محمد ﷺ کے نظامِ تعلیمِ نسواں سے خواتین اخلاقی اور باطنی تربیت حاصل کر سکتی ہیں۔اس کے ساتھ ساتھ اپنے حقوق کا تحفظ اور مردوں کے ظلم و استحصال کا خاتمہ کر سکتی ہیں۔ اس نظام تعلیم نے خواتین میں اتنا شعور پیدا کر دیا تھا کہ وہ اپنے حقوق کے ادراک کے ساتھ ان کے تحفظ کے لیے سرگرم رہتیں۔ اگر ان پر ذرا سی بھی زیادتی ہوتی تو فوراً بارگاہِ رسالت میں حاضر ہوکر داد رسی چاہتی تھیں۔ یہ اسی شعور کا نتیجہ تھا کہ مرد بہت محتاط ہوتے کہ کہیں بیویوں کو محمد ﷺ سے شکایت کا موقع نہ مل جائے ۔ حضرت عبداللہ بن عمرؓ کا بیان ہے کہ: ’’ جب تک حضور ﷺ زندہ رہے ہم اپنی عورتوں سے بات کرنے میں بھی احتیاط کرتے تھے کہ مبادا ہمارے حق میں کوئی حکم نازل نہ ہو جائے ۔ جب حضو ر ﷺ نے وفات پائی تب ہم نے اپنی بیویوں سے کھل کر بات کرنی شروع کی ۔‘‘

صالح اور اسلامی معاشرے کے قیام میں مرد و زَن کا باہمی تعاون نا گزیر ہے ۔ عورت نصف آبادی کہلاتی ہے ۔ اگر یہ حصہ جاہل یا نیم خواندہ رہ جائے تو معاشرے کی تعمیرو تشکیل ناقص رہ جائے گی۔خواتین اپنی ذمہ داری اور فرائض کی ادائیگی بہترین انداز میں نہیں کر سکتیں،جب تک کہ انہیں اسلام کے عطا کردہ انقلابی تعلیمات سے آراستہ نہ کیا جائے ۔ معاشرے کی فلاح و بہبودی کے پیش نظر اسلام نے خواتین کے لیے علم کو نہ صرف ان کا حق سمجھا بلکہ حصول علم ان کے لیے بھی فرض قرار دیا ۔حصولِ علم کے دوران عورت خود اپنی تربیت کرتی ہے۔ وہیں بچوں کی تعلیم و تربیت بھی کرتی ہے ۔وہ اپنے بچوں کی معلمہ بھی ہوتی ہے ۔ بعض اہم مقاصد کی تکمیل کے تحت عورت کی تعلیم مردوں کی تعلیم سے بھی زیادہ اہمیت کی حامل ہے ۔ نسلوں اور قوموں کی تعلیم و ترقی کی تمام تر ذمہ داری خواتین کی تعلیم و تربیت پر منحصر ہے ۔کیوں کہ انہیں امت کے قائدین کی پرورش کرنی ہے ۔ عہدنبویؐ میں خواتین کی تعلیم و تربیت کی ضرورت و اہمیت کاکس قدر احساس کیا گیا؟ اس سلسلے میں کیا اقدامات ہوئے ؟ خواتین کی تعلیم کے مقاصد و اہداف کیا تھے؟ اس کے لیے کیا انتظامات کیے گئے ؟ ان امور سے واقفیت خواتین و طالبات کے لیے نہایت ضروری ہے ۔ ایک آئیڈیل اسلامی سوسائٹی کی تشکیل میں یہ اقدام نا گزیر ہیں۔ خواتین کی بہتر ین تعلیم و تربیت کے ذریعہ نہ صرف خواتین کو فائدہ ہوگا بلکہ بہتر معاشرے کی تعمیر و ترقی میں ان کے کردار کو بھی متعین کیا جا سکے گا ۔ بعثت نبویﷺ کا بنیادی مقصد علم کی روشنی میں فرد کی ہمہ جہت ارتقاء،معاشرے کی تشکیل نو ہے۔اس کے ذریعہ نفس کی تربیت ہے ۔آپ ﷺ انسانیت کے معلم تھے۔ جس میں انسانیت کے ہر ایک شعبے کے لیے رہنمائی موجود ہے ۔ اس بات کی وضاحت خود نبیٔ کریم ﷺ نے اس طرح کی ہے۔ؐ’’ میں تمہارے لیے بہ منزلہ والد کے ہوں ، تمہیں(ہر چیز کی) تعلیم دیتا ہوں ۔ ‘‘(۱) محمد ﷺ کا نصابِ تعلیم کسی ادارے تک محدود نہیں تھا۔ نہ کسی ریاست،ملک اور قوم کے لیے مخصوص تھا ۔آپ ؐ ساری دنیا کے لیے رحمت بنا کر بھیجے گئے۔ یہ تعلیم مختلف حالات اور مواقع کی مناسبت سے نجی مجالس،مساجد،مکاتب،عوامی خطاب، اجتماعات، سفر و حضر تک ہی محدود نہ تھے، بلکہ جنگ کے وسیع میدان کے لیے بھی تھے۔ جس سے مردوں کے ساتھ ساتھ خواتین بھی پوری طرح مستفید ہوتی تھیں،اوران تعلیمات سے وہ دوسری خواتین کو بھی بہرہ ور کرتیں ۔ اس طرح حصول علم کا سلسلہ ایک دوسرے تک منتقل ہوتا رہا۔اس ضمن میں مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ فرماتے ہیں: ’’ہر شعبۂ زندگی میں تعلیم و تربیت دے کر ایک اعلیٰ درجہ کی مہذب و شائستہ اور پاکیزہ قوم بنائیں ۔اس غرض کے لیے صرف مردوں کو تربیت دینا کافی نہ تھا۔ بلکہ عورتوں کی تربیت بھی اتنی ہی ضروری تھی ۔یہی وجہ ہے کہ آپ ﷺ نے مختلف عمروں اور ذہنی صلاحیتوں کی متعدد خواتین سے نکاح کیا۔ ان کو براہ راست خود تعلیم و تربیت دے کر اپنی مدد کے لیے تیار کیا۔ اور پھر ان سے شہری اور بدوی اور جوان اور ادھیڑ اور بوڑھی، ہر قسم کی عورتوں کو دین سکھانے اور اخلاق و تہذیب کے لیے نئے اصول سمجھانے کا کام لیا۔ اس کے علاوہ آپ ﷺ کے سپرد یہ خدمت بھی کی گئی تھی کہ پرانے جاہلی نظام ِ زندگی کو ختم کرکے اس کی جگہ اسلامی نظام ِ زندگی عملاً قائم کریں۔ اس خدمت کی انجام دہی کے لیے جاہلی نظام کے علم برداروں سے جنگ ناگزیر تھی۔معاشرے کی عملی اصلاح اور اس کی جاہلانہ رسوم کو توڑنا بھی آپ ؐ کے فرائض منصبی میں شامل تھا۔ ‘‘ (۲) دین اسلام کی تبلیغ و اشاعت میں سرگرم خواتین کو عہد نبویؐمیں تعلیم نسواں سے ضرور متعارف ہونا چاہیے۔ اور ایسا ہی ماڈرن نظام تعلیم قائم کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔جہاں خواتین یکسوئی کے ساتھ آزادانہ ماحول میں خواتین معلّمات سے مستفید ہوں ۔ایسے تعلیمی مراکز قائم ہو رہے ہیں، لیکن ابھی ان کی تعداد بہت کم ہے، اس کام میں خواتین آگے بڑھ کر اپنی خدمات پیش کریں ۔
فرضیت تعلیم
اسلام انسانی زندگی کا آغاز جہالت اور تاریکی کے بجائے علم کی روشنی سے چاہتا ہے۔ تمام مذاہب اور تہذیبوں میں یہ امتیاز صرف اسلام کو حاصل ہے کہ اس نے ہر قسم کی علمی اجارہ داریوں کا خاتمہ کرتے ہوئے بلا تفریق جنس اپنے تمام پیروکاروں کے لیے علم کے حصول کو لازم قرار دیا ہے ۔ قدیم تہذیبوں نے خواتین پر بڑے مظالم ڈھائے ۔ اِسے بہ حیثیت انسان بنیادی سہولیات سے یکسر محروم رکھا۔اِن میں ارسطو نے محض جزوی طور پر عورتوں کی تعلیم کو ضروری تسلیم کیا۔ بیشتر تہذیب کے علَم برداروں نے عورت کو اعلیٰ اور معیاری تعلیم دینے کی مخالفت کی ہے ۔اس کے نقائص بتانے کے ساتھ اس کی کردار شکنی کی ہے ۔ یورپ میں قرون وسطیٰ میں خواتین کی تعلیم کو نہ صرف معیوب سمجھا جاتا تھا بلکہ مردوں کے بالمقابل خواتین کی تعلیم کی سِرے سے کوئی اہمیت ہی نہیں تھی ۔ قرآن کریم نے حصول علم کو مرد اور عورت دونوں کے لیے یکساں اور ضروری قرار دیا ۔ ؐحدیث میں آتا ہے کہ : ’’علم کی تلاش ہر مسلمان کے لیے فرض ہے ۔ ‘‘ (۳) احکام شر یعت مرد و عورت کے لیے یکساں ہیں ۔ قرآن مجید میں اللہ رب العزت نے’ تعلیم بالقلم‘کو انسانیت پر احسان قرار دیا ہے۔ آیت مبارکہ ہے :’’پڑھ! اپنے پروردگار کے نام سے جس نے پیدا کیا انسان کو ۔جس نے قلم کے ذریعہ علم سکھایا ۔‘‘ (۴)
تعلیم نسواں : ضروری کیوں؟
تعلیم و تربیت انسان کی بنیادی ضرورت ہے ۔ انبیاء کرام کو اسی مقصد کے تحت اللہ رب العزت نے مختلف قوموں اور ادوارمیں مبعوث فرمایا۔محمد ﷺ نے ازواج مطہرات کی تعلیم کی طرف خصوصی توجہ دی۔ انھیں اس قابل بنایا کہ وہ خواتین کے ساتھ ساتھ مردوں کو بھی تعلیم و تربیت سے آراستہ کریں۔خواتین سے خاص معاملات میں مشورے لیے جاتے اور رہنمائی بھی حاصل کی جاتی تھی ۔ رسول کریم ﷺ بیٹیوں کی تعلیم و تربیت کی ترغیب دیتے ۔ حدیث میں ہے ؐ:’’ جس نے تین لڑکیوں کی پرورش کی ان کی تعلیم و تربیت کی اور ان سے اچھا سلوک کیا تو اس کے لیے جنت ہے ۔‘‘ (۵ ) اس سلسلے میں ڈاکٹر حمید اللہ لکھتے ہیں :’’ آپ ؐ کی تعلیمی سرگرمیوں میں مردوں کے ساتھ عورتوں کو بھی اہمیت دی گئی ۔ تاریخ سے ثابت ہوتا ہے کہ آپ ؐکے مبارک عہد میں معلمین کی طرح معلمات کا بھی تقرر ہوتا تھا۔ حضرت اُم ورقہ، شفاء بنت عبداللہ اور حضرت عائشہ صدیقہؓ کا شمار عہد رسالتؐکی معلمات میں بجا طور پر کیا جا سکتا ہے ۔‘‘ (۶) عہد نبی ؐ میں خواتین کو اسی مقصد کے تحت تعلیم و تربیت سے آراستہ کیا گیا تاکہ وہ دوسری خواتین کے درمیان اسے فروغ دیں۔ ان کی تربیت کریں۔ ان کے اندر دین اسلام کا صحیح فہم پیدا کریں۔وہ رسولﷺ کی سنت پر چلنے کے لیے آمادہ ہوں ۔وہ معاشرہ کی تشکیل میں اپنا رول ادا کر سکیں ۔ خواتین کی اہمیت اس لیے بھی مسلّم ہے کہ تعلیم کا ایک سرا ہمیشہ ان سے جڑا رہا ہے۔خواتین کی تربیت میں خواتین کا رول زیادہ اثرانداز ہے۔ خواتین آپس میں کسی بھی موضوع پر بآسانی گفتگو کر سکتی ہیں۔ ایسا ہی تعلیمی نظام از سر نو قائم کیا جائے ،جہاں خواتین سے متعلق تمام پہلوئوں پر خواتین تعلیم دیں۔ایسے جامعات قائم کیے جائیں جہاں صرف خواتین معلمہ ہوں۔ اس نظام کو قائم کرنے میںاعلی ٰتعلیم یافتہ ،معاشی لحاظ سے مضبوط ، تجربہ کار اور دینی و عصری تعلیمی ماحول میں پروردہ خواتین ٹیم کی اشدضرورت ہے۔
مقاصد تعلیم
ماہرین تعلیم کے مطابق علم کا مقصد فرد کی قدرتی صلاحیتوں کو دریافت کرکے ان کی نشوونما کرناہے۔ اسے اس قابل بنانا ہے کہ وہ تمام فرائض کو بطریق احسن ادا کر سکے اور ریاست کا بہترین شہری بن سکے۔ مغربی تعلیمی اداروں کا مقصد صرف مادّی اشیاء کا حصول ہے ۔ اس میں شخصیت کی تعمیر و ترقی اور تعلیم کے اخلاقی و روحانی پہلوئوں کا کوئی تصور موجود نہیں ہے ۔ مخلوط تعلیم نے بہت سے مسائل پیدا کیے ہیں ۔ عورت با ختیار اور خود کفیل تو بن گئی ،لیکن اس نے اپنی ذات کا ثبات کھو دیا۔ عہد نبویؐ میں دی گئی تعلیم نسواں آج بھی اسی قدر اہمیت رکھتی ہے۔ یہ تعلیمی ماڈل ہر لحاظ سے امت مسلمہ کے لیے مفید ہے ۔ ۱۔ دینی و شرعی احکامات کی آگہی کے لیے مردوں کی طرح خواتین کے لیے بھی دینی و دنیاوی تعلیم لازمی ہے۔ کیوں کہ اس سے آراستہ ہوئے بغیر دین و شریعت پر عمل پیرا ہونا ممکن نہیں ہے ۔ خواتین کی تعلیم کا بنیادی مقصد یہی ہے کہ انہیں بہترین مسلمان اور بہترین انسان بنایا جائے۔ اس کا حصول اعلیٰ اور با مقصد تعلیم کے ذریعہ ہی ممکن ہے ۔عورتوں کے مخصوص مسائل، طہارت،عبادت، حقوق اللہ، حقوق العباد، خانگی ،سماجی اور معاشرتی امور سے متعلق آگاہی؛ اس نظام تعلیم کا خصوصی ہدف ہونا چاہیے۔ ایسے علم کا حصول خواتین کے لیے دیگر علوم و فنون سے زیادہ اہم ہے ۔ مذکورہ موضوعات عہد نبویؐمیں تعلیمی نصاب میں شامل تھے ۔ ۲۔خواتین حیاتیاتی اور نفسیاتی اعتبار سے مردوں کے بالمقابل مختلف ہیں۔انہیں دی جانی والی تعلیمات ان کے فطری جذبات و صلاحیت اور قابلیت کے عین مطابق ہوں۔ ان کی نسوانیت کا شعور و ادراک فراہم کرتا ہو۔ ایسی تعلیم سے اجتناب ضروری ہے ،جنہیں حاصل کرکے خواتین اپنا مرتبہ و مقام کھو دیں۔تعلیم خواتین کو اپنی ذمہ داریوں کا احساس کرائے اور اس کے فروغ کے لیے انھیں کوشاں رکھے۔وہ رشتوں کا تقدس ہمیشہ بحال رکھنے کے لیے رشتو ں کی نزاکت کو سمجھیں۔ ۳۔خواتین کا اصل میدان ِعمل گھر اور خاندان ہے ۔ اس کے بعد اُن کا سرکل ہے۔ جس کا سرکل جتنا وسیع ہوگا ،اس کی ذمہ داریاں اور اہداف بھی اسے لحاظ سے ہوں گے۔ طبقۂ نسواں کوایسی تعلیم کی اشد ضرورت ہے جوانہیں اطاعت شعاربیوی، مشفق ماں،صالحہ بیٹی ، وفادار بہن اور بہترین مشیر بننے میں معاون ہو۔ عائلی زندگی کے آداب سے واقف کرائے۔ خوشگوار رشتوں کے احساس اور اس کی پاسداری کے لیے مولانا مودودی ؒ فرماتے ہیں : ’’ اسلامی نقطۂ نظر سے خواتین کی صحیح تعلیم و تربیت وہ ہے جو اسے بہترین بیوی ،بہترین ماں اور بہترین گھر والی بنائے ، اس کا دائرہ عمل گھر ہے ۔ اس لیے خصوصیت کے ساتھ اس کو ان علوم کی تعلیم دی جانی چاہیے جو اس دائرہ میں اسے زیادہ مفید بنا سکتے ہیں۔مزید برآں وہ علوم بھی اس کے لیے ضروری ہیں جو انسان بنانے والے ، اس کے اخلاق کو سنوارنے والے اور اس کی نظر کو وسیع کرنے والے ہوں ، ایسے علوم اور ایسی تربیت سے آراستہ ہونا ہر مسلمان عورت کے لیے لازم ہے ، اس کے بعد اگر کوئی عورت غیر معمولی ذہنی استعداد رکھتی ہو اور ان علوم کے علاوہ دوسرے علوم و فنون کی اعلیٰ تعلیم بھی حاصل کرنا چاہے تو اسلام اس کی راہ میں مزاحم نہیں ہے ۔ بشرطیکہ وہ ان حدود سے تجاوز نہ کرے جو شریعت نے عورتوں کے لیے مقرر کی ہیں۔‘‘ (۷) ۴۔ خواتین کی اپنے حقوق و فرائض سے کماحقہ واقفیت بہت ضروری ہے ۔ ایسا نہ ہو تو گھریلو نظام متاثر ہوتا ہے۔ زوجین کے مابین ناچاقی رہتی ہے۔ شرعی اور قانونی حقوق سے لا علمی ،استحصال اور جبر و ستم کا راستہ کھولتی ہے ۔ محمد ﷺ کے نظامِ تعلیمِ نسواں سے خواتین اخلاقی اور باطنی تربیت حاصل کر سکتی ہیں۔اس کے ساتھ ساتھ اپنے حقوق کا تحفظ اور مردوں کے ظلم و استحصال کا خاتمہ کر سکتی ہیں۔ اس نظام تعلیم نے خواتین میں اتنا شعور پیدا کر دیا تھا کہ وہ اپنے حقوق کے ادراک کے ساتھ ان کے تحفظ کے لیے سرگرم رہتیں۔ اگر ان پر ذرا سی بھی زیادتی ہوتی تو فوراً بارگاہِ رسالت میں حاضر ہوکر داد رسی چاہتی تھیں۔ یہ اسی شعور کا نتیجہ تھا کہ مرد بہت محتاط ہوتے کہ کہیں بیویوں کو محمد ﷺ سے شکایت کا موقع نہ مل جائے ۔ حضرت عبداللہ بن عمرؓ کا بیان ہے کہ: ’’ جب تک حضور ﷺ زندہ رہے ہم اپنی عورتوں سے بات کرنے میں بھی احتیاط کرتے تھے کہ مبادا ہمارے حق میں کوئی حکم نازل نہ ہو جائے ۔ جب حضو ر ﷺ نے وفات پائی تب ہم نے اپنی بیویوں سے کھل کر بات کرنی شروع کی ۔‘‘ (۸) ۵۔ تعلیم، تربیت کے بغیر نامکمل ہے ۔ مگر جدید تصور تعلیم نے اسے اقدار کی گرفت سے آزاد کر دیا ہے ۔ انسانوںکی مذہب اور خداسے دوری، سماجی اور معاشرتی بگاڑ کی اصل وجہ ہے۔ خواتین کی تعلیم کا ایک اہم مقصد اعلیٰ اخلاق و اقدار کی ترویج و تحصیل ہے ،تاکہ نسوانیت کے تحفظ کے ساتھ ساتھ شرم و حیا کے تقاضے بخوبی پورے کیے جائیںاور معاشرے کو آلائشوں سے پاک رکھا جائے۔ تقویٰ اور خدا خوفی،صبرو شکر، سادگی اور قناعت جیسے اوصاف کے ذریعہ ان کی شخصیت کی بہتر تعمیر و تشکیل ہو۔ عہد نبوی ؐمیں ان اقدار کی طرف خصوصی توجہ دی گئی ۔
عہد نبوی ؐکے تعلیمی مراکز
عہد نبوی ؐ میں مرد رسول اللہ ؐسے علم سیکھتے اور اپنی بیویوں ،بیٹیوںاور بہنوں کو گھروں میں علم سکھاتے ۔ مردوں کو مخاطب کرکے آپؐنے سورہ نور کے متعلق فرمایا: ’’تم خود بھی انھیں سیکھو اور اپنی خواتین کو بھی سکھاؤ ۔‘‘ (۹ ) رسول اللہ ؐنے باہر سے آئے ہوئے نوجوانوں کے ایک وفد کو علم سکھانے کے بعد فرمایاؐ:’’ تم اپنے گھروں کو واپس چلے جاؤ،اپنے اہل خانہ کے ساتھ رہو،انہیں علم سکھاؤ اور ان سے احکام پر عمل کراؤ۔‘‘(۱۰) صحابہ ٔکرامؓ خواتین کی تعلیم کا خاص خیال رکھتے ۔ باہر کے معلم کا بھی انتظام کیا جاتا تھا۔ مشہور واقعے کے مطابق : ’’عمر بن عبداللہ کی بہن حضرت فاطمہ ؓاور ان کے شوہر حضرت سعیدؓ نے اپنے گھر میں حضرت خباب بن ارتؓسے قرآن حکیم کی تعلیم حاصل کی۔ کبھی کبھی خواتین کے حصول علم کے لیے کوئی گھر مخصوص کر لیا جاتا اور سب اکٹھا ہو جاتیں ۔اللہ کے رسول ؐعلم دین کی باتیں بتاتے۔بعض اوقات نبی ؐ اپنے کسی نمائندے کو اپنی جگہ علم سکھانے کے لیے بھیج دیتے تھے۔‘‘ حضرت اُم عطیہ ؓ کی روایت ہے :’’ رسول ﷺ جب مدینہ تشریف لائے تو آپؐنے انصار کی عورتوں کو ایک گھر میں جمع فرمایااور ہماری طرف عمر بن خطاب ؓ کو بھیجا ۔انہوں نے دروازے پر کھڑے ہوکر ہمیں سلام کیا ۔ہم نے جواب دیا۔ بعد ازاں انھوں نے کہا کہ میں تمہاری طرف اللہ کے رسول کا قاصد ہوں، انہوں نے ہمیں حکم دیا کہ ہم میں نوجوان اور حیض والی عورتیں ہیں،عیدین کے لیے جائیں اور ہم پر جمعہ فرض نہیں اور آپ ﷺ نے ہمیں جنازوں کے پیچھے چلنے سے بھی منع فرمایا۔‘ ‘ (۱۱)
مساجد اور عیدگاہوں میں تعلیم
عہد نبوی ؐمیں خواتین کے حصول علم کے لیے خاص انتظامات تھے۔ مسجد کی حیثیت مرکزی دفتر کی طرح تھی۔ آج اس روایت کو ازسرنوتازہ کرنے کی شدید ضرورت ہے ۔ خواتین نبی ﷺ کے خطبات اور وعظ و نصیحت سے مستفید ہوتی تھیں ۔ بنت حارثہ بن نعمان کہتی ہیں کہ:’’میں نے سورہ قٓ صرف حضور ؐکی زبانی یاد کیاہے ۔وہ ہر جمعہ کو اس سے خطبہ دیتے تھے۔ ‘‘ (۱۲) اسی طرح خولہ بنت قیس فرماتی ہیں ؐ:’’میں جمعہ کے دن خطبہ سنتی تھی اور آخری صف میں ہوتی تھی۔ ‘‘ (۱۳) محمد ﷺ نے مردوں کو خصوصی ہدایت دی کہ عید کے دن اپنی عورتوں کو حتیٰ کہ جوان لڑکیوں کو بھی عید گاہ ساتھ لائیں۔ یقینا ًخواتین کواس اہم موقع پر دیگر فوائد کے ساتھ دین کی بہت سی باتیں بھی سیکھنے کا موقع ملتا تھا۔ یہاں تک کہ غیر طہر عورتیں دعائوں میں شامل رہتی تھیں۔ اگر کسی عورت کے پاس چادر نہ ہو تو دوسری عورت اسے چادر دیتی۔ مساجد میںخواتین نماز و اذکار کے علاوہ سماجی صورت حال اور آداب سے بھی مستفید ہوتی تھیں ۔ اس میں بعض ایسے بھی سوالات ہوتے جنہیں عمومی طور پر مردوں کے سامنے نہیں کیا جاتا، لیکن رسول اللہ ﷺ نے کبھی ایسے سوالات کے لیے خواتین کو منع نہیں کیا۔ اس کے علاوہ عورتیںامہات المومنین کے حجروں اور براہ راست نبی ﷺ سے علم سیکھا کرتی تھیں۔
حجروں میں تعلیم
حضرت حفصہ ؓکو احادیث سیکھنے کا بڑاشوق تھا۔ ایک روز بال بندھوانے میں مشغول تھیں کہ اتنے میں حضور ﷺ نے خطبہ دیتے ہوئے زبان مبارک سے’یاایھا الناس‘ فرمایا۔ یہ الفاظ سنتے ہی انھوں نے مشاطہ سے کہا۔ ’بال باندھ دو‘ اس نے کہا ،جلدی کیا ہے؟ ’ کہا‘ کیا خوب! کیا ہم آدمیوں(الناس) میں داخل نہیں ہیں ۔ اس کے بعد خود بال باندھ کر اٹھیں اور پورا خطبہ سنا۔‘‘(۱۴) ان تین خاص مقامات کے علاوہ خواتین اللہ کے رسول ﷺ اور ازواج مطہرات ؓ سے علم حاصل کرتی تھیں۔ ان سے متعدد موضوعات پر کھل کر گفتگو کرتیں ۔ مسائل کا جاننا اور انہیںدوسروں تک پھیلانے کی کوشش بھی ان کے اندر بدرجۂ اتم موجود تھی۔ ان میں دین کے معاملے میں سبقت لے جانے کا جذبہ موجزن پایا جاتا۔ کوئی کسی کی دل شکنی نہیں کرتیں ۔ نہ ان کے اندر اپنے علم کا غرور پایا جاتا تھا۔ یہ خواتین ازواج مطہرات سے علم سیکھتیں ۔ان کی خدمات کے مواقع کی تلاش میں رہتیں ۔بعض روایا ت میںآتا ہے کہ آپ ﷺ کی زندگی میں بھی صحابہ کرام ؓان سے استفادہ کرتے رہے ۔ حضرت انسؓ کی مشہور حدیث ہے کہ تین صحابۂ کرام محمد ﷺ کی عدم موجودگی میں ازواج مطہرات سے آپ ﷺ کے معمولات و عبادات سے متعلق معلومات حاصل کرتے اور اپنے لیے لائحہ عمل مرتب کرتے تھے۔ رسول اللہﷺ کا ایک سے زیادہ نکاح کا مقصد یہ بھی تھا کہ خواتین کے لیے معلمات تیار کی جائیں ۔ان شرعی اقوال و افعال کو لوگوں تک پہنچانے کے لیے ایک سے زائد خواتین درکار تھیں ۔ بعض شرعی معاملے بھی اس نوعیت کے تھے جنہیں عوام تک پہنچانا نہایت ضروری تھا۔ اس طرح شریعت کی تکمیل ہو سکتی تھی۔خواتین معاشرے کا نصف حصہ ہیں ۔دینی و شرعی امور سے واقف نہیں رہیں گی تو آنے والی نسل کی تربیت کا انتظام کیسے ممکن ہوگا؟ خواتین بعض اوقات اپنے مسائل اور ضرورت کے پیش نظر رسول اللہ ؐسے فقہی سوال کر لیا کرتیںیا ازواج مطہرات کے توسط سے معلوم کرتیں۔ یہ سوالات شادی سے قبل اور شادی کے بعدسے متعلق ہوتے تھے ۔ عائلی مسائل کا ذکر بھی ہوتا اور حقوق کی نشاندہی بھی ہوتی۔ شوہر بیوی کی ذمہ داریوں پر استفسار بھی ہوتا۔ ایسا ہی ایک سوال ’’سبیعہ بنت حارث اسلمی نے آپ ؐسے کیا جو حضرت سعد بن خولہ کی بیوہ تھیںاور حاملہ بھی تھیں۔ آپ ﷺ نے فرمایاکہ: ولادت کے بعد عدت ختم ہو چکی ہے اور وہ دوسری جگہ شادی کر سکتی ہیں ۔‘‘(۱۵) محمدﷺ نے ا س نوعیت کے متعدد استفسارا ت پر خواتین کی رہنمائی فرمائی۔ یہ استفسارات سفر و حضرمیں انفرادی طور پر کیے گئے اور آپ ؐان کی رہنمائی فرماتے رہتے۔محمد ﷺ نے خواتین سے بعض معاملوں میں بیعت بھی کی اور کروائی ۔ بیعت لینے کا طریقہ الگ ہوتا تھا ۔ہاتھ پر ہاتھ لینے کے بجائے زبان سے بیعت لیتے یا چادر پھیلا کر اس کے ایک کونے کو پکڑ لیتے یا پانی کے ایک برتن میں ہاتھ ڈالتے پھر اس میں عورتیں بھی باری باری سے اپنا ہاتھ ڈالتی تھیں۔ فتح مکہ کے موقع پر آپ ؐ نے حضرت عمر ؓکو خواتین سے بیعت کے لیے مامور فرمایا۔قرآن مجید میں اللہ نے فرمایا :’’ اے نبی ؐ ! جب تمہارے پاس مسلمان عورتیں اس بات پر بیعت کرنے کے لیے آئیں کہ وہ اللہ کے ساتھ کسی بھی چیز کو شریک نہیں مانیں گی ، اور چوری نہیں کریں گی اور زنا نہیں کریں گی اور اپنی اولاد کو قتل نہیں کریں گی اور نہ کوئی ایسا بہتان باندھیں گی جو انھوں نے اپنے ہاتھوں اور پائوں کے درمیان گھڑ لیا ہو،اور نہ کسی بھلے کام میں تمہاری نا فرمانی کریں گی ، تو تم ان سے بیعت کر لیا کرو، اور ان کے حق میں اللہ سے مغفرت کی دعا کیا کرو، یقینا اللہ بہت بخشنے والا ،بہت مہربان ہے ۔‘‘(۱۶) تعلیم کے مذکورہ مقاصد و اہداف کو نظر انداز کرنے اور گلوبلائزیشن کے زیر اثر مغرب کی اندھی تقلید کے نتائج ہمارے سامنے ہیں۔ آزادانہ مرد و زن کا اختلاط،مسابقت،نسوانی تشہیر، فرائض سے پہلو تہی کرنا، نئی نسل کی تربیت سے غفلت، خاندانی نظام میں بگاڑ، عائلی زندگی میں انتشار، اخلاقی باختگی اور بے راہ روی اسی جدید تعلیم کی دَین ہیں ۔عصری تعلیم خواہ کتنی بھی حاصل کر لی جائے ،دینی تعلیم نہیں ہے تو زندگی میں سکون و عافیت نہیں ۔ دونوں سے واقفیت اور توازن بہت ضرور ی ہے ۔ حوالہ جات: (۱) ابوداؤد: ۸ (۲) تفسیر الاحزاب: ( تفہیم القرآن ،ص:۶۶۶) (۳ ) ابن ماجہ:۲۲۴ ( ۴) العلق:۱۔۳ (۵ ) ابوداؤد:۱۵۴۷ (۶)عہد نبوی کا نظام حکمرانی،ڈاکٹرحمید اللہ،اردو اکادمی،کراچی، ۱۹۸۷،ص:۲۰۶ (۷) پردہ، سید ابوالاعلی مودودی ،مرکزی مکتبہ اسلامی پبلشرز،دہلی،ص:۲۱۰ (۸) البخاری: ۵۱۸۷ (۹)شعب الایمان:۲۲۰۵ (۱۰) البخاری:۷۲۴۶ (۱۱) ابو دائود:۱۱۳۹ (۱۲) مسلم:۸۷۳ (۱۳) الطبقات الاکبری،ابن سعد، دارالکتاب العالیمیہ،بیروت، الطعبتہ الاولی،۱۹۹۰،ص:۲۲۹۔۲۳۰ (۱۴ )محمد بن فتوح، الجمع بین الصحیین،دار انب حزم،بیروت، جلد۴، ص:۲۲۹ (۱۵) البخاری: ۳۹۹۱ (۶۱)ممتحنہ :۱۴

0 Comments

Submit a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

۲۰۲۲ اکتوبر