زندگی میں اسی شعبے کا انتخاب کریں جو آپ کی صلاحیت سے موافقت رکھتا ہو ورنہ ہم ساری زندگی شکایتیں کر کر کے اپنی ناکامیوں کادفاع کرنے کی کوشش کرتے رہیں گے ۔اس سے وقتی راہ فرار حاصل کی جا سکتی ہے، لیکن اس کے نتائج سے زیادہ دیر تک محفوظ نہیں رہا جا سکتا۔ آپ کی ذمہ داری کوئی اور ادا نہیں کر سکتا، اس لیے شکایتیں کرنے کے بجائے اپنے حصے کا کام کرنے کے بارے میں سوچیں۔ یہی تدبیر زندگی کو آسان بنا سکتی ہے۔

زندگی ہمارے لیے ویسی ہی ہے،جیسی ہم اسے دیکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ زندگی کے متعلق ہر کسی کی رائے مختلف ہوتی ہے۔ اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ ہمارے نظریات و خیالات ہماری زندگی کو سب سے زیادہ متاثر کرتے ہیں۔ اب تک زندگی کے بےشمار پہلؤوں پر تحقیقاتی کام ہو چکے ہیں ،اور سالہا سال کی ریسرچ کے بعد لوگوں کے مثبت و منفی رویوں اور نظریات کے پیچھے کارفرما ذہنیت کو بھی سمجھنے کی کوشش کی جا چکی ہے ،جس کا سلسلہ ابھی بھی جاری ہے۔ اس کا نتیجہ ہے کہ اب انسانی نفسیات کو باقاعدہ ایک علمی اصطلاح کی طرح متعارف کروا دیا گیا۔ ایک انسان زندگی میں کسی نہ کسی موڑ پر کامیابی اور ناکامی دونوں کی ہی لذت سے آشنا ہوتا ہے۔ زندگی میں ناکامی اور کامیابی کو کیسے مینیج کیا جا سکتا ہے، یہ دو الگ الگ موضوع ہیں۔ اس وقت میرا مطمح نظر اس پہلو کو سمجھنے کی کوشش کرنا ہے کہ ہم زندگی میں کامیابی کو پانے کے لئے کن اوصاف سے خود کو آراستہ کریں اور یہ بھی کہ کامیابی کے حصول کے بعد اس کو برقرار کیسے رکھا جا سکتا ہے؟ہم زندگی میں اگر کسی نہ کسی طرح کامیابی حاصل کر لیتے ہیں تو اسے برقرار رکھنے میں ناکام ہو جاتے ہیں ۔کامیاب ہونا ہر انسان کی پہلی خواہش ہوتی ہے، لیکن اس کامیابی کی ایک قیمت ہوتی ہے ،جسے چکانا لازمی ہوتا ہے۔ اس کے بغیر کامیابی کو محض تصور میں ہی حاصل کیا جا سکتا ہے، اور یہ بھی سچ ہے کہ کامیابی حاصل کرنا جتنا اہم ہے اس سے کہیں زیادہ اہم یہ ہے کہ ہم کامیابی کو برقرار رکھنے والی حکمت عملی اپنائیں ۔یہ حکمت عملی انسان سے سنجیدگی ،شعور اور خود احتسابی کے ساتھ ساتھ اور بھی کچھ صفات کا مطالبہ کرتی ہے،اور وہ صفات ہیں شکر گزاری، سخاوت اور اخلاقی و نفسیاتی اصولوں سے آگاہی وغیرہ ۔
ہمارا معاملہ اکثر یہ ہوتا ہے کہ معمولی کامیابی کے ملتے ہی ہمارے اخلاقی رویے تبدیل ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔ مثلاً ہم اپنے آپ کو اور لوگوں کو اپنے اہم اور کامیاب ہونے کا احساس دلانے کے لیےان سے فاصلے بنانا شروع کر دیتے ہیں، اور تعلق کے معیار کو اتنا اونچا کر دیتے ہیں کہ ہمارے اپنے ہی ہمیں اس معیار سے کمتر معلوم ہونے لگتے ہیں۔ یہ ایک ایسی غلطی ہے جو انسان کو کِبر اور سرکشی میں مبتلا کر سکتی ہے ،جو کہ زوال کی سب سے بڑی وجہ بنتی ہے۔
بر صغیر کے مشہور دانشور اور مفکر علامہ واصف علی واصف ایک جگہ لکھتے ہیں: ’’انسان عروج چاہتا ہے، بلندی چاہتا ہے۔ پہاڑ کی چوٹی، اس پر ایک اور پہاڑ رکھتا ہے، پھر اس کی چوٹی پر ایک اور پہاڑ رکھتا ہے، پھر یہ سلسلہ چلتے چلتے اس وقت تک آ پہنچتا ہے، جب اس کے سر کیے ہوئے سب پہاڑ اور سب چوٹیاں دھڑام سے زمین بوس ہو جاتی ہیں۔ وہ افسوس کرتا ہے تو اس کے پاس افسوس کا وقت نہیں ہوتا اور وہ سوچتا ہے اور سوچ کے عاجز ہو جاتا ہے کہ اس نے کیا چاہا ،اس نے کیا سوچا کیا پایا ۔اس کے ہاتھ آنے والی ہر چیز اس کے ہاتھ سے نکل جاتی ہے اور وہ اپنے حاصل سے نکل جانے پر مجبور ہوتا ہے۔خالق چاہتا ہے کہ انسان غور کرے۔ اتنا غور کرے کہ وہ اپنی ہستی کا راز دریافت کر لے۔ تجھے تیری لاعلمی مغرور بنارہی ہے ،ورنہ تیرے لیے عاجزی کے علاوہ رکھا کیا ہے ؟انسان کو غور کرنے کی دعوت ہے۔‘‘
انسان کی بےشعوری ہی اس کی زندگی کو عذاب بنا دیتی ہے۔ کامیابی کو برقرار رکھنے کے لئے ضروری ہے کہ انسان اپنے عجز کو کبھی بھی فراموش نہ کرے ،اور کامیابی کا ہونا اسے فرائض کی ادائیگی سے غافل نہ کر سکے۔ کامیابی کو برقرار رکھنے کے لیےاصولوں کی پاسداری کرنا ضروری ہے۔

کچھ سال پہلے امریکہ اور جرمنی کے محققین نے پچھلی اور موجودہ صدی کے 100 کامیاب ترین لوگوں پر تحقیق کی۔ وہ اپنی ڈھائی سالہ تحقیق کے بعد اس نتیجے پر پہنچے کہ 99 بڑوں میں حیرت انگیز طور پہ کچھ خوبیوں کو مشترک پایا گیا۔ ان میں سے ایک خوبی یہ تھی ان میں سے سارے فیاض اور سخی دل کے تھے۔ جس قدر انہیں ملتا گیا، اتنا ہی وہ لوگوں میں آسانیاں بانٹتے گئے ۔انہوں نے کبھی اس میں کوتاہی نہیں کی، اور یہ سب کچھ انھوں نے احسان سمجھ کر نہیں، بلکہ خوش دلی کے ساتھ اپنی خوشیاں اور آسانیاں دوسروں سے شیئر کیں۔ ہم اکثر بلندی پہ پہنچ کر روبہ زوال اس لیے ہوتے ہیں کہ ہم صرف اپنی خواہش اور اپنی ہوس میں ہی ڈوب کے رہ جاتے ہیں ۔ہمیں دوسروں کا احساس کرنا، ان کے ساتھ آسانیاں بانٹنا بےوقوفی لگنے لگتا ہے۔ ایسے میں شاید ہم مادی وسائل کے انبار تو ضرور لگا سکتے ہیں، لیکن دل کی سچی خوشی اور سکون سے محروم ہو جاتے ہیں ۔پھر اپنے روح کے زخموں کے علاج کے لیے پیسہ پانی کی طرح بہاتے ہیں۔پھر بھی تشنہ اس دنیا سے رخصت ہو جاتے ہیں اور وہ بزنس ایمپائر جس کے لیے اپنا سکون تک دیا تھا ،اس دنیا میں ہی رہ جاتا ہے اور وارثین کو منتقل ہو جاتا ہے۔ اس لیے کہتے ہیں کہ جو کچھ تمہارے پاس ہو، اسے بخش دو، قبل اس کے کہ یہ حق تمہارے وارثین کی طرف منتقل ہو جائے، کیوں کہ جو کچھ تمہارے پاس ہے، ایک دوسرے تک منتقل ہو ہی جائے گا۔ فیصلہ کرنے کا حق آپ کے پاس ہے، اس اختیار کو اپ خود استعمال کرتے ہیں یا نہیں۔

کسی انسان کی کامیابی کی سب سے بڑی علامت یہ ہے کہ اس کا دل سکون سے سرشار ہو، اور یہ اسی وقت ممکن ہے جب ہم خوشیوں کو اپنی ذات تک محدود رکھنے کے بجائے اسے بانٹنا شروع کردیں۔ خوشیوں کے اندر قدرت نے ایسی صفت رکھی ہے کہ اس کو جس قدر بانٹو یہ بڑھتی ہے ۔جب ماحول میں خوشیاں ہوں۔ لوگ مطمئن انداز میںمعمولات زندگی انجام دے رہے ہوں تو غیر محسوس طریقے سے آس پاس کے لوگ بھی خوش ہوتے ہیں۔
ان کامیاب لوگوں میں ایک خوبی یہ بھی دیکھی گئی کہ وہ سارے کے سارے پرو ایکٹیو تھے۔ پرو ایکٹو سے مراد یہ ہے کہ وہ ہمیشہ پیش آمدہ صورتحال کے لئے ذہنی طور پہ تیار رہتے تھے۔ انتہا پسند رویوں کے بجائے معتدل اور متوازن رویہ ان کی شخصیت کا حصہ ہوتا تھا۔ ان کے مقاصد اتنے واضح ہوتے کہ وقت سے پہلے وہ ساری تیاری کر لیتے۔ ان کے بارے میں یہ کہا جاتا ہے کہ وہ وقت کے پیچھے نہیں بھاگتے بلکہ اکثر وقت ان کے پیچھے بھاگ رہا ہوتا۔ یہ ایک ایسی خوبی ہے، جو ہمارے معاشرے میں عنقا ہے ۔ہم کامیاب ہونے کی خواہش تو ضرور رکھتے ہیں، لیکن اس کے لیے ہمارے پاس کوئی روڈ میپ نہیں ہوتا ۔ہم خیالی دنیا میں کوشش کرتے ہیں اور حقیقی دنیا میں اس کے نتائج تلاش کر رہے ہوتے ہیں ،اور نہ ملنے کی صورت میں ہم اضطراب اور بےچینی کا شکار ہو جاتے ہیں۔ ہم اپنی کمیوں اور کوتاہیوں پہ نظر رکھنے اور اس کی تلافی کرنے کے بجائے تا عمر ظاہری حالات اور لوگوں کو الزام دے رہے ہوتے ہیں،جب کہ کامیاب لوگ ہمیشہ اپنی صد فیصد ذمہ داری قبول کرتے ہیں اور اپنی ہر سوچ میں بالکل کلیئر ہوتے ہیں ۔یہی وجہ ہے کہ وہ گو مگو اور اگر مگر میں وقت کو ضائع نہیں ہونے دیتے اور اپنی زندگی میں غیر اہم معاملات کو ہمیشہ اپنے راستے سے دور دوسرے کنارے پہ رکھتے ہیں۔ ان کے رشتے ان کے مقاصد ہمیشہ ان کی پہلی ترجیح میں شامل رہتے ہیں۔ وقت کی حفاظت اور ترجیحات کا واضح ہونا ان کے کامیاب ہونے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ لارڈ چسٹر فیلڈ نے ایک بار اپنے بیٹے کو نصیحت کرتے ہوئے ایک خط میں لکھا کہ تم منٹوں کی حفاظت کرو کیوں کہ گھنٹے اپنے آپ اپنی حفاظت کر لیں گے ۔بےشک جب ہم قطرے قطرے کی حفاظت کریں گے تو دریا خود بخود جاری ہو جائے گا، لیکن ہمارا مسئلہ یہ ہوتا ہے کہ آج کے لمحے میں جینے اور اس کی حفاظت کرنے کے بجائے فرصت ہی فرصت یا کسی شبھ مہورت کی تلاش میں کھوئے رہتے ہیں جس کی وجہ سے نہ آج ہی باقی رہتا ہے اور نہ ہی کل ہاتھ آتا ہے ۔
کامیابی حاصل کرنے والوں میں ایک صفت یہ بھی پائی جاتی ہے کہ وہ غلطیوں کو دہرانے سے گریز کرتے ہیں ،اور غلطی ہو جانے کی صورت میں وہ اس سے سبق لینے سے کبھی نہیں ہچکچاتے ۔پھر یہ سبق ان کے تجربات اور ان کے علم میں اصافہ کرتا ہے، جس سے وہ اپنے مقاصد اور زندگی کے معاملات کو نقائص سے پاک کرنے میں مدد حاصل کرتے ہیں۔ ہمارا معاملہ یہ ہے کہ ہم اپنی غلطیوں کی کوئی نہ کوئی توجیہہ ڈھونڈ نکالتے ہیں ۔جب ہم کسی غلطی کو غلط نہیں خیال کریں گے تو ظاہر ہے اسے دوبارہ دہرانے میں ہچکچاہٹ بھی محسوس نہیں کریں گے۔ ہم بار بار ایک غلطی کو دہراتے ہوئے مختلف نتیجہ پانے کی خواہش رکھتے ہیں ،جو کہ ممکن نہیں۔
زندگی میں کامیاب ہونے کے لیےضروری ہے کہ ہمیں اپنی صلاحیتوں کا بخوبی اندازہ ہو۔ قدرت ہر شخص کو کوئی نہ کوئی ایسی صلاحیت ضرور دیتی ہے جس کو دریافت کر کے وہ اپنے مقصد زندگی کے تعین میں مدد حاصل کر سکتا ہے، اور اپنی زندگی کو کامیاب طریقے سے گزار سکتا ہے۔ فطری رجحانات کو مد نظر رکھتے ہوئے جب مشاغل یا مقاصد طے کیے جاتے ہیں تو یہ انسان کے اندر نہ صرف کام کرنے کے جذبے کو بڑھا دیتی ہے، بلکہ کامیابی کے تئیں اس کو پرجوش بھی بنا دیتی ہے۔ جس معاشرے میں ایسے نوجوان ہوں جو کہ اپنی صلاحیتوں سے واقف ہوں، اس کی تعمیر و ترقی کے راستے ہمیشہ کھلے ہوتے ہیں۔ ایک مرتبہ نیوٹن کی غیر معمولی ذہانت کی تعریف کی گئی اور ان سے پوچھا گیا کہ اس کا راز کیا ہے؟ انہوں نے کہاکہ میرے اندر عام سی ذہانت ہے۔ ہاں، میرے اندر ارتکاز کی صلاحیت غیر معمولی ہے ۔ نیوٹن نے اپنی اس خوبی کو اس طرح استعمال کیا کہ آج بھی اس کا نام لوگوں کی زبان پہ ہے۔ زندگی میں اسی شعبے کا انتخاب کریں جو آپ کی صلاحیت سے موافقت رکھتا ہو ورنہ ہم ساری زندگی شکایتیں کر کر کے اپنی ناکامیوں کادفاع کرنے کی کوشش کرتے رہیں گے ۔اس سے وقتی راہ فرار حاصل کی جا سکتی ہے، لیکن اس کے نتائج سے زیادہ دیر تک محفوظ نہیں رہا جا سکتا۔ آپ کی ذمہ داری کوئی اور ادا نہیں کر سکتا، اس لیے شکایتیں کرنے کے بجائے اپنے حصے کا کام کرنے کے بارے میں سوچیں۔ یہی تدبیر زندگی کو آسان بنا سکتی ہے۔
زندگی میں کامیاب ہونے کے لیےاور کامیابی کو برقرار رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم مستقل سیکھتے رہیں۔ ہم خواہ کتنے ہی مصروف کیوں نہ ہوں، ہم باقاعدہ مقصد بنا کر سیکھنے کی جدو جہد کرتے رہیں، کیوں کہ علم کی کوئی انتہا نہیں۔ یہ سیکھنے کا عمل ہم کو ہمیشہ تروتازہ رکھنے میں معاون ہوگا۔ دنیا کے کامیاب ترین لوگوں میں یہ عادت پائی گئی کہ وہ آج بھی مطالعہ کرنے کے لئے باقاعدہ وقت نکالتے ہیں ۔اس کے ذریعہ وہ بدلتی دنیا کے رجحانات سے واقفیت کے ساتھ ساتھ اپنے نظریات و خیالات میں تبدیلی لانے کی کوشش کرتے ہیں ۔کچھ پڑھنے کو سیکھنے میں ہی شمار کیا جاتا ہے ۔اس کے ذریعہ ہم بہت سارے معاملات میں ناکامی سے بچ جاتے ہیں۔ سیکھنے کے بےشمار ذرائع ہیں۔ مشاہدہ یا مطالعہ کےتوسط سے سیکھنا ہو یا اپنی غلطیوں سے، ہر صورت میں سیکھنے کا یہ عمل آپ کی کامیابی کو پائیدار بناتا ہے۔
ہمیں لگتا ہے کہ اگر ہم کامیاب زندگی پانا چاہتے ہیں تو خود کو زیادہ سے زیادہ مصروف رکھیں ،بےشک مصروف رہنا اچھا عمل ہے، لیکن اتنی بھی مصروفیت اچھی نہیں کہ ہمارے پاس خود کے لئے بھی وقت نہ بچے۔ یہ غیر متوازن رویہ ہمیں بہت جلد متاثر کرنا شروع کر دیتا ہے۔ زندگی میں کامیاب ہونے اور کامیابی کو برقرار رکھنے کے لیےضروری ہے کہ ہم خود کے ساتھ بھی وقت گزاریں۔ اپنی ذہنی اور جسمانی صحت کو مکمل توجہ دیں۔ خود کے ساتھ وقت گزار کر ملنے والی خوشیوں سے محظوظ ہوں۔ اگر ہم غیر مطمئن ہوں گے اور خود کو خود کے اندر تنہا کردیں گے تو ہم بہت جلد ڈپریشن یا اینگزائٹی کا شکار ہو سکتے ہیں۔ پھر جس کامیابی کے لیےہم نے خود کو غفلت میں ڈال رکھا تھا، وہ کامیابی ہمارے ہاتھ سے جاتی رہے گی ۔اس لیے خود کے ساتھ تعلق کو ہمہ وقت بہتر بنانے کی کوشش کرتے رہنا چاہیے۔اس کے ذریعہ ہی کامیابی کے اصولوں کو کارگر بنایا جا سکتا ہے۔

1 Comment

  1. بشری ناہید

    جزاک اللہ خیر’ اختصار کے ساتھ عمدہ تحریر

    Reply

Submit a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

۲۰۲۲ اکتوبر