اچھی نظم کی خواہش بالکل بارش جیسی ہوتی ہے
گھن گھن بادل گرجے برسے دھوپ بھلے چمکیلی ہو
اچھی نظم کی خواہش بالکل آنسو جیسی ہوتی ہے
گرم گرم عارض پر بکھرے چاہے شب برفیلی ہو
اچھی نظم کی خواہش بالکل بچپن جیسی ہوتی ہے
چھوٹے چھوٹے برتن ہوں گڑیا ہو اور سہیلی ہو
اچھی نظم کی خواہش بالکل الجھن جیسی ہوتی ہے
جیسے خود میں راز چھپا ہو جیسے کوئی پہیلی ہو
اچھی نظم کی خواہش ایک سفر کے جیسی ہوتی ہے
ریل میں میری ماں ہو اور دونوں کی آس بریلی ہو
کوئی نظم نہ کہنا جب تک تم پر یہ سب نا اترے
نظم کا کوئی اپنا رتبہ اپنا منصب نا اترے

1 Comment

  1. تمنا فردوس

    بہت خوب

    Reply

Submit a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

۲۰۲۲ اکتوبر