عالمی منظر نامہ
غازی آباد سے تعلق رکھنے والی ایک مسلمان ہندوستانی لڑکی صبا حیدر کو امریکی صدر جو بائیڈن نے اپنی سیاسی جماعت ڈیموکریٹک پارٹی سے ٹکٹ فراہم کر کے ڈوپیج کاؤنٹی سے ریاستی بورڈ کے رکن کے انتخاب کے لیے نامزد کیا ہے۔صبا حیدر نے یہ کامیابی معاشرے کے لیے انتھک خدمات اور نمایاں سماجی کاموں کی بدولت حاصل کی۔
امریکہ کے صدر جو بائیڈن کا تعلق بھی اسی سیاسی جماعت ڈیموکریٹک پارٹی سے ہے، جس نے صبا حیدر کے سماجی کاموں کو سراہا اور انہیں ڈوپیج کاؤنٹی سے ریاستی بورڈ کے الیکشن میں اپنا امیدوار بنایا۔
اس سال 6 نومبر کو ہونے والے اس الیکشن میں 10 لاکھ سے زائد ووٹرز اپنے بورڈ ممبران کے انتخاب کے لیے ووٹ دیں گے۔ صبا حیدر پوری ریاست سے منتخب ہونے والے 19 ممبران میں ہندوستانی نژاد واحد امیدوار ہیں۔یہ ریاستی سطح کے بورڈ کی رکنیت کا انتخاب بہت اہم ہے، کیونکہ یہ ریاستی سطح کا بورڈ براہ راست ریاست میں عوامی بہبود کی پالیسیاں بناتا ہے۔ ریاستی سطح کے اس بورڈ میں کل 19 اراکین ہیں اور ان میں سے 11 ڈیموکریٹکس ہیں۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ صبا حیدر کو مقامی امریکیوں کی طرف سے اچھی سپورٹ مل رہی ہے اور ان کے لیے عطیات بھی اکٹھے کیے جا رہے ہیں۔ اگر صبا حیدر یہ کاؤنٹی الیکشن جیت جاتی ہیں تو وہ ریاستی سطح کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کی رکن بن جائیں گی۔
صبا حیدر نے اپنے شوہر تبریز علی کے ساتھ شادی کے بعد امریکہ میں رہنا شروع کیا، وہ پیشے سے یوگا ٹرینر ہیں، جو دس سال سے امریکہ میں یوگا ٹیچرز کو ٹریننگ دے رہی ہیں۔ صبا حیدر کا خاندان غازی آباد کے پوش علاقے وجے نگر میں رہتا ہے۔ وہ اپنے خاندان کی سب سے بڑی بیٹی ہیں۔ ان کے دو چھوٹے بھائی عباس حیدر اور ذیشان حیدر اپنی بہن کی کامیابیوں سے بہت خوش ہیں۔
معلومات کے مطابق ان کے والد اتر پردیش کے پانی کے محکمے میں انجینئر تھے،ان کی والدہ بھی غازی آباد میں ایک اسکول چلاتی ہیں۔ صبا حیدر کا کامیابی تک کا سفر مشکلات سے بھرا ہوا ہے اور ہمیں حیران کر سکتا ہے،۔
صبا حیدر 2007 ءمیں پہلی بار امریکہ گئی تھیں، اس کے بعد امریکہ میں اپنے ابتدائی جدوجہد کے مرحلے میں صبا حیدر نے خود روزگار کنسلٹنٹ کے طور پر کام کرنا شروع کیا اور پھر وہ ترقی کرتی رہیں۔ تقریباً 10 سال تک یوگا ٹیچرز کو تربیت دے کر امریکہ میں یوگا کیا، اور اب امریکہ میں سیاست کا حصہ بن گئیں۔
صبا حیدر اس موقع کو انتہائی اہم اور ذمہ داری والاعہدہ قرار دیتی ہیں۔ صبا کا کہنا ہے کہ وہ ایک عام شہری ہیں جو اب تک ماں، بہن، بیوی اور چھوٹی کاروباری خاتون کا کردار ادا کر رہی ہیں۔ سیاست میں یہ موقع ملنا بالکل نئی اور بہت بڑی ذمہ داری ہے۔ یہ ان کے کندھوں پر ایک بوجھ ہے جسے وہ بہت فخر اور بہت مسرت کے ساتھ اٹھانے کے لیے بے چین ہیں۔
میڈیا کے مطابق صبا حیدر کی کامیابی اب زیادہ مضبوط ہے، کیونکہ وہ چار ماہ سے لائم لائٹ میں ہیں اور اب جیت کی مضبوط دعویدار بن چکی ہیں۔ صبا حیدر کو اپنی ڈیموکریٹک پارٹی کے اتحادیوں ’’سعدیہ کوورٹ‘‘اور ’’ڈان ڈیزرٹ‘‘سے اچھی حمایت مل رہی ہے،یہ دونوں بھی دوسرے اضلاع سے یہی الیکشن لڑ رہے ہیں۔
صبا حیدر ڈوپیج کاؤنٹی میں نیپر ویل میں ڈسٹرکٹ 5 سے نمائندگی کریں گی، صبا کو یہاں اپنے کام کے لیے بہت زیادہ سمجھا جاتا ہے اور یہ علاقہ اس کی سب سے بڑی طاقت ہے۔ یہاں اسے یکطرفہ حمایت مل رہی ہے۔ صبا کو امریکی شہریوں اور ہندوستانی نژاد بڑے رہائشیوں کی حمایت حاصل ہے۔
صبا حیدر یوگا ٹرینر ہیں، اس لیے وہ اپنی مہم میں ذہنی صحت پر زور دے رہی ہیں۔ انتخابی مہم کے دوران وہ کہتی ہیں کہ امریکی کمیونٹی نے کورونا بحران کے دوران بہت زیادہ ذہنی قوت کا مظاہرہ کیا ہے، لیکن اس کا کمیونٹی پر اب بھی گہرا اثر ہے اور ہمارے وسائل مقامی کمیونٹی کو مضبوط کرنے کے لیے استعمال کیے جائیں گے۔
صبا حیدر کی یہ عظیم کامیابی تمام ہندوستانیوں کے لیے ایک مثال اور باعث فخر ہے۔ اس اعلان کے بعد تمام ہندوستانی صبا حیدر کی کامیابی کے خواہش مند ہیں اور ان کی جیت کے اعلان کا بے صبری سے انتظار کر رہے ہیں۔

0 Comments

Submit a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

۲۰۲۲ اکتوبر