’’ڈیڈ! ڈیڈ پلیز ہمیں چھوڑ کر مت جائیں ! ڈیڈ رکیں ناں! میں آپ کے بغیر نہیں رہ سکتی۔ ڈیڈ !‘‘ وہ چیختی چلاتی ، منتیں کرتی رہی پر سامنے والے وجود پر کوئی اثر نہ ہوا۔’’ ڈیڈ !‘‘ وہ چیختے ہوئے ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھی۔ سارا کمرہ اندھیرے میں ڈوبا ہوا تھا ۔ ماریہ نے جھٹ سے ہاتھ بڑھا کر ٹیبل لیمپ آن کیا۔ بے ساختہ ماتھے سے ٹپکتا پسینہ پوچھا ۔ گہری سانسیں لیتے خود کو کمپوز کرنے لگی۔ یہ خواب تو پچھلے دو سالوں سے معمول بن چکے تھے۔ میسیج کی بِپ پر ایک انجانی خوشی نے آن گھیرا۔ ضرور ڈیڈ نے وش کیا ہوگا۔ واٹس ایپ اوپن کیا تو ڈیڈ کے بجائے ڈاکٹر احسن کے Best Wishes کے میسیجز جگمگانے لگے۔ اس کی آنکھیں بجھ سی گئیں۔دل نے چٹکی لی۔ ہوسکتا ہے ڈیڈ بھول گئے ہوں۔ چلو میں ہی کال کرکے پوچھ لیتی ہوں۔ ماریہ نے اپنے دل کو جھوٹی تسلی دیتے ہوئے ڈیڈ کو کال ملایا۔
’’گڈ مارننگ ڈیڈ ! ڈیڈ آپ کو یاد ہے نا میں نے کیا بتایا تھا ؟‘‘
’’ گڈ مارننگ بیٹا ! آف کورس یاد ہے۔ تمہاری فرمائش دو دن میں پوری ہوجائے گی۔پورے ڈیڑھ لاکھ کا آئی فون ہے۔‘‘
ماریہ نے لب کھولے ہی تھے کہ ڈیڈ نے کہا:’’ ہنی میری ایک امپورٹنٹ میٹنگ ہے۔بائے اینڈ ٹیک کئیر ۔‘‘ عجلت سے کہتے ہوئے کال کاٹ دی۔ماریہ نے اپنے ڈیڈ کی محبت و غفلت کی ملی جلی اس کیفیت کو بھانپتے ہوئے فون غصے سے بیڈ پر اچھالا۔ آخر سارے گھر میں وہ ایک ہی وجود تھا جس سے وہ تھوڑی بہت باتیں شئیر کر لیتی تھی۔
آج کا دن ماریہ کی زندگی کا یادگار دن ہونے جارہا تھا۔ آج یونیورسٹی میں Convocation Ceremony Event تھا ،جس میں یونیورسٹی کی جانب سے اس کی مام عائزہ اور بڑا بھائی حالم بھی مدعو تھے۔ آخر ماریہ نے 10 گولڈ میڈلز جیت کر پوری یونی میں ٹاپ جو کیا تھا۔ وہ تیار ہوکر کر تیزی سے سیڑھیاں اترنے لگی تو ہال میں مسز عائزہ سے سامنا ہوا جو نک سک سی تیار فون میں مشغول تھیں۔اسے دیکھا تو مخاطب ہو کر کہنے لگیں:’’ ہنی! میں مسز شیلا کی پارٹی میں جارہی ہوں۔ ناشتہ ریڈی ہے ۔ کُک تمہیں سرو کردے گا اور ہاں میں نے لنچ کا مینیو بھی بتا دیا ہے۔ واپسی پر دیر ہوگی۔ سو، بائے ،ہیو ا نائس ڈے!‘‘
انہیں دیکھ کر لگ تو نہیں رہا تھا کہ اپنی بیٹی کا اسپیشل ایونٹ یاد ہوگا۔ ماریہ کے دل میں موہوم سی امید کا جگمگاتا دیا بجھ گیا۔ وہ ان سے پوچھنا چاہتی تھی کہ آپ اپنی بیٹی کی خوشی کو کیسے بھول سکتی ہیں؟اتنا اہم دن کیسے نظر انداز کر سکتی ہیں؟ مگر سارے الفاظ حلق میں ہی دم توڑ گئے۔بمشکل مسکراتے ہوئے اس نے ان کی بات پر اثبات میں سر ہلایا۔ مسز عائزہ آگے بڑھیں اور اس کے دونوں گال چوم کر گھر سے نکل گئیں۔ ان کے اونچی ہیلز کی ٹک ٹک کی آواز سے ارتعاش پیدا ہوا ،اور ماریہ کی بے بس نگاہوں نے دور تک ان کا پیچھا کیا۔
’’ ظفر ! ‘‘ اس نے تقریباً چیختے ہوئے ملازم کو آواز دی تو ایک ادھیڑ عمر کا شخص دوڑتا ہوا آیا۔ وہ ہاتھ باندھ کر مؤدب انداز میں پوچھنے لگا : ’’جی چھوٹی میم !‘‘ ’’بھائی کہاں ہیں؟‘‘ ماریہ کا لہجہ سخت برہم تھا ۔مانو وہ اپنے والدین کا غصہ اس بیچارے پر نکال رہی تھی۔
’’وہ میم، حالم سر تو سو رہے ہیں۔ کل وہ نائٹ پارٹی سے دو بجے لوٹے ۔ صبح جلدی اٹھانے سے منع کیا ہوا ہے اور کہا تھا کہ … ‘‘
’’ ٹھیک ہے، اتنا کافی ہے۔ اب تم اپنی شکل گم کرو۔‘‘ وہ سخت کوفت سے بولی۔ ماریہ نے سر جھٹکا۔جب ڈیڈ ہی آج کے دن سے لاتعلق تھے، تو مام اور بھائی سے کیسی امید ؟ اپنی آنکھوں میں امڈتی بے ساختہ نمی کو سختی سے دھکیلا اور نڈھال قدموں سے گاڑی میں جا بیٹھی۔

٭٭٭٭٭

’’ اب ہماری اگلی گولڈ میڈلسٹ ہیں ڈاکٹر ماریہ ندیم، جنہوں نے دس گولڈ میڈلز جیت کر آٹھ سالہ ریکارڈ توڑا ہے۔ سو پلیز مس ماریہ کم آن دَ اسٹیج!‘‘تالیوں اور سیٹیوں کے درمیان اس نے اپنا ایوارڈ حاصل کیا۔ ایک طرف ماریہ کا دل خوشی سے جھوم رہا تھا تو دوسری طرف اپنوں کی بے اعتنائی بری طرح کھل رہی تھی۔

٭٭٭٭٭

گھر آتے ہی اپنے آپ کو کمرے میں قید کرلیا۔رات کے کھانے پر جب ظفر نے دستک دی تو ماریہ نے اندر ہی سے اسے بری طرح لتاڑا۔
’’ ظفر! ماریہ کو بلا لاؤ۔ ‘‘ مسز عائزہ نے ڈائننگ چئیر سنبھالتے ہوئے کہا ۔
’’ میم! بلایا تو تھا، مگر انہوں نے آنے سے انکار کردیا اور تو اور، مجھ پر بھڑک بھی گئی تھیں ۔‘‘
’’ہنی کو کیا ہوا ؟ ‘‘ عائزہ نے ناسمجھی کے ساتھ حالم سے پوچھا ۔حالم نے لاعلمی میں کندھے اچکائے۔ظفر فوراً کہنے لگا:’’آج تو چھوٹی میم ڈھیر سارے تحائف سے لدی پھندی آئیں اور کمرے میں بند ہوگئیں۔ تحائف کے ذکر پر مسز عائزہ چونکیں اور تاسف سے سر پر ہاتھ مارتے ہوئے کہا :’’ اوہ مائی گاڈ ! حالم آج تو ہنی کا Convocation Ceremony Event تھا۔ ضرور وہ ہماری غیر موجودگی سے ناراض ہے۔ لگتا ہے منانا پڑے گا ۔‘‘
’’ ارے مام! اسے چھوڑیں ۔ جب بھوک لگے گی تو ساری ناراضگی پرے رکھ کر کھا لے گی، اینڈ یو نو وہ زیادہ دیر اپ سیٹ رہ ہی نہیں سکتی۔ میرا ڈنر تو ہو چکا ۔ آج احمد کی برتھ ڈے پارٹی ہے، سو میں تو چلا۔‘‘ یہ کہتا ہوا حالم لاپرواہی سے اٹھ کھڑا ہوا ۔حالم کی باتوں سے پرسکون ہوکر مسز عائزہ کھانے میں جٹ گئیں۔

٭٭٭٭٭

کمرے کے اندر ماریہ کا برا حال تھا۔ سارے ٹرافیز اور انعامات بکھرے پڑے تھے۔’’کتنے حسین دن تھے وہ، جب آپ ہمارے ہمراہ تھے ڈیڈ ۔ اس کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے ۔کیوں ڈیڈ ؟ آخر کیوں آپ ہمیں چھوڑ کر دبئی چلے گئے۔ اپنا بزنس مضبوط کرنا تھا تو اپنے ہی ملک میں ہمارے ساتھ رہ کر کرتے، لیکن نہیں ،آپ پر تو جنون طاری تھا ناں ہائی سوسائٹی میں نام کمانے کا۔ دولت کمانے کی حرص میں آپ نے اپنے خونی رشتوں سے دوری اختیار کر لی۔ آپ کے جانے سے ہمارا ہنستا بستا گھر اجڑ کر رہ گیا۔ کیا کروں ؟اس شاندار بنگلے اور دولت کی چکاچوند نے تو مجھ سے آج اپنا باپ بھی چھین لیا ۔‘‘وہ شکوہ کناں نظروں سے ان کی تصویر کو تکتے سوچتی اور روتی جا رہی تھی۔
’’آپ کو پتہ ہے ڈیڈ! آپ روزانہ میرے خواب میں آتے ہیں۔میں آپ کو واپس بلاتی ہوں، پر آپ ہمیشہ نظر انداز کر دیتے ہیں۔ پچھلے دو سالوں سے اسی اذیت میں تڑپ رہی ہوں۔‘‘ماریہ تصور میں اپنے ڈیڈ سے شکوہ کرتی جا رہی تھی کہ بار بار بجتی میسیج کی بپ پر تسلسل ٹوٹا ۔شاید ڈیڈ ہوں گے ۔ دل میں ہلکی سی امید کی کرن پھوٹی۔ کہیں انہیں event والی بات یاد آنے پر مبارکباد کا میسیج تو نہیں کیا؟ اس نے جلدی سے موبائل پر نظریں دوڑائیں تو کیا دیکھتی ہے کہ مبارکبادیوں کی لمبی قطار ہے ،پر کہیں بھی ڈیڈ کا میسیج نظر نہ آیا، البتہ ڈاکٹر احسن کے ڈھیر سارے میسیجز تھے ۔ ڈاکٹر حسن، ماریہ کا کلاس فیلو تھا ،جو کئی سالوں سے اس سے دوستی کا خواہاں تھا، لیکن اس نے ہر بار احسن کو نظر انداز کیا تھا۔ ماریہ لاکھ درجہ ماڈرن اور فیشن ایبل لڑکی ضرور تھی، مگر کسی لڑکے سے راہ و رسم نہیں بڑھایا تھا۔ ڈاکٹر بننا اس کا خواب تھا، اور وہ اسی کی تکمیل میں جٹی رہتی تھی،مگر آج نا چاہتے ہوئے بھی احسن کے میسیجز کو اوپن کیا ۔ پڑھ کر ایسا محسوس ہوا جیسے کوئی تو ہے جو اس کے درد کا مداوا کررہا ہے۔جیسے تپتے صحرا میں سائبان مل گیا ہو۔ آج تو اسے اس کی محرومیوں کا ساتھی مل گیا تھا بھلے وہ نامحرم ہی کیوں نہ ہو۔ دھڑکتے دل سے اس نے Yes ٹائپ کیا اور خوشی خوشی کل کی تیاری میں لگ گئی۔ احسن کا میسیج کچھ یوں تھا :

Dear Dr. Maria! Congratulations on your success. That you will celebrate this happiness with me please. I am waiting for your reply.

دور کھڑے دو شیطانوں نے آپس میں تالی لی۔ آخر وہ خوش کیوں نہ ہوتے؟ ایک بنتِ حوا کا شکار جو کرلیا تھا ۔

2 Comments

  1. Khavla bint e Abdulrehman

    Excellent work dear
    May allah succeed u in ur life
    Ameen
    Stay blessed ☺️☺️☺️☺️🥰

    Reply
    • Atiya Rabbi

      Aameen jazakallah khair 🥰

      Reply

Submit a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

۲۰۲۲ اکتوبر