واللہ کس قدر خوبصورت آواز تھی۔ دل میں ارتعاش اور جسم کےرونگٹے کھڑے کر د ینے والی۔ جی چاہ رہا تھا، سنتی رہوں اور بس سنتی ہی رہوں۔یہ اس کتاب کریم کی تلاوت تھی جس کا پڑھنا سننا غور و فکر کرنا،خوبصورت آوازوں سے مزین کرنا اور اس کی آیات سے اپنی عملی زندگی کو منور کرنا عین عبادات میں شامل ہے۔یہ قافلہ قرآن جیسے جیسے اس ملک کی خوبصورت وادیوں سے گزرتا جا رہا ہے، بہت ساری خوبصورت آوازیں اس قافلے کی رونق بن رہی ہیں۔ پچھلے ماہ اس قافلہ قرآن نے آندھرا پردیش اور تلنگانہ میں پڑاؤ ڈالا تھا، وہاں سے کوچ کر کے اب یہ قافلہ ریاست مدھیہ پردیش اور چھتیس گڑھ آن پہنچا۔
میں اکیلا ہی چلا تھا جانب منزل مگر
لوگ ساتھ آتے گئے اور کارواں بنتا گیا
جی ہاں! ہم بات کر رہے ہیں ھادیہ ای میگزین کی جانب سے کروائے جانے والے تیسرے ای قرأت مقابلہ کی، جس میں تقریباً 85 خواتین اور طالبات نے شرکت کی۔ہم جانتے ہیں کہ یہ مقابلہ دو گروپس پر مشتمل ہے ۔گروپ A میں 10 تا 18 سال کی طالبات نے حصہ لیا اور گروپ B میں 19 تا 30 سال کی خواتین نے شرکت کی، اور 20 ستمبر 2022 ءکی شام ھادیہ ای قرأت قرآن مقابلے کے نتائج کی تقریب کی پرنور شام تھی۔تمام امیدواران جس کا بے صبری سے انتظار کر رہے تھے۔
کلام ربانی سے پروگرام کا آغاز ہوا، اور رومیصہ اروہ کی دلکش تلاوت قرآن نے (جس کا ہم نے اوپر ذکر کیا ہے) ماحول کو سحرزدہ کر دیا۔

عَنِ الْبَرَاءِبْنِ عَازِبٍ رضي الله عنه، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اﷲِصلی الله عليه وآله وسلم: زَيِّنُوا الْقُرْآنَ بِأَصْوَاتِکُمْ. (رواه أبوداود والنسائي وابن ماجة، والبخاري في ترجمة الباب.)
’حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قرآن حکیم کو اپنی آوازوں سے زینت دو۔‘‘
محترمہ عطیہ صدیقہ صاحبہ (چیف ایڈیٹر: ھادیہ ای میگزین ،سکریٹری :حلقۂ خواتین جماعت اسلامی ہند آل انڈیا) اور محترمہ خان مبشرہ فردوس صاحبہ
( ایڈیٹر: ھادیہ ای میگزین) بطور مہمانان خصوصی شامل تھیں۔
محترمہ خان مبشرہ فردوس صاحبہ نے افتتاحی کلمات میں قرأت مقابلہ کے مقاصد کو واضح کرتے ہوئے فرمایا کہ ہمارا مقصد نوجوان طالبات اور خواتین میں قرآن کریم سے شغف پیدا کرنا ہے۔ ساتھ ہی محترمہ نے ھادیہ ای میگزین کا جامع اور خوبصورت تعارف پیش کیا۔ ماہ ستمبر کے شمارے سے جاری کیے جانے والے دو نئے زمرے’’امید کے دیے‘‘ اور’’ اکادمیا‘‘ کا بطور خاص ذکر کیا۔
اس پروگرام میں ہادیہ ای میگزین کی چند قاریوں نے اپنے تبصرے پیش کیے، جن میں سب سے پہلے ہم محترمہ رابعہ فلاحی صاحبہ کے تبصرے پر روشنی ڈالیں گے۔ محترمہ رابعہ فلاحی نے سب سے پہلے حسن قرأت مقابلے کے فائزین کو دعاؤں سے نوازا۔ بعد ازاں محترمہ نے 3 مارچ 2021 ءکی خوبصورت شام کو یاد کیا، جس میں ھادیہ کو منظر عام پر لانے کا اعلان کیا گیا تھا۔ انہوں نے ھادیہ کو اس ٹیکنالوجی کے دور میں ایک عظیم نعمت گردانتے ہوئے بتایا کہ لاک ڈاؤن کے بعد اس میگزین نے خواتین کو دوبارہ زندگی جینے کا ہنر سکھایا۔ انہوں نے مزید فرمایا کہ یہ میگزین خواتین ہوں یا مرد حضرات، بچے ہوں یا بوڑھے؛ ہر عمر کے افراد کو ان کی دلچسپی کے لوازمات فراہم کرتا ہے۔ لہذا یہ ایک مثالی ای میگزین ہے۔جدید تقاضوں کے پیش نظر ہمیں ھادیہ سے یہ امید ہے کہ یہ میگزین خواتین میں فکر و عمل کی راہ ہموار کرے گا۔ محترمہ نے بہت خوبصورت پیرائے میں ھادیہ کے اوراق کا اپنی زبان شیریں سے نقشہ کھینچا۔ انہوں نے ھادیہ کے سرورق کی ہر چھوٹی بڑی چیز کو بے حد پسند کیا ،جس میں خاص طور سے ہادیہ کے سلوگن’’تعلیم تدبیر تعمیر‘‘ کو خوب سراہا۔ انہوں نے اسے انقلابی سلوگن سے تعبیر کیا۔میگزین کی خصوصیات بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ اس میگزین میں قاری کی رائے کو بہت زیادہ اہمیت دینا اسے دوسرے میگزینس سے ممتاز کرتا ہے، کیونکہ قاری کی رائے کسی بھی میگزین کے لمبے سفر کی دلیل ہوتی ہے۔میگزین میں شائع کیے جانے والے سماج کے مختلف افراد کے انٹرویوز کے تعلق سے محترمہ نے فرمایا کہ یہ پڑھنے والوں کا حوصلہ بڑھانے کا ذریعہ ہے۔کل ملا کر اس کے تمام مشمولات زندگی کے ہر شعبے کو اپنے احاطے میں لیےہوئے نظر آتے ہیں ۔ آخر میں محترمہ نے ایک تجویز پیش کی ،اس میں انہوں نے بیان کیا کہ ھادیہ کے زمرہ النور کے قرآنی دروس اور درس حدیث کو جمع کرکے مجلے کی شکل دی جائے۔
اس کے بعد ہماری دوسری قاری محترمہ ریحانہ پروین صاحبہ نے ھادیہ کے تعلق سے اپنا تبصرہ پیش کیا۔ انہوں نے ھادیہ کو خواتین کی تربیت کا بہترین ذریعہ قرار دیا، ساتھ ہی ھادیہ کے قلم کاروں کو سراہتے ہوئے کہا کہ ان کے قلم ھادیہ کے مقاصد کی تکمیل کا ذریعہ بن رہے ہیں،الحمدللہ۔
محترمہ نے زمرہ النور کی اہمیت اور افادیت کا بھی تذکرہ کیا، علاوہ ازیں ہادیہ کے نئے زمرے’’ امید کے دیئے‘‘کی مثبت خبروں کو ایک بہترین قدم بتایا ۔ان کے مطابق یہ کالم ہمارے معاشرے میں خیر کے ماحول کو پروان چڑھانے کا سبب بنے گا۔ غرض محترمہ نے ھادیہ کے تمام زمرہ جات پر تفصیلی تبصرہ پیش کرتے ہوئے فرمایا کہ دور جدید کے چیلنجز سے نبرد آزما ہونے کے لیے یہ میگزین مسلم خواتین کا زبردست خیر خواہ ہے۔ آخر میں محترمہ نے ھادیہ ٹیم کو ڈھیروں مبارکباد اور دعاؤں سے نوازا۔اگلا تبصرہ محترمہ رضوانہ صاحبہ نے پیش کیا۔انہوں نے ھادیہ کے تعلق سے فرمایاکہ یہ میگزین خواتین کے ہر الجھے مسئلے کو سلجھاتا ہوا نظر آتا ہے ۔انہوں نے ھادیہ کی اصل خوبی بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ موجودہ دور کے مسائل کا حل ہم اس میگزین میں دین اسلام کی تعلیمات کے ذریعہ پاتے ہیں۔ یہ بات ہمارے معاشرے میں دین کا جامع تصور پیدا کرنے کے لیے بہت کارگر ہے۔ محترمہ نے ماہ ستمبر کے شمارے کا حوالہ دیتے ہوئے فرمایا کہ محترمہ تحسین عامر صاحبہ کا بچوں سے متعلق آرٹیکل بہت پسند آیا، کیوں کہ اس آرٹیکل کے ذریعہ ہم بڑے سہل انداز میں بچوں کو مفید معلومات فراہم کر سکتے ہیں۔ محترمہ ساجدہ کمبوہ صاحبہ کی کہانی’’ کایا پلٹ‘‘کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ اس کہانی میں استاد کو ایک مربی اور مز کی کی حیثیت سے پیش کیا گیا ہے ،جو کہ عین حق ہے، کیونکہ صرف تعلیم سے بچوں کی تربیت ممکن نہیں۔ عطیہ اصلاحی صاحبہ کی سماجی رویوں پر مبنی کہانی ہمارے آس پاس موجود مختلف رویوں کی بہترین عکاس ہے۔محترمہ نے رخصت لیتے ہوئے ایک انمول مشورہ بھی پیش کیا ،اوروہ یہ کہ ھادیہ کی ان عمدہ کہانیوں کے اسباق کو ہم اپنی ڈائر یوں میں ضرور قلمبند کریں ،تاکہ ہم انہیں بھول نہ جائیں ،اور زندگی کے ٹیڑھے میڑھے راستوں میں یہ اسباق ہمیں روشنی دکھاتے رہیں۔ انہوں نے محترمہ خان مبشرہ فردوس صاحبہ کی ہردلعزیز سیریز’’اولاد کا مستقبل آپ کے ہاتھ‘‘ کی بھرپور تعریف بیان کی اور اسے بچوں کے سلسلے میں بہترین رہنمائی قرار دیا ۔ اس کے علاوہ ‘’’طلبہ میں بڑھتا ہوا ذہنی دباؤ اور خودکشی کا رجحان ‘‘اس تحقیقی مقالے کی خصوصیات کو بھی اجاگر کیا ۔صدیقی نسیم السح صاحبہ کے مضمون کی تدابیر کا بطور خاص ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ محترمہ نے قرآن و سنت کی روشنی میں خودکشی سے بچاؤ کی بہترین تدابیر اور حل پیش کیے ہیں۔ انجشہ زیدی کے ادبی طنز و مزاح نے لبوں پر بے ساختہ مسکراہٹ بکھیر دی۔آخر میں انہوں نے ھادیہ ٹیم کی جانفشانی سے کیے گئے کاموں کو سراہتے ہوئے فرمایا کہ اب ہمارا فرض ہے کہ ہم لوگوں سے ملاقات کے وقت ھادیہ کو اور اس کے مضامین کو اپنی گفتگو کا حصہ بنائیں، اور لوگوں میں ھادیہ کے پڑھنے کا رجحان بڑھائیں ۔
اس پروگرام کا آخری تبصرہ نزہت سہیل صاحبہ کا تھا

مکتب عشق کا دستور نرالا دیکھا
اس کو چھٹی نہ ملی جس نے سبق یاد کیا

نزہت سہیل صاحبہ نے اپنی گفتگو کا آغاز اس خوبصورت شعر سے کیا ۔انہوں نے ھادیہ کے قلم کاروں کو باعتماد اور باصلاحیت گردانتے ہوئے فرمایا کہ وہ اپنے خیالات اور افکار کی افزائش میں فعال اور سرگرداں ہیں۔ ساتھ ہی انہوں نے ھادیہ کے ای میگزین ہونے پر ایک مثبت بات کی جانب توجہ دلائی، وہ یہ کہ کسی مجلے کو گاؤں اور قصبوں تک پہنچنے میں کافی وقت درکار ہوتا ہے، لیکن آج اس ٹیکنالوجی کے دور میں جب کہ ہم قدم سے قدم ملا کر چل رہے ہیں ،جس کے نتیجے میں ھادیہ جیسے ای میگزین کو لا نچ کیا گیا ہے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ جیسے ہی یہ میگزین جاری کیا جاتا ہے چند ہی منٹوں میں ہم خود کو اولین قاری میں شمار کر سکتے ہیں، جبکہ پہلی صورت میں ایسا کیا جانا نا ممکنات میں سے ہے ۔محترمہ نے ھادیہ کی خوبیوں کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ یہ میگرین خاص طور سے ان لوگوں کی توجہ حاصل کر رہا ہے جو بیدار ذہن ہیں اور فکر کی آگہی رکھتے ہیں ،جو محض وقت کے بہاؤ میں بہنا پسند نہیں کرتے بلکہ پر عزم اور باحوصلہ ہوتے ہیں۔ ھادیہ وہ مواد فراہم کرتا ہے جو اس پر فتن اور چیلنجنگ دور میں نوجوان نسل کی ذہنی صحت کے لیے اشد ضروری ہے ۔ ساتھ ہی ھادیہ اردو ادب سے شغف رکھنے والوں کی تشنگی دور کرنے کا ذریعہ بھی ہے۔ جاتے جاتے محترمہ نے ھادیہ ٹیم کو دعاؤں سے نوازا ۔
پروگرام کا اگلا مرحلہ نتائج کے اعلانات پر مبنی تھا۔ یہ اعلانات ایونٹ مینیجر محترمہ نصرت خان شبیر صاحبہ نے کیے۔ گروپ A کے اول دوم اور سوم امیدواران اس طرح سے ہیں : ضحی فاطمہ محمد احمد،ثانیہ خان محمد راشد اور منزہ صدیقی اشتیاق صدیقی ،انہیں سرٹیفیکیٹ کے علاوہ بالترتیب 2000,1500, اور1000 روپے نقد رقم سے نوازا گیا ۔ اسی طرح گروپ B میں اول آنے والی امیدوار رو میصہ اروہ،دوم آنے والی امیدوار ایمن عمارہ خان سردار احمد خان اور سوم آنے والی امیدوار ضحی تقدیس عزیزالحق خان ہیں ۔ انہیں بھی بالترتیب 2000 ,1500 , اور 1000 روپے کی نقد رقم اور سرٹیفیکٹ سے نوازا گیا ۔ساتھ ہی تمام امیدوار شرکاء کو ای سرٹیفیکیٹ سے نوازا گیا۔
پروگرام کا آخری مرحلہ اختتامی خطاب کا تھا۔ جسے حسب دستور ھادیہ کی چیف ایڈیٹر محترمہ عطیہ صدیقہ صاحبہ نے پیش کیا۔ محترمہ عطیہ صدیقہ صاحبہ نے اول دوم اور سوم آنے والی امیدواران اور تمام امیدواران کو بھی مبارک باد پیش کی ۔ محترمہ نے اپنے خطاب میں سوشل میڈیا کے تعلق سے مسلم خواتین کی رہنمائی کرتے ہوئے فرمایا کہ ہمیں چاہیے کہ اس دور میں سوشل میڈیا سے دوری بنانے کی بجائے ہم اسے کارگر کس طرح بنا سکتے ہیں؟ اسے ہم خیر کے کاموں میں کس طرح استعمال کرسکتے ہیں؟ان امور کی جانب توجہ دی جائے ،کیونکہ یہ ایک ایسا پلیٹ فارم ہے جو بہت ساری برائیوں کے در وا کرتا ہے وہیں اچھائیوں کو پا نے کی معراج بھی ہے۔ یہ ہمارے استعمال پر منحصر ہے کہ ہم اسے اپنے لیے رحمت بنانا چاہتے ہیں یا زحمت۔ ہم جانتے ہیں کہ سوشل میڈیا کی ہر ویب سائٹ پر مصنوعی ذہانت کارفرما ہے ۔یہ ہمارے ذہن کو ایک زندہ شخص سے زیادہ بہتر طریقے سے جان لیتا ہے ۔یہی وجہ ہے کہ جب کبھی ہم کسی ویب سائٹ پر جاتے ہیں، جوں جوں ہم اپنی انگلیوں کو حرکت دیتے ہیں ویسے ویسے اس ذائقہ کا مواد اپنی نظروں کے سامنے موجود پاتے ہیں۔ پس چاہیےکہ ہم اپنے ذائقے کو شیطان کے حوالے نہ کریں، بلکہ اپنی انگلیوں کو خیر کی جانب جنبش دیں، ان شاءاللہ مزید خیر سے مستفید ہوں گے۔
خاص طور سے ہم اپنی نئی نسل میں اسلام کی بقا کے لیے کوشاں ہیں ۔ہمیں چاہیے کہ ہم جدید دور کے پرفتن چیلنجز کا متبادل پیش کریں، جس کے لیے ہماری خواتین کا آگے آنا بے حد ضروری ہے۔ حالات سے کنارہ کشی کرنے کی بجائے ہم حالات کا مقابلہ کرنا سیکھیں۔ تب کہیں جا کر ہم اپنے آپ کو منوانے کے قابل ہوں گے ۔
اس پروگرام کی نظامت کے فرائض محترمہ جویریہ صاحبہ( رائپور )نے احسن طریقے سے انجام دیا، اور اظہار تشکر کے کلمات محترمہ طلت فلاحی صاحبہ نے پیش کیے، پر اثردعا پر پروگرام اختتام پذیر ہوا۔

0 Comments

Submit a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

۲۰۲۲ اکتوبر