زمرہ : ٹی ٹائم
پچاس لفظوں کی کہانی
گنتی

’’سینتالیس،اڑتالیس،انچاس…ایک لفظ پھر رہ گیا۔‘‘
میں نے کوفت سے کہا۔’’دوبارہ کوشش کرتی ہوں۔‘‘
’’ایک،دو…انچاس،پچاس،اکیاون…‘‘
میں نے رجسٹر رکھ دیا۔دماغ چکرا رہا تھا۔
’’نماز پڑھ لی؟‘‘
اماں نے جھانکا۔میں خاموش رہی۔
الفاظ گنتے گنتے میں نمازوں کی گنتی بھولنے لگی تھی۔

مریم خالد

سسرالی بیٹیاں اور ان کی مائیں

بیٹیوں کے گھر بسانے اور نہ بسنے دینے میں سب سے بڑا کردار ماؤں کا ہوتا ہے ۔ بیٹی کو راج کرنے کے لیےاپنے خاندانی ٹوٹکے بتانے اور اپنےیہاں کی پٹیاں پڑھانے سے بہتر ہے اسے سسرال کے ماحول کو مکمل طور پہ اپنانے دیا جائے۔
آخر آپ نے آنے والے رشتوں میں سے بہترین خاندان چنا تھا ۔ جب تک بیٹی آپ کے پاس تھی آپ نے جو تربیت کر لی، وہی اب اس کا امتحانی پیپر ہے ۔ اسے بطور امداد چیٹنگ نہ کروائیں ،نہ ہی اپنی فون کالز سے آبجیکٹو بوٹیاں فراہم کریں ۔ ہاں نہیں کے آپشنز کو اسے خود ٹِک کرنے دیں ۔ چند ایک کیس مستثنیٰ ہیں ۔

زارا مظہر

پچیس لفظوں کی کہانی
خیال

ڈرائنگ روم سے آواز آ رہی تھی۔
’’جویلری،فرنیچر،ڈیکوریشن؛ہم نے ہر چیز میں بِٹیا کی پسند کا خیال رکھا ہے۔‘‘
’’سوائے لڑکے کے۔‘‘
بیٹی سوچ کر رہ گئی۔

احمد بن نذر

0 Comments

Submit a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

۲۰۲۲ اکتوبر