جب جب گستاخی ہوگی پرامن احتجاج کیا جائے۔برادران وطن میں مختلف تراجم کے ساتھ سیرت کی کتابیں تقسیم کی جائیں۔ایسے موقعوں پر لوگ بہت انہماک سے ٹرینڈ کررہی چیزوں کی طرف دلچسپی دکھاتے ہیں، ایسے موقعوں سے ہم فائدہ اٹھائیں۔جلسہ گاہوں میں، گلیوں میں، محلوں میں، لٹریچر کی تقسیم کریں، اور جگہ جگہ چھوٹے چھوٹے سیرت کے جلسے منعقد کریں، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچائیں۔

بسم اللہ الرحمن الرحیم‌
إِنَّآ أَرۡسَلۡنَٰكَ شَٰهِداوَمُبَشِّراوَنَذِيرالِّتُؤۡمِنُوابِٱللَهِ وَرَسُولِهِۦ وَتُعَزِّرُوهُ وَتُوَقِّرُوهُۚ وَتُسَبِّحُوهُ بُكۡرَةًوَأَصِيلًا

ترجمہ:

(یقیناً ہم نے تجھے گواہی دینے والا اور خوشخبری سنانے والا اور ڈرانے والا بنا کر بھیجا ہے،تاکہ (اے مسلمانو) تم اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ اور اس کی مدد کرو اور اس کا ادب کرو اور اللہ کی پاکی بیان کرو صبح وشام۔)

بے شک دین اسلام دنیا کے تمام ترین ادیان باطلہ کو مٹانے کےلیے اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل کیا گیا، جس کو نافذ کرنے کےلیے ہر دور میں ہر قوم کےلیے ایک پیغمبر بھیجا گیا، اس پیغمبر نے لوگوں کو وحدانیت کی دعوت دی، انسانیت کا سبق سکھایا،ایک اللہ کی بندگی کی طرف لوگوں کو بلایا۔نیکی، پاکبازی، سچائی، عدل و انصاف اور مساوات کا درس دیا۔ پیغمبران کی اس دعوت پر لوگوں کی ایک قلیل تعداد نے ان کا ساتھ دیا، لوگوں کے بڑے گروہ نے پیغمبر کی بات کا نہ صرف انکار کیا،بلکہ ان کی جان کے درپے ہوگئے۔ ہر طرح سے ان پیغمبران اور رسولوں کو تکلیفیں دی گئیں۔ ان کو کسی پل لوگوں نے سکون لینے نہیں دیا۔
بالکل اسی طرح امت مسلمہ کے آخری پیغمبر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی امت کے مشرک اور سرکش لوگوں نے کسی لمحہ سکون لینے نہیں دیا، ہر طرح سے آپ کو تکلیفیں دی گئیں،طرح طرح کے الزامات لگائے گئے۔
آج بھی سرکش لوگ اسی طرح کی گستاخیاں کررہے ہیں، جس سے مسلم طبقہ کو جوش دلایا جائے اور مسلمانوں سے اسی جوش کے عالم میں کوئی غلطی سرزد ہوجائے اور اسی کو بنیاد بناکر مسلمانوں کو سیاسی، سماجی، و اقتصادی سطح پر ہر ممکن نقصان پہنچایا جائے۔
حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف آج تک ہزارہا کتابیں لکھی گئی ہیں، اور ابھی بھی لکھی جارہی ہیں، لیکن مشرکین کی جانب سے کی جانے والی ان مذموم کوششوں کا کوئی منفی اثر نہ اسلام پر پڑا نہ ہی آپ صل اللہ علیہ وسلم کی مبارک شخصیت پر اس سے کوئی آنچ آئی۔ ایسی گستاخی والے واقعات جب جب وقوع پذیر ہوئے، تبلیغ دین و اشاعت اسلام میں دن دگنی رات چوگنی ترقی ہوئی۔
دنیا کا سب میں بڑا انقلاب جو برپا کیا گیا تھا،وہ سرزمین عرب میں برپا ہوا تھا۔ جب ساری دنیا پر کفراور ظلم کی سیاہ چادر پھیل گئی تھی تو سرزمین عرب سے حق اور انصاف کی کرنیں پھوٹیں۔اہل یورپ بھی مانتے ہیں کہ جس وقت اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے سرزمین عرب میں حریت، اخوت، اور مساوات کی صدائیں بلند ہوئیں تو ساری دنیا کو حیرت ہوئی کہ کیا مساوات، حریت و اخوت جیسے خوبصورت اور انسانیت نواز تصورات بھی ہوسکتے ہیں؟ ایسے لوگ جو پہلے ہی عرب بدوقبائل اور روم، فارس و ہندوستان جیسی طاقتور اور جابر مملکتوں میں رائج حیوانی، اور استحصال پر مبنی قوانین سے پریشان تھے۔ اللہ کے نبی کی آواز کی طرف دیوانوں کی طرح دوڑ پڑے، اور دین اسلام سے مرتے دم تک چمٹے رہے۔
بے شک اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف ہزاروں کتابیں تحریر ہوئی ہیں ۔ان کتابوں میں کئی الزام تراشے گئےاور آج بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شخصیت کے خلاف کئی کتابیں تحریر ہوتی ہیں،لیکن تاریخ گواہ ہے کہ ان الزامات نے نہ تو مسلمانوں کو کمزور کیا،اور نہ ہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں کوئی کمی آئی، بلکہ اس سے الٹا فائدہ ہی ہوا، آپﷺ کی مخالفت میں کتابیں پڑھنے والے لوگ آہستہ آہستہ صحیح کتب تک رسائی حاصل کرلیتے اور مسلمان ہوجاتے، ایسی بیسیوں مثالیں موجود ہیں۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی عظیم شخصیت کے آگے غیر بھی سر جھکاے نظر آتے ہیں، بیسیوں غیر مسلم رائٹرس، اور تاریخ دانوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شخصیت کو کس انداز میں پیش کیا ،ملاحظہ فرمائیں:
مائیکل ایچ ہارٹ (1932-) فلکیات، طبیعیات اور سائنس کی تاریخ کے پروفیسر کہتے ہیں
’’ وہ (حضور صلی اللہ علیہ وسلم) تاریخ میں واحد شخصیت تھے جو مذہبی اور سیکولر دونوں سطحوں پر انتہائی کامیاب رہے۔
الفونس ڈی لامارٹین (1790-1869) فرانسیسی شاعر اور سیاستدان کہتا ہے :
’’فلسفی، خطیب، رسول، قانون ساز، جنگجو، نظریات کا فاتح، عقلی عقائد کو بحال کرنے والا، زمینی سلطنت و روحانی سلطنت کا بانی، وہ محمد ہے۔ ان کی عظمت کی پیمائش نہیں کی جا سکتی ہے، کیا ان سے بڑا کوئی آدمی ہے؟‘‘
J. H. DENISONاپنی کتاب Emotions as the Basis of Civilisation
میں لکھتے ہیں کہ پانچویں اور چھٹی صدی میں دنیا انتشار کے دہانے پر کھڑی تھی، عیسائیت کی پیدا کردہ پابندیاں اتحاد اور امن کے بجائے، بربریت اور تفرقہ پیدا کر رہی تھیں۔
وہ لکھتے ہیں کہ عربوں میں ہی وہ شخص پیدا ہوا جس نے مشرق و مغرب کی دنیا کو متحد کر دیا۔ہندوستان کے ایک مشہور ہندو اسکالر کے مطابق اسلام ایک شاندار اور عظیم مذہب ہے اور اسلام کے پیغمبر محمد صلی اللہ علیہ وسلم انسانیت کی تاریخ میں سب سے عظیم شخصیت ہیں۔
ہندو اسکالر، سوامی لکشمی شنکراچاریہ نے کہاکہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم تاریخ کی سب سے عظیم شخصیت ہیں، اگر کوئی اسلام کے بارے میں جاننا چاہتا ہے تو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کا احاطہ کر لے، اسے اسلام کا اندازہ ہو جائے گا۔
ہندوؤں کےوہ صحیفے جو آج سے تقریباً 4000سال پرانے تصور کیے جاتے ہیں،کہا جاتا ہے کہ ان میں ایک حیرت انگیز پیشین گوئی تحریر ہے جو مہارشی ویاس کی زبانی ہے جو ایک ہندو سنت ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ عرب میں محمد نام کی ایک ہستی آئے گی ،جو گمراہ ہونے والوں کی رہنمائی کرے گی۔
Bhavishya Puranaمیں بھی پیشین گوئی تحریر ہے کہ ایک پردیس میں روحانی استاد آئے گا جسکا نام محمد ہو گا، وہ عرب کا رہنے والا ہو گا، وہ شیطان سے لڑنے کے لیے ایک بڑی قوت جمع کرے گا، اور خدا اسے اس کےمخالفین سے محفوظ رکھے گا۔
اسی طرح کی پیشین گوئی رگ وید کی کتاب میں بھی پائی جاتی ہے۔کتاب میں سنسکرت کا لفظ Sushrama استعمال کیا گیا ، جس کا مطلب ہے قابل تعریف یا اچھی تعریف جس کا عربی میں مطلب ہے محمد صلی اللہ علیہ وسلم۔پُران(ہندوؤں کی ایک مقدس کتاب) میں آتا ہے کہ کالکی اوتار اس دنیا میں خدا کے آخری پیغمبر ہوں گے، جو ساری دنیا کی رہنمائی کے لیے ہوں گے۔
سماجی، سیاسی، اقتصادی نظام
socio politico economical system
جو اللہ کے نبی دے کر گئے ہیں، اس نظام کے تعلق سے ہزاروں کتابیں لکھی گئی ہیں اور آج بھی اسکو رول ماڈل بنا کر لوگ استعمال کر رہے ہیں۔
یہ تمام باتیں اس کی طرف دلالت کرتی ہیں کہ لوگوں کو اس امر میں شک نہیں ہے کہ آنحضرت صل اللہ علیہ وسلم اللہ کے نبی ہیں۔جو آپ کی شان میں گستاخی کرنے والے لوگ ہیں، ان کو اس بات سے کوئی مطلب نہیں ہے کہ وہ کیا ظلم ہے جو وہ کررہے ہیں، ان کو مطلب ہے صرف سیاسی میدان حاصل کرنے سے۔
گستاخی پر ہمارا ردعمل
جب جب گستاخی ہوگی پرامن احتجاج کیا جائے۔برادران وطن میں مختلف تراجم کے ساتھ سیرت کی کتابیں تقسیم کی جائیں۔ایسے موقعوں پر لوگ بہت انہماک سے ٹرینڈ کررہی چیزوں کی طرف دلچسپی دکھاتے ہیں، ایسے موقعوں سے ہم فائدہ اٹھائیں۔جلسہ گاہوں میں، گلیوں میں، محلوں میں، لٹریچر کی تقسیم کریں، اور جگہ جگہ چھوٹے چھوٹے سیرت کے جلسے منعقد کریں، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچائیں۔ اس سے شریر لوگوں کی شرارت میں ہمارےلیے نقصان کی جگہ فائدہ ہوگا، انشاءاللہ تعالیٰ۔

سلام اس پر کہ جس نے بے کسوں کی دستگیری کی
سلام اس پر کہ جس نے بادشاہی میں فقیری کی

ویڈیو :

آڈیو:

0 Comments

Submit a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

۲۰۲۲ اکتوبر