زمرہ : طنزومزاح
مرزا غالب سیریز
قلم ہاتھ میں پکڑے کتنی دیر سوچتی رہی کہ یہ بڑے بڑے قلم کار کے تخیل کہاں سے آتے ہیں کہ امامِ تخیل چچاغالب نے کان میں سرگوشی کی:

غالب صریرِ خامہ نوائے سروش ہے
آتے ہیں غیب سے یہ مضامیں خیال میں

آتے ہیں غیب سے یہ مضامیں خیال میں
’’ارے چچا !آپ تو اوپر ہیں، کبھی ہمارے لیے سفارش کردیجیے ناں کہ ہم پر بھی کچھ کچھ نازل ہوجائے۔چھوٹی چھوٹی باتیں ہمارے بھی ذہن میں آتی ہیں، لیکن بڑے بڑے قلم کار کو دیکھ کر کہیں چھپ کر بیٹھ جاتی ہیں۔ایسے ایسے قلم کار جو ناپید تھے، فیس بک کے طفیل پید اہورہے ہیں ،ان کے سامنے ہماری کیا بساط؟‘‘
تو چچا فرمانے لگے’’بیٹا! جو دل میں آئے، لکھ دیا کرو۔ بڑا اچھا زمانہ ہے، لوگ پھر بھی ہمت افزائی تو کرتے ہیں ۔ہمیں تو اپنا کلام فقیر کی سننا پڑتا تھا۔دیکھ نہیں رہی ہو کہ اقبال نے جو کہا نہیں وہ بھی ’اک بال‘ کے نام سے منسوب کیا جارہا ہے ۔بلا تحقیق کلام میں ’اکبال‘ کو بھی ایسی پذیرائی مل رہی کہ اصل کلام اقبال کو بھی نہ ملی ہو ۔تمہیں یاد ہے؟ ہم نے امیر مینائی کے خط میں لکھا تھا کہ ہم نے وہ اندازِ تحریر ایجاد کیا ہے کہ مراسلے کو مکالمہ بنادیا ۔بیٹا! ہم کہنا چاہتے تھے واٹس ایپ آرہا ہے ۔اب ہر فرد مکالمہ ہی تو کررہا ہے ۔ایسے وقتوں کے لیے تو ہمارا حال عالم ارواح میں ایسا ہے گویا:
دلِ افسردہ حجرہ ہے یوسف کے زنداں کا
’’سو سیڈ چچا! سن کر افسوس ہوا۔‘‘ ( چچا عالم حیرانی لفظ سو سیڈ اوزان میں الجھے ہوئے تھے )’’اچھا چچا! ہم بھی جو دل میں آئے لکھ دیا کریں گے۔چچا رکے اور بولے بیٹے! آزاد نظم نہ لکھیو کبھی۔‘‘
’’کیوں چچا؟‘‘
’’ بیٹا! جب بھی کوئی آزاد نظم مارکیٹ میں آتی ہے، فرشتے ہم کو سنا سنا کر ہی سزا دیتے ہیں۔اور فرشتے ہمارا بڑا مذاق بناتے ہیں۔اوئے بندے! وزن پر نیندیں حرام کیں ۔اور میری حالت یہ ہوتی ہے کہ:
حیراں ہوں دل کو روؤں کہ پیٹوں جگر کو میں؟‘‘
’’ہائے چچا آپ کوسزا؟‘‘
وہ ڈاڑھی کھجا کے مسکرائے ،پھر بولے’’بیٹا! اب تم سے کیا چھپانا؟وہ جو ہم نے کہا تھا ناں:
گو ہاتھ میں جنبش نہیں ،آنکھوں میں تو دم ہے‘‘
’’اوہ چچا یاد آیا…ہم نے بھی چچا سے وعدہ کیا کہ آزاد نظم نہیں لکھیںگے…اللہ حافظ چچا…آتے رہیے گا چچا!‘‘

4 Comments

  1. نام *urusa taiba

    Mazahiya aur dilkash andaz😅

    Reply
  2. Bazegha Mirza

    بہت عمدہ😄

    Reply
  3. نام *سہیل بشیر کار

    بہترین

    Reply

Submit a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

۲۰۲۲ اکتوبر