شازمہ اپنی شادی شدہ زندگی کے چھ سال گزار کر خلع لے کر گھر آچکی ہے۔ تین چھوٹے بچے ہیں ،اپنے والدین کے گھر ایک چھوٹی سی جاب سے گزارا ہورہا ہے، بچے باپ سے محروم ہیں ۔
شادی کے ابتدائی دنوں سے ہی جہیز کی کمی بیشی اور دلہن کے چڑھاوے پر جھگڑا ہوا ،دونوں میاں بیوی ایک دوسرے کے نزدیک پہلے بے وقعت ہوئے۔طلاق کا قانون نہ بناہوتا تو شوہر طلاق دیتا ۔چونکہ قانون بن چکا تو اتنا مجبور کیا کہ شازمہ خلع لینے پر مجبور ہوگئی ۔سب سے پہلی بحث شوہر کے ذریعہ لائے گئے کم قیمت زیور اور سستے کپڑوں سے شروع ہوئی۔ اس تعلق کے ٹوٹنے کی زد تین معصوم بچوں پر پڑی۔
رشتے اور تعلقات کب خاموشی سے مادہ پرستی اور چکاچوند کی نذر ہوجاتے ہیں،انسان کو پتہ بھی نہیں چلتا ۔ نئی نویلی دلہن کے دماغ میں کپڑوں کے اچھے برے ہونے کی بات کون ڈالتا ہے ؟
وہی تماش بین ، قریبی رشتے دار بہنیں، سہیلیاں، ہم جولیاں اور ننھیالی ددھیالی رشتے ۔یہی زہریلے الفاظ لیے شوہر کے ارمان پر بیوی اوس ڈال دیتی ہے۔کاش گھر کے بڑے اپنے الفاظ تولتے! کاش اس کی پری میرج کاؤنسلنگ کی گئی ہوتی !تعلق کی ابتداء شکوہ شکایت سے نہ ہوتی !
سورۂ طارق کی چھوٹی سی آیت سماعت ٹکرائی :
یَومَ تُبلَی السَّرَائِر
’’ جس روز پوشیدہ اسرار کی جانچ پڑتال ہوگی۔ ‘‘
یہ الگ بات کہ فساد کا بیچ بونے کے بعد انسان کو احساس بھی نہیں ہوتا کہ شادی میں آئے مہمان، دلہن کے کپڑوں پر تبصرہ کرکے دلہن کی سماعتوں میں زہر گھول رہے ہیں۔ یہ جملے کس طرح رائی کا پہاڑ بنادیں گے، لیکن وہ دن ہوگا جب قیامت کے دن بال سے باریک راز بھی اللہ نکال لائے گا۔ ایک جملے کا فساد کتنی زندگیاں تباہ کرچکا تھا۔
ایسی کئی مثالیں صف باندھے کھڑی تھیں۔
ماں کا اضطراب
صالحہ ایک الجھن میں ہےکہ بیٹے کی شادی کے بعد تیور بدل کیسے گئے ؟بات بات پربیٹا جھڑک کیسے دیتا ہے ؟ہ سبزی کاٹتے ہوئے سوچ رہی تھی۔ تل تل مرمر کر بڑا کیا۔ صارم، جو کل مجھ سے ڈرتا تھا ،آج مجھے اس سے بات کرتے ہوئے خوف آتا ہے ۔
بہو آنے کے بعد ایسا کیا ہوگیا جو میں بری لگنے لگی ہوں؟ اسی خیال سے اس کی آنکھوں کے کنارے بھیگ گئے۔
ماں کے ساتھ بیٹے کے بدلے تیور کا راز فاش نہ ہوا ۔
پھر یہی آیت ذہن میں آئی :
یَومَ تُبلَی السَّرَائِر
’’ جس روز پوشیدہ اسرار کی جانچ پڑتال ہوگی۔ ‘‘
افواہ
حج کا موقع ہے، رمی جمرات کی طرف بڑھتے ہیں ۔مجمعے سے کسی نے کہا :’’بھاگو! آگ لگی!‘‘ اور بھگدڑ مچی، بے شمار لوگ کچل کر مرگئے۔کچھ تو ایسے بھی جان سے گئے ،جن کےمعصوم بچے تھے۔ کوئی یتیم ہوا، کسی نے اپنی اولاد کھوئی،تو کسی نے ماں باپ کھودیا۔افواہ پھیلانے والا تو شرارت کر رہا تھا، یا بلاتحقیق اس نے غیر ذمہ داری سے یوں ہی بات کہی تھی،لیکن کوئی نہیں جانتا یہ حرکت کس کی تھی۔
راز فاش نہ ہوا۔
یَومَ تُبلَی السَّرَائِر
’’ جس روز پوشیدہ اسرار کی جانچ پڑتال ہوگی۔ ‘‘
سیاسی توڑ جوڑ
عوام پریشان ہے مہنگائی سے ،مہنگی تعلیم سے ، ناقص علاج اور بنیادی ضروریات کی عدم فراہمی سے،ایک لیڈر اٹھ کھڑا ہواور اپنی جذباتی تقریر سے مجلس کو سبزباغ دکھاکر بے وقوف بنا لے ، اور مایوسی میں عوام کو صرف ایک کرن دکھائی دے اور وہ جذبات میں اس پربھروسہ کرلیں،پھر انتخابی ووٹ ان کےنام کردیں۔
لیکن یہ کیا؟ لیڈر تو عوام کے ووٹ کا سودا کرچکا تھا،یا اپنے مفاد کے لئے بیوقوف بنا رہاتھا۔
یہ راز بھی عوام پر منکشف نہ ہوا،مطلب پردہ پڑا رہا۔ سورہ ٔطارق کی یہی آیت پھر تذکیر بنتی ہے:
یَومَ تُبلَی السَّرَائِر
’’ جس روز پوشیدہ اسرار کی جانچ پڑتال ہوگی۔ ‘‘
اقرباء پروری
اقرباء پروری کے باعث تعلیمی اداروں میں ہم نے نسلوں کے مستقبل کا سودا کرلیا،اور تعلیمی اداروں کو نااہل معلمین سے بھر دیا۔ در پردہ ہم نے سودےبازی کی، اور ملت کے تعلیمی اداروں کو نسلوں کی قربان گاہ بنا دی۔
اس بات سے نسلیں تو ناواقف ہیں ہی ، ساتھ ہی ان کے سرپرست بھی آپ کوانسانیت کابہی خواہ سمجھتے ہیں۔یہ راز تو ادارے کے ذمہ داران کے سینے کے زندان میں مقید رہا، دنیا میں فاش نہ ہوا۔
اس آیت کی تشریح پھر تازیانہ بنتی ہے کہ
’’پوشیدہ اسرار سے مراد ہر شخص کے وہ اعمال بھی ہیں ،جو دنیا میں ایک راز بن کر رہ گئے۔اور وہ معاملات بھی ہیں جو اپنی ظاہری صورت میں تو دنیا کے سامنے آئے ،مگر ان کے پیچھے جو نیتیں اور اغراض و مقاصد اور خواہشات کام کر رہی تھیں، اور ان کےجو باطنی محرکات تھے، ان کا حال لوگوں سے چھپا رہ گیا۔ قیامت کے روز یہ کھل کر سامنے آجائے گا اور جانچ پڑتال صرف اسی بات کی نہیں ہوگی ،بلکہ اس بات کی بھی ہوگی کہ کس وجہ سے کیا ؟کس غرض سے کیا؟اور کس مقصد سے کیا؟حتی کہ یہ بات ساری دنیا سے پوشیدہ رہی، خود اس فعل کے کرنے والے سے بھی مخفی رہی۔کہ جو فعل اس نے کیا اس کےکتنے دور رس نتائج ہوئے؟کہاں تک پہنچے؟کب تک چلے؟یہ راز بھی قیامت کے روز ہی کھلے گا۔اور اس کی پوری جانچ پڑتال ہوگی کہ جو بیج بھی ایک شخص دنیا میںبو کر گیا تھا، اس کی فصل کس کس نے اور کب کب تک کاٹی اور کون کون اسے کاٹتا رہے؟‘‘
(تفہیم القرآن:مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ)
پس عقل رکھنے والوں کے لیے اس میں نشانی ہے۔ ہر فرد یہ تصور کرے کہ آخرت میں جب فساد ڈالنے والے کا رازافشا ہو تو اس میں ہمارا نام شامل نہ ہو، اس لیے کوشش یہ ہوکہ ہم اس سے خود کو بچا کر رکھیں، اور ہم چشم تصور سے ہر ٹوٹتے تعلق کا درد محسوس کریں ۔فساد ڈالنے کی ہلکی سی کوشش بھی دانستہ یا نا دانستہ ہوتو اس سے خود کو باز رکھیں۔
انسان کو احساس بھی نہیں ہوتا کہ شادی میں آئے مہمان، دلہن کے کپڑوں پر تبصرہ کرکے دلہن کی سماعتوں میں زہر گھول رہے ہیں۔ یہ جملے کس طرح رائی کا پہاڑ بنادیں گے، لیکن وہ دن ہوگا جب قیامت کے دن بال سے باریک راز بھی اللہ نکال لائے گا۔ ایک جملے کا فساد کتنی زندگیاں تباہ کرچکا تھا۔

2 Comments

  1. Fatima shaikh

    EK bahot hi ibratnaak naseehat hai

    Reply

Submit a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

۲۰۲۲ اکتوبر