آج ہمارے معاشرے میں عدم برداشت، تشدد پروان چڑھ رہا ہے۔ درجنوں قسم کا تشدد ایک دوسرے سے روا رکھا جا رہا ہے۔ پولیس یا ریاست کا تشدد، غنڈے یا بدمعاشوں کا تشدد، کمزور پر طاقتور کا تشدد، ذہنی، جسمانی، نفسیاتی، سماجی تشدد؛ غرض سارا معاشرہ اس وقت ان کا شکار ہے۔
اس کا صرف ایک حل ہے اور وہ یہ کہ دین اسلام کے اصولوں کے مطابق عمل اور ان اصولوں کا نفاذ جس سے معاشرہ پر امن بن سکتا ہے، کیونکہ دنیا کو عدم تشدد کے نظریہ سے واقف کرانے والے مسلمان ہیں۔

2 اکتوبر، اقوام متحدہ کی قرارداد کے مطابق ہر سال ’’عالمی یوم عدم تشدد‘‘ کے طور پر منایا جاتا ہے۔ جنوری 2004 ءمیں ایرانی نوبل انعام یافتہ شیریں عبادی نے تجویزپیش کی کہ عدم تشدد کا عالمی دن منایا جائے۔ ان کی اس تجویز کو بھارت میں بے پناہ پذیرائی ملی اور اس کی جانب سے یہ تجویز اقوام متحدہ کے سامنے پیش کی گئی۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے 15 جون 2007ءکو 2 اکتوبر کو عدم تشدد کا عالمی دن قرار دینے پر ووٹنگ کروائی، اقوام متحدہ کے 143 رکن ممالک نے اس دن کو منانے کے لیےقرارداد کی حمایت کی اور اقوام متحدہ نے اپنے رکن ممالک کو عدم تشدد کو فروغ دینے کے لیے یہ دن منانے کی اپیل کی۔ اس خاص دن کو منانے کا مقصد مختلف ممالک کے درمیان قیام امن کا فروغ اور عدم تشدد کے جذبات کو عام کرنا ہے، تاکہ عالمی مسائل اور تنازعات کو باہمی بات چیت سے حل کیا جاسکے۔ عَدمِ تَشَدُّد، پُرامن جدو جہد جو جبرو زیادتی کے بغیر کی جائے اور جبر و زیادتی کا جواب نہ دیتے ہوئے تحمّل سے کام لینا ہے۔
بھارت کی پہچان جہاں سیکولر اور جمہوری آئین سے ہوتی ہے،وہیں اس کی ایک پہچان عدم تشدد کا نظریہ بھی ہے، جو اس کی عالمی شناخت کا مضبوط وسیلہ رہا ہے۔ بھارت کی تحریک آزادی کے رہنما مہاتما گاندھی کے جنم دن کو عالمی یوم عدم تشدد کے طور پر منایا جاتا ہے۔ بھارت کی تحریکِ جنگِ آزادی میں مہاتما گاندھی نے سول نافرمانی کی تحریک 1920ء میں چلائی اور عدم تشدد کا فلسفہ پیش کیا۔ اس فلسفہ کو پہلی بار سیاسی میدان میں ایک حربہ کے طور پر آزمایا گیا تھا، اور آخر کار 15 اگست 1947ء کو بھارت کو برطانوی سامراج سے آزادی مل گئی۔ ملک ’’عدم تشدد‘‘ کے ایک انوکھے راستے سے آزادی کی اس منزل پر پہنچا، آزادی کی لڑائی کا سب سے بڑا کارنامہ ’’عدم تشد د‘‘ کا راستہ اپنانا اور تمام تر اختلاف کے باوجود اس پر سفر کرکے منزل پانا تھا۔ عدم تشدد نے نہ صرف ہندوستان کو آزادی دلائی، بلکہ اس فلسفہ پرعمل کرکے دنیا کے مختلف ممالک میں آزادی کی لڑائیوں میں اہم کردار ادا کیا۔ آزادی کی لڑائی میں گاندھی کی عدم تشدد حمایت کی وجہ خالی ہاتھ لوگوں کا ایک طاقتور مسلح حکمراں کے خلاف کامیابی کے امکانات کم ہونا نہیں ،بلکہ یہ یقین تھا کہ ہتھیار مسائل کےحل کے بجائے زیادہ مسائل پیدا کرتے ہیں اور ایک ایسی نفرت اور تفریق پیدا کرتے ہیں جس کی تلافی تقریبا ًناممکن ہوتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کے میرے پاس کوئی ہتھیار نہیں ،صرف عدم تشدد کا راستہ ہے ،جو ان کی نظر میں ایک مذہب کی حیثیت رکھتا تھا ،لیکن ان کا کہنا تھا کہ اس کا مطلب یہ نہیں کہ اس کے ماننے والے صرف سادھو اور سنت ہوں بلکہ یہ راستہ عام لوگوں کےلیے ہے، کیونکہ مختلف مذاہب کی تعلیمات کا مطالعہ کرنے پر یہ محسوس ہوتا ہے کہ سبھی مذاہب ان دونوں راستوں پر چلنے کی ترغیب دیتے ہیں۔ پھر بھی عدم تشدد کے نظریے کی یہ کہہ کر مخالفت کی گئی کہ بھارت کے علاوہ اس کو کہیں اور کامیابی نہیں مل سکتی ہے دوسرا یہ کہ عدم تشدد ایک سست رفتار طریقۂ کار ہے، جس میں نتیجہ بہت تاخیر سےسامنے آتا ہے، لیکن تاریخ اس خیال کو غلط ثابت کرتی ہے، کیونکہ چین کے انقلاب کےلیے ماؤ تحریک کو 22سال کا وقت لگا تھا اور ویت نام 35 سال کی جدوجہد کے بعد آزاد ہوا تھا۔
عدم تشدد کے فلسفے پر عمل کرتے ہوئے اپنی منزل کو پالینے والے موجودہ عہد میں قائداعظم،گاندھی، ماوزے تنگ، سویکارنو، امام خمینی،اونگ سان سوکی، نیلسن منڈیلا، مارٹن لوتھر کنگ جونیر کے نام قابل ذکر ہیں۔
بہر کیف، یہ بات درست ہے کہ تاریخ، طاقتور اقوام اور ممالک کے ذریعہ کمزور قوموں پر ڈھائے جانے والے مظالم سے بھری پڑی ہے۔ موجودہ عہد میں بھی تشدد کا بازار گرم ہے۔ بھارت، سری لنکا، عراق، شام، فلسطین، افغانستان، بوسنیا، برما، روہنگیا سمیت اس طرح کی درجنوں مثالیں موجود ہیں۔ تشدد پسند ملک و قوم کو یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ خوف اور دہشت کے ذریعہ لوگوں کے جسموں کو غلام تو بنایا جاسکتا ہے لیکن ان کے دل ودماغ کو تبدیل نہیں کیا جاسکتا۔ تشدد کامطلب ہے اپنے نظریہ کو طاقت کے ذریعے دوسروں پر مسلط کرنا یا کسی بھی مقصد کو حاصل کرنے کے لیے دوسروں کی جان ومال کو نقصان پہنچانا وغیرہ۔
اب سوال یہ ہے کہ عدم تشدد کا فلسفہ کس حد تک کامیاب رہا اور کیا واقعی بھارت کی سیاست نے اپنے آپ کو اس نظریہ کے سانچے میں ڈھالا ہے؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ بھارت کی عوام نے عدم تشدد کے فلسفہ کو نہ تو پوری طرح سمجھا ہے اور نہ اسے اپنا کر اپنی سیاست کو اس کے سانچہ میں ڈھالنے کی کوشش کی ہے۔ اس کی دلیل یہ ہے کہ بھارت کا سماج اور سیاست عدم تشدد کے نظریہ سے عملی طور پر انحراف اور انکار کے راستے پر بڑی سرعت کے ساتھ گامزن ہے۔ آج ہمارے معاشرے میں عدم برداشت، تشدد پروان چڑھ رہا ہے۔ درجنوں قسم کا تشدد ایک دوسرے سے روا رکھا جا رہا ہے۔ پولیس یا ریاست کا تشدد، غنڈے یا بدمعاشوں کا تشدد، کمزور پر طاقتور کا تشدد، ذہنی، جسمانی، نفسیاتی، سماجی تشدد؛ غرض سارا معاشرہ اس وقت ان کا شکار ہے۔
اس کا صرف ایک حل ہے اور وہ یہ کہ دین اسلام کے اصولوں کے مطابق عمل اور ان اصولوں کا نفاذ جس سے معاشرہ پر امن بن سکتا ہے، کیونکہ دنیا کو عدم تشدد کے نظریہ سے واقف کرانے والے مسلمان ہیں۔

ویڈیو :

آڈیو:

0 Comments

Submit a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

۲۰۲۲ اکتوبر