اسلام کا نقطۂ نظر یہ ہے کہ عورت کی صحیح تعلیم و تربیت وہ ہے جو اسے ایک بہترین انسان ، بہترین ماں،اور بہترین بیوی ، بیٹی، بہن بنائے۔ اس کا دائرہ عمل گھر ہے، اس لئے خاص توجہ کے ساتھ ان علوم کی تعلیم دی جانی چاہیے جو اس دائرے میں اسے زیادہ مفید بناسکتے ہیں، مزید برآں وہ علوم بھی اس کے لئے ضروری ہیں جو انسان کو انسان بنانے والے اور اس کے اخلاق کو سنوارنے والے اوراس کی نظر کو وسیع کرنے والے ہیں۔ ایسے علوم اورایسی تربیت سے آراستہ ہونا ہر مسلمان عورت کے لئے ضروری ہے۔علاوہ ازیں اگر کوئی عورت غیرمعمولی عقلی و ذہنی استعداد رکھتی ہو،اور ان علوم کے علاوہ دوسرے علوم و فنون کی اعلیٰ تعلیم بھی حاصل کرنا چاہے تواسلام اس کی راہ میں مزاحم نہیں ہے۔بشرطیکہ وہ ان حدود سے تجاوز نہ کرے جو شریعت نے عورتوں کے لیے مقرر کیے ہیں۔حدود سے آگے بڑھ جاناہی فتنوں کی راہ ہموار کرتا ہے

InternationalDayForGirlChild#
اس بے پایاں کائنات میں اللہ تعالی نے بے شمار مخلوقات کی تخلیق فرمائی ہے،وہیں انسان کو پیدا کیا ،افضل ترین مقام دیا، اس کو دو جنسوں میں تقسیم کیا ؛مرد اور عورت۔ مرد کو الگ ذمہ داریاں تفویض کی گئیں اور ساتھ ہی اس کو قوی بناکر عورت کا نگران کار بنایا گیا اور اس کے تحفظ کی ذمہ داری گئی۔
بالکل اسی طرح عورت کو ہمیشہ سے آدھی دنیا کہاگیا، اور پچھلے وقتوں میں بھی یہ کہاجاتا رہا ہے، یہی وجہ ہے کہ اسے کسی بھی سماج کے لیے نظر انداز کرنا آسان نہیں، بلکہ یہ بات واضح ہے کہ عورت انسانی حیات کی گاڑی کا لازمی حصہ ہے، مرد نے بھی اپنی ذمہ داریاں ادا کیں۔ کہیں باپ کی شکل میں ، کہیں بھائی ، شوہر ، بیٹے اور کسی دوسرے محرم رشتے کی شکل میں ،لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہاں ہر خیر کے ساتھ شر ہے۔ انہی مردوں میں سے کچھ نے اسی عورت کو وہ اہمیت و حیثیت نہیں دی ، جس کی واقعتاً وہ مستحق تھی،ہمارے معاشرےنے عورت کے وقار کو تباہ کیا،اسے عزت نہیں بخشی،بلکہ اس کی عزت کی دھجیاں اڑائیں، اس کی ذات کو مجروح کیا ،اس کی توہین کی۔
سوسائٹی میں عورت کے حوالے سے جرائم بڑھنے لگے ۔ایسے میں جہاں اس کے محافظ نے اس کو سامان ذلت فراہم کیا،وہیں پھر معاشرے کی عورت کے لئے یہ مقام خوف تھا کہ اس کے تحفظ کی ذمہ داری جو معاشرے پہ عائد تھی ،وہ ادھوری رہ گئی۔ان ہی ذمہ داریوں کا اعادہ کرنے کے لئے بالخصوص کچھ دن منائے جاتے ہیں اور بالعموم ہمہ وقت اس کا خیال رکھنا ہر فرد پہ لازم ہے۔
International Girl Child Day کے اس عنوان سے11 اکتوبر کو منایا جانے والا یہ دن اقوام متحدہ کی جانب سے 19دسمبر2011 ء کو ایک Resolution کے اعلان کے ذریعہطے کیا گیا۔
اس کا بنیادی مقصد عورتوں کے حقوق کی شناخت کروانا اورخواتین میں دنیا کے چیلنجز کا مقابلہ کرنے کی ہمت پیدا کرناہے۔ اس Resolution میں جن باتوں کو شامل کیا گیا،وہ یہ ہیں:
خواتین کو بنیادی انسانی حقو فراہم کرنا۔
عورت کی امپاورمنٹ پہ توجہ دینا۔
ان کو معاشرے میں صحتمندانہ تعلق میں بسائے رکھنا۔
تعلیم اور معاملات زندگی میں یکساں مواقع فراہم کرنا۔
ان کی معاشی، معاشرتی ذمہ داریوں کا شعور پیدا کرنا۔
ان کی صلاحیتوں کو پروان چڑھانا۔
مشکل حالات میں خود کوکیسے لےکر چلناہے،اس کی تربیت کرنا۔
اس کے علاوہ مارشل آرٹ، کراٹے کی تربیت کروانا تاکہ ناگفتہ بہ حالات میں وہ خود کے تحفظ کو یقینی بناسکیں۔
لڑکیوں کو اوائل عمری ہی سے بتانا کہ ان کی حدود کیا ہیں اور کن لوگوں سے کہاں تک گفتگو کرنی ہے،اور کون سےرشتے ہیں جن سے قریب ہوا جاسکتا ہے ۔دوسرے لفظوں میں گڈ ٹچ ، بیڈ ٹچ کی تعلیم دینا، آسان الفاظ میں ان کو یہ بتانا کہ کون ان کے لئے نقصاندہ ہوسکتا ہے اور کون ان کامحافظ۔
اس سلسلے میں اسلام کی تعلیمات بہت واضح ہیں ،جو تقریباً ڈیڑھ صدی قبل پیش کی گئی تھیں ۔احترام انسانیت اور انسانی حقوق کے تاریخ سازخطبۂ حجۃ الوداع میں محسن انسانیتﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’لوگو! عورتوں کے معاملے میں اللہ سے ڈرو اور ان کے ساتھ بھلائی کرنے کی میری وصیت قبول کرو۔‘‘ جب کہ اسلام سے قبل میراث کے بارے میں اہل عرب کا یہ نظریہ تھا کہ جائیداد کا وارث اور حق دار صرف اور صرف مرد ہے۔ اس لئے کہ وہ اسلحہ اٹھاتا ہے، جنگ کرتا ہے ،جب کہ عورتیں ان ذمہ داریوں کو ادا کرنے سے محروم ہیں، لہٰذا وہ وارث بننے یا وراثت کی حقدار نہیں ہوسکتیں۔
پھر اسلام کا عظیم الشان دور آیا،جو سسکتی انسانیت کے لئے روشنی کا استعارہ بن گیا ، مرد و زن کو اس مثالی دین نے وہ احکام اور تعلیمات دیں جو دونوں کی جسمانی اور حیاتیاتی ضروریات کے مطابق ہیں۔مزید واضح کیا جائے تو اسلام کا نقطۂ نظر یہ ہے کہ عورت کی صحیح تعلیم و تربیت وہ ہے جو اسے ایک بہترین انسان ، بہترین ماں،اور بہترین بیوی ، بیٹی، بہن بنائے۔ اس کا دائرہ عمل گھر ہے، اس لئے خاص توجہ کے ساتھ ان علوم کی تعلیم دی جانی چاہیے جو اس دائرے میں اسے زیادہ مفید بناسکتے ہیں، مزید برآں وہ علوم بھی اس کے لئے ضروری ہیں جو انسان کو انسان بنانے والے اور اس کے اخلاق کو سنوارنے والے اوراس کی نظر کو وسیع کرنے والے ہیں۔ ایسے علوم اورایسی تربیت سے آراستہ ہونا ہر مسلمان عورت کے لئے ضروری ہے۔علاوہ ازیں اگر کوئی عورت غیرمعمولی عقلی و ذہنی استعداد رکھتی ہو،اور ان علوم کے علاوہ دوسرے علوم و فنون کی اعلیٰ تعلیم بھی حاصل کرنا چاہے تواسلام اس کی راہ میں مزاحم نہیں ہے۔بشرطیکہ وہ ان حدود سے تجاوز نہ کرے جو شریعت نے عورتوں کے لیے مقرر کیے ہیں۔حدود سے آگے بڑھ جاناہی فتنوں کی راہ ہموار کرتا ہے۔
جن لوگوں نے احترام انسانیت کو باقی رکھا وہ ہمیشہ معاشرے کی بقاء اورر تعمیر کی وجہ بنے ہیں،تعمیر ترقی کی طرف لے جاتی ہےاور تعمیرو ترقی زندہ معاشروں کی پہچان ہے۔

0 Comments

Submit a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

۲۰۲۲ اکتوبر