’’عبد الہادی!‘‘
’’ پریزینٹ مس!‘‘
سارہ گل نواز!‘‘
’’پریزینٹ مس !‘‘
’’حوریہ !‘‘
’’پریزینٹ مس !‘‘

’’امجد باغبان! … امجد باغبان!‘‘ مس نے کلاس میں دو مرتبہ اٹینڈینس کے لیے حاضری لگوائی، مگر امجد کی آواز نہ آنے پر انہوں نے رجسٹر سے سر اٹھا کر دیکھا ،پوری کلاس خاموش تھی، اور امجد کی ڈیسک کی جگہ بھی خالی تھی۔ وہ شرارتاً ڈیسک کے نیچے بیٹھا پیچھے والی ڈیسک پر بیٹھی حوریہ کی چٹیا کو بار بار اسکیل سے ہلا کر چھپ رہا تھا اور ہنس رہا تھا۔ مس نے اگنور کیا اور اگلا نام ’’شرین بانو ‘‘ پکارا، تب امجد نے جھٹ سے شرین کے ساتھ ہاتھ اٹھا کر حاضری دی۔ ’’پریزینٹ مس !‘‘ دو آوازیںایک ساتھ ،جن میں سے ایک شرارتی آواز امجد کی تھی۔
مس نے رجسٹر پر پین رکھا اور امجد کی ڈیسک کے پاس کھڑی ہوگئیں۔ وہ اب بھی حوریہ کو ستا رہا تھا۔ مس کے دیکھنے پر وہ زور سے ہنسا ۔
’’امجد !‘‘مس نے تقریباً چلاتے ہوئے کہا۔ ” تم کلاس کی حاضری کیوں نہیں دے رہے ہو؟‘‘مس کے سوال کرنے تک اس نے میتھس کے پزل کے نمبرزکو حوریہ کی چٹیا پر لگا دیا۔حوریہ ایک دم اٹھی۔
’’ٹن ٹن ‘‘ کی آواز سے سب بچے سمجھ گئے اور سب ہنسنے لگے۔ ’’سائلینس !‘‘مس نے چلا کر کہا تو سب بچے خاموش ہو گئے۔ مس نے کان پکڑ کر امجد کو اٹھایا، اور سامنے کی ڈیسک پر بٹھادیا۔ وہ امجد پر غصّہ بھی تھیں۔مس نے کلاس شروع کی۔ سبھی نے میتھس کی کتا بیں نکالیں، امجد خاموش تھا۔ مس نے بورڈ پر سوال لکھا:
Q: find out the number 35790 is divisible by 3 or not?
مس ابھی سمجھا رہی تھیں کہ ان سبھی اعداد کی جمع کریں، اور حاصل جمع کو 3 کے پہاڑے میں تلاش کریں ،اگر وہ حاصل جمع تین کے پہاڑے کے ضریب ہوں تو وہ تین اس عدد سے تقسیم پذیر ہیں ورنہ نہیں۔
سبھی بچے سوال حل کرنے لگے۔ ابھی کسی کا جواب بھی نہیں آیا کہ امجد ڈیسک پر کھڑا ہو گیا۔’’ مس … مس !… ہم جواب دیں گے ۔‘‘ اس نےکہا تو مس نے اسے اگنور کیا ۔ مس پہلے ہی بچوں کو طریقہ سمجھا چکی تھیں، اور اب وقت دے رہی تھیں ،تاکہ سبھی سوال حل کر سکیں۔ امجد کو اب بوریت ہورہی تھی،کیونکہ اس نے سب سے پہلے ہی سوال کو حل کر لیا تھا۔
جب کسی بھی بچے کا جواب نہیں آیا تب مس نے امجد سے سوال کا جواب مانگا۔ ’’مس! اگر آپ ان اعدا کو دیکھیں تو یہ اعداد بالکل کچھوے اور خرگوش کی طرح ہیں ۔‘‘ یہ سن کر سب ہنسنے لگے۔ پھر اس نے ہنستے ہوئے کہا’’3 یہ عدد ایک خرگوش ہے ،جو ان اعداد میں موجود اپنے ہی ضریب کے مقام پر اگر چھلانگ لگاتا ہے تو یہ اعداد تین سے تقسیم پذیر ہیں، اور اگر یہ اعداد میں تین کے ضریب پر چھلانگ نہیں ہوتی ،تو اس کا مطلب کہ یہ اعداد کچھوا ہیں۔ جو رینگتے رینگتے بھی بغیر چھلانگ لگائے جمع کی صورت میں تین کی تقسیم پذیری میں شامل ہو جائیں گے ۔‘‘
اس نے جو کہا وہ سوائے مس کے کسی کے سمجھ میں نہیں آیا۔ یہ اس کی نئی سوچ تھی ،جو روایتی طریقوں سے ہٹ کر تھی۔ اس نے اس سوال کو حل کرنے کے لئے کچھوا اور خرگوش کی کہانی سے مدد لی تھی۔ اس کے سوال حل کرنے پر مس نے سبھی بچوں کو سمجھایا ،اور سبھی کو کلیپ کرنے کو کہا ۔وہ نٹ کھٹ ضرور تھا، مگر انتہائ ذہین بھی تھا۔ مس اب اس سے ناراض نہیں تھیں۔

0 Comments

Submit a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

۲۰۲۲ اکتوبر