جائے۔ ہماری مجلسوں کا المیہ یہ ہے کہ دنیا کے ہر موضوع پر گفتگو ہوتی لیکن قرآن مجید کی کوئی آیت موضوع گفتگو نہیں بنتی ہے۔
oقرآن مجید کا انداز بہت دلنشین ہے۔ مختلف قصوں اور مناظر کے ذریعہ قرآن اپنے قاری کی دلچسپی قائم رکھتا ہے۔ ہم بھی جب قرآن مجید کی باتیں پیش کریں تو دلچسپ انداز اختیار کرنے کی کوشش کریں۔
قرآن مجید کی آیتوں کے مع ترجمہ خوب صورت طغرے گھر کی دیواروں کو زینت بخشتے ہیں اور قلب و نظر کو نور عطا کرتے ہیں۔
بعض لوگ اپنے گھر میں یا محلے کی کسی نمایاں جگہ پر بلیک بورڈ یا وائٹ بورڈ پر قرآن کی آیتیں مع ترجمہ لکھتے ہیں۔ یہ بھی قرآن کی تعلیمات کو ذہن نشین کروانے کا اچھا اور مؤثر ذریعہ ہے۔
قرآن مجید صرف مسلمانوں کی کتاب نہیں ہے، بلکہ یہ تمام انسانوں کی ہدایت کے لیے ہے۔ اس لیے ایسی تدبیریں اختیار کرنا ضروری ہے، جن سے غیر مسلم قرآن سے مانوس ہوں اور اسے اپنے رب کا پیغام سمجھ کر پڑھیں۔ غیر مسلم قرآن سیکھنے اور سمجھنے کی طرف راغب ہوں، اس کے لیے خصوصی کوششیں کی جائیں۔ قرآن کی بہترین تعلیمات انھیں بتائی جائیں اور قرآنی تعلیمات پر مشتمل کتابیں انہیں مطالعہ کے لیے دی جائیں۔ انھیں یہ بتایا جائے کہ قرآن سب کے لیے ہے۔

ویڈیو :

آڈیو:

قرآن مجید کی آیتوں کو موضوع گفتگو بنایا جائے۔ گھر میں بڑوں اور بچوں کے ساتھ اور گھر کے باہر دوستوں کے درمیان قرآنی موضوعات پر بات کی جائے۔ ہماری مجلسوں کا المیہ یہ ہے کہ دنیا کے ہر موضوع پر گفتگو ہوتی لیکن قرآن مجید کی کوئی آیت موضوع گفتگو نہیں بنتی ہے۔
قرآن مجید کا انداز بہت دلنشین ہے۔ مختلف قصوں اور مناظر کے ذریعہ قرآن اپنے قاری کی دلچسپی قائم رکھتا ہے۔ ہم بھی جب قرآن مجید کی باتیں پیش کریں تو دلچسپ انداز اختیار کرنے کی کوشش کریں۔

2 Comments

  1. نکہت اقبال

    ماشاءاللہ ماشاءاللہ ماشاءاللہ بہت ہی بہترین انداز کی تحریر ہے اتنی اچھی رہنمائی کے لیے شکریہ ۔

    Reply
  2. Sameera shaheen

    Ma sha Allah bhot behtreen hai hum sab ko aage aana chahiye or is network se sab ko jodna chahiye

    Reply

Submit a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

۲۰۲۲ اکتوبر